×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا بُڈھا گھر پہ ہے؟
Dated: 07-Mar-2017
خدا خدا کرکے پاکستان سُپر لیگ کا بخار اُترا مگر حقیقت یہ ہے کہ اس بخار کی تپش عوام کو کم اور حکمرانوں کو زیادہ تھی۔ پچھلے تقریباً ایک ماہ سے عوام کی توجہ کرکٹ کی طرف مبذول کروا کے حکومت اپنے مقاصد حاصل کر پائی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا مگر حافظے کی کمزور ہمارے عوام بارود کی بُو، دھماکے اور دہشت گردی کو یکسر بھلا کر اپنی اپنی پسندیدہ ٹیم کو جتوانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے رہے۔عوامی لیڈر شیخ رشید بھی عوامی انکلورژمیں دھرنا دے کر اپنا اور عوام کا حق ادا کرتے نظر آئے۔ فائنل کے دن مجھے کچھ دوستوں نے بتایا کہ اپنی فیورٹ ٹیم کو جتوانے کے لیے ان کی پوری فیملی نے روزہ رکھا۔ ایک اور دوست نے مجھے کسی پیر صاحب سے کروائے ہوئے تعویذ کا عکس واٹس ایپ پہ بھیجا۔ خیر تعویذ دھاگے کے معاملے میں سابق صدر مملکت آصف علی زرداری بھی کسی سے کم نہیں۔ موصوف نے ایک مستقل پیر صاحب رکھے ہوئے ہیں۔ شنید ہے کہ گذشتہ دنوں حب آمد کے موقع پر پیر صاحب ہی کے حکم سے زمین پر پائوں رکھنے سے انکار کر دیا تھا اور جب تک سرخ قالین گاڑی اور ہیلی کاپٹر کے درمیان نہ بچھایا گیا زرداری صاحب ہیلی کاپٹر سے نیچے تشریف نہ لائے۔ پیر مرید کے تعلق اور اس سے جُڑے قصوں اور کرامات پر پوری ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے مگر ان دنوں پیپلز پارٹی کو ان پیروں کے علاوہ کسی سیاسی پیر اور ’’چمتکار‘‘ کی ضرورت ہے۔ اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیوں سے لے کر زرداری صاحب اور ان کے ساتھی کچھ ایسے رفوچکر ہوئے کہ وہ سندھ کابینہ اور سندھ اسمبلی کے اجلاس تک دوبئی میں منعقد کرنے لگے اور اس طرح سندھ کا ترقیاتی بجٹ جو چوری ہونے سے بچ جاتا ہے وہ سندھ کابینہ کے سفری اخراجات پر اٹھنے لگا۔ میں نے اپنی سیاسی اور غیر سیاسی زندگی میں آج تک کوئی ریاست، صوبہ اور ملک نہیں دیکھا کہ جس کے تنظیمی اجلاس اور بجٹ سیشن کسی ہمسائے ملک میں ترتیب پاتے ہوں۔ خیر اینٹ سے اینٹ کیا بجنی تھی ان کے قریبی دوستوں پر افتاد آ پڑی اور ایک ڈالر گرل نامی فرینڈ وطنِ عزیز میں دھر لی گئی اور قریبی دوست بھی ہزاروں ارب کرپشن کے الزام میں تادمِ تحریر پابندِ سلاسل ہیں۔ زرداری صاحب نے رحمان ملک سمیت مختلف چینلز سے این آر او کرنے کی بہت کوشش کی مگر ابھی تک وہ اسٹیبلشمنٹ کو رام نہیں کر سکے۔ پانامہ کیس کا سکینڈل سامنے آیا تو میاں صاحب بھی دل کے دردکاکہہ کر زرداری صاحب کی طرز پر ملک سے باہر جا کر گوروں کے دیس میں دو ماہ گزار آئے۔ وفاقی کابینہ اور بجٹ اجلاس برطانیہ سے براہِ راست منعقد ہونے لگے۔ اسی دوران حالات کا رخ دیکھتے ہوئے پیپلزپارٹی والے محترمہ بے نظیر بھٹو کے سپوت بلاول بھٹو کو ایک مہرے کے طور پر سامنے لے آئے۔ سیاست سے ناآشنا معصوم بلاول بھٹو باپ کی سیاسی چالوں کو نہ سمجھتے ہوئے کبھی ایم کیو ایم کو للکارتے اور کبھی موجودہ حکمران خانوادے پر غصہ جھاڑتے اور پھر اگست کے آخری دنوں میں بلاول بھٹو نے جوشِ خطابت میں 27دسمبر کی تاریخ دے دی کہ نوازشریف نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو پی پی پی سڑکوں پر نکل آئے گی۔ بلاول بھٹو کی اس ادا سے جیالے خوش ہوئے۔ بلاول ہائوس لاہور کو آباد کرنے کا عندیہ دیا گیا کچھ ورکرز اجلاس بھی ہوئے، کچھ گہماگہمی بھی ہوئی مگر جب زرداری صاحب نے یہ دیکھا کہ ’’بچہ‘‘ اپنی لمٹ کراس کر رہا ہے تو وہ خود میدان میں کود پڑے۔ ایک پارٹی کی عملی طور پر دو پارٹیاں بنا دیں اور تین پی والی غیر رجسٹرڈ شدہ اور متنازعہ پارٹی بلاول بھٹو کے حوالے کر دی (یاد رہے تین پی والی پارٹی کے خلاف عدالت اور الیکشن کمیشن میں ناہید خان نے رٹ دائر کر رکھی ہے اس لیے تین پی ابھی تک متنازعہ حیثیت اختیار کر چکی ہے) اور خود پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر بن کر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس دوران محترمہ کی شہادت کا دن 27دسمبر آیا ،لوگ پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو کی طرف سے کسی بڑے اعلان کی توقع کر رہے تھے، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی جیالوں کو مایوسی ہوئی۔ رواں سال کے پہلے مہینے کے آخر میں جب زرداری صاحب نے یہ محسوس کیا کہ پانامہ کیس میں میاں نوازشریف نااہل قرار دیا جا سکتا ہے اور سیاسی صورتِ حال کسی بھی لمحے بدل سکتی ہے تو انہوں نے بلاول بھٹو کے پنکچر غبارے میں پھر سے ہوا بھرنے کی ٹھان لیا اور بلاول بھٹو کو لاہور بھیج دیا۔ بلال بھٹو نے لاہور پہنچتے ہی پھر سے جیالوں کی زنگ آلود تلوار کو چمکانا شروع کر دیا اور فیصل آباد تک ایک ریلی نکالنے کا اعلان کر دیا۔ قارئین! سیاسی اور صحافتی مبصرین بتاتے ہیں کہ اس ریلی میں موجود افراد کی تعداد ہزار بارہ سو سے زیادہ نہ تھی اور یہ بھی وہ لوگ تھے جو آئندہ جنرل الیکشن میں پارٹی کے متوقع امیدوار ہو سکتے ہیں۔ فیصل آباد کے لوگوں کی سرد مہری یا سیاسی بے اعتنائی یا بھٹو اور زرداری خاندان کی اپنی سیاسی غلطیوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اسی دوران پانامہ کیس اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ گیا اور جب عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تو آصف زرداری کی سیاسی رال ٹپکنے لگی اور وہ اسلام آباد آ بیٹھے اور ایک آل پارٹیز کانفرنس بلا کر سیاسی انٹری کرنا چاہی مگر شومئی قسمت کہ نوازشریف حکومت نے صرف دو دن پہلے فوجی عدالتوں کے متعلق پارلیمانی کمیٹیوں اور کابینہ سے منظوری لے کر آصف علی زرداری کی یہ چال بھی ناکام بنا دی جبکہ ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق عرفان اللہ مروت کے معاملے پر آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور بلاول بھٹو کی مخالفت کی وجہ سے باپ کو جو سُبکی ہوئی اس پر بچوں کی پھوپھی محترمہ فریال تالپوراور آصف علی زرداری صاحب نے فروری کے آخری دنوں میں بچوں کے کریڈٹ کارڈز بینکوں سے معطل کروا دیئے ہیں۔ محترمہ فریال تالپوراور زرداری صاحب سمجھتے ہیں کہ اگر بچوں کے کریڈٹ کارڈز بلاک کر دیئے جائیں گے تو وہ آئندہ ان کی سیاسی مخالفت نہیں کریں گے۔ شنید ہے کہ گزشتہ روز آصفہ بھٹو نے بختاور بھٹو کو فون کرکے پوچھا ’’کیا بُڈھا گھر پہ ہے؟‘‘ قارئین! آصف علی زرداری جو سیاسی ٹرین مِس کر چکے ہیں اب وہ اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے پر بیٹھ کر بھی اسے نہیں پکڑ سکتے۔ 7مارچ2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus