×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی کی کارکنان میں واپسی
Dated: 25-Jun-2010
مشہور امریکی دانشور تھامس مارشل نے کہا’’ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو بھائیوں میں سے ایک سمندر میں اتر گیا اور دوسرا امریکہ کا نائب صدر بن گیا۔ اس کے بعد دونوں کی کوئی خبر نہیں ملی۔‘‘اسی طرح کچھ الیکشن2008ء کے بعد پاکستان کی پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ ہوا۔ اقتدار میں آنے والے اور بلامقابلہ وزیراعظم بننے کے بعد سید یوسف رضا گیلانی بھی پارٹی کارکنوں کے درمیان سے ایسے غائب ہوئے جیسے الیکشن کے بعد امریکی نائب صدر غائب ہوتے ہیں۔ کارکنان ایک طرف تو گذشتہ حکومت کی چھوڑی ہوئی خرافات اور خرابات سے نالاں تھے تو دوسری طرف اپنی ہی پارٹی کے صاحبِ اقتدار زعماء کی طرف سے نظرانداز کیے جانے کے دکھ کے باعث کرب میں مبتلا تھے۔ کارکناں کے اس احساس محرومی اور رنج و الم کا ادراک مجھے ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے کے دوران ہوا۔ اس پر میں نے فیصلہ کیا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو سے سیکھے ہوئے فلسفے کو میں ذاتی مفادات اور خواہشات کے نیچے دفن نہیں ہونے دوں گا۔ کارکنوں کو ان کا حق دلانے کے لیے گو مجھے بھی پارٹی کے اندر شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑا لیکن میں نے کلمہ حق بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جو بدستور جاری ہے۔ اس دوران میں نے اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم صاحب کو پارٹی میں واپس لانے کی کوشش جاری رکھی یہی وجہ ہے یا شاید نوائے وقت میں شائع ہونے والے کالموں کا اثرتھا کہ ایک دن مجھے پتہ چلا کہ وزیراعظم صاحب لاہور میں ایک کارکن کی والدہ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے گئے۔ اور پھر ایک دن تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب مجھے پتہ چلا کہ آج وزیراعظم صاحب لاہور تشریف لائے ہیں مگر وہ ایئرپورٹ سے جاتی عمرہ کے بجائے سیدھے گورنر ہائوس چلے گئے۔ ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ جب اقتدار کے سنگھاسن پر کسی کو بٹھایا جاتا ہے تو ریڈ بک جیسی کئی ’’حکمتیں‘‘ کارکنوں اور اصحاب اقتدار کے درمیان دیوارِ چین بن جاتی ہیں۔مجھ سے اکثر دوست یہ سوال کرتے ہیں کہ تم دنیا کی جنت سوئٹزرلینڈ چھوڑ کر جہاں تم نے زندگی کے 26سال گزارے ہیں پاکستان چلے آئے،جہاں پوری حیات لوڈشیڈنگ زدہ ہے، جہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی لوڈشیڈنگ، گیس کی لوڈشیڈنگ، پیار کی لوڈشیڈنگ، انسانیت کی لوڈشیڈنگ اور ایک دوسرے کے احساس کی لوڈشیڈنگ ہے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں جن دنوں میں محترم جناب آصف علی زرداری صاحب کے ساتھ پابندِ سلاسل تھا۔ جہاں ہمارے ساتھ قید راجہ پرویز اشرف اور تاجی کھوکھر بھی تھے۔ ان کو زرداری صاحب نے خصوصی ہدایت کی کہ میں یعنی مطلوب وڑائچ پہلے سوئٹزرلینڈمیں طویل عرصہ رہا ہے اب میری خاطر جیل میں ہے۔ اس کا خیال رکھیں، جیل میں جو بھی ممکنہ سہولت ہے اسے بہم پہنچائیں۔ جناب صدر کو آج بھی یقینا یاد ہوگا کہ میرے انگلش لٹریچر کی ایک کتاب مانگنے پر وہ بیس بائیس منگوا دیتے تھے۔ان کی ہدایت پر جیل میں میراپورا خیال رکھا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے کسی پھل کی تعریف کر دی تو دوسرے روز اس کی پیٹیاں میرے سامنے تھیں۔ آج پارٹی قیادت کا میرے جیسے کارکنوں کے لیے طرزعمل ’’پرے پرے دور دور‘‘ ہے اور ہم بھی عزتِ سادات بچانے کی خاطر زبانوں کو قفل لگائے بیٹھے ہیں۔ تاہم قلم ضرور آزاد ہے جو ہماری نوا بن کر اقتدار کے ایوانوں میں لرزش پیدا کرتے ہیں تو اقتدار کے ماتھے پر بل بھی نظر آ جاتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب میں لکھا ہے ’’میں جرنیلوں کے ہاتھوں تو مرنا پسند کروں گا تاریخ کے ہاتھوں مرنا پسند نہیں کروں گا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں یہ طعنہ سننے کے بجائے کہ میں بھی اقتدار کا حصہ رہا ہوں میں نے کارکنوں کی طرف کھڑا ہونے کو ترجیح دی۔ میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ کے جیالوں کے چہروں پر مایوسیوں کے بجائے کامرانیوں کی چمک دیکھنا چاہتا ہوں وہ اسی صورت ممکن ہے کہ ان کو پارٹی قیادت نظرانداز کرنے کے بجائے ان کا جائز مقام دے۔ یہی جیالے ان کو اقتدار میں لائے ہیں اور آئندہ بھی اقتدار ان ہی کی مرہونِ منت ہوگا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعدملک میں لیڈرشپ کی شدید کمی پیدا ہو گئی، پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو مشکلات اور بحرانوں کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔ اوپر سے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے نئی حکومت کے لیے ایک اور دردِ سر پیدا کر دیا۔ مشرف اور ان کے حواری ڈالر کو مصنوعی آکسیجن کے ذریعے 63روپے رکھے ہوئے تھے۔ ان کی بیساکھیاں ہٹیں تو فطری نتیجے کے طور پر معیشت کو زمین بوس ہونا ہی تھا جو ہوئی اور ڈالر کی قیمت83روپے تک جا پہنچی۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے جناب آصف علی زرادری کی قیادت میں تنکا تنکا جمع کرکے آشیاں بنانے کی کوشش کی جس میں کامیابی کی نوید مل رہی ہے۔ گذشتہ بارہ ماہ میں ایک میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی گئی۔ کالاباغ ڈیم منصوبے کو سیاست کی نذر کیا گیا جس کے باعث پانی اور بجلی کی شدید کمی ہے۔ پانی اور بجلی نہ ہو گی تو ملک و قوم ترقی کے بجائے پستی کی طرف جائے گی۔ آج پاور پلانٹس لگ رہے ہیں، بھارت کے ساتھ پانی کی بات ہو رہی ہے، 12سال کی خرابیاں دور کرنے میں مزید تھوڑا سا وقت لگے گا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پی پی 206ملتان کے الیکشن کے بعد کے نتائج اور حقائق نے ایک بات تو ثابت کر دی کہ اس ملک کے اندر سیاسی اتحادوں میں اعتماد کا فقدن ہے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کے بھائی کو الیکشن میں ہرانے کے لیے مخالف سیاسی قوتوں نے مذہبی اور کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کا سہارا بھی لیا جس سے وزیراعظم کے اندر کم از کم یہ احساس تو جاگا کہ آج یہ ساری عزت اور مقام انہی کارکنان کی وجہ سے ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے نہ صرف رکن ہیں بلکہ وائس چیئرمین بھی ہیں اس لیے پارٹی کارکنوں کی طرف سے ان پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کچھ دنوں سے وزیراعظم صاحب اگر کارکنوں کے درمیان واپس آ گئے تو یہ خوش آئند ہے۔ کارکنوں کی بدولت ہی ان کے بھائی نے الیکشن بھی جیتا۔ اب جبکہ وزیراعظم کو زمینی حقائق کا ادراک ہو گیا ہے تو میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوںکہ کارکن اپنی خدمات کے بدلے تھوڑی سی تھپکی اور شاباش چاہتے ہیں۔ اقتدار کا نصف سمے بیت گیا ہے کارکنان نے حکومت کے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا انتظار کیا اب حکومت کو بھی چاہیے کہ باقی کا وقت عوام کی خدمت کرکے سیاست کی جنت میں مقام حاصل کرے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus