×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حکومت کالا باغ کی صورت میں قوم کو تحفہ دے
Dated: 15-May-2010
قدرت انسان کے تابع نہیں، انسان قدرت کے تابع ہے، وطن عزیز میں ایک طرف پانی کی شدید کمی دوسری طرف جس دن ہیٹی میں زلزلہ آیا اسی روز وادیٔ ہنزہ میں ایک پہاڑ دو ٹکڑے ہوا جس سے وادیٔ ہنزہ میں کئی میل طویل جھیل نمودار ہو گئی۔ اب اس میں تیزی سے پانی جمع ہو رہا ہے۔ کئی گائوں اس جھیل کا حصہ بن گئے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔ جھیل کا پانی اوپر چڑھتا آ رہا ہے جس کی اونچائی دو سو فٹ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس پانی کی مقدار تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی جمع کرنے کی صلاحیت سے 8گنا زیادہ ہے۔ ہنزہ جھیل میں جس تیزی سے پانی جمع ہو رہا ہے۔ اس کا منطقی انجام تو اس کی کسی نہ کسی طرف نکاس ہی ہے۔ اگر قدرتی نکاس کا انتظار کیا جائے تو تباہی مقدر بنے گی۔ ایک بڑا علاقہ ڈوبے گا، ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ایک طرف ہمیں اپنی بقا کے لیے پانی کی اشد ضرورت ہے دوسری طرف پانی ایک عذاب کی صورت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔ وادیٔ ہنزہ میں نمودار ہونے والی اس جھیل نے شاہراہ ریشم کو بھی پندرہ میل تک اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جہاں آمدورفت آج کشتیوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومت بندھ ٹوٹنے سے قبل کچھ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی علاقے کا جائزہ لے چکے ہیں۔ صورت حال سے نمٹنے کے لیے جنگی اقدامات کی ضرورت پڑے گی۔ زلزلہ ہو یا سیلاب فوج نے ہمیشہ حکومت کی مدد کی ہے۔ اس معاملے میں بھی فوج کو آگے آنا پڑے گا۔ فوج اور قوم مل کر آگے بڑھیں ایک منصوبہ بندی ترتیب دیں تو ممکنہ زحمت کو یقینی رحمت میں بدلا جا سکتا ہے۔ تربیلا ڈیم کی سطح کم ہو رہی ہے اس پانی کا مطلوبہ حصہ تربیلا میں ڈالا جا سکتا ہے۔ باقی دریائے سندھ کے ذریعے فصلوں کو سیراب کرتا کالاباغ ڈیم کی سائٹ سے ہوتا ہوا سمندر میں جا گرے گا۔ منصوبہ بندی کی صلاحیت اور خلوص نیت ہو تو پانی کو بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہنزہ جھیل کو فوری طور پر ڈیم کی شکل دینا تو مشکل ہے تاہم اس آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ فوری طور پر پن چکیاں لگا کر بھی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ قدرت نے اگر اچانک ایک نئے ڈیم کا موقع پیدا کر دیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اگر ایک پلاننگ کے تحت یہاں ڈیم بنانے کی کوشش کی جاتی تو شاید وہاں کے لوگ مزاحمت کرتے، اپنے گھر خالی کرنے سے انکار کر دیتے لیکن وہ مشیت ایزدی کے سامنے سرتسلیم خم کر چکے ہیں لیکن حکومت کو ان کی مجبوری سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ بلکہ وہاں کی مارکیٹ سے دگنا ان لوگوں کو ان کی اراضی اور گھروں کی قیمت ادا کر دینا چاہیے۔ شاید قدرت کو ہمارے اختلافات اور ہماری قابلِ رحم حالت دیکھ کر ہم پر ترس آ گیا ہے۔ ہم قدرت کے تابع ہیں قدرت کو اپنے تابع کرنے کی کوشش کریں گے تو تباہی کو دعوت دیں گے۔ ہنزہ جھیل کو ڈیم کی شکل دیں گے تو پانی کی اور بجلی کی کمی میں کسی حد تک ریلیف ملے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ بھارت سے اپنے حصے کے پانی کی واگزاری کی کوشش بھی مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو حامل منصوبہ قراردینا دانش مندی ہے نہ قوم و ملک کے مفاد میں۔ اس کی تعمیر میں تاخیر اور التوا بھی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ کالا باغ ڈیم قومی مفاد کا منصوبہ ہے جسے جان بوجھ کر سیاست کی نذر کر دیا گیا۔ اس کی تعمیر میں اگر کوئی ٹیکنیکل مسئلہ ہے تو تمام صوبوں کے انجینئر مل بیٹھ کر اس کا حل نکال سکتے ہیں۔ سیاسی معاملات یقینا سیاستدانوں نے طے کرنے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے راستے میں اے این پی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اے این پی کو اور کیا چاہیے صوبہ سرحد میں اس کی حکومت ہے مرکز میں اہم وزارتیں اس کو دی گئی ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ میں مرکزی حکومت نے اہم کردار ادا کیا۔ پنجاب حکومت نے بھی اے این پی کی سرحد حکومت کے تمام مطالبات منظور کر لیے اور سب بڑی بات یہ کہ اے این پی کی دیرینہ خواہش پر پارلیمنٹ نے پختونخواہ خیبر نام کی منظوری دے دی۔ میاں نوازشریف نے خواہ تیسری باروزراعظم بننے کی خاطر ہی سہی مسلم لیگیوں کے ارمانوں کا خون کرکے سرحد کے بجائے پختونخواہ خیبر نام قبول کر لیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن،اے این پی کو اس سے زیادہ اور کیا دے سکتی ہے۔ میرے خیال میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سے بھول ہو گئی۔ پختونخواہ خیبر کے بدلے میں اے این پی کو کالاباغ ڈیم کی مخالفت ترک کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے تھا۔ اب بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن، اے این پی سے اس معاملے پر بات کرے تو امید ہے کہ اے این پی تعاون پر آمادہ ہو جائے گی۔ ایک مرحلے پر شہبازشریف کی صوبائی حکومت نے بھی کالاباغ ڈیم منصوبے کو ختم کرنے کی حمایت کی تھی۔گذشتہ روز شہباز شریف نے وفاقی حکومت سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا مطالعہ کرکے پنجاب کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ مرکزی حکومت میں موجود اکثر رہنما بھی کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں ہیں اور وہ عموماً اپنی آواز بھی بلند کرتے رہتے ہیں۔ اس معاملے میں میری سوچ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی مہم چلا رہا ہوں بالکل میر صحافت جناب مجید نظامی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے۔ آج ہمیں بجلی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ پانی بھارت نے روک رکھا ہے ایسے میں اگر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو التوا میں رکھا گیا تو یہ ایک قومی جرم ہوگا۔تاریخ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کرے گی ان کا تعلق کسی بھی پارٹی گروپ یا حلقے سے ہو۔ پیپلز پارٹی اپنی آدھی آئینی مدت پوری کرنے کو ہے اس نے بالآخر عوامی عدالت میں جانا ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں یہ قوم کو تحفہ دے تو یہ قوم کے سامنے سرخرو ہو جائے گی اور قوم بھی اسے سرخرو کرنے میں بخل سے کام نہیں لے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus