×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مچھلی منڈی’’ جمہوریت‘‘ اور زرداری کی واپسی
Dated: 20-Dec-2016
گذشتہ چند ماہ میں نے پاکستان میں گزارے۔ جہاں راولپنڈی میں مجھے فرزند راولپنڈی شیخ رشید کے ساتھ مچھلی منڈی جانے کا اتفاق ہوا، جہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ افراتفری ایسی کہ لگتا تھا قیامت کا منظر ہے ،کسی کو دوسرے کی پروا اور فکر نہیں تھی۔ پہلے سنتے تھے مچھلی منڈی اب آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیا۔ گذشتہ ہفتے کے آخری دنوں قومی اسمبلی میں جو شوروغوغا ہوا، نوبت دست و گریباں ہونے تک آ گئی۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ سپیکر مجبور محض نظر آ رہے تھے ان کی اپوزیشن نے کیا ماننی تھی ان کی تو خود مسلم لیگ ن بھی نہیں سن رہی تھی۔ میڈیا میں اس صورت حال کو بار بار مچھلی منڈی سے تشبیہ دی جا رہی تھی۔ صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں پر ہی کیا موقوف، پاکستان کی پوری سیاست ہی مچھلی منڈی بن چکی ہے۔ مروجہ جمہوریت کو مچھلی منڈی جمہوریت قرار دے دیا جائے تو یہ بھی غلط نہیں ہوگا۔ سیاست اور جمہوریت کے بازار میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔جو اقتدار میں آ گیا اس کے تو گویا پائوں تلے بیڑا آ گیا۔ وہ اپنے اقتدار کودائمی سمجھتا ہے۔ جو اقتدار سے باہر ہے وہ اقتدار میں آنے کی بے پایاں خواہش رکھتا ہے۔ آج قومی سیاست میں یہی کھیل جاری ہے۔ آصف علی زرداری کو اقتدار میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور ان کی ملازمہ کی دراز سے ملنے والی وصیت لے آئی جو شہید بی بی نے شاید عالم ارواح سے بھجوائی تھی۔آصف علی زرداری اس وصیت کے گھوڑے پر سوار ہو کر ایوان صدر میں جا کر اترے۔ جنرل ضیاء نے پیپلزپارٹی کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی جس میں وہ بُری طرح ناکام ہوئے۔ مگر زرداری صاحب ضیاء پر بازی لے گئے انہوں نے اپنے ہاتھوں پیپلزپارٹی کا ایسا گلا گھونٹا کہ بلاول کی جادوگری بھی اس میں روح پھونکنے سے قاصر ہے۔ زرداری نے نہ جانے کس زعم میں فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کر دیا۔ نوازشریف نے اگر اینٹ سے اینٹ بجانے میں ساتھ دینے کا کوئی عندیہ دیا تھا تو جنرل راحیل شریف کے تیور دیکھ کر انہوں نے زرداری کا ساتھ نہ دیا جس پر زرداری صاحب کو خود کو بچانے کے لیے ملک سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ آج بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پاپا کی واپسی کا اعلان کر دیاہے۔ ان کی نظر میں اب جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد میدان صاف ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائدین جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ پر شادیانے بجا رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے لیڈروں کے من میں تو لڈو پھوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ آصف زرداری اگر واقعی 23دسمبر کو بے نظیر بھٹو کے بچے کے اعلان کے مطابق پاکستان آ جاتے ہیں تو سمجھ لیں کہ وزیراعظم نے سرِدست فوج کو کنٹرول کر لیا ہے مگر کب تک؟بلاول نے چودھری نثار کے ’’بچہ پارٹی‘‘ کہنے پر عجیب و غریب ردعمل دیا ہے’’ہاں میں بچہ ہوں، بینظیر کا بچہ ہوں۔‘‘ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آصف زرداری کا بچہ اور حاکم زرداری کا پوتا ہوں۔ وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کے ساتھی جن کو عمران خان اور ان کے حواری درباری کا خطاب دیتے ہیں آج عدلیہ اور فوج کو کنٹرول کرنے کا تاثر دے رہے ہیں۔ میں نے اپنے کانوں سے ن لیگ کے لیڈروں سے سنا ہے کہ نومبر مشکل مہینہ ہے پھر اپنا آرمی چیف اور اپنا چیف جسٹس ہوگا۔ ماشاء اللہ دونوں چیف صاحب کی طرف سے ان کے رویے سے اس تاثر کی نفی نہیں ہو رہی گویا انصاف اور دفاع یرغمال بن چکے ہیں۔ انصاف تو خیر پہلے بھی آزاد اور قابلِ رشک نہیں تھا۔ ادارے ضرور آزاد اور خودمختار ہونے چاہیے۔ ان کی آزادی اور خودمختاری کا انحصار اداروں کے سربراہان پر بھی ہوتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے فوج کو ایسا ادارہ بنا کے دکھا دیا تھا۔ انہوں نے دہشتگردوں کو نکیل ڈال کے رکھ دی۔ فوج سے آئین میں ترمیم کرائی دہشتگردوں کو پھانسی کے تخت تک پہنچایا، فوجی عدالتیں بنوائیں، وہ جو کہتے رہے حکومت خاموشی سے کرتی رہی ہے۔ یہ ہوتی ہے لیڈرشپ۔ عمران خان ایمپائر کی انگلی اٹھنے کی بات کرتے رہے مگر ایمپائر کسی کے اشارے پر نہ چلا۔ عمران خان کی سیاست کا انداز بھی نرالا ہے۔ دو نومبر ان کے پاس اپنے مطالبات منوانے کا نادر موقع تھا مگر وہ بنی گالا کی پہاڑی پر ایسا چڑھے کہ اترنے کا نام نہ لیا مبادہ گرفتار کر لیا جائوں گا۔ عمران خان کو اپنی حیثیت اور شخصیت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ وہ بنی گالا سے اترتے گرفتار ہو جاتے تو ان کی تحریک اور اسلام آباد بند کرنے کی پلاننگ کو خود بخود عملی شکل مل جانی تھی۔سپریم کورٹ کی طرف سے ایک روٹین کے نوٹس لینے پر عمران خان کی طرف سے اسے نوازشریف کی تلاشی قرار دینا اور خوشی سے پھولے نہ سمانا ان کی سیاسی ناپختگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پیپلزپارٹی جیسی بھی ہے اس کے لیڈر بے شک ایک بچے کو اپنی سیاسی بقاء کے لیے لیڈر مانتے ہیں تاہم یہ لیڈرسیاست کے گرم و سرد کو خوب سمجھتے ہیں۔ ان کو پتہ ہے عدالتوں میں کیا ہوتا ہے کیسے فیصلے ہوتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو پوری دنیا جوڈیشل مرڈر قرار دیتی ہے۔ شہید محترمہ کو ججوں نے فون کال پر سزا سنا دی۔ پیپلزپارٹی اسی وجہ سے پانامہ کیس عدالت میں لے جانے کی مخالفت کرتی رہی جبکہ عمران خان بڑے جوش و جذبے سے سپریم کورٹ گئے اور چند سماعتوں کے بعد مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان ہے مغرب نہیں۔ پاکستان میں سیاست پاکستان کے ماحول میں رہ کر اس کے ماحول کے مطابق کریں گے تو کامیاب ہوں گے۔ یہ گُر نوازشریف اور زرداری کو ایک دوسرے سے بڑھ کر آتا ہے۔ پاکستان میں مغربی طرز کی سیاست کی کارفرمائی اسی صورت ہو سکتی ہے کہ معاشرہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہو۔ موجودہ سیاسی ایلیٹ ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی۔ ایسے میں اس مچھلی منڈی جمہوریت میں عمران خان کا اقتدار میں آ جانا معجزے سے کم نہیں ہوگا۔معجزے تو ہوتے رہتے ہیں،پاکستان میں زیادہ ہی ہوتے ہیں۔ 20دسمبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus