×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
واقعی، ایک زرداری سب پہ بھاری
Dated: 12-Dec-2009
منیٰ میں حج کے دوران شیطان پر سخت وقت ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی شیطان بھی جوابی حملہ کر دیتا ہے۔ جس سے بے شمار زائرین بھگدڑ مچ جانے کے نتیجے میں کچلے جاتے ہیں۔ اسی طرح جہاں انسان موجود ہیں وہاں شیطان بھی ہیں۔ سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر پاکستان آصف علی زرداری سے متعلق انٹرویو کے دوران زہر اگلا تو پاکستان میں جیالوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور اس کے پتلے جلائے گئے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے آفس کے باہر مشرف کا پتلا جلایا جا رہاتھا تو شیطان کے جوابی حملے سے دو جیالے جھلس گئے۔ ان میں سے ایک شیخ اکرم اپنی معصومیت، ایمانداری اور بھٹوز سے وفاداری کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھے۔ وفا کا یہ پیکر چند روز قبل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملا۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے آدھا درجن وزراء، سینئر منسٹر، سینکڑوں ایم این ایزاور ایم پی ایز کی موجودگی میں یہ مخلص کارکن بسترِ مرگ پر سسکیاں لیتے ہوئے اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیا۔ دراصل پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک بھر میں تنظیمیں غیرفعال اور نامکمل ہیں۔ جیالے ہر ڈھائی سالہ اقتدار کے بعد طویل عرصہ معائب و آلام اور آزمائش میں گزارتے ہیں۔اقتدار کے دنوں میں وزرا اور پارٹی کے دیگر سیانے اور وڈیرے جن کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار حاصل کرتے ہیں ان کو ہی بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ درجنوں جیالے کبھی کسی کے گھر اور کبھی کسی کے دفتر کے چکر لگا کر پرانی یادوں اور یاری کا واسطہ دیتے نظر آتے ہیں۔اقتدار کے نشے میں دھت صاحبانِ سیاست و فن کم از کم اتنا تو کر دیں کہ کارکن ایک بار پھر کوڑے کھانے اور پارٹی کو خون دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ پنجاب پیپلز پارٹی کے 36اضلاع پر مشتمل 8ڈویژنل کوآرڈینیٹرز اور 36ضلعی صدور ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رانا آفتاب کا تعلق فیصل آباد سے جب کہ باقی تمام صوبائی عہدیداران کا تعلق لاہور شہر سے ہے اس طرح پی پی پی پنجاب کے دیگر 34اضلاع کو کیا یہ سمجھ کر تو نظرانداز نہیں کر رہی ؟کہ ان اضلاع سے پیپلز پارٹی نے 100فیصد معرکہ سر کر لیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں پنجاب اور میٹروپولیٹن کی تنظیمیں متوازی چل رہی ہیں۔پنجاب پیپلز پارٹی کے تنظیمی عہدیداروں کی تعداد صوبے بھر میں ہزاروں کی تعداد میں ہے،صرف لاہور میں 25زونز اور 4اضلاع پر مشتمل عہدیداروں کی تعداد1650ہے۔ٹکٹ ہولڈرز اور امیدواران ٹکٹ کو بھی شامل کر لیا جائے تو تعداد 2ہزار سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اس سال جب 18اکتوبر سانحہ کارساز کی یاد منائی جارہی تھی تو اس میں صرف 2درجن عہدیدار اور کارکن چھوٹے سے کمرے میں جمع ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے نظر آتے ہیں اور پیپلز پارٹی لاہور کا آفس کسی طرح بھی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے میٹروپولیٹن آفس کے شایانِ شان نہیں۔ مشرف کے پورے دور میں پارٹی جب احتجاج یا خوشی کے موقع پر کوئی اہتمام کرتی تھی تو وہاں حاضری کبھی 200سے زیادہ نہیں ہوئی اور اس طرح پیپلز پارٹی کو کیک اینڈ بیک پارٹی بنا کر رکھ دیا گیا۔ میرے مشاہدے کے مطابق پیپلز پارٹی پنجاب کے 8کوآرڈینیٹرز میں سے کم از کم 6ڈویژنل کوآرڈینیٹرز جو کہ وزیر یاممبر پارلیمنٹ منتخب ہو چکے ہیں پچھلے دو سال میں کسی ایک بھی اجلاس میں شرکت نہ فرما کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ چند روز قبل شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری نے پارٹی کی تنظیم سازی کی مہم کا آغاز کرنے کو کہا ہے لیکن میرے خیال میں اس تنظیم سازی کا حال بھی اس تنظیم سازی جیسا ہوگا جو دو سال قبل کی تنظیم سازی کا ہو چکا ہے۔ جس کے دوران غریب کارکنوں سے ممبرشپ کے نام پر کروڑوں روپے بٹورے گئے اور منتخب ممبران کو کبھی بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا گیا۔ بس وقتاً فوقتاً فائیوسٹار ہوٹلوں میںظہرانے اور عشایئے جاری رہے یا پھر چند مخصوص چہرے وزیراعظم کے استقبال کے لیے ہمیشہ ایئرپورٹ پر موجود ہوتے ہیں۔ ایک جیالے کے بقول پیپلز پارٹی کا نام بدل کر اب 5سٹار پارٹی رکھ دینا چاہیے۔ پیپلز پارٹی پنجاب اور لاہور کی تنظیم کے لیے حالیہ ہونے والی دہشت گردی کی لہر نے اس کا بھرم ایک دفع پھر پھوٹنے سے اس کو بچا لیا ہے وگرنہ 13دسمبر کے منسوخ شدہ جلسے سے پانچ دن پہلے تک حالت یہ تھی کہ لاہور میں یوم تاسیس کو تاریخی بنانے کے اعلانات باوجود لاہور کے عوام کو اس کا علم تک نہ تھا یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے ایک پرانے اور سینئر عہدیدار نے برملا کہا کہ اب پیپلزپارٹی لاہور کو ڈرائینگ رومز کی سیاست سے باہر نکلنا ہوگا۔ پارٹی اس وقت ایسے قائدین کے چنگل میں ہے جو کارکنوں سے آدھا ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے۔ پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ لاہور اور پنجاب کو پیپلز پارٹی کا لاڑکانہ بنا دیں گے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری تن تنہا پارٹی کو لے کر مردانہ وار آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری بحرانوں اور طوفانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اکیلے ہی سب پر بھاری ہیں۔ شریک چیئرمین کی پولیٹیکل سیکرٹری مس رخسانہ بنگش اور پرائیویٹ سیکرٹری ڈاکٹر قیوم سومرو پر مشتمل فعال ٹیم بھی جانفشانی سے ہر بحران کا سامنا کر رہی ہے باقی تقریباً سب’’وہلے مصروف‘‘ قائدین معجزوں کے منتظر ہیں۔ آج ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ ایک طرف اسرائیل اور بھارت ہماری سالمیت کے درپے ہیں دوسری طرف ہمارے اپنے ہی ہم وطن لنکا ڈھانے چلے ہیں۔ میرے وطن کے شہر روم کی طرح جل رہے ہیں تو ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنما ’’نیرو‘‘کی طرح بانسری بجا رہے ہیں۔ مون مارکیٹ میں خون اور آگ کا کھیل جاری تھا اسی رات اسی شہر کے امراء کے گھروں میں ڈانس پارٹیاں اور بھارتی گانوں پر رقص جاری تھا۔ لانگ مارچ اور ریلیوں کے شوقین اپنا قومی کردار ادا کرنے پر تیار نہیں جب کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس وقت استحقام پاکستان کے لیے تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ریلیاں نکالتیں اور دہشت گردوں کو یہ پیغام دیا جاتا کہ تم دکھائو کتنا زور بازوئے قاتل میں ہے۔ جنرل ضیاء الحق جب کرکٹ ڈپلومیسی کھیلنے بھارت جا رہے تو نظریہ پاکستان کے محافظ جناب مجید نظامی کو ساتھ چلنے کو کہا مجید نظامی صاحب کا جواب تھا ٹینک پر بیٹھ کر جائو گے تو ساتھ چلوں گا۔ میری نظامی صاحب سے گزارش ہے کہ اگر ٹینک پر دوسرے آدمی کے بیٹھنے کی گنجائش ہوئی تو مطلوب وڑائچ بھی آپ کے ساتھ جائے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus