×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا یہ محض اتفاق ہے؟
Dated: 01-Nov-2016
وزیراعظم نوازشریف بحرانوں کی دلدل سے نکلنے کے لیے جتنی کوشش کر رہے اورہاتھ پائوں مار رہے ہیں وہ دلدل میں اتنے ہی پھنستے جا رہے ہیں۔ ان کی کشتی بھنور کی زد میں آ کر ڈوب رہی ہے۔ اس کا کنارے لگنا تو درکنار، بھنور سے نکلنا ہی ممکن نظر نہیں آتا۔ یہ مشکلات خود انہوں نے اپنے لیے کھڑی کی ہیں۔ پاک فوج حکومت کے ماتحت ادارہ ہے مگر اسے اپنی پالیسیوں سے حکومت نے اپنے سامنے کھڑا کر لیا ہے۔ ایسے ایسے کام اور کارنامے انجام دیئے کہ سیاسی حکومت اور وہ بھی ہیوی مینڈیٹ کی حامل حکومت فوج کو جوابدہ نظر آتی ہے۔ وزرا جی ایچ کیو میں جا کر میٹنگ کرتے ہیں جن کو بجا طور پر کئی حلقے کہتے ہیں کہ وزرا اپنی صفائی پیش کرنے جاتے ہیں۔ وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید کو ان کی وزارت سے ہٹائے جانے سے قبل بھی چودھری نثار، شہبازشریف اور اسحق ڈار جی ایچ کیو میں جا کر جنرل راحیل شریف سے ملے۔ وہ گئے تو معاملات کو رفع دفع کرانے تھے مگر وہاں عجب صورت حال تھی۔ ان کے سامنے کوئی ٹیپ چلا دی گئی جس میں خبر پلانٹ کرنے کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ یہ امر بھی تعجب خیز ہے کہ آرمی چیف سے عموماً چودھری نثار اور شہباز شریف ملاقات کرتے ہیں مگر اب اسحق ڈار کو بھی ساتھ بھجوایا گیا تھا۔ شاید کسی کو کسی پر اعتماد نہیں تھا۔ بہرحال جی ایچ کیو کے مہمانوں نے وزیراعظم کو آرمی کا پیغام دے دیا۔ اگلے روز پرویز رشید کو ان کی وزارت سے یہ کہہ کرہٹا دیا گیا کہ ان سے خبر کے حوالے سے معاملات ہینڈل کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے اوراصل کردار اب بھی پس پردہ ہیں مگر یہ کب تک پس پردہ رہیں گے؟ آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ پرویز رشید تو اس اجلاس میں بھی نہیں تھے۔ آج چودھری نثار علی خان نے کپکپاتی زبان اور پسینے سے شرابور جسم کے ساتھ عجیب رام کہانی سنادی کہ وزیراطلات خبر رکوانے میں ناکام رہے۔ اس لیے ان سے استعفیٰ لیا گیا۔ جدید اور جمہوری دور میں ایک وزیر کسی کو بھی خبر شائع کرنے سے کیسے جبری طور پر روک سکتا ہے؟ اور نہ روک سکے تو اس کا وزیراعظم بلا کسی انکوائری اور تحقیقات کے اسے ملزم سے مجرم بنا دے۔ یہ کہاں کی جمہوریت اور انصاف ہے ۔ حکومت نے اس خبر کے افشا پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، فوری طور پر رپورٹر پر دبائو ڈالا، اسے دھمکیاں دیں اور اس کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا۔ فوج کو حکومت قومی سلامتی کے حوالے سے خبر لیک ہونے پر مطمئن نہ کر سکی۔ فوج نے برملا کہہ دیا تھا کہ اسے خبر دینے والے سے اور خبر شائع کرنے والے اخبار سے کوئی شکایت نہیں، اسے خبر لیک کرنے اور فیڈ کرنے والے کردار کو سامنے لائے جانے سے سروکار ہے۔ وہ حکومت نے پرویز رشید کی شکل میں سامنے لا کھڑا کیا مگر اس پر فوج تو کیا میڈیا اور دیگر کئی حلقے بھی مطمئن نہیں۔ سوال پھر وہی ہے کہ آخر خبر اجلاس کے اندر سے باہر کیسے آئی، سیرل المیڈا نے خبر کی اشاعت کے بعد عسکری حلقوں سے تعاون کیا، وہ ان کی حکومت نے مجبوری بنا دی تھی۔ جب حکومت ان پر چڑھ دوڑی، نام ای سی ایل میں میڈیا کو اعتماد میں لیے بغیر ڈال دیا گیا تو وہ کیا کرتے؟ وزیراعظم ہائوس میں مریم نواز کا میڈیا سیل کام کر رہا تھا، اس پر اپوزیشن شدید اعتراضات اور تحفظات ظاہر کرتی تھی مگر حکومت نے اس کا نوٹس نہیںلیا ،لیکن اب حالات ذرا سنگین ہوئے ہیں تو خود وزیراعظم نے میڈیا ہائوس ایوانِ وزیراعظم سے ہٹا دیئے جانے کی اطلاع ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس میڈیا سیل کا بھی خبر فیڈ کرنے میں ہاتھ ہے مگر پھر سوال وہی ہے کہ اس تک بھی خبر کیسے پہنچی۔ پرویز رشید کی قربانی سے مسئلہ ختم ہوا ہے نہ ہی معاملہ دبا ہے۔ اس حوالے سے چند روز میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کے سینئر افسروں پر مشتمل اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔یہ ایسی کمیٹی نہیں ہو گی جن کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ کسی معاملے کو لٹکانا ہو تو کمیٹی بنا کر اس کے سپرد کر دیا جائے۔ یہ جس نوعیت کی کمیٹی ہے فوجی عدالتوں کی طرح چند دن میں اپنی رپورٹ پیش کر دے گی جس پر عمل کرنا ناگزیر ہوگا۔ جو کردار خبر فیڈ کرنے میں ملوث ہیں ان کو تو معلوم ہے، اسی لیے اقتدار کے ایوانوں میں افراتفری کی کیفیت نظر آتی ہے۔ معاملات اس نہج تک جا پہنچے ہیں کہ وزیراعظم کے متبادل کے طور پرچودھری نثار علی خان کا نام لیا جا رہا ہے۔ یہ انکشاف کسی اور نے نہیں مسلم لیگ ن کے رہنما سید ظفر علی شاہ نے کیا ہے۔ ایسے معمولات سے پیپلزپارٹی کی قیادت لاعلم نہیں ہو سکتی۔ اس کی طرف سے چودھری نثار علی خان کے استعفے کا مطالبہ بھی اسی تناظر میں کیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنے 4مطالبات کے لیے 27دسمبر کی ڈیڈ لائن دی تھی جو اچانک 7نومبر میں بدل دی گئی۔ ظفر علی شاہ کہتے ہیں اسی ڈیڈ لائن میں وزیراعظم کی تبدیلی کا فریم ورک ہے۔ فوج پر شدت پسندانہ کالعدم تنظیموں سے رابطوں کا الزام بھی اسی حکومت کی طرف سے سامنے آتا رہا ہے ۔ آج حکومت کے جو ہاتھ پائوں پھولے ہوئے ہیں اس کے پس منظر میں بھی ایسے ہی الزامات ہیں۔ دو روز قبل عجیب صورت حال سامنے آئی، حکومت نے اسلام آباد آنے والے راستے اس طرح سختی سے بند کیے کہ فوجی کانوائے کو بھی راستہ نہ مل سکا تو راستے کی تلاش میں کرنل شہید اور میجر شدید زخمی ہو گئے۔ اسلام آباد سیل کر دیا گیا، تحریک انصاف کے کارکنوں پر آنسو گیس اور شیلنگ کا بے رحمانہ استعمال ہوا۔ شیخ رشید کو لال حویلی میں چھوٹا سا اجتماع بھی نہ کرنے دیا گیا۔ عمران خان کو نظر بند کر دیا گیا اور اس دوران شدت پسند تنظیم کو اسلام آباد میں ریلی نکالنے اور کانفرنس کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ جس میں فرقہ ورانہ تقریریں کی گئیں اور اشتعال انگیز نعرے بازی ہوتی رہی۔ ایک جمہوری پارٹی کو اجتماع، جلسے اور یوتھ کنونشن سے روکنا اور شدت پسند تنظیم کو ریلی اور جلسے کی اجازت دینا کیا یہی جمہوریت ہے۔ یہ جمہوریت نہیں جمہوریت کو تماشہ بنانے کے مترادف ہے۔ جن لوگوں نے ایسا کیا ان کو جواب تو دینا پڑے گا اور شاید اب جواب دینے کا وقت آ گیا۔میرے ایک بہت ہی عزیز دوست نے کل مجھ سے کہاکہ پاکستان میں سب سے زیادہ پرائزبانڈ سعد رفیق ہی کیوں نکلتے ہیں، نوازشریف کے خلاف تحریک کے موقع پر دہشت گردی ہو جاتی ہے ۔ الیکشن 2013ء میں اتفاق سے مقناطیسی سیاہی نہیں پہنچتی ، جن پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ 95%ہو ن لیگ ہی جیتتی ہے ، جہاں میٹرووغیرہ کا ریکارڈ ہو اتفاق سے عمارت کے اسی حصے میں آگ لگتی ہے اور بے شمار اتفاقات کے بل بوتے پہ شریف فیملی پچھلے 32سال سے اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔ یکم نومبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus