×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھارتی حملہ ڈرامہ ۔۔۔اورہماری اجتماعی قومی بے حسی
Dated: 20-Sep-2016
دوتین روز قبل الگ الگ اہمیت کے دو واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ الگ الگ اہمیت کے اس لیے کہا کہ ان کی اہمیت میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ جمعہ 16ستمبر کو مہمند ایجنسی میں خودکش دھماکے میں 36افراد شہید اور سو کے قریب شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کی حالت مرنے والوں سے بُری ہو جاتی ہے، کسی کی ٹانگ کٹ گئی، کسی کا بازو اُڑ گیا۔کوئی چلنے پھرنے سے معذور ہو جاتا ہے اور کوئی بینائی سے محروم۔3درجن انسانوں کے قتل پر آسمان بھی رو دیا ہوگا مگر ہمارے حکمران ،سیاستدان اور میڈیا بے حس رہا۔ یہ انتہا درجے کی بے حسی ہے۔ اسی روز کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ایم پی اے خواجہ اظہار الحسن کو پولیس نے گرفتار کیا تو اس کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا اور دکھایا جاتا رہا۔کہاں ایک کریمنل کی گرفتاری بریکنگ نیوز بنی اور جو بریکنگ نیوز تھی اس کا بلیک آئوٹ کیا گیا۔ مہمند ایجنسی کی دہشتگردی کی خبر بھی بریکنگ نیوز کے طور پرچلائی گئی مگر ایک دو بلٹن کے بعد اس کو میڈیا بھول گیا اور اظہار الحسن کی گرفتاری میڈیا اور قوم کے اعصاب پر سوار رہی۔ میں نے تما م نیوز چینل دیکھے ہر ایک پر اس خبر کا پوسٹمارٹم ہو رہا تھا۔ کئی روز مہمند ایجنسی کی دہشتگردی کا بلیک آئوٹ رہا۔ اظہار الحسن کی گرفتاری ، ایس یس پی رائوانوار کی معطلی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی تلملاہٹ اور باعزت رہا کرا کے گھر پہنچانے کے اقدام پر سارا زور سخن تھا۔ وزیراعظم نوازشریف کے پولیس افسر کو گرفتاری پر قرار واقعی سزا کے بیان، سپیکر ایازصادق اور وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید کے فاروق ستار کو ہمدردی کے فون پر ٹاک شوز ہوتے رہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اسی خواجہ اظہار کو 22اگست کو بھی فاروق ستار کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا مگر قیامت اب کی گرفتاری اور رہائی پر برپا کی گئی ہے۔ اس کے پیچھے کیا موٹیو ہو سکتا ہے؟ لوگوں کی توجہ دہشتگردی جیسے بھیانک واقعات سے ہٹانا؟ جہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ وزیراعظم نوازشریف ان دو واقعات کے اگلے روز اقوام متحدہ کے لیے روانہ ہوئے، انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا ہے۔ انہوں نے اپنی روانگی سے قبل کہا کہ وہ کشمیر کا کیس پوری قوت سے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران پیش کرینگے ۔وہاں موجود عالمی سربراہوں کے ساتھ ملاقاتوں میں ان کو بھارتی جارحیت اور کشمیریوں کی جدوجہد سے آگاہ کرینگے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مسئلہ کشمیر پر قوم،فوج،سیاستدانوںاور میڈیا کو ایک پیچ پرہونا چاہیے ۔ وزیراعظم نوازشریف ا س مرتبہ خصوصی تیاری کرکے اقوام متحدہ گئے ہیں جس کاوزیراعظم نریندر مودی کو علم ہوا تو اس نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے گریز کیا اور وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھیج دیا۔ ہر چینل پر میرٹ پر کشمیر کاز کی کوریج ہونی چاہیے تھی مگر اس کو ثانوی حیثیت بھی نہیں دی گئی۔ وزیراعظم کی روانگی اور کشمیر پر جو بھی کہا گیااس کو تیسرے چوتھے نمبر پر رکھا گیا۔خواجہ اظہار کی خبر کا پوسٹمارٹم کرنے کے بعد جو وقت نیوز اور ٹاک شوز میں بچا وہ عمران خان کے دھرنوں اور ن لیگ کی فی سبیل اللہ ڈنڈا فورس کو دیا گیا۔ ن لیگ کی ڈنڈا بردار فورس اور نوجوانوں کے اپنے قائدین کے لیے جذبات ابل ابل پڑ رہے ہیں۔ یہ ابال اپنے مفادات کے لیے ہے ورنہ یہ لوگ اکتوبر 99ء اور بعدازاں میاں نوازشریف، میاں شہبازشریف کی قید کے دوران کہاں تھے؟ جیالے بھٹو کی قید کے دوران خودسوزیاں کرتے تھے۔ کئی کی کوڑوں سے کھال ادھیڑ دی گئی مگر نوازشریف سے محبت کے دعویدار چھپ گئے یا مشرف کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے۔ اب یہ عمران خان کے بنی گالہ کی اینٹ سے اینٹ بچانے نکلے ہیں اور ٹی وی چینلز پر چھائے ہوئے ہیں۔ ہماری اجتماعی بے حسی کا اندازہ ذرا امریکہ کے نائن الیون کے واقعہ کے ساتھ موازنے سے کرکے دیکھیں۔ نائن الیون میں تین ہزار افراد مارے گئے تھے امریکہ نے اس کا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دیا اور اب تک پندرہ سال میں امریکہ اور اتحادیوں نے تیس لاکھ مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ ایک ہزار امریکیوں کے بدلے 10لاکھ مسلمانوں کا وجود صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ ادھر ہماری بے حسی دیکھیں کہ 36انسانوں کے دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھنے پر سوگ کا اعلان نہ افسوس کا اظہار، روایتی مذمتی بیان بھی سامنے نہیں آیا۔ میڈیا ایک غیرضروری خبر کو نمایاں کرتا رہا جس کے نیچے دہشتگردی کی یہ خبر اور کشمیر کاز دبِ گیا۔ اس موقع پر پیمرا کہاں ہے۔ یہ سب کچھ کیا کسی باقاعدہ پلاننگ کے تحت ہوا ہماری انسانیت کے حوالے سے حس کیا ختم ہو چکی ہے۔ ہمیں انسانیت کا پاس اور احساس نہیں رہا ہے۔ یہ کوئی بے حسی کی سی بے حسی ہے یہ انتہائی درجے کی بے حسی ہے۔اُدھر بھارت کی سازشیںہیںکہ انتہا کو چھو رہی ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے بلوچستان میں مداخلت کا کھلا اعتراف کیا تھا۔ اب مودی حکومت براہ راست بلوچستان میں دراندازی کے نئے نئے حربے استعمال کر رہی ہے۔اس نے آل انڈیا ریڈیو کی نشریات بلوچ زبان میں پیش کرنابھی شروع کردی ہیں۔سٹیلائٹ کے ذریعے ایف ایم ریڈیو بلوچستان میں سنا جاسکتاہے۔بھارتی چینل دوردرشن کی ایک ٹیم نے جنیوا میں پاکستان کے باغی برہمداغ بگٹی کا انٹرویوکیا جو آن ایئر کیا جاچکا ہے جس میں وہ الطاف کی طرح پاکستان کے خلاف یاوہ گوئی کررہا ہے۔ بلوچستان ، گلگت اور آزاد کشمیر میں بھارت اب منفی پروپیگنڈا کرکے معصوم لوگوں کو بہکانہ چاہتا ہے۔مگر حکومتی سطح پر اس کاسخت جواب دیاگیا نہ کوئی ایکشن لیا گیا۔ہمارا میڈیا بھی بے حسی کا روایتی مظاہرہ کررہا ہے۔ گزشتہ روزضلع بارہ مولا کے علاقے اوڑی سیکٹر میں بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پر مسلح افراد کے حملے میں 17 فوجی ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے۔ خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ اور دھماکے سے کئی بیرکیں تباہ ہو گئیں، ان میں آگ لگ گئی۔ یہ گذشتہ 27 سال میں سب سے بڑا اور جان لیوا حملہ تھا۔ بھارت نے روایتی طور پر پاکستان پر الزامات عائد کرنا شروع کر دیئے۔وزیر داخلہ راجناتھ نے بلاتحقیق الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگرد تنظیموں کو سپورٹ کر رہا ہے۔ پاکستان خود بھی دہشتگرد ملک ہے۔ بھارت پاکستان کو بدنام کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کے موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔اب جبکہ وزیر اعظم نواز شریف مسئلہ کشمیر اٹھانے کے اعلان کے ساتھ یو این او گئے ہیں تو بھارت نے ایک نیا ڈرامہ رچاکر دنیا کی توجہ ہمارے وزیر اعظم کے خطاب سے ہٹانے کی روایتی کوشش کی ہے۔ کیا ہم نے کبھی ایسی سازشوں کا تدارک کرنے کی کوشش کی ہے۔مجھے تو لگتا ہے کہ ہمارا میڈیا اور حکمران دانستہ یا نادانستہ دشمن کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔اور ہم بحیثیت قوم خواب غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں۔اس سے زیادہ اجتماعی بے حسی کیا ہو سکتی ہے۔ 20ستمبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus