×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عمران خان کی سولوفلائیٹ پر کئی سوالیہ نشانات
Dated: 03-Nov-2015
تاریخ گواہ ہے کہ منتقلی اقتدار کا فیصلہ مذاکرات کی میز پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے بڑے بڑے میدان جنگ سجانے پڑے ہیں۔ اڑسٹھ سالہ پاکستانی سیاسی کشمکش گواہ ہے کہ بصد شوق کسی حکمران نے بھی اقتدار کو ٹھوکر نہیں ماری اکثر حکمران اس کشمکش میں گھائل یا قربان ہوئے۔ بلدیاتی الیکشن میں ایک دفعہ پھر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی سیاسی بندر بانٹ کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ موجودہ حکمران خانوادہ کم از کم پچھلے تئیس سال سے اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہے ، سب سے بڑے صوبے پنجاب کے تختِ لاہور پر چھ دفعہ حکمرانی کرنے کے علاوہ تین دفعہ ملک کے وزیراعظم بننے کا اعزاز بھی پایا مگر اس اقتدار کو قائم رکھنے اور اس کو دوام بخشنے کے لیے جو جائز ناجائز پاپڑ بیلے یہ ایک علیحدہ داستان ہے۔ 2013ء کے متنازعہ نتائج کو تمام سیاسی جماعتوں نے دھاندلی زدہ قراردیا مگر ہر کسی نے بحالتِ مجبوری اسے گلے کا طوق بھی بنالیا۔ 2013ء کے شروع میں ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد کے ایوانوں میں ایک ہلچل مچا کر قوم کو یہ پیغام دیا کہ چہرے بدلنے سے نہیں بلکہ نظام بدلنے سے ملک و قوم کی تقدیر بدلے گی۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کے لاکھوں پیروکاروں کی اس کاوش کو ذاتی انا کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور عمران خان کو جو کچھ دن پہلے لاہور میں ایک بڑا جلسہ کرکے اپنی انٹری ڈال چکے تھے کو ایسے پیغامات بھجوائے گئے کہ جیسے اب کی بار اقتدار کا ہُما ان کے سر پر بیٹھے گا ۔انجینئرڈنتائج سے اقتدارن لیگ ا ور پیپلزپارٹی پر نچھاور کیا گیا۔ کلین سویپ کے گھوڑے پر سوارتحریک انصاف کو چھوٹے صوبے خیبر پی کا لالی پاپ دیدیاگیا۔ عمران خان اس شورش زدہ صوبے میں اپنی سوفیصد پرفارمنس دکھانے میں یقینا ناکام رہے مگر عمران خان اپنی خصوصی طبیعت کے باعث دھاندلی کا زخم بھی سہنے میں ناکام رہے۔ اس دوران ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن واپسی کے خوف سے حکمرانوں نے تخت لاہور کو مقتل بنا دیا۔ آسماں نے جدید دور میں ایسی بربریت نہ دیکھی ہو گی۔ وحشت کی ان ساعتوں کو میڈیا کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔ یہاں عمران خان ایک دفعہ پھر ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر انصاف کی تلاش میں نکلے مگر ایک طویل انتظار کے بعد پھر سیاستدانوں کے جھانسے میں آ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان ایک نیا پاکستان بنانااوربارہ کروڑ نوجوانوں کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہ سب کام منصوبہ بندی، دوراندیش پالیسیوں اور سیاسی تدبر کے بغیر کیا ممکن ہے؟ چند سال قبل عمران پنجاب یونیورسٹی میں ایک تقریب میں گئے تو جمعیت نے ان کی جو درگت بنائی الامان والحفیظ! انہیںگھنٹوں یرغمال بنائے رکھا۔بعد ازاں نہ جانے کونسی طاقت تھی جس نے جماعت اسلامی سے بظاہر فارغ التحصیل رہنمائوں کو تحریکِ انصاف میں ’’پلانٹ‘‘ کر دیا۔ اس کے بعد عمران خان جماعت اسلامی کے سحر اور اثر سے باہر نہ آسکے حالانکہ ملک میں عوامی تحریک سمیت کچھ اور بھی قوتیں ہیں جن کو ساتھ ملا کر ملکی سیاست سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا سیاسی خلا پُر کیا جاسکتا ہے۔ 2013 ء کے بعد احتجاجی سیاست کے دوران عمران خان نہ تو خود سمجھ سکے اور نہ ہی ان کے کسی قریبی سیاسی ایڈوائزر نے ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پنجاب میں حکومت بنائے بغیر وزارتِ عظمیٰ کی حیثیت طوفان میں گھرے اس شپ سے زیادہ نہیں جس کا انجن بھی بند ہوگیا ہو۔میں اڑھائی سال سے بغرض علاج یورپ اور کینیڈا میںہوں۔ ذاتی رابطوں اور میڈیا کے تھرو پاکستانی صحافت اور سیاست سے ایک لمحے کے لیے بھی جدا نہیں ہوا ۔ ٹاک شوز میں جو لوگ تحریکِ انصاف کی نمائندگی کرتے ہیں ان میں سے اکثریت کا تعلق خیبر پی کے سے منتخب افرادسے ہوتا ہے۔پنجاب سے جن دو چار لوگوں کو نمائندگی کے لیے بھیجا جاتا ہے وہ اپنے سیاسی امیج کی وجہ سے یوتھ کے نہیں جماعت اسلامی کے نمائندے لگتے ہیں۔ خاص طور پر شفقت محمود، عمر چیمہ کی شکل ہفتوں بعد میڈیا پر نظر آتی ہے جبکہ پی ٹی آئی کی انفارمیشن سیکرٹری محترمہ شیریں مزاری بھی اپنا زیادہ رول ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ عمران خان ایک مرکزی نقطہ بھی ہمیشہ بھلا دیتے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے جو تیس سال پہلے اے ایس آئی بھرتی کروایا تھا وہ آج ایس ایس پی یا ڈی آئی جی بن چکا ہے اور جسے تحصیلدار بھرتی کروایا تھا وہ کمشنر بن چکا ہے اور جسے اے سی بھرتی کیا تھا وہ آج سپریم کورٹ کا جج بنا بیٹھا ہے۔ اس انوائرمنٹ میں عمران خان یہ کیسے یقین کر بیٹھے ہیں کہ وہ شیر کی کھچاڑسے زندہ ہرن نکال لائیں گے؟ گذشتہ روز پنجاب کے بارہ اضلاع میں الیکشن کے نتائج آنے کے بعد ایک دفعہ پھر دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے عمران خان کو اپنی چارپائی کے نیچے بھی ڈانگ پھیر لینی چاہیے۔ شفقت محمود کبھی انتظامی لیڈر نہیں تھے۔ لاہور کو ان کے حوالے کرکے شکست کی بنیاد رکھی گئی۔ آج وہ مستعفی ہوئے ہیں تو یہ کوئی بڑی خبر نہیں ہے۔ اسی طرح پنجاب کا ایک منفرد اندازِ سیاست ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ چودھری سرور ایک اچھے، ایماندار، مخلص سیاست دان ہیں۔ مگر وہ جس مغربی طرز سیاست کو جانتے ہیں اس کی گنجائش فی الحال ہمارے ملک میں نہیں۔ پنجاب کو چلانے کے لیے کسی دیسی حکیم اور پنجابی ٹونے ٹوٹکے جاننے والے سیاسی استاد کی ضرورت ہے۔ شاہ محمود قریشی جیسے سیاست دان کو مرکز میں بٹھا کر ضائع کیا جا رہا ہے۔ سیاسی پنڈت یہ بتاتے ہیں کہ عمران خان کی سولوفلائیٹ پالیسی کی وجہ سے ن لیگ کا اقتدار طویل ہو رہاہے۔ اگر عمران خان طاہر القادری کو منانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں توان کو پاکستان بھر خصوصاً پنجاب اور لاہور میں جانثار اور پیچھے نہ ہٹنے والی ایک ایسی سٹریٹ پاور میسر ہو جائے گی جس کی کہ تحریک انصاف کے پاس کمی ہے۔ عمران خان نے اپنے نجی مسائل سے جان چھڑائی ہے اب انہیں ملکی معاملات اور خصوصاً پنجاب کے معاملات پر توجہ دینا ہو گی ، جس کیلئے انہیں کسی مضبوط انتخابی دھڑے سے اتحاد کرنا ہوگا۔ شیخ رشید ، ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان اگر نیت صاف کرکے چل پڑیں تو منزل ہفتوں اور دنوں کی نہیں گھنٹوں دور رہ جاتی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق عمران خان اقتدار کے قریب پہنچنے والے ہوتے ہیں تو کوئی انجانی قوت ان سے ایک چھوٹی سی غلطی کروا دیتی ہے۔ 3نومبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus