×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مادرپدر آزاد لبرل اور ہماری قومی ترجیحات!
Dated: 24-Jan-2017
دورِ جدید میں سوشل میڈیا کے اثرات، فوائد اور مضمرات سے انکار ممکن نہیں اور زندہ اور باہوش قومیں کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے خود کو اس کے لیے تیار کرتی ہیں، یقینا یہ کام لیڈرانِ قوم کا ہوتا ہے۔ آج سوشل میڈیا کے بیشتر فالورز خود کو لبرل ازم کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے افکار اور نظریات کا فالور ہونے کی وجہ سے مجھے مارکس ،لینن اور سوشلزم کے متعلق لٹریچر پڑھنے کا موقع ملا۔ گورباچوف نے کمیونزم کی شکست کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ اس پر مہر ثبت بھی کی اور ساٹھ سے ستر سال کے دوران کمیونزم اپنی طبعی موت مر گیا۔ اسی طرح تاریخ انسانیت کے اوراق پلٹنے سے ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ انسانی تاریخ کاماضی ایسے بے شمار فلسفوں اور نظریات سے بھرا پڑا ہے مگر یہ سب دائمی نظریات نہیںتھے ،اسی دوران منظرعام پر آنے والے ایک دوسرے فلسفے سوشلزم نے بہرحال کمیونزم سے لمبی عمر پائی اور اس کے پیچھے دراصل جدید چینی کاروباری سوچ کارفرما تھی۔ آج بھی یورپ بھر کے بتیس ممالک میں سے چوبیس ممالک میں سوشلزم حکومتیں قائم ہیں جبکہ افریقہ اور جنوبی امریکہ میں اس کو آج بھی ایک کامیاب ترین نظامِ حکومت سمجھا جاتا ہے۔پاکستان میں 1970ء کا الیکشن جیتنے کے بعد بھٹو کے کچھ ساتھیوں نے سوشلزم کی نہ صرف غلط تشریح کی بلکہ جنونیت کی حد تک ان نظریات کا دفاع کرنے کی بھی کوشش کی مگر وہ عالمی سطح پر آنے والی تبدیلیوں اور خود سوشلسٹ نظام کے اند رآنے والے ارتقاء کا مقابلہ نہ کر سکے اور منظر سے غائب ہو کر قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔ قارئین! ماضی قریب میں سوشل میڈیا کے منظر عام آنے کے بعد ایک دفعہ پھر مادر پدر آزاد لبرل قوتوں نے اپنے نظریات اور فلسفے کو عوام پر تھوپنے کی کاوشیں شروع کر دی ہیں جبکہ مذہبی جنونیت کاپرچار کرنے والے گرہوں نے بھی سوشل میڈیا کی افادیت کو سمجھتے ہوئے اسے دور جدید کا ہتھیار سمجھ کر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کے ایک مخصوص گروہ نے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ہی مذہب اور وطن کے خلاف اغیار کے اشاروں پر ناچنا شروع کر دیا ہے۔ پڑھی لکھی اقوام ہر چیز کا استعمال اس کی ضرورت کے مطابق کرتی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو آج سوشل میڈیا کے ظہور پذیر ہونے کے بعد امریکہ کم از کم باون حصوں میں بٹ چکا ہوتا۔ سوشل میڈیا پر اپنے نظریات اورافکار کا پرچار کرنے والے کو ’’بلاگر‘‘ کہا جاتا ہے اور ہمارے پاکستانی بلاگرز تو جاہلیت کی حدوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔ اس وقت فیس بک اور ٹویٹر کے جتنے جعلی اکائونٹ پاکستان میں بن چکے ہیں اس سے آدھے دنیا کے باقی دو سو ممالک میں جعلی اکائونٹ نہیں ہیں۔ قارئین !پہلے عالمی طاقتیں سلطنتوں پر قبضہ کرکے انہیں اپنا محکوم بنا لیتی تھیں اور سلطنت کو اپنی کالونی کا حصہ قرار دے دیتی تھیں۔ سلطنت برطانیہ نے آدھے سے زائد ممالک جبکہ فرانس، پرتگال، سپین، بلجیم، ہالینڈ اور جرمنی نے دنیا بھر میں اپنی کالونیاں بنائیں جبکہ سوویت یونین نے ڈیڑھ درجن سے زائد ممالک کو اپنے اندر ضم کر لیا اور پھر ان ممالک کو اپنے سامراجی آقائوں سے چھٹکارا پانے میں صدیوں کا سفر طے کرنا پڑا۔ لیکن آج کل اس جدید دور میں کالونی ازم کا طریقہ کار یکسر بدل گیا ہے۔ اب آن لائن غلاموں کو بھرتی کیا جاتا ہے اور یہ غلام اپنے آقائوں کے مفادات کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں، جس کے بدلے میں انہیں مال و زر کے علاوہ گرین کارڈ، مستقل رہائشی مراعات حتیٰ کہ بعض اوقات پاسپورٹ سے بھی نواز دیا جاتا ہے۔ ان غلامان میں خاص طور پر ڈاکٹرز، دانشورز، انجینئرز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کو خاص طور پر اپنی ٹیموں میں شامل کیا جاتا ہے۔ آج بھی وطن عزیز کے ایسے کئی جدید غدار جنہیں جدید لغت میں ’’لبرل بلاگر‘‘ کہا جاتا ہے کی اولاد کو سامراجی ممالک نے اپنے ہاں گرین کارڈز اور یونیورسٹیوں تک رسائی میں مدد دی ہوئی ہے۔ دورِ جدید کے ان جدید غلاموں کو مختلف ممالک میں کبھی جمہوریت اور کبھی آمریت کے روپ میں اور کبھی بادشاہ سلامت کے روپ میں مسلط کر دیاجاتا ہے۔ قارئین! پاکستان میں بھی ایسے سینکڑوں معاشی بلاگرز موجود ہیں جو حصولِ رزق کے لیے اپنے ہی وطن کو ملعون کرتے ہیں اور آج بھی فیس بک اور ٹویٹر پر بھینسا، موچی، روشنی کے نام سے وطن دشمن صفحات اوراکائونٹس بنے ہوئے ہیں اور وطن عزیز کا ایک طبقہ جس میں اشرافیہ اور نام نہاد سول سوسائٹی کے لوگ شامل ہیں جو ملکی سالمیت کے خلاف کام کرنے والے گروہ اور دین اسلام کو اپنے تیرِ زہر کا نشانہ بناتے ہیں، شامل ہیں۔ اس طبقہ کو پاکستان کے دور دراز کے علاقوں میں ایک آدھ خاتون کے ساتھ زیادتی نظر آ جائے تو وہ انہیں اپنے مفادات کے لیے مختاراں مائی جیسی کروڑ پتی بنا دیتے ہیں اور این جی اوز کے نام پر ملک دشمنوں کے ساتھ مل کر وطن عزیز کے لیے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں اور یہی طبقات بنگلہ دیش، افغانستان اور بھارت جیسے دشمن ممالک سے ایوارڈ وصول کرتے ہیں۔ دو ٹکے کے لیے اپنی غیرت اور ضمیر کا سودا کرنے والے یہ لوگ پاک فوج، آئی ایس آئی اور ملکی اداروں سے پیار کرنے والے لوگوں کو رجعت پسند،مذہبی جنونی اور را، موساد، ایم آئی سکس اور رشین ایف ایس بی اور غیر ملکی آقائوں کے ساتھ کام کرنے والے غداروں کو محب وطن قرار دیتے ہیں۔ ہمارے لبرل رجعت پسند یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ پاکستان ہی ہے جس نے اپنے قیام کے صرف چالیس سال بعد ایک خاتون محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو اسلامی دنیا کا پہلا وزیراعظم منتخب کر لیا پھر ترکی میں مادام تانسو چیلر اور بنگلہ دیش میں خواتین سربراہان کا تسلسل خالدہ ضیا اور حسینہ واجد کی صورت میں جاری ہے جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ یو ایس اے میں 2016ء میں پھر خاتون امیدوار ہیلری کلنٹن کو عورت ہونے کی بنا پر زبردستی شکست سے دوچار کر دیا گیا جبکہ بیشتر یورپی ممالک میں 1982ء تک عورتوں کو ووٹ کا بنیادی حق حاصل نہیں تھا۔ انسانی حقوق کے علمبردار اور لاپتہ افراد کے لیے غیرملکی آقائوں کے اشاروں پر ناچنے والے ان طبقات کو کچھ عقل کے ناخن لینا ہوں گے ۔ شانِ رسالت تحفظ پاکستان اور پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت پر مامور فوج اور آئی ایس آئی کے کردار پر ہمیں فخر ہے ۔ہمیں فخر ہے کہ ہم پاکستانی ہیں۔ 24جنوری 2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus