×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کھالیں، ہڑتالیں اور چالیں
Dated: 29-Sep-2015
زمانۂ قدیم میں حاکمِ وقت نافرمانی کرنے والوں کی کھال تک کھینچوا لیتا اور کبھی کبھی تو جابر حکمران جانوروں کی کھالوں میں زندہ انسانوں کو بھر کر کوڑے لگاتے اور اذیتیں دیتے۔زمانہ بدلا، کیلنڈر بدلے مگر لگتا ہے کہ وقت نہیں بدلا۔ آج بھی تیسری دنیا سمیت ترقی یافتہ درجنوں ایسے ممالک ہیں جہاں پر بادشاہ سلامت حاکمیت جتانے کے لیے انسانوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں اور اسی نظام کے اندر کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی انسانی کھالیں کھینچوانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سندھ کے شہری علاقے خصوصاً کراچی میں پہلے جماعت اسلامی کی مناپلی تھی اور عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں کسی اور کو جمع کرنے کی جبراًاجازت نہیں تھی۔ بچپن میں بھی ہم دیکھا کرتے تھے کہ سرحد اور پنجاب میں قربانی کی کھالیں جمع کرنا جماعتِ اسلامی کا حق مان لیا گیا تھا مگر بعد میں ضیاء الحق (مرحوم) کے طفیل ایم کیو ایم معرض وجود میں آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے شہری سندھ کی نمائندہ جماعت بن گئی اور پھر کھالیں اکٹھی کرنے کی اس مہم میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی آمنے سامنے آ گئیں اور کھالوں کی یہ لڑائی لسانیت زدہ نفرت میں تبدیل ہو گئی ا ور آئے روز کھالوں اور بوریوں میں بند انسانی لاشیں ملنی لگیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سال بھر صدقہ، فطرانہ، زکوٰۃ اور کھالیں جمع کرنے سے بیس ارب روپے کا سرمایہ حیدرآباد اور کراچی سے اکٹھا ہونے لگا پھر آہستہ آہستہ ایم کیو ایم شہری سندھ کے لوگوں کو دہشت سے ڈرا کر اکیلی اس کاروبار کی وارث ٹھہری۔ کیلنڈر اور تاریخ بدلی پندرہ سال ملک میں دہشت گردی، لاقانونیت اور چوربازاری کا بازار گرم رہا۔ کراچی میں اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری جیسے جرائم نے جنم لیا اور ملکی معیشت کے لیے ایک ایسا ناسور بن گئے کہ جس نے ہزاروں انسانوں کو ہڑپ کر لیا۔ کھالوں کی لڑائی سے شروع ہونے والی یہ جنگ اب ملکی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی تھی۔ اس دوران کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ہوا، مہربان ایئربیس دہشت گردی کا نشانہ بنا۔ آرمی پبلک سکول جیسے واقعات نے توقوم کو لرزا کر رکھ دیا پھر قوم کے شدید اصرار پر فوج نے ضربِ عضب آپریشن شروع کیا اور کراچی کو بھی کلین اپ کرنے کا پروگرام تشکیل دیا۔ گذشتہ دو سال سے جاری فوج، رینجرز اور پولیس نے کراچی کے عو ام کو اس کی رونقیں واپس لوٹا دی ہیں۔ روشنیوں کا شہر پھر سے جگمگ کرنے لگا ہے اور آج ایم کیو ایم آنکھ میں ڈالی بھی نہیں دکھتی۔ گذشتہ روز عید الاضحی کے موقع پر جب درجنوں کھال چور گرفتار ہوئے تو ایم کیو ایم نے باضابطہ اعلان کر دیا کہ وہ کھالیں اکٹھی نہیں کریں گے۔ اس طرح کھالوں کی قومی جنگ اختتام کو پہنچی مگر قارئین میں نے اس مسئلے پر کافی تحقیق کرنے کے بعد یہ محسوس کیا کہ کیوں نہ ہم بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرح رفاعی اداروں پر کھالیں جمع کرنے پر پابندی لگا دیں۔ مثال کے طور پر ترکی، مراکش، تیونس اور متعدد عرب ریاستوں میں یہ نظام وضع ہے کہ قربانی اور صدقے میں دی گئی کھالیں میونسپل کارپوریشن جمع کرتی ہے اور ان کھالوں کی کمائی کو شہر کی صفائی ستھرائی کے لیے جمع ہونے والے بجٹ کے طور پر خرچ کیا جاتا ہے۔ دوسرے معنوں میں آپ سٹی گورنمنٹ کی مدد بھی کرتے ہیں جس کے عوض لوکل گورنمنٹ آپ کو سہولیات مہیا کرتے ہیں۔ اس طرح مذہبی اور سیاسی گروپوں کا یہ موقع نہیں ملتا کہ وہ صدقے ، فطرانے اور زکوٰۃ سمیت قربانی کی کھالوں کے پیسے دہشت گردی اور مجرمانہ کارروائیوں پر استعمال کر سکیں۔ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق دنیا میں قربانی کی سب سے زیادہ کھالیں پاکستان میں اکٹھی کی جاتی ہیں۔ دوسرے نمبر پر انڈونیشیا اور تیسرا سعودی عرب کا نمبر آتا ہے۔ قارئین آج کا دوسرا موضوع یہ ہے کہ آئے روز احتجاجوں اور ہڑتالوں نے ملکی معیشت کا پہیہ جام کر رکھا تھا کوئی بھی مذہبی ،لسانی ،فرقہ پرست تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں اپنی طاقت اور شو آف پاور دکھانے کے لیے آئے روز ہڑتال کی کال دیتیں تھیں، کسی نیم سیاسی جماعت کا ایک کارکن کسی ایک واقع میں جاں بحق ہونے کی دیر ہوتی تو سندھ اور حیدرآباد بند کرا دیا جاتا، جس سے ملکی معیشت کو صرف ایک دن میں پچاس ارب روپے کا ٹیکہ لگتا مگر گذشتہ ماہ کے دوران ایم کیو ایم نے دو دفعہ کراچی اور حیدرآباد اندرونِ سندھ میں ہڑتال کی کال دی جس پر غیرجانبدارانہ سروے کے مطابق اٹھانوے فیصد لوگوں نے مسترد کر دیا جبکہ گذشتہ روز ایم کیو ایم کی طرف سے دی جانے والی ریلی کی کال پر عوام نے کان نہیں دھرے اور اس طرح پورے ملک کی لسانی ا ور مذہبی جماعتوں کو یہ پیغام پہنچا کہ وہ سیاست کے نام پر اب مزید کرائم نہیں کر سکتیں۔ دراصل ہمارے مذہبی، سیاسی اور گروہی لیڈروں نے جمہوریت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات بچانے کے لیے ان ہتھکنڈوں کو سیاست کا نام دیا ہوا تھا۔ قارئین آج کا تیسرا موضوع سیاسی چالیں ہے۔ فوج کے آپریشن کلین اپ اور ضربِ عضب کے نتائج آنے کے بعد سیاسی رہنمائوں کے درمیان بھگدڑ مچی ہوئی ہے کچھ پکڑے جا چکے ہیں، کچھ بھاگ گئے اور کچھ پکڑے ہی جانے والے ہیں اور ایسے میں چھوٹا منہ بڑی بات کے مصداق کچھ لوگ جنرل راحیل شریف کی ایکسٹینشن کو ایشو بنا کر اپنے گلے میں پھنسے ہوئے پھندے سے اپنی گردن بچانا چاہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے تو گذشتہ کئی مہینوں میں دوبئی کو سندھ کا دارالخلافہ بنا دیا ہوا ہے اور گذشتہ سرکاری پارٹی کے کئی آفیشل اجلاس دوبئی میں منعقد ہوئے۔ دوبئی پہلے بھی پاکستان سے بھاگنے والے مجرموں کے لیے علاقہ غیر تھا لیکن اب تو اس کو سندھ حکومت نے سرکاری حیثیت دے دی ہے اور اس وقت دوبئی میں پاکستان سے بھاگے ہوئے ہزاروں معاشی، معاشرتی ،سماجی اور سیاسی دہشت گرد موجود ہیں جو دوبئی کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف سازشوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت کو اس کا نوٹس لینا ہوگا ورنہ کراچی سے دوبئی کچھ اتنا دور بھی نہیں؟؟؟ 29ستمبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus