×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کون جیتا کون ہارا؟
Dated: 28-Jul-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک شخص کسی کے ہاں مہمان گیا تو میزبان نے پوچھا ’’ٹھنڈا پیو گے یا گرم‘‘ مہمان نے جواب دیا۔ بھائی صاحب ٹھنڈا ہی پِلا دیں۔ میزبان بولا ٹھنڈا سٹیل کے گلاس میں لیں گے یا شیشے کے گلاس میں تو مہمان نے جواب دیا کہ شیشے کے گلاس میں دے دیں۔ میزبان نے پھر پوچھا کہ گلاس سادہ ہو یا پھولوں والا؟ اکتائے ہوئے مہمان نے جواباً کہا کہ چلو پھولوں والا ہی ہو جائے تو میزبان نے برجستہ کہا کہ بھائی صاحب پھولوں والا گلاس تو ہمارے گھر نہیں ہے۔ اس طرح مہمان نے ٹھنڈا پینے کا موقع گنوا دیا۔ قارئین! آج کل کچھ یہی حالت ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین اور ان کی سیاست کی ہے۔ موصوف پہلے تو کراچی کی بدامنی میں کسی دوسرے فریق کو حصے دار بنانے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔ کراچی اور شہری سندھ کے علاقوں میں پنجابی، پٹھان اور ٹی ٹی پی کی حصہ داری کو وہ اپنے لیے چیلنج سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے الطاف بھائی نے گذشتہ دو سال کے دوران دو سو دفعہ پاک فوج اور ملک کی عسکری قیادت کو کراچی میں دراندازی کی دعوت دی۔ حتی کہ متعدد دفعہ برملا طور پر کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا واضح اشارہ بھی دیا۔ پاک فوج کی حمایت میں ایم کیو ایم کی جانب سے ریلیاں جلوس اور تشکر تک منائے گئے مگر جب عسکری قیادت نے کراچی کے مسائل کو غیرجانبدارانہ نقطۂ نظر سے دیکھا تو انہیں اس بحرِ ظلمت میں صرف ٹی ٹی پی ہی کی دہشت گردی نظر نہ آئی بلکہ مختلف لسانی، مسلکی اور سیاسی گروہوں کی جانب سے کراچی میں جو کریمنل ونگز کام کر رہے تھے ان کی ایک بھیانک تصویرکشی بھی ہوئی۔ اور ایک خوفناک صورت حال کا اس وقت پتہ چلا جب حساس فوجی اداروں کو یہ واضح شواہد ملے کہ کراچی کی بدامنی اور بگڑتی صورت حال کے ذمہ دار کچھ غیر ملکی ادارے اور ایجنسیاں بھی ہیں۔ خصوصاً ’’را‘‘، ’’موساد‘‘، ’’خاد‘‘ اور ’’سی آئی اے‘‘ سمیت مشرقِ وسطی سے تعلق رکھنے والے کچھ ممالک اور ریاستوں کی ایجنسیاں بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہیں جبکہ منی لانڈرنگ اور معاشی دہشت گردی کے بڑے بڑے پراجیکٹس سے پردہ اٹھا۔ جنرل راحیل شرفیے نے بغیر توقف کے فوج کے ذیلی ادارے رینجرز کو یہ ٹارگٹ دیا کہ مجھے کرائم سے پاک کراچی چاہیے جس پر الطاف بھائی اور آصف علی زرداری جیسے مافیا تلملا اٹھے۔ پہلے تو دونوں مذکورہ صاحبان کی طرف سے پاک فوج اور اس کے افسران کو دھمکیاں دی گئیں۔ کبھی سندھ کارڈ کھیلنے اور کبھی مہاجر پتا کھیلنے کے اشارے دیئے گئے مگر پاک رینجرز نے بِلوں میں چھپے ہوئے جرائم پیشہ لوگوں کے گرِد گھیرا تنگ کیا تو یہ بھڑکیں لگانے والے ’’ترلے منتوں‘‘ پر اتر آئے۔کبھی بھوک ہڑتال اور خودکشی کی دھمکیاں اور کبھی ملک بند کرا دینے کی دھمکی دی گئی۔ میرے اپنے تخمینہ کے مطابق الطاف بھائی کم از کم دو درجن بار مستعفی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ متعدد دفعہ اپنی ہی بنائی ہوئی پارٹی کو برخاست کرنے کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔ جبکہ کرپٹ مافیا کے سربراہ آصف علی زرداری اپنی آدھی سے زیادہ کرپٹ ٹیم کے ساتھ عملی طور پر ملک سے بھاگ چکے ہیں اور آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ قارئین! رواں ہفتے ملکی سیاست میں ایک اور بھونچال آ کر اس وقت گزر گیا جب ملک کی اعلیٰ عدلیہ پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے چھیاسی روزہ سماعت کے بعد حسب توقع عمران خاں کو چاروں شانے چت کر دیا اور اسی روز وزیراعظم پاکستان جو دیارِ غیر میں رہنے کے عادی ہیں اور ملک میں گرمی سے ہزاروں ہلاکتیں ہوں، سیلاب سے تباہی ہو، ارضِ وطن میں تمام مساجد اور عیدگاہوں میں پانی بھر جائے اور وزیراعظم اپنے خاندان اور لائو لشکر کے ساتھ عید منانے چلے جائیں اور ان کے پاس فقط ایک منٹ بھی نہ ہو کہ وہ اپنے ہم وطنوں سے اظہارِ ہمدردی کے چند بول بول سکیں اور گذشتہ سال سانحہ ماڈل اور سانحہ ڈی چوک کے بتیس شہداء پر بنائی جانے والی حکومتی جوڈیشل کمیشن جس کی سربراہی جسٹس باقر نقوی کر رہے تھے وہ پورٹ جادو کی چھڑی سے غائب کر دی جائے اور نکاح پہ نکاح کے مصداق ایک نئی جے آئی ٹی بنا کر اپنی مرضی کے فیصلے اور رپورٹ لے لیے گئے۔ اسی طرح الیکشن 2013ء میں دھاندلی کی شکایات اور ملک گیر احتجاج پر اپنی پسندیدہ عدلیہ کو استعمال کرکے اپنی مرضی کی رپورٹ اور تشریح حاصل کر لی جائے اور پھر معصومانہ انداز میں سرکاری ٹی وی چینل پر بیٹھ کر عوام کو مژدہ سنایا جائے کہ دنیا کے بدترین دھاندلی زدہ انتخابات شفاف، حلال اور آئینی قرار پا چکے ہیں مگر صاحبان کیا قوم کا حافظہ اتنا ناقص ہے کہ صرف چند سال پہلے سابق جسٹس راشد عزیز اور سابق چیف جسٹس ملک قیوم کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ بھی یاد نہیں؟ ملک کی عدلیہ اور عدالتوں نے پچھلے تیس سال کے دوران شریف برادران کے خلاف فیصلہ دینے کی جرأت نہیں کی۔ خصوصاً گذشتہ روز آنے والے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے نے نہ صرف انصاف کا خون کیا ہے بلکہ یہ ثابت کیا ہے کہ عدلیہ اندھی، بہری اور گونگی ہوتی ہے۔ آج ملک کے بیس کروڑ عوام عمران خاں، اس کے ساتھیوں اور پی ٹی آئی کے خلاف آنے والے اس فیصلے پہ شاید خاموش رہیں مگر یہ ملک گیر سناٹا آنے والے کسی خوف ناک طوفان کا پیشہ خیمہ ضرور ہے۔ آج ملک کے گلی کوچوں اور قریہ قریہ یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ سب کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ اس ملک کی سیاست میں آگے کیا ہونے جا رہا ہے حتی کہ کچھ اینکرز اور کالم نویس خواتین و حضرات طنز کے یہ نشتر بھی چلاتے ہیں مگر کیا ان کو نہیں پتہ کہ ڈاکٹر طاہر القادری ایک ہزار سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور بین الاقوامی اداروں میں ان کے لاتعداد لیکچرز اس بات کا بعین ثبوت ہیں کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ پر ان کی گہری نظر ہے اور شاید اب یہ عمران خاں کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ ملک کی دیگر سیاسی طاقتوں بشمول طاہر القادری، پرویز مشرف، چوہدری برادران اور چھوٹی نیم مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملا کر اپنے سیاسی اور قومی اہداف حاصل کریں۔ 28جولائی2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus