×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اداروں کی محاذ آرائی عوام کہاں جائیں؟
Dated: 30-Jan-2010
میثاقِ جمہوریت کی شق 3کے پیرا ایک،دو اور تین کے مطابق: (1)اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کی سفارشات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔ (2) اس کمیشن کا چیئرمین لازمی طور پر چیف جسٹس ہو جس نے پہلے کبھی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو۔(3)کمیشن ممبر صوبائی ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس ہوں گے جنہوں نے پہلے کبھی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو۔ اگر ایسا ممبر دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج کو ممبر بنایا جا سکتا ہے جس نے پہلے کبھی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو۔ میثاقِ جمہوریت کے مطابق ججوں کی تعیناتی میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ اصول اصول ہوتا ہے اور سب کے لیے ایک سا ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے میثاقِ جمہوریت پر عمل کرتے ہوئے پی اے سی کا چیئرمین پارلیمانی اپوزیشن لیڈر کو بنادیا۔ جبکہ مسلم لیگ ن ان ججوں کی بحالی کے لیے جن کی بیشتر تعداد پی سی او زدہ تھی جن کی بحالی میثاقِ جمہوریت کی روح کے منافی تھی ان کی بحالی کی تحریک چلاتی رہی۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالتے ہی پارلیمنٹ سے وزیراعظم نے پہلے خطاب کے دوران زیرحراست ججوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ 16مارچ2009ء کو لانگ مارچ کے پہلے مرحلے ہی میں رات گئے وزیراعظم نے قوم سے خطاب کے دوران وکلا تحریک اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے پرزور اسرار پر تمام معزول جج حضرات کو 21مارچ سے ان کے عہدوں پر بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس وقت پنجاب میں گورنر راج نافذ تھا۔ پیپلز پارٹی چاہتی تو جبراً وکلاء تحریک کو کچل سکتی تھی۔ لیکن جمہوری رویے کا اظہار کرتے ہوئے ملک کو خانہ جنگی سے بچا لیاگیا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وکلا کی تحریک کے دوران کراچی، لاہور اور پاکستان بھر میں پیپلز پارٹی کے جیالوں نے سینکڑوں کی تعداد میں جان کے نذرانے پیش کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی اور وہ پارٹیاں جو آج ججز اور وکلا کی خیراہ خواہ بننے کا ڈھونڈورا پیٹتی ہیں ان کے کسی ایک کارکن کی انگلی کا ناخن بھی ٹیڑھا نہ ہوا۔ ججوں کی دوبارہ بحالی کے بعد مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور مرکزی قائد میاں نواز شریف کو تمام کیسز میں بری کر دیا گیا جبکہ اس سے پہلے 2000ء میں صدر رفیق تارڑ نے میاں نوازشریف پر بنائے گئے مقدمات کے سلسلے میں جو سزا ہوئی تھی اپنا آفس چھوڑنے سے قبل بیک جنبشِ قلم اسے معاف کر دیا تھا۔ یہ میاں برادران کو ملنے والا پہلا این آر او تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آئینی یا غیر آئینی طور پر بحال ہونے کے بعد عدلیہ ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ مفاہمتی حکمت عملی کو اپناتی مگر عمومی تاثر یہ ملتا رہا جیسے یہ فیصلے یکطرفہ ہو رہے ہیں۔ اس طرح وفاق کی چاروں اکائیوں کی نمائندہ جماعت اور اس کی لیڈرشپ کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ سیاست کے کھیل میں ایسے سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹرز کو لے آئی جن کا ملک کی منتخب پارلیمنٹ میں کوئی حصہ اور کردار نہیں تھا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ملک میں شدت پسندی کی حوصلہ افزائی کی۔ اور اس ملک کی فوج کو جب وہ ان شدت پسندوں سے برسرپیکار تھی کے مورال کو گرانے کی کوشش کی۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے کروڑوں کارکنان اس وقت پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے اور قربان ہو رہے تھے کہ جس وقت مسلم لیگ ن کی قیادت اس انتہائی اہمیت کے حامل ایشو پر خاموش رہی یا ملک سے باہر چلی گئی۔ پنجاب میں گورنر راج کے خاتمے پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے حکم موصول ہوا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کیا جائے کیونکہ اب ملک اور جمہوریت کسی نئے بحران کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے خواجہ محمد شریف کو لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا۔ صدر نے چیف جسٹس کی بھجوائی ہوئی سمری پر بلاتاخیر دستخط کر دیئے جبکہ اس دوران سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں 3نومبر2007ء کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا ناطقہ بند کر دیا گیا جس پر ان جج حضرات نے غیرمشروط استعفوں کی شکل میں عدلیہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ججوں کی تعداد کو سپریم کورٹ میں پورا کرنے کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے سات نئے ججوں کی تقرری کے لیے صدر کو سمری بھجوائی تو صدر نے اس پر بغیر کوئی اعتراض لگائے دستخط کر دیئے۔ جبکہ بات اگر آئین کی کی جائے تو پیپلز پارٹی کو ان تعیناتیوں پر تحفظات تھے۔ اسی طرح لاہور ہائیکورٹ میں جہاں پر ساٹھ ججوں کی اسامیاں ہیں وہاں صرف 24جج تعینات ہیں ان میں سے بھی 4جج مسٹر جسٹس شبر رضا رضوی، مسٹر جسٹس سید حامد علی شاہ، مسٹر جسٹس سید سجاد حسین شاہ اور مسٹر جسٹس حسنات احمد خان نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ نہیں دیا۔ مگر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ان 4جج صاحبان کو لے آف(Lay Off) کر رکھا ہے۔ عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ 4ججوں کو اوایس ڈی بنا دیا گیا اور ایک ایسی عدالت میں جہاں پہلے ہی تعیناتی 50فیصد سے بھی کم تھی اس میں بھی مزید کمی کر دی گئی۔ مذکورہ چار وں جج صاحبان کو تمام مراعات حاصل ہیں۔ اسی دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے مدتِ ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوئے جنہوں نے ججوں کی دوبارہ بحالی سے پہلے کہا تھا کہ وہ بحال ہوتے ہی استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے لیے چیف جسٹس افتخار احمد چودھری نے ایڈہاک جج مقرر کرنے کی سمری صدر کو بھجوائی۔ جو ایک قانونی اعتراض لگا کر واپس کر دی گئی۔ اس خالی جگہ پر لاہور ہائیکورٹ سے جسٹس ثاقب نثار کو سپریم کورٹ بھجوانے کی سفارش بھی چیف جسٹس کی طرف سے کی گئی آئین اور قانون کے مطابق ہائیکورٹ کے موجودہ چیف جسٹس خواجہ محمد شریف چونکہ سنیارٹی لسٹ میں ٹاپ پر تھے اس لیے ایوان صدر نے اس سمری کو بھی واپس بھجوا دیا گیا کہ مستقبل میں کہیں یہ روایت نہ پڑ جائے۔ اسی دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ محمد شریف نے ججوں اور پبلک پراسیکیوٹر اور عدالتی تقرریوں کے لیے ایک سمری گورنر کو بھجوائی لیکن حقیقت یہ ہے اس لسٹ میں جن لوگوں کو شامل کیا گیا وہ کسی بھی طریقے سے ان تقرریوں کے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔ ایک عام پبلک سروس کمیشن جو کہ گریڈ 17سے شروع ہوتا ہے کی تقرری کے لیے تو باقاعدہ امتحان اور نظام واضع ہے مگر گریڈ 22کے ججز کے تقرر کے لیے صرف ایک چیف جسٹس پر بھروسا کرکے ایسے قوانین کو کیونکر نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus