×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پرویز مشرف کا آدھا سچ
Dated: 26-Sep-2017
آنجہانی ہوگورافیل شاویز ایک چھوٹی سی ریاست وینزویلا جو کہ امریکہ کے پہلو میں آباد ہے کے صدر تھے۔ بمشکل تین کروڑ دس لاکھ آبادی پر مشتمل اس ریاست کے صدر او رمضبوط قیادت نے عشروں تک امریکہ کے ناک میں دم کیے رکھا یہ وہ دور تھا جب ایک طرف وینزویلا اور دوسری طرف کیوبا اور اس کے سربراہ فیڈرل کاسترو نے امریکہ سے کئی گنا چھوٹا اور طاقت میں تقریباً مقابلہ ہونے باوجود امریکہ کو تگنی کا ناچ نچایا۔ ایک دفعہ یو این او کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے صدر بش جونیئر نے خطاب کیا تو اس کے کچھ دیر بعد وینزویلا کے صدر ہوگوشاویز کو ڈائس پر بلایا گیا تو امریکی سرزمین پر ہونے کے باوجود ہوگوشاویز نے اپنی تقریر کا آغاز اس جملے سے کیا کہ ’’مجھے سے پہلے ایک گندا شخص یہاں تقریر کرکے ماحول گندا کر رہا تھا‘‘ تاریخ میں کئی ایسے دلیر رہنما اور سربراہان مملکت مثلاً احمدی بن نژاد ، کرنل قذافی، صدام حسین، ذوالفقار علی بھٹو شہید ہو گزرے ہیں جنہوں نے سامراجی بالادستی کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے تھے جبکہ ہمارے موجودہ حکمران طبقے اور خاص طور پر شریف برادران میں یہ صفت سرے سے ناپید ہے اور میاں نوازشریف کے گذشتہ چار سالہ دورِ حکومت میں مجرمانہ غفلت برتتے ہوئے وزیر خارجہ کا تقرر نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے میٹروبس اور اورنج ٹرین بغیر آپریٹر کے چلانا۔ اکیس کروڑ پچاس لاکھ کی آبادی رکھنے والے دنیا کے چھٹے بڑے ملک نے بین الاقوامی برادری سے تعلقات اور روابط کے لیے وزیر خارجہ کا تقرر نہ کرکے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور اب بھی شلجم سے مٹی جھاڑنے کے مترادف خواجہ آصف نامی ایک ایسے شخص کو وزیر خارجہ کا منصب سونپا ہے جو سرِبازار ریڑھی لگا کر گنڈیریاں تو بیچ سکتے ہیں مگر ان کا سٹیمنا اور طرزِ تکلم وزارت خارجہ کے منصب کے لیے مناسب نہیں ہے۔ قارئین! جب تک ہمارے معاشرے میں اقرباء پروری، سمدھی ازم اور برادری ازم کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک ہمیں ترقی کے خواب دیکھنا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ قارئین! گذشتہ ہفتے کی یہ سب سے بڑی خبر تھی کہ سابق صدر پرویز مشرف نے ایک دوسرے سابق صدر آصف علی زرداری پر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قتل کا الزام لگا کر سیاست کے بحرِ ظلمت میں بھونچال برپا کر دیا ہے۔ آصف علی زرداری کے حوالے سے اور محترمہ بے نظیر کے قتل کے حوالے سے راقم بھی اپنے گذشتہ کالموں میں لاتعداد دفعہ انکشافات کی جھلک دکھا چکا ہے مگر پنجابی میں ایک کہاوت ہے ’’چور نالوں پنڈ کہالی ‘‘۔ اسی کہاوت کو اردو میں مدعی سست گواہ چست کہا جاتا ہے جبکہ وارثانِ شہید بے نظیر بھٹو کی دلچسپی ہی نہیں کہ ان کے قاتل پکڑے جائیں یا اس کیس کی انوسٹی گیشن ہو تو پھر میں، آپ اور کوئی تیسری پارٹی کیا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے لاتعداد دانشوروں، کالم نگاروں اور انوسٹی گیشن جرنلسٹس نے اس کیس کے متعلق حقائق کو منظر عام پر لانے کی اپنی سی سعی کی ہے مثلاً یہ کہ بی بی کی شہادت کے بعد معرض وجود میں آنے والی ’’وصیت‘‘ بی بی شہید نے کب لکھی، کس کے سامنے لکھی اور کسی کی موجودگی میں ،کس کے سامنے کس کے حوالے کی؟جبکہ ایک اطلاع کا مطابق بی بی کی شہادت کے بعد اس وصیت کو نقلی دستاویزات تیار کرنے والے ایک شخص سے تیار کروا لیا گیا جو بی بی کی شہادت کے دنوں میں سندھ کی ایک جیل میں قید تھا اور ایک اطلاع کے مطابق اسے بھی مروایا جا چکا ہے۔ اس کیس میں دوسرا اہم نقطہ خالد شہنشاہ کا سٹیج پر عجیب و غریب حرکات و سکنات کرنا ہے او ربی بی کی شہادت کے بعد جب خالد شہنشاہ کو زیر تفتیش ہونا تھا اسے اور اس کے بھائی کو قتل کر دیا گیا۔ پھر عزیز بلوچ کی گرفتاری کے بعد اس کی جے آئی ٹی رپورٹ تیار ہوئی جس پر سندھ حکومت کے نمائندے نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا جبکہ عزیز بلوچ کے قریبی ساتھی رحمان ڈکیٹ اور اس کے ساتھیوں نے بی بی کے قتل میں اہم کردار ادا کیا تھاجیسا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے بھی اس نقطہ پر زور دیا ہے کہ بی بی کا قتل بے شک بیت اللہ محسود کے لوگوں نے کیا مگر انہیں سپاری کہیں اور سے ملی جبکہ اسی دن بی بی کی شہادت سے پہلے بی بی کی ملاقات افغان صدر حامد کرزئی سے ہوئی تھی جبکہ شہادت کے وقت بھی حامد کرزئی اسلام آباد میں موجود تھا۔ حامد کرزئی کی اسلام آباد موجودگی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ بی بی کے قتل میں کہیں نہ کہیں ’’را‘‘ کے عمل دخل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ بی بی کی گاڑی ان کی آمد سے پہلے جب تیار ہو رہی تھی تو سیکیورٹی ایکسپرٹ کی طرف سے اس میں ’’سن رئوف‘‘ کی اجازت دینا اور بی بی کے گھر سے کچھ لوگوں کا یہ دبائو آنا کہ اس بم پروف گاڑی میں سَن رئوف رکھا جائے بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے ۔پھر اس خاصے نقطے کی طرف توجہ مبذول نہ کی گئی کہ بی بی کی تدفین سے پہلے ان کا پوسٹ مارٹم کروا لیا جاتا جس سے آج اٹھنے والے سوالات بالکل غیر ضروری ہو جاتے۔ اور پھر جائے وقوعہ کو فوری طور پر دھو کر قتل کے نشانات اور ثبوت ضائع کیے گئے۔ قارئین! جھورا جہاز کہہ رہا ہے کہ جب بی بی نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی چند ای میلز میں اپنے متوقع قتل کے خدشات کا اظہار کیا تھا اور ان کا اشارہ چوہدری پرویز الٰہی کی طرف تھا تو پھر زرداری صاحب کی حکومت بننے کے بعد چوہدری پرویز الٰہی کو نائب وزیراعظم کے طور پر حکومتی کولیشن میں شامل کیوں کیا گیا؟ اگر پرویز مشرف پر پیپلزپارٹی یا بھٹو خاندان کو کوئی شک یا تحفظات تھے تو پیپلزپارٹی کے وزراء نے پرویز مشرف سے حلف کیوں لیا اور اسی پرویز مشرف نے جب صدارت چھوڑی تو اسے ریڈ کارپٹ بچھا کر گارڈ آف آنر پیش کرکے کیوں رخصت کیا گیا؟ کیا پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں ایک دفعہ بھی پرویز مشرف کی طرف مشکوکانہ انگلی اٹھائی گئی؟ کیا پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں بھٹو خاندان کا کوئی بھی فرد اور زرداری خاندان کا کوئی بھی فرد پاکستان کی کسی عدالت میں اس کیس کی پیروی کے لیے ایک بھی دفعہ حاضر ہوئے۔قارئین! جھورے جہاز سمیت اہل پاکستان اور جیالوں کا ابھی اور بھی تحفظات ہیں۔ پرویزمشرف نے اپنے گذشتہ بیان میں آدھا سچ بولا ہے جبکہ باقی آدھا سچ مردِ حُر آصف علی زرداری صاحب کے دیرینہ دوست جناب ذوالفقار مرزا صاحب اپنے اقبالی انٹرویو میں بیان کر چکے ہیں۔ حقائق تلاش کرنے کے لیے ذوالفقار مرزا کے بیانات کو شامل تفتیش کرکے سراغ لگایا جائے اور اکیس کروڑ عوام کے دلوں کی دھڑکن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی روح کو تسکین مل سکے کیا پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ استحکامِ پاکستان کے لیے اور وفاق، مرکز اور نیشنل ازم کو مضبوط کرنے کے لیے سوموٹوایکشن لینے کا اعلان کر سکتے ہیں؟ قارئین! گذشتہ روز جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو ٹھیک اسی وقت سابق وزیراعظم میاں نوازشریف پاکستان تشریف لا چکے ہیں مجھے امید ہے کہ وہ ذاتی غصہ اور پرکاش دل سے نکال کر عدالت اور نظام کا احترام کرنا سیکھیں گے کیونکہ یہ ضروری تو نہیں کہ ہر دفعہ اور ہر میچ میں آپ ریفری خرید لیں یا پورا میچ ہی بُک کر لیں۔ کبھی کبھی انسان کو نصیبوں کے سامنے سرنگوں ہونا پڑتا ہے۔ گذشتہ روز چوہدری اعتزاز احسن کی طرف سے پیش کردہ شق نمبر203سینیٹ میں پیش کی گئی جسے ایک کامیاب ڈرامے کے بعد حسبِ توقع منظور کر لیا گیا اس شق کی منظوری سے ایک طرف تو رضاربانی کا معززایوان میں جعلی رونا ثابت ہو گیاکئی سیاسی پارٹیاں اور سیاسی شرفاء بھی ایکسپوز ہوئے جبکہ جمہوریت جو پہلے ہی بے نقاب تھی وہ بھرے ایوان میں اپنی عزت تار تار کروا بیٹھی اور مفاد جیت گئے اور اخلاقیات ہار گئی۔ 26ستمبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus