×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بلاول بھٹو زرداری مائنس اور پلس کے چکر میں!
Dated: 11-Oct-2016
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دنیا میں کئی بڑے بڑے معرکے کئی لوگوں نے بڑی کم عمری میں انجام دیئے۔ ان میں ظہیر الدین بابر، محمد بن قاسم کا نام لیا جا سکتا ہے مگر ان کو سب کچھ وراثت میں نہیں ملاتھا۔ ان کے کارہائے ان کی اہلیت اور قابلیت کا منہ بولتا ثبوت تھے مگر پاکستان میں عموماً لیڈر سازی ہوتی ہے، وارث چلتی۔وراث اگر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جیسا ہو تو کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ شہید بے نظیر بھٹوبھی محلات میں پل بڑھ کر اور نازونعم میں پرورش پا کرہی بڑی ہوئی تھیں۔ وہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوئیں مگر ان کو سیاست میں کندن ان کے والد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مشکلات اور ان کے پھانسی پر چڑھ جانے کے بعد صدمات نے بنایا۔ ان کی ایک ایک لمحہ تربیت یقینا شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی۔ آج میں 25سال کے بچے کے سامنے ان لیڈروں کو جو ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے بھی ساتھی رہے ہیں کو بھی دوزانے بیٹھے دیکھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں۔ اگر ان میں اپنی والد اور نانے جیسے اہلیت و قابلیت ہو تو ان کو لیڈر ماننے میں کوئی قباحت نہیں مگر ان پر بدستور بچپنا غالب ہے۔ ان کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ کب کیا کہنا ہے۔ وہ آج کا کہا ہوا کل بھول جاتے ہیں۔ان کے اندر لیڈر شپ کی ایسی خوبیاں ہیں کہ آزادکشمیر میں انتخابی مہم پوری قوت سے چلائی۔ وہاں اپنی حکومت تھی مگر صرف دو نشستیں ہی پیپلزپارٹی کی بڑی مشکل سے حاصل کر سکی وہ بھی کشمیر کے باہر سے۔ نوجوان لیڈر نے آزاد کشمیر میں پارٹی کی حکومت گنوائی اور 41میں سے صرف دو سٹیں۔۔۔ کیا کہنے ایسی لیڈر شپ کے۔وہ اب اگلے الیکشن میں پورے ملک میں کلین سویپ کے دعوے کررہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں بڑے جوش و خروش سے مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار کا نعرہ لگاتے رہے۔کل ہی کہہ رہے تھے 2018ء میں ہم اقتدار میں آئیں گے اور نوازشریف جیل میں ہوں گے۔ اب کہہ رہے ہیں،میں نے کبھی انکل نوازشریف کو غدار نہیں کہا،ان کے خلاف نہیں بولا،وہ بڑے لیڈر ہیں۔وہ میرے انکل ہیں۔مولانا فضل الرحمن کو مولانا ڈیزل کہتے رہے۔ اب ان سے استادیاں سیکھ رہے ہیں۔ الطاف حسین کو انکل اور کراچی کی حقیقت کہہ رہے۔ حالانکہ سندھ اسمبلی میں ان کی پارٹی الطاف حسین کو غدار قرار دے کر پھانسی کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔اس قراداد کی حمایت متحدہ نے بھی کی۔خود متحدہ الطاف کو قبول کرنے سے انکار کرچکی ہے مگر بلاول کو وہ محب وطن نظر آرہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کیا سمجھتے کہ عوام کا حافظہ اتنا ہی کمزور ہے کہ ان کی دو روز قبل کی باتیں اور اقوال بھول جاتے ہیں یاپھر’’ ننھا لیڈر‘‘ بھول جانے کے مرض میں مبتلا ہے؟ کل بچپنے میں، امید ہے وہ بتا دیں گے کہ ان کے من میں مولانا افضل الرحمن جنہوں نے ان کی والدہ کو ٹف ٹائم دیا تھا، نوازشریف اور الطاف حسین سے محبت کے دیپ کس کے کہنے پر جلے تھے۔وہ فرما رہے ہیں کہ ان کے نانا، والدہ اور دو ماموئوں کو مائنس کیا گیا۔ آج ان کے والد آصف علی زرداری کو مائنس کرنے کی بات ہو رہی ہے۔کل مجھے مائنس کرنے کو کہا جائے گا۔ کوئی کسی کو مائنس نہیں کر سکتا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو ،شہید تو وہ گئے مگر عوام کے دلوں سے نہ نکل سکے۔ زمامِ جماعت زرداری کے ہاتھ آئی تو انہوں نے اپنے 90کی دہائی والے ’’فیصدی‘‘ کارنامے دہرا کر خود کواور دولت کو تو پلس کر لیا مگر پارٹی مائنس ہو گئی۔ایسی مائنس کہ اب کبھی اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی کیونکہ ننھے لیڈر اپنے والد محترم کو اپنا سیاسی گرو مانتے ہیں۔ عمران خان پانامہ لیکس کو لے کر اٹھے ہیں۔ جس سے حکمران پارٹی کی جان پر بنی ہوئی ہے۔ بلاول کی پیپلزپارٹی نوازشریف سے پانامہ لیکس کا منافقت سے حساب مانگتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ نوازشریف کا احتساب ہوا تو اگلی باری زرداری صاحب اور ان کے کندھے سے کندھا ملا کر ملکی وسائل پر بے دردی سے تسلط کرنے والوں کی ہو گی۔ ان سے احتساب کے لیے اخلاص کی توقع احمقوں کی جنت کی طرح ہے۔ عمران خان نے رائیونڈ میں اکیلے ہی کسی کی بھی مدد کے بغیر کامیاب جلسہ کر لیا اب وہ اسلام آباد کو بند کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کو کسی کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں مگر وہ کبھی اس کے پاس جاتے ہیں، کبھی اس کے پاس جاتے ہیں۔ لوگ ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے جو دھرنے کے نام پر لوگوں کو خوار کرتے ہیں اور ان کو بیچ منجدھار کے چھوڑ کے رفوچکر ہو جاتے ہیں۔ عوام سے نہ یہ مخلص ہیں نہ وہ مخلص ہیں جو اقتدار میں ہیں۔ ان کو اپنے اقتدا رکو طول دینے کی پڑی ہے۔ جو اقتدار سے باہر ہیں وہ ہر صورت اور ہر قیمت پر کرسی پر براجمان ہونا چاہتے ہیں۔ جہاں ایک بریکنگ نیوز بھی ملاحطہ فرما لیں۔ عمران خان کی خواہش ہے کہ اس حکومت کا خاتمہ ہو، تین ماہ احتساب ہو اگلے تین ماہ میں انتخابات ہوں۔ جو ان انتخابات میں کامیاب ٹھہرے حکومت اسے دے دی جائے۔ شیخ رشید زور لگا رہے ہیں کہ عبوری عرصہ کے لیے ان کو وزیراعظم بنا دیا جائے تو وہ احتساب کرکے دکھا دیں گے۔ ایک تجویز یہ بھی آ رہی ہے کہ عبوری حکومت کا عرصہ 6سے آٹھ سال ہوجس میں احتساب احتساب اور صرف احتساب ہو۔وزارت عظمیٰ کی کرسی ایک امیدوار کم از کم تین تو ہیں ہی مگر ہما کسی کے سر بیٹھتا فی الحال تو نظر نہیں آرہا،عمران خان کا تو شفاف الیکشن ہونے پر پھر بھی چانس ہے باقی پانی میں مدھانی ہی چلائے جارہے ہیں۔ ہر کسی کو اپنے اپنے مفاد سے غرض ہے عوام او ران کے مسائل سے کسی کو سروکار نہیں۔ البتہ اپنی تمنائوں اور خواہشات کی بجاآوری کے لیے عوام کا نام استعمال ضرور کیا جا رہا ہے۔ 11اکتوبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus