×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نیوایئر پہ پولیس گردی اور چلے ہوئے سیاسی کارتوس
Dated: 03-Jan-2017
خواہش ہوتی ہے کہ نئے سال کا سورج خوشیاں لے کر طلوع ہو۔ عیسوی ایسا کیلنڈر ہے جو ہم پاکستانی مکمل طور پر فالوکرتے ہیں۔ ہم میں ان لوگوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہو گی جن کو اپنی عیسوی سال کے علاوہ کسی دوسرے کیلنڈر کے مطابق تاریخ پیدائش کا علم ہو۔ ہمارے سرکاری و نجی تمام تر امور عیسوی کیلنڈر کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ یوں کیلنڈر میں تبدیلی یعنی نئے سال کے آغاز پر خوشی منانا ایک فطری امر ہے اور خوشی منانے کا ہر کسی کو اپنی خواہش اور حیثیت کے مطابق پورا حق حاصل ہے۔ ایسا حق استعمال ہوتا دیکھ کر کچھ خبطی آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں اسلامی کیلنڈر پر اس لیے بھی عملدرآمد مشکل ہے کہ تمام مسالک اپنی اپنی امرضی کے مطابق چاند نظر آنے کی بات کرتے ہیں اسی وجہ سے ملک کے مختلف کونوں میں تین چار دن تک عید منائی جاتی ہے۔ بجا ہے کہ خوشی بھی تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے منائی جانی چاہیے مگر یہاں تو کچھ شدت پسندوں کو دوسرے کی طرف سے اونچاسانس لینا بھی گوارہ نہیں ۔نئے سال کی آمد پر دنیا بھر میں جشن منایا گیا۔ نصف شب کے موقع پر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رنگ و نور کا ایک سیلابِ بے کراں تھا۔ آتشی بازی کے دلکش مناظر دیکھنے میں آئے۔ پاکستانی بھی اس ماحول میں اضافہ کر رہے تھے۔ نوجوان سڑکوں پر نکلے بھنگڑا ڈال رہے تھے، ہلہ گلہ کر رہے تھے۔ ایسے مواقع پر انجوائے کرنا اس نوجوان نسل کا پورا حق ہے جو صبح سے شام اور پھر رات تک جدید ٹیکنالوجی فیس بُک ،ٹوئٹر،واٹس اپ وغیرہ سے جڑی رہتی ہے۔ ایسی تقریبات کا مذاہب سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مذاہب نے معاشروں کو اپنے مقامی کلچر کے مطابق زندگی گزارنے سے منع نہیں کیا۔ عربوں کے ہاں اب بھی ان کا بہت سے معاملات میں قبل از اسلام کا کلچر رائج ہے۔ ان کے ہاں قیمتی گاڑیاں تو کیا جہازوں کی بھی کمی نہیں مگر وہ اونٹ کی سواری اور سال میں کم از کم ایک مرتبہ صحرا میں خیمے لگا کر شب بسری کو نہیں بھولے۔ ان کا لباس ان کے کلچر کا حصہ ہے جب کہ جدید لباس میں آپ بادشاہوں اور شہزادوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ہمارے ہاں فصلوں کی کٹائی پر میلوں کا انعقاد ہمارے کلچر کا حصہ ہے، ہم جو لباس پہنتے ہیں وہ بھی علاقائی پہچان رکھتا ہے۔ اس سے دین حنیف نے کوئی ممانعت نہیں کی۔بسنت اور بیساکھی بھی اسی سلسلے کے پنجابی تہوار ہیں بسنت بہار کی آمد پر اور بیساکھی فصل کی کٹائی پر منائے جاتے ہیں مگر ایک خاص مائنڈ سیٹ دنیا کو اپنے نظریات کے مطابق چلانے پر بضد ہے اور اس کے لیے وہ گالی اور گولی کو بھی روا سمجھتا ہے۔ ترکی میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ سے 40افراد کی ہلاکت اسی ذہنیت کی عکاسی ہے جو ہمیں نیوایئر نائٹ کی شب پاکستان میں بھی نظر آئی۔ سرکاری انتظامیہ میں موجود ایسے ذہنیت کا جہاں بس چلا اس نے اپنا رنگ دکھایا۔ نوجوانوں پر ڈنڈے برسائے گئے، ان کو گرفتار کیا گیا اور گرفتاریوں کے بعد تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ سال نو پر جشن سے اسلام کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے جس کا واویلا ایک مخصوص ذہنیت کرتی ہے۔دراصل ہمارے معاشرے میں موجود ایک ایسا طبقہ فرسٹیٹڈ ہے اور کسی دوسرے کی خوشی اسے ہضم نہیں ہو پاتی اور وہ تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، دوسروں سے بھی ان کی خوشیاں چھیننا چاہتا ہے۔ اس ذہنیت کی طرف سے نیا سال منانے کے خلاف فتوے جاری کیے گئے، اسے حرام قرار دیا گیا جبکہ بہت سے علمائے کرام نے نئے سال کے موقع پر کچھ دعائوں کا اجرا بھی کیا۔ ایسے تضاد سے عام مسلمان کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حکومت کے اس اقدام کی بجا طور پر پذیرائی کرنے کی ضرورت ہے کہ اس نے نوجوانوں پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا اور کچھ سر پھرے اہلکاروں کو گرفتار بھی کیا گیا مگر ضرورت اس ذہنیت کی بیخ کنی کی ہے جو اس تشدد کے پیچھے کارفرما تھی۔ نئے سال کے آغاز پر مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے سب سے پہلے پانامہ لیکس کے کیس پر بنچ تشکیل دیا جس سے پانامہ کیس کے منطقی انجام تک پہنچنے کی امید پیدا ہوئی مگر ساتھ ہی اس کیس میں پیش رفت کو فل سٹا پ سے آگے نہ بڑھنے دینے کے لیے وہی قوتیں پھر سرگرم ہوتی نظر آئیں جو ایسے مواقع پر سرگرداں ہو جاتی ہیں۔ چلے سیاسی کارگوس میدان میں آ گئے ۔ جاوید ہاشمی ،عمران خان پر خوب برسے۔ کہتے ہیں ان کا اور عمران خان کا دماغی معائنہ کرا کے پتا چلایا جائے کہ کون پاگل ہے ۔ ساتھ ہی معائنے کا نتیجہ بھی یہ کہتے ہوئے دے دیا کہ عمران سے قوم کی جان چھوٹ جائے گی گویا وہ خود کو دانشور اور عمران کو پاگل سمجھتے ہیں۔ گویا اخلاقی طور پر کسی انسان کا دیوانہ پن ہے کہ وہ دوستی کے دوران سیکرٹ اختلافات پیدا ہونے پر خود کو نیک نام اور دوسرے کو بدنام کرنے کے لیے طشت از بام کر دے۔ بہرحال جاوید ہاشمی نے مناسب سمجھا وہ کیا ، مگر وہ بے بنیاد باتیں کرکے دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان جسٹس ناصر الملک سے مل کر جوڈیشل مارشل لاء لگوا کر اقتدار میں آنا چاہتے تھے۔ یہ وہی ناصرالملک ہیں جو دھاندلی کیس میں جوڈیشل کمیشن کے سربراہ بنے تو ان کا فیصلہ عمران خان کے خلاف اور حکومت کی حمایت میں آیا تھا۔ ایسے جسٹس پر تعصب کا الزام بھی اخلاقی روایات کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ عدالتوں میں چھٹیاں ختم کرکے کیسز کی سماعت تو ایک قابل تعریف اقدام ہے۔ آج جسٹس (ر) انور ظہیر جمالی پر پانامہ کیس کو معرض التوا میں ڈالنے کے خلاف شدید ردعمل آ رہا ہے۔ ان سے درخواست کی گئی کہ چھٹیوں میں بھی کیس کی سماعت جاری رکھی جائے مگر وہ قوم کو انتظار بلکہ انتقام کی سولی پر لٹکا گئے۔ مخدوم ایسی ذہنیت اس پر بڑی مسرور ہو گی۔ دیکھیں چلے ہوئے کارتوس مخصوص ایجنڈے کی تکمیل میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ بہرحال یہ پرانی شراب، پرانی بوتل ہے جس پر لیبل بھی پرانا ہے اس لیے کوئی دھوکے میں نہیں آئے گا۔ دراصل اس وقت تمام ادارے بشمول عدلیہ ،ملٹری اسٹیبلشمنٹ ،پارلیمنٹ سب ہی اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑنے فائنل رائونڈ میں داخل ہو چکے ہیں۔اتنا تو طے ہے کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے ۔ میں کیا چاہتاہوں یا آپ کیا چاہتے ہیں اس سے حقیقت اپنی جگہ سے بدل نہیں سکتی۔ 3جنوری2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus