×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے!
Dated: 25-Apr-2017
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مشہور اطالوی ناول نگار ماریوپوزو نے جرائم پر گاڈ فادر سمیت گیارہ ناول لکھے اور اس کے شہرہ آفاق ناول گاڈ فادر پر ہالی ووڈ کی تین فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ گاڈ فادر کی فلم کو تین آسکرایوارڈ جبکہ گاڈ فادر پر بننے والی دوسری فلم کو چھ آسکرایوارڈز ملے۔ 20اپریل کو پانامہ کرپشن کیس پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالتِ عظمی کے معزز ججز صاحبان نے اپنے فیصلے کی ابتدا ماریو پوزو کے ناول گاڈ فادر کے اس فقرے سے کی’’دولت کے ہر ذخیرے کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم چھپا ہوتا ہے‘‘ قارئین! اس ایک فقرے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معزز جج صاحبان نے پانامہ کیس کے پیچھے چھپے حقائق کو جان اور پہچان لیا ہے چونکہ عدالتِ عظمیٰ کے معزز جج صاحبان نے قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس کیس کی ججمنٹ کو لوگ صدیوں یاد رکھیں گے۔ اسی لیے بینچ کے تین ممبران نے اس کیس کے پیچھے چھپے ہوئے محرکات کو تلاش کرنے کے لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ معزز ممبران میں سے کسی ایک نے بھی میاں نوازشریف یا ان کے فیملی ممبران اور اسحاق ڈار کو بَری الذمہ قرار نہیں دیا۔ فیصلہ آنے کے بعد حسب توقع اس پر تبصرے اور چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں، کچھ نجی چینلز کے اینکر حضرات نے پرانے کلپس اور اقتباسات دکھا کر یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پانامہ کیس کے اس فیصلے کے متعلق متعدد لوگوں کو پہلے ہی سے خبر تھی ۔ خاص طور پر حامدمیر اور قیوم صدیقی کا کلپ دکھایا گیا جبکہ سلمان غنی اور عارف نظامی کے منہ سے ادا ہوئے کلمات کوبھی شک کی بنیاد پر دیکھا گیا جبکہ پاکستان کے سب سے زیادہ مؤقرروزنامہ نوائے وقت کے فرنٹ پیج پر اس چھوٹی سی خبر نے جس میں رپورٹر نے یہ دعویٰ کیا کہ میاں برادران کو فیصلے کے مندرجات کا پہلے سے علم تھا، نے ملکی سیاست میں ایک ارتعاش سا پیدا کر دیا۔ قارئین! مٹھائیاں تو دونوں طرف بانٹی گئیں اور اس وقت تک بانٹی جاتی رہیں جب تک کسی کو فیصلے کا اردو ترجمہ میسر نہ ہو گیا۔ لیکن سینیٹر اعتزاز احسن نے ایک انٹرویو میں جب یہ کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید مختار اور محترمہ مریم نوازشریف کے درمیان قریبی رشتہ داری ہے اس لیے فیصلے کا وقت سے پہلے لیک ہو جانا قرین قیاس ہے۔ جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے فوری تردیدی ٹویٹ جاری کر دیا جس کی کہ ان حالات میں چنداں ضرورت نہ تھی۔ اسی طرح کچھ لوگ اس فیصلے کو متنازعہ بناتے ہوئے سپریم کورٹ کے کچھ معزز ممبران پر بھی انگلیاں اٹھانے کی جسارت کر رہے ہیں۔ایک جج کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کو اپریل کے دوسرے ہفتے پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ کا پلاٹ الاٹ کیا گیا۔ میرے خیال میںعدالتِ عظمی کے چیف جسٹس صاحب کو اس پربلا تاخیر سوموٹو ایکشن لے کر عدالتِ عظمیٰ کے وقار کو بچانا ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ عدالت سب فریقوں کو خوش اور مطمئن نہیں کر سکتی مگر عدالت انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور اپنے اوپر اٹھنے والے سوالوں کا مناسب جواب دے کر ملکی عدالتی وقار کی ضمانت دے سکتی ہے۔ قارئین! میرے آبائی قصبہ مترانوالی کے مین بازار میں ایک شیخ صاحب کی کریانے کی دکان ہوا کرتی تھی۔ ایک دن ہم ادھر سے گزر رہے تھے تو شیخ صاحب کی ایک خاتون سے تکرار ہو رہی تھی، پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ خاتون ایک پائو دال کے تین ر وپے جبکہ شیخ صاحب چھ روپے مانگ رہے تھے اور شیخ صاحب خاتون گاہک کو اس طرح مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ بہن پائو دال تین روپے کی ہوتی اور دال والے تین روپے دونوں ملا کر چھ روپے ہو گئے تو قارئین اسی طرح ہمارے وطن کے دانشور اور صاحب علم پانامہ کیس کے فیصلے کا تجزیہ کر رہے ہیں لیکن جب تک عوام کو تعلیمی شعور نہیں ہوگا اس وقت تک قوم کو ایسے کیے گئے فیصلوں کی سمجھ بھی نہیں آئے گی۔ قارئین! زمبابوے کے ترانوے سالہ سیاہ فام بانی صدر رابرٹ موگابے نے زمبابوے کی اکثریتی سیاہ فام عوام کو گورے انگریزوں سے نہ صرف آزادی دلوائی بلکہ ملک میں عوام کے لیے تعلیم لازمی قرار دے دی۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’اگر آپ کے اردگرد غریب گریجوایٹس بے کار پھر رہے ہوں اور جرائم پیشہ افراد امیر ہوں تو آپ اپنے عوام کو کس طرح سبق پڑھا سکتے ہو کہ کامیابی کی کنجی تعلیم ہے؟‘‘ آج جھورا جہاز جارحانہ انداز میں بولے چلا جا رہا تھا کہہ رہا تھاکہ جنرل راحیل شریف کی بطورِ چیف آف متحدہ اسلامی افواج تعیناتی اور ڈان لیکس میں حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت، آرمی چیف کی عمران خاں سے ملاقات اور امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات یہ سب ممکنہ طور پر کسی ڈیل کا حصہ ہے۔ میں جھورے جہاز کی بات سے اتفاق نہیں کرتا مگر ماضی میں عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے مولوی تمیز الدین کیس، بیگم نصرت بھٹو والا نظریہ ضرورت کیس اور ذوالفقار علی بھٹو شہید قتل کیس میں عدالتوں کے اوپر جو سوالیہ نشان لگ چکے ہیں اور ملک کے چار سابقہ آرمی چیفس جس طرح احتساب کے نام پر سسٹم پامال کر چکے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے دل ایک انجانے خوف میں مبتلا ضرور ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ محفوظ فیصلے کے ساتھ کہیں نہ کہیں ’’ہتھ‘‘ ضرور ہوا ہے اسی لیے جھورا جہاز بھی گنگنا رہا تھا۔ پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے قارئین! پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد ملک کی سبھی سیاسی پارٹیاں کم از کم ایک نقطے پر متفق نظر آتی ہیں اور وہ نقطہ ہے کہ وزیراعظم اور ان کا خاندان اپنے حکومتی عہدوں سے مستعفی ہو کر ایک صاف اور شفاف انکوائری کا راستہ ہموار کریں اور اسی دوران سابق صدر آصف علی زرداری کے ہاتھ اقتدار کی رسی کا سرا نہیں آ رہا، ان پہ اپوزیشن کی باقی جماعتیں اعتبار کرنے کو تیار نہیں اور خود زرداری صاحب نوازشریف کو مزید مہلت دینے اور اعتبار کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے لیکن ہر دو صورتوں میں زرداری صاحب کی بات بنتی ہوئی نظر نہیں آتی کیونکہ نوازشریف وہ جن ہے جس میں زرداری صاحب کی جان ہے یہ جن اندر گیا تو موصوف کو بھی ایک بار پھر گیارہ سالوں کے لیے آسائشوں سے دوری برداشت کرنا ہو گی۔ 25اپریل2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus