×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
واجاں ماریاں۔۔۔ کسے نے میری گل نہ سُنی
Dated: 31-Oct-2017
واجاں ماریاں بلایا کئی بار میں کسے نے میری گل نہ سنی۔ عالم لوہار نے یہ اشعار ہسپتال میں اس وقت کہے جب وہ حادثے کے بعد ہسپتال میں پڑے تھے اور ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ انہوں نے شاید ہسپتال کے بستر پر لیٹے لیٹے بھی گانے کی صورت میں یہ شعر پڑھے ہوں۔ البتہ تندرست ہونے کے بعد انہوں نے اسے باقاعدہ گانے کی شکل دی جو بہت مقبول ہوا اور آج بھی اس میں اس دور جیسا ہی دُکھ درد اور بے بسی جھلکتی نظر آتی ہے۔ جس طرح یہ گانا امر ہو گیا اسی طرح لگتا ہے ڈاکٹروں کی کارکردگی اور کمالات بھی امر ہو کر تاریخ کو دہرائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں انتظامیہ کی کارکردگی میڈیا نے ساتویں آسمان پر پہنچا دی ہے۔ پنجاب حکومت کوپل، انڈرپاس، بائی پاس ،میٹرو بنانے کے کریڈٹ کے ’’برج خلیفہ ‘‘کو سنبھانے سے فرصت نہیں مل رہی۔ سڑکیں صفائی ستھرائی اور شفافیت میں پیرس کا نمونہ ہیں۔ان پر بھی حکومتی بزرجمہر بڑے فخر سے کہتے ہوں گے کہ ہماری رعایا کی عورتیں انہی خوبصورت سڑکوں پر بچوں کو جنم دے دیتی ہیں جبکہ اپنے کان میں درد بھی ہو تو امریکہ اور انگلینڈ سے اِدھر اس کا علاج نہیں ہوتا۔یہ لگژری مگر اسی رعایا کے ٹیکسوں سے ہوتی ہے جسے یہ بادشاہ انسان بھی نہیں سمجھتے۔ ہسپتال کی بدترین حالت سے کون آگاہ نہیں۔ خیبر پی کے میں مجھے دوستوں کی زبانی معلوم ہوا کہ ہسپتالوں کی حالت بہتر ہے جبکہ باقی چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں مریض آج بھی اسی کیفیت میں : واجاں ماریاں بلایا۔۔۔ گلگت بلتستان، بلوچستان، سندھ میں ہسپتالوں کی حالت تکلیف دہ ہے ۔ پنجاب میں بھی کچھ کم نہیں مگر جہاں حکمرانوں کی چرب زبانی سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہسپتالوں میں عوام کو وی آئی پی ٹریٹ کیا جاتا ہے جبکہ جعلی ادویات سب سے زیادہ یہیںتیار اور استعمال ہوتی ہیں۔ اموات کا شکار بھی لوگ اسی صوبے میں ہوتے ہیں۔ جعلی ادویات کے خلاف جس طرح مہم چلائی گئی اور ایک قانون منظور ہوا اس سے لگتا تھا کہ اب جعلی ادویات بنانے والوں کا حشر نشر ہو جائے گا مگر یہ مافیا زیادہ طاقتور اور منہ زور ہو گیا۔ سندھ والے بھی دو نمبری میں پنجاب سے پیچھے نہیں۔ وہاں سے خبروں کے مطابق ہر روز ایک کروڑ کا بھتہ فریال تالپور اور اتنا ہی ’’سائیں بمبینو‘‘ کو جاتا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ بڑا حصہ کس کو جاتا ہے۔ پورے ملک میں بادشاہوں اور رعایا کی زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حکمران ایلیٹ کے سب خرچے نازنخرے عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ہیں۔ جیب سے اپنی ہی ذات پر ایک روپیہ خرچ کرنا بھی حرام سمجھتے ہیں۔ اس کا انداز میاں نوازاور آصف زرداری کے حکومت سے الگ ہونے کے بعد کی طرزِ زندگی سے لگایا جا سکتا ہے۔جہاں میں یہ بھی واضح کر دوں کہ آج آصف زرداری بظاہر میاں نوازشریف کے خلاف بھرپور اور اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں۔ ان سے ملنے سے انکار اور نفرت کا اظہار کر رہے ہیں مگر میں وثوق سے کہتا ہوں کہ دونوں اندر سے ایک اور چارٹر آف ڈیموکریسی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں مگر ساڑھے چار سال میں کرپشن کے ایک بھی کیس پر کام نہیں ہوا جبکہ دونوں پارٹیوں کے لوگوں کی کرپشن چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے : واجاں ماریاں بلایا۔۔۔۔ بات ہو رہی تھی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حکمران اشرافیہ کے اللے تللوں کی۔ میاں نوازشریف لندن دل کا علاج کرانے گئے۔ لاہور میں ان کی ملکیت کے دو ہسپتالوں میں یہی کام ہوتا ہے مگر دل کوئے یار کے لیے تڑپ رہا تھا۔ ان دنوں پاناما نیا نیا دریافت ہوا تھا۔ اس معاملے کو میاں صاحب نے دل پر لیا اور فوری طور پر لندن جا پہنچے جہاں جس مرض کا جس طرح آپریشن ہوا وہ آج بھی زبان زد عام ہے۔ واپسی کیلئے ٹورنٹو سے پی آئی اے کا جہاز خالی کراچی آیا اس میں فائیو سٹاربیڈ لگا کر پرفیوم سے دھویا گیا اور یہ جہاز خالی لندن گیا جس میں وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان قوم کے خرچے پر پاکستان تشریف لائے مگر اب جیب سے خرچ کرنا پڑتا ہے تو چارٹر طیارے میں سفر نہیں کرتے حالانکہ اربوں روپے کی دولت کے مالک ہیں جو ایک ہزار سال کی سیون سٹار زندگی گزارنے سے بھی ختم نہیں ہو گی۔آج ان کا معصوم چہرہ ان عوام کے سامنے ہے جن کے ٹیکسوں پر اشرافیہ پلتی اورچلتی ہے۔ تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد عوام پر قومی وسائل ایمانداری ،دیانداری سے خرچ کیے ہوتے، اپنے وعدے کے مطابق کرپشن ختم کی ہوتی، اپنے پیشروئوں کا احتساب کرکے ان کی لوٹ مار کے کھربوں روپے واپس لائے ہوتے تو خیبر سے کیماڑی تک لوگ ان کی نااہلیت پر سر پر کفن باندھ کر کھڑے ہوتے۔ انہوں نے یہ سب کچھ کیا ہوتا تو نااہلیت کی نوبت ہی نہیں آ سکتی تھی۔ آصف زرداری نے میاں نوازشریف کی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے کہا تھا کہ ہمیں ان جتنے پیسوں کی ضرورت ہے اور پھر وہ ان سے کہیں زیادہ مالدار ہو گئے۔ نوازشریف اور ان کے ساتھیوں نے بھی احتساب کے بجائے ’’دولت کاری‘‘ میں ان کے مقابلے کی ٹھان لی اور اب دونوں دولت کے ایک جیسے ’’کے ٹو‘‘ پر بیٹھے ہیں۔ عزت وقار میں کیا درجہ ہے؟۔ شاید اتنے زیادہ پروٹوکول میں یہ عزت احترام اور وقار کسی درجہ بندی میں نہیں آتے مگر عوامی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں۔ بیرون ملک میں بھی کوئی پذیرائی نہیں ہے۔ کل کے پاکستان کے سب سے طاقتور لیڈر سعودی عرب گئے تو وہاں سے مایوس لوٹے۔ فرمانرواں تو کیاجنرل راحیل شریف نے بھی ملاقات کے لیے وقت نہیں دیا۔ تاہم طاقت کا نشہ کب اترتا ہے اب لندن میں فوج اور عدلیہ کیساتھ مقابلے کی منصوبہ بندی کیلئے وزیراعظم اور باقی قیادت طلب کیا گیا ہے، دیکھیں لندن ایول پلان کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟پاکستان سے اسے شیر کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ اسحق ڈار کے اثاثے ملک اور دبئی میں منجمد ہو گئے۔ یہی پی پی پی اور نوازلیگ کی قیادت کے ساتھ ہونے والا ہے۔ مودی کی طرف سے کوئی ڈھارس کا پیغام آ رہا ہے نہ طیب اردگان کی طرف سے سلام پیغام آ رہا ہے۔ اور حالت بقول شعیب بن عزیز یوں ہو گئی ہے : اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں 31اکتوبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus