×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دومونہی سیاست!
Dated: 24-Nov-2015
تجزیہ نگار اور دانشور آج اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی صورت حال اس گاڑی کی مانند ہے جس کے آگے اور پیچھے دو اسٹیرنگ اور دو ڈرائیور بیٹھے ہوئے ہیں، ایک آگے کی طرف کھینچ رہا ہے جبکہ دوسرا پچھلی طرف اور اس کھینچا تانی میں مسافروں اور گاڑی کا عجب بُرا حال ہے۔ بچپن میں سنا کرتے تھے کہ سانپوں کی نسل میں ایک ایسا سانپ بھی پایا جاتا ہے جس کے دو منہ ہوتے ہیں اور اسے ’’دومونہی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح آج وطن عزیز کی سیاست دومونہی ہو چکی ہے۔ایک طرف اسٹیبلشمنٹ جو خود کو اس ملک کا محافظ سمجھتی ہے یقینا ان محافظوں سے ماضی میں جمہوریت کو بے شمار خطرات بھی لاحق ہوئے ہیں۔ نواب زادہ نصراللہ خاں(مرحوم) فرمایا کرتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پروان نہیں چڑھتی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا پودا گملے میں لگایاجاتا ہے اور جب یہ پودا ذرا پروان چڑھنے لگتاہے تو اس کو پکڑ کر کھینچ لیا جاتا ہے۔ مرحوم نواب زادہ نصر اللہ صاحب کی اصطلاح بھی ایک طرف مگر میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت کا پودا جب بھی کھِلنے لگتا ہے تو سیاسی بکریاں اس کی کونپلیں کھانا شروع کر دیتی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان نام نہاد سیاست دانوں نے پہنچایا۔ دراصل حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خاں کی بے وقت رحلت نے اس نوزائیدہ مملکت کی سمت ہی متعین نہ ہونے دی۔ تقسیم ہند کے فوراً بعد ہم سے ایک دن بعد آزاد ہونے والے بھارت نے سوشل اور اکنامک بنیادوں پر ملک کی جغرافیائی تقسیم کی بنیاد رکھی اور سب سے پہلا کام یہ کیا کہ لینڈ ریفارم کے ذریعے ملک میں جاگیرداروں، مہاراجوں اور نوابوں کا خاتمہ کر دیا جبکہ اس کے برعکس پاکستان کو جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ پاکستان جس کی بنیاد فیڈریشن کی بناپر قائم کی گئی اور آج بھی جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں سینکڑوں ایسے جاگیردار موجود ہیں جو ہزاروں ایکڑز اراضی کے بلاشرکت غیر مالک ہیں۔ پاکستان کے قیام کے وقت ہی یہ تاثر تقویت پکڑ گیا کہ اس کی تقدیر صرف بائیس خاندانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اقتدار اور وسائل پر قابض یہ خاندان آج پاکستان کی عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ پر ہی قابض نہیں بلکہ صوبائی و قومی پارلیمنٹ اور سینیٹ کے ایوان بھی انہی بائیس خاندانوں سے بڑھ کر اب چار سو خاندان تک پہنچ چکے ہیں اور یہی لوگ ملکی اداروں پر قابض ہیں۔ ایک فوج ہی ایسا ادارہ ہے جس میں کمیشن حاصل کرکے ایک عام گھرانے کا فرد چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر جہاں اس کا ٹکرائو ان وسائل زدہ لٹیروں سے ہوتا ہے۔ فوج کی بار بار دراندازی کی وجہ سے لٹیروں کے ان تھنک ٹینک نے قدرے ایک بہتر حکمت عملی تیار کی ا ور یہ طے کیا کہ اب باری کی سیاست متعارف کرائی جائے اور دنوں بڑی سیاسی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی انتہائی صورت میں بھی فوج کو راستہ نہ دے۔ اس کامیاب حکمت عملی سے آصف زرداری کی سربراہی میں پیپلزپارٹی اپنی باری لے چکی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کی بیٹنگ ابھی جاری ہے اور پچھلے آٹھ سالوں کے دوران پاکستان کا کل قرضہ جو چودہ ارب ڈالر تھابڑھ کر اسی ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ پاکستان کے ناخواندہ نان پروفیشنل منشی وزیر خزانہ سمجھ نہ آنے والے اعدادوشمار کا سہارا لے کر عوام کو بے وقوف بنانے پر بضد ہیں۔ لفظوں اور ہندسوں کے ہیر پھیر پر مہارت رکھنے والے یہ معاشی پنڈت دراصل عوام کی ہڈیوں کو بھی بیچ کر دوبئی اور لندن میں کھربوں روپے کی جائیدادیں بنا کر ہر روز میگاپراجیکٹس کا افتتاح کرکے یورپ میںموجود اپنے بینک اکائونٹ کو بلند کرنے والا یہ طبقہ شاید اپنے مذموم مقاصد میں ملک توڑنے کی حد تک بھی چلا جاتا کہ آرمی پبلک سکول کا سانحہ پیش آ گیا۔ فوج نے ملک کے جغرافیائی دشمنوں اور دہشت گردوں پر ہاتھ ڈالا تو یہ عقد کھلا کہ دہشت گرد صرف جغرافیائی ہی نہیں بلکہ معاشی دہشت گردوں کا گروہ بھی سامنے آیا۔ پاک فوج نے جب اس گروہ اور اس کے سہولت کاروں کی طرف آہنی پنجہ بڑھایا تو حکومت اور نام نہاد اپوزیشن بمعہ ایم کیو ایم سبھی چیخ اٹھے۔ گذشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف سعودی شاہ سلمان کی د عوت پر جدہ کیاگئے کہ نوازشریف حکومت کے جیسے کلیجے پر خنجر چل گیا ہو اور فوج کو سزا دینے کے لیے حکمرانوں نے جلد بازی میں ایم کیو ایم سے صلح کرکے اور ان کے استعفے واپس کرکے انہیں اسمبلیوں میں لے آئے اور فوج اور رینجرز جنہوں نے ہزاروں جانوں کا نذرانہ دے کر بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور را کے ایجنٹوں کا ناطقہ بند کیا تھا، اب وہ پھر سے میرپور خاص، حیدرآباد، سکھر اور کراچی کے شہری سندھی علاقوں میں بلدیاتی گورنمنٹ بنانے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ اب ان چاروں مذکورہ شہروں میں ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خور بلدیاتی سسٹم کی آڑ میں اپنے دفاتر کھولنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پہلے سے بھی مضبوط نیٹ ورک قائم کر لیں گے۔ جبکہ حکمرانوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا چیف آف آرمی سٹاف کے دورئہ امریکہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے پہلے کی طرح اب بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی جیبیں بھری گئیں اور زرد صحافت کے علمبرداروں نے زرد لفافوں کے ذریعے اپنے کائونٹس بھرے۔ پاک فوج کے خلاف نفرت زدہ پراپیگنڈہ اور زہریلی فضا پید اکرکے دراصل اپنے ہی پائوں پر کلہاڑیاں مارنے کی کوشش کی گئی۔ آرمی چیف کا دورئہ امریکہ ان تمام خباثتوں کے باوجود انتہائی کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے بیانات سے بات ثابت ہوئی ہے کہ موجودہ آرمی چیف ایک لمبے عرصے کے لیے عالمی قیادتوں کے لیے قابل قبول ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کب اپنے پائوں پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ قارئین گذشتہ روز پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر، اے آر ڈی کے سابق صدر مخدوم امین فہیم وفات پا گئے ہیں ۔ اللہ ان کے لواحقین کو صبرکامل عطا فرمائے۔ مخدوم صاحب کے ساتھ اے آر ڈی میں راقم اے آر ڈی اوورسیز کے انچارج کے طور پر کام کر چکا ہے بلکہ وہ میرے قریب ترین دوستوں میں بھی شمار ہوتے تھے۔ نواب زادہ نصراللہ خاں مرحوم اور محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مخدوم صاحب کا وصال جمہوریت پسندوں کے لیے کسی بڑے نقصان سے کم نہیں۔ آج کے اس دور میں جہاں منافقت اور’’دومونہی‘‘سیاست کا رواج ہے اس میں اچھے لوگوں کا جدا ہونا وطن کے لیے نقصانِ عظیم ہے۔ 24 نومبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus