×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اڑتالیس گھنٹے!
Dated: 01-Mar-2016
سرزمین عرب جو جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی آمدِ رسولؐ اس خطے کے لیے روشنی اور نورکا پیغام لے کر آئی ۔ قبل از اسلام عرب قوم میں یہ عمومی رواج تھا کہ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی اس کو زندہ دفن کر دیا جاتا مگر ہمارے پیارے پیغمبرؐ جو چشمۂ ہدایت تھے نے لوگوں کو بتایا کہ بیٹی دراصل خدا کی رحمت ہوتی ہے۔ آپؐ نے اسی وجہ سے حضرت فاطمۃ الزہرہ ؓ کو جنت میںخواتین کاسردار قرار دیا اور اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی حرمت کا سوال آیا تو خود قرآن نے قسمیں کھا کر ان کی گواہی دی۔ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے باپ کی جائیداد میں پہلی دفعہ عورت کا حق متعین کیا اور نکاح کے وقت عورت کا حق مہر بھی مقرر کیا گیا۔ گذشتہ روز پنجاب اسمبلی میں حقوقِ نسواں بل پیش کرکے مضحکہ خیز صورت حال پیدا کی گئی۔ حکومت کی سخت تنبیہ کے باوجود 342کے ایوان میں سے 174ممبران حاضر تھے جن میں 70سے زائد صرف عورتیں تھیں اس مسئلے پر چھڑنے والی بحث اور علمائے کرام کی دینی و فکری اصطلاح سننے کے بعدمیں نے آج شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب سے کینیڈا کے شہر سی ساگا میں ایک خصوصی ملاقات کی اور ان سے اس مسئلہ پر ان کی فقہی رائے جاننے کی کوشش کی ۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اسلام میں مذاکرات کی گنجایش میاں بیوی کے درمیان رکھی گئی ہے اور انتہائی ناچاکی کی صورت میں بھی میاں بیوی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا ایک ایک ثالث مقرر کر لیں اور پھر ان کے مقرر کردہ ثالث معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹائیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے کہا موجودہ پنجاب حکومت کا یہ حقوق نسوں بل ہماری سائوتھ ایشیائی ثقافت اور خصوصاً پنجابی سماج کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ہمارے پنجابی سماج اور ثقافت کو بتدریج ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔ جس سے نہ صرف ہمارا زوال پذیر خاندانی سسٹم مزید کمزور ہوگا بلکہ عورت کو تماشہ بنا کر تھانوں اور عدالتوں میں رسوا کرنا مقصود ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید فرمایا کہ وہ عورتیں جو بڑے شہروں اور بڑے خاندانوں سے تعلق رکھی ہیں انہیں پہلے ہی ایسے کسی بل کی ضرورت نہیں اور جو گائوں، قصبوں اور چھوٹے شہروں میں رہنے والی خواتین یہ جرأتِ رندانہ کر بھی لیں تو وہ کونسا ایسا مرد ہے جو اڑتالیس گھنٹے گھر سے باہر وقت گزار کر آئے اور پھر اسے الیکٹرانک کڑا پہنا دیا جائے تو پھر وہ کونسی پھولوں کی مالا اپنی بیوی کو پہنائے گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے فرمایا دراصل ہمارے حکمران جن پر پروطالبان کی مہر ثبت ہے۔ میاں برادران کی صوبائی اور وفاقی ٹیم پروطالبان ذہنیت سے بھری پڑی ہے اور اس بات کا ادراک یورپین اور ویسٹرن ممالک کو بھی ہے مگر اب لمبی انگز کھیلنے کے لیے شریف برادران یورپ اور امریکہ کو لولی پاپ دینا چاہتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اسلام وہ ضابطہ حیات ہے جو عورت کو عزت، تحفظ اور حقوق مہیا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ تین سو سال وجود میں آنے والے امریکہ میں نہیں۔ مگر قیامِ پاکستان کے صرف چالیس سال بعد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہو گئیں پھر اس کے بعد ترکی کی وزیراعظم مادام ’’تانسوچلر‘‘اور بنگلہ دیش کی خالدہ ضیا اور حسینہ واجد سربراہِ مملکت بنیں جبکہ امریکہ میں آج بھی آئندہ آنے والے الیکشن کے لیے ہیلری کلنٹن کی نامزدگی ابھی تک کنفرم نہیں ہوئی۔ مغربی دنیا میں عورت کو بڑے بڑے بل بورڈز پر آویزاں کرکے اس کی تشہیر کی جاتی ہے ۔ قارئین! یورپ کی متعدد ریاستوں سمیت سوئٹزرلینڈ کے بیشتر صوبوں میں 1982ء تک خواتین کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا مگر ان تمام چیزوں کو یہاں پر بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ پاکستان میں خواتین کے لیے سب اچھا ہے۔ دراصل پاکستان میں سرکاری طور پر شرح خواندگی اکتیس فیصد ہے جبکہ رورل اور دیہاتی قصبوں ،چھوٹے شہروں میں یہ شرح شرمناک حد تک بارہ فیصد سے بھی کم ہے جس میں سے عورتوں کا تناسب بمشکل چار فیصد سے زیادہ نہیں۔ اس طرح اگر سرکاری اعدادوشمار کو مان بھی لیا جائے تو پاکستان کی کل آبادی کا 53فیصد خواتین پر مشتمل ہے جس میں سے میٹرک یا اس سے زیادہ تعلیم یافتہ خواتین کی تعداد دس فیصد سے بھی کم بنتی ہے اگر حکومت اور حکمران کچھ بدلنا چاہتے ہیں تو پہلے ایک تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جائے ،جب تعلیم ہر ذہن تک پہنچے تو سیاسی شعور اور آگاہی خود بخود اپنی جگہ بنائے گی ۔ امریکہ اور یورپ جہاں پر عورت کو جاب کے مکمل اور یکساں مواقع میسرہیں اور ساتھ میں حکومت کی طرف سے جگہ جگہ ویمنز پروٹیکشن سینٹرز بنے ہوئے ہیں جبکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں چالیس فیصد خواتین موجود ہیں وہاں تو خواتین کو ایسے قوانین پر عمل کروانا ناممکن نہیں مگر پاکستان خصوصاً پنجاب جہاں کے پولیس تھانوں میں ایک فیصد بھی خواتین کا کوٹہ موجود نہیں ایسے قوانین کا اطلاق دراصل شیر کی کھچاڑ میں بکری ڈالنے کے مصداق ہے۔ قارئین! دراصل حکومت عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اپوزیشن سے مل کر ہر روز ایک نیا شوشہ چھوڑ دیتی ہے اس طرح وقتی طور پر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ کر ان وقتی مسائل پر مبذول ہو جاتی ہے۔ کیا ان حالات میں جس وقت پاک فوج ضربِ عضب میں شہادتوں کی داستانیں رقم کر رہی ہے اور نیب سمیت سلامتی کے دیگر ادارے ملکی خزانہ لوٹنے والے چوروں، ڈاکوئوں، رسہ گیروں کے تعاقب میں ہیں ۔ پاکستان کے تین سو ارب ڈالرز کے اثاثے ملک سے باہر غیر ملکی بینکوں میں پڑے ہیں تو ان حالات میں قوم صرف اور صرف ان ڈاکوئوں کا احتساب اور مظلوم عوام حصول انصاف کے لیے کوشاں ہیں۔ ایک دفعہ پاکستان کی لوٹی ہوئی رقم واپس لائی جائے ،عوام کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں تو حقوق نسواں اور حقوق مرداں کی فرمائش کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور نہ کسی کو اڑتالیس گھنٹے کے لیے گھر سے بیدخل کیا جائے گا۔ یکم مارچ2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus