×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی ڈگڈگی!
Dated: 19-Jan-2016
جنگ عظیم اول اور دوم کے درمیانی وقفہ میں جاپان سے ایک خاندان فیوجی موری سائوتھ امریکہ کے ملک ’’پیرو‘‘ منتقل ہوا اور پیرو کے کیپٹل ’’لائما‘‘میں رہائش اختیار کی۔ جی ہاں قارئین میں اسی خاندان کے چشم وچراغ ’’البرٹو فیوجی موری‘‘ کی بات کر رہا ہوں جس نے اپنے باپ دادا کی دولت کے بل بوتے پر پیرو میں سیاسی طاقت حاصل کی اور بالآخر 2000،1995، 1990 ء میں مسلسل تین بار پیرو کے صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایک عالمی سروے کے مطابق 1994ء میں پیرو کی شرح ترقی 13فیصد تھی جو اس عشرے میں کسی بھی ملک کی سب سے زیادہ شرح ترقی مانی گئی مگر اس کے باوجود کرپشن اور ملکی خزانے کی لوٹ مار کے الزامات نے فیوجی موری کو اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیا پھر 2005ء میں اس کے خلاف کرپشن کیسز کی تحقیقات کا آغاز ہوا اور 2007ء میں اس پر فردِ جرم عائد کر دی گئی، اسے چھ سال کی سزا سنائی گئی۔ اس سے پہلے فیوجی موری بھاگ کر چلی اور جاپان چلا گیا تھا۔ جہاں اس نے سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دیں مگر پیرو کی حکومت نے اسے زبردستی واپس بلوایا اور 2009ء میں اس کو 25سال قید کی مزید سزا سنائی گئی جبکہ اس نے عدالت کو چھ سو ملین ڈالرز کی قومی خزانے سے لوٹی ہوئی رقم واپس بھی کر دی اور آج وہ ماضی کا طاقتور شخص سلاخوں کے پیچھے زندگی کے آخری ایام گزار رہا ہے۔ اسی طرح مصر کے سابق صدر حسن مبارک جو کہ کبھی دنیا کے طاقتور ، بااثر لیڈرز میں شمار ہوتے تھے آج جیل ہسپتال میں زندگی کی سانسیں گِن رہے ہیں۔ سائوتھ امریکہ کے ہی ملک پانامہ کے مشہو رڈکٹیٹر اور سابق سربراہ جنرل نوریگا جو کرپشن ،سمگلنگ ،منی لانڈرنگ اور منشیات کے الزامات کے باوجود پانامہ کو یرغمال بنائے ہوئے تھے ان کو امریکہ کی سی آئی اے اور سپیشل فورس نے رات کے اندھیرے میں صدارتی محل سے گرفتار کیا اور موصوف آج امریکہ کی جیل میں ایک عام قیدی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ میکسیکوکے مشہور زمانہ ڈان ’’ال جیبو‘‘ منشیات کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کہلواتے ہیں گزشتہ دنوں گرفتار کر لیے گئے۔ موصوف تین دفعہ جیل سے بھاگ کر قانون اور نظام کو چکمہ دے چکے ہیں۔ ترکی کے موجودہ صدر طیب اردگان جب رفاہ پارٹی کے ممبراوراستنبول شہر کے میئر تھے تو ان پر کرپشن کے الزامات لگے اور طیب اردگان 2سال سے زائد عرصہ جیل میں رہے جبکہ امریکہ کے سابق صدر رچرڈ نکسن کوواٹرگیٹ سکینڈل میں صدارت سے ہاتھ دھونا پڑے ۔سوئٹزرلینڈ کی سابق صدر ’’فرائوکوپ‘‘ کو کرپشن الزامات پر صدارت سے علیحدہ ہونا پڑا اور موصوفہ کے سیاسی کیریئر کا بھی اختتام ہوا۔ اسرائیل کے سابق حکمران احد المرت کو کرپشن الزامات پر اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اور سزا بھی سنائی گئی جبکہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کے سابق وزیراعظم آنجہانی راجیوگاندھی کو ان کے دوست امیتابھ بچن سمیت کرپشن چارجز کا سامنا کرنا پڑا اور توپوں کی خریداری کے سکینڈل بور فورس میں اقتدار سے الگ ہوئے جبکہ خود پاکستان میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نوازشریف کی حکومتوں کو دو دو دفعہ اقتدار سے علیحدہ کیا گیا ۔ کرپشن الزامات کی وجہ سے انسانی تاریخ ایسے سینکڑوں واقعات سے بھری پڑی ہے کہ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے حکمرانوں کی آنکھیں چندھیا دیں اور پھر وہ لالچ کی دلدل میں پھنستے چلے گئے۔ پھر ان کا انجام بہت عبرت ناک ہوا مگر ان سب واقعات کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ ماضی قریب میں اپنی صدارت کے پانچ سال پورے کرکے جانے والے سابق صدر آصف علی زرداری کے متعلق جب وفاقی ادارے نیب اور رینجرز نے تحقیقات شروع کیں تو موصوف نے کبھی سندھ کارڈ کی دھمکیاں دیں کبھی بتلایا کہ پاکستان ’’کھپے‘‘ صرف ان کی وجہ سے ہے اور پھر حد تو اس وقت کر دی جب ساری پیپلزپارٹی کی قیادت آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے شوہر منور تالپور کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہونے پر تلملانے لگی اور آصف علی زرداری کے ایک وفادار مولابخش چانڈیو (سندھی مولاجٹ)جیسے لوگوں نے پاکستان توڑنے کی باتیں شروع کر دیں۔ قارئین میں نے اوپر درجن بھر مثالیں دیں ہیں کہ سربراہان مملکت اور حکمرانوں کو ان کے جرائم پر سزائیں بھی ہوئیں مگر نہ کوئی ملک ٹوٹا نہ شہر ٹوٹا بلکہ کل کے ڈان آج پابند سلاسل ہیں تو پھر پاکستان کو لوٹنے والے قومی خزانے کو نقب لگانے والے اپنے احتساب پر ملک توڑنے کی دھمکی دے کر زیادہ عرصہ بچ نہیں سکیں گے۔ ان کی گیڈر بھبکیوں سے احتساب اور انصاف کا عمل رکے گا نہیں بلکہ اس میںمزید تیزی آئے گی۔ گذشتہ روز سندھ کی یرغمالی اور کٹھ پتلی حکومت نے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے کمال چالاکی سے پارلیمنٹ کی اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے سندھ پراسیکویشن ترمیمی ایکٹ منظور کرکے اپنے جرائم پر مہرتصدیق ثبت کر دی ہے۔ دراصل بوکھلائے ہوئے چور اور ڈاکو ہمیشہ اپنے جرائم کے نشانات چھوڑ جاتے ہیں۔ آج کوئی سیاسی مداری کوئی سیاسی جادوگر پاکستان کے قومی خزانے سے لوٹا ہوا 100ارب ڈالرز سے زیادہ سرمایہ لے کر بچ نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں سائوتھ افریقہ کی طرز پر ایک ’’ٹُرتھ کمیشن‘‘ بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں آغاز کرنا ہے گذشتہ پندرہ سال کی کرپشن اور لوٹ مار کا اور 2000ء سے پہلے کی لوٹ مار کے لیے ایک علیحدہ کمیشن بنایا جائے تاکہ لوگ انصاف اور احتساب کا بول بالا اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ کتنی ڈھٹائی کی بات ہے کہ آج ایک چور پر الزام لگتا ہے تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے برجستہ جواب دیتا ہے کہ ایکس وائی زیڈ نے بھی تویہ کیا ہے پہلے اس کو پکڑو۔ مگر اب پاکستان بچانے والی طاقتوں کو اداروں کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا، اس سے پہلے کہ رعایا کا ریاست پر سے اعتماد اٹھ جائے ہمیں خونی انقلاب کا راستہ روکنے کے لیے قدرتی انقلاب کو راستہ دینا ہوگا۔ قارئین! گذشتہ روز مجھے ایک دوست نے برطانیہ کے شہر ’’رگبی‘‘ سے ایک ویڈیو کلپ بھیجی ہے جو آجکل سوشل میڈیا پرزبردست پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ ’’ڈگڈگی‘‘ کے نام سے یہ ویڈیو کلپ دیکھ کر کسی بھی بے ضمیر پاکستانی کا سویا ہوا ضمیر نہ جاگے ایسا ممکن ہی نہیں۔ ہماری عدالتیں، ہماری اسٹیبلشمنٹ، ہماری اشرافیہ ،ہمارے وکلاء،ہمارے دانشور، ہماری ایلیٹ اور ہمارے سیاست دان سب ہی اپنا اپنا فرض اپنا اپنا کام چھوڑ کر ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہر کسی کا ایک ہی جواب ہے کہ اگر میں نے لوٹا ہے تو اس نے بھی تو لوٹا ہے۔ ہماری مشرقی روایات، ہماری اسلامی اقدار سبھی کچھ کرپشن کی اس چمک دمک کی نذر ہو گیا ہے۔ ملک میں عدم برداشت اور عدم تحفظ کا رواج چل نکلاہے اور ایسے میں ہمارے اوپر مسلکی منافرت اور مذہبی جنونیت کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے اطراف سیاسی کھلاڑی ڈگڈگی لے کر کھیل تماشے میں مصروف ہیں اگر پاکستان نے اپنے گرد ہونے والے ان خون آشام بادلوں کو روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو یاد رکھیے افغانستان، عراق، لیبیا ،لبنان اور شام بھی کبھی ہماری ہی طرح کے ملک ہوا کرتے تھے۔ عراق اور لیبیا جیسے معاشی طور پر مضبوط ملک اگر آج جس قدر سیاسی ،سماجی ،معاشرتی بے حسی کا شکار ہیںاور ہمارے لیے نشان عبرت ہیں۔ ہمیں من حیث القوم اپنے جسم سے چمٹی ہوئی خون چوسنے والی ان جونکوں سے پیچھا چھڑانا ہوگا ۔ یاد رکھیے ترقی کے سبز باغ ’’ہیپو کریسی‘‘ کے کھیت میں نہیں اگائے جا سکتے ہیں۔ ہمیں سیاسی مداریوں کی ڈگڈگی سے بچنا ہوگا۔ 19جنوری2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus