×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تخت لاہور۔ڈاکٹر شاہد مسعود اورمصطفی کھر
Dated: 20-Jan-2010
ڈاکٹر شاہد مسعود سے میری پہلی ملاقات2000ء میں پیپلز پارٹی کے لندن سکریٹریٹ میں ہوئی جہاں ڈاکٹر صاحب اور ان کے بھائی پیپلز پارٹی کے دوسرے کارکنوں کی طرح سکریٹریٹ آنے والے مہمانوں کو چائے سرو (Serve) کیا کرتے تھے۔ پی جے میر انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں اے آر وائی ٹی وی پر لے گئے۔ پیپلز پارٹی حکومت آئی تو چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے ان کو پی ٹی وی کا چیئرمین بنا دیا۔ عہدہ سنبھالتے ہی موصوف نے ایسی ایسی ’’بونگیاں‘‘ مارنا شروع کر دیں جو ان سے متوقع نہیں تھیں جس کی پاداش میں انہیں اکثر اعلیٰ قیادت کی طرف سے جھاڑیں پڑتی تھیں۔ صدر پاکستان امریکہ جا رہے تھے کہ موصوف نے بغیر اجازت جہاز میں اپنا سامان بھی رکھوا دیا۔ صدر صاحب نے ان کو جہاز میں دیکھا تو ان کا سامان اور ان کو یہ کہتے ہوئے کہ آپ کی امریکہ میں نہیں، پاکستان میں ضرورت ہے، آف لوڈ کرا دیا۔ اپنی مختصر مدت ملازمت کے دوران دبئی گئے وہاں 4دن کے ٹھہرنے اور دیگر سرگرمیوں کے اخراجات کا بل 28لاکھ پی ٹی وی نے ادا کیا۔ جبکہ دبئی میں اپنے ایک عزیز کی پروڈکشن کمپنی کو کروڑوں روپے کی ادائیگی کی۔ پی ٹی وی سے ہٹ جانے کے بعد جب تحقیقات کی گئی تو کروڑوں کی وصولی کرنے والی کئی کمپنیاں جعلی نکلیں، پی ٹی وی سے فارغ ہونے کے بعد موصوف کی طرف سے صدرِ مملکت کے خلاف چلائے جانے والی مہم اور ان کا واویلا سمجھ میں آتا ہے۔ موصوف جب پی ٹی وی کے بعد اُسی برگدکے نیچے واپس آئے تو وہاں پرموجود’’جنونی‘‘ دوستوں کو ڈاکٹر صاحب کی صورت میں ایک ایسا خودکش مل گیا جو اپنی اور ان دوستوں کی لڑائی لڑنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے کے لیے بھی تیار تھااور اس نے آصف علی زرداری سے یکطرفہ دشمنی پال لی اور آج کل تو اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کر رہے ہیں۔گذشتہ ہفتے ڈاکٹر صاحب کے اس پروگرام میں جس پروگرام کو خود ان کا ادارہ بھی ’’اون‘‘ نہیں کرتا اس میں سابقہ شیرپنجاب کو ڈائریکٹ آن ایئر لیا ہوا تھا جہاں غلام مصطفی کھر صاحب نے صدر صاحب کے بارے میں اس طرح ہرزاسرائی کی کہ پنجاب کے شیر کے بجائے ہیرپھیر لگنے لگے۔ یہ وہی کھر صاحب ہیں جو آج سے تین سال قبل میرے پاس تشریف لائے اور خواہش کا اظہار کیا کہ مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو سے معافی دلا دو۔ میں نے محترمہ سے بات کی تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کھر صاحب سے ملاقات کے لیے راضی ہو گئیں اور انہوں نے کھر صاحب سے کہاکہ وہ جہانگیر بدر اور قاسم ضیاء کو مطمئن کر دیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔ بدر اور قاسم دونوں کھر صاحب سے سلام لینے کے لیے بھی تیارنہیں تھے۔ میں نے ایک دن جہانگیر بدر اور کھر صاحب کو اپنے گھر ناشتے پر مدعو کیا تو دونوں میں صلح کروا دی اور جہانگیربدر صاحب نے کھر صاحب نے کہا کہ وہ قاسم ضیاء اور نوید چودھری کو بھی مطمئن کر لیں۔ چند دن بعد میں ان کو قاسم ضیاء کے آفس لے گیا جہاں نوید چودھری بھی موجود تھے۔وہاں پر ایک پریس کانفرنس کا بھی انتظام کیا گیا تھا لیکن میرے کھر صاحب کو لے جانے کے بعد میری مذکورہ دونوں دوستوں سے کافی عرصہ سوشل تعلقات کشیدہ رہے۔دونوں نے کھر صاحب کی آمد پر خفگی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر شیر پنجاب اتنے سہمے ہوئے تھے کہ مجھے کہا کہ میں ان کے پاس ہی موجود رہوں جب کہ دفتر کے باہر میرے کچھ دوست اس درمیان موجود رہے۔ اس کے بعد ان کو پارٹی قیادت نے قبول کر لیا۔ محترمہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں لیکن اپنی فطرت سے مجبور ہو کر جیسے بھٹو صاحب کو بیچ منجدھار چھوڑا تھامحترمہ سے بھی ایک بار پھر دغا کر گئے۔ پھر ایک دن نوازشریف کے جہاز سے برآمد ہوئے تو کارکنوں کی نظروں سے ایسے گرے کہ اب شاید قیامت تک وہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور جیالوں کی نظروں سے ہمیشہ کے لیے گر گئے ہیں۔ پاکستان میں مروجہ سیاست پر اختلاف ہو سکتا ہے،مخالفت ہو سکتی ہے، قومی سلامتی اور بقا پر بحث ہو سکتی ہے،نقطہ ہائے نظر مختلف ہو سکتے ہیں۔ مفاہمتی سیاست جمہوریت کا لازمی جزو ہے۔لیکن ذاتیات کو ایشو بنا کر کس جمہوریت کی خدمت کی جا رہی ہے؟ جو کچھ میں نے اوپر لکھا اس کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں صرف آئینہ دکھانا مقصود ہے۔ اگر آپ کسی کی تضحیک اور ذات پر کیچڑ اچھالتے ہیں تو دوسری طرف سے مکمل خاموشی کی توقع احمقانہ سوچ ہے۔ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر مار کر کوئی خود بھی کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس لیے میری تمام سیاسی دوستوں سے التماس ہے کہ چار دن کی یہ زندگی اور پھر دو دن تو ہم گزار ہی چکے باقی بھی گزر جائیں گے۔اس لیے کسی کا دل نہ توڑنا چاہیے اور خصوصی طور پر ذاتیات پر حملے سیاست کا شیوہ نہیں۔ صدر صاحب کا لاہور کا دورہ جا ری ہے۔ دو روز قبل انہوں نے سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں کو عشائیہ دیا۔ میں بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل تھا جن کو صدر صاحب کے ساتھ مرکزی ٹیبل پر بیٹھنے کا موقع ملا۔دیگر میں افتخار احمد، مبشر لقمان، سرور میر،پیپلز پارٹی لاہورٹو کے صدرافنان بٹ، عطاء الرحمن، امتیاز عالم، منوبھائی اور ڈاکٹر اجمل نیازی شامل تھے۔ اجمل نیازی کو صدر نے گلے لگا کر کہا ’’کیوں دور دور رہندے اوحضور ساڈے کولوں۔‘‘ جس پر عشائیہ کی تقریب کشف زعفران بن گئی۔ بات لاہور اور جیل کی ہو رہی تھی تو صدر صاحب نے کہا دربار لگانے سے میرا مقصد کھلی عوامی کچہری ہے۔ جس میں عوام اپنے مسائل بیان کریں گے اور ان کا حل نکالا جائے گا۔ دربار کا مطلب بادشاہوں والا دربار ہرگز نہیں۔ اس موقع پر صدر صاحب نے افتخار احمد اور مبشر لقمان کو مخاطب کرکے کہا کہ کچھ مہربانوں نے تو میرے ساتھ پُرآسائش زندگی گزارنے والے مطلوب وڑائچ کو جیل میں ڈلوا دیا تھا جس پر دونوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ مطلوب وڑائچ جیسے مخلص لوگ ہوں تو آپ کبھی جیل نہ جائیں جس پر میں نے کہا میں تو اب بھی ڈنڈ بیٹھکیں لگا رہا ہوں اور اپنا رول ری پلے کرنے کے لیے ہر وقت حاضر ہوں۔صدر کے دورہ لاہور کی باقی تفصیلات کا خلاصہ اپنے اگلے کالم میں پیش کروں گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus