×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاست صحافت۔چولی دامن کا ساتھ
Dated: 23-Jul-2010
آج دنیا ایک گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ سالوں کے سفر گھنٹوں میں طے ہو جاتے ہیں۔ چند سال بیشتر تک جب ضیائی آمریت تھی ملک کی خبر باہر نہ جا سکتی تھی۔ مال روڈ لاہور پر ایک فیکس مشین تھی یہیں سے سارے لوگ اور غیرملکی خبررساں ایجنسیوں کے رپورٹر فیکس کیا کرتے تھے۔ جب فیکس خراب یا خراب کر دی جاتی تو کئی کئی دن تک لوگ انتظار کرتے تھے۔ اسی طرح یہی حال ٹیلی فون ایکسچینج کا تھا ایک انٹرنیشنل کال ملانے کے لیے گھنٹوں درکار ہوتے تھے۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اخبارات پر سنسر تھے، الیکٹرانک میڈیا صرف سرکاری ٹی وی چینل تک محدود تھے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر چھاپنا جرم تھا مگر اس کے باوجود انہی حالات میں جہاں سیاسی ورکروں نے کوڑے کھائے ایسے صحافیوں کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے آمریت کے خلاف احتجاج کیا اور کوڑے کھائے اور اپنی صحافتی برادری کا علم بلند کیا۔ وقت بدلتا گیا جدید دور کے تقاضوں میں ایک سب سے بڑا ردِعمل میڈیا میں دیکھنے کو ملا جب اکیسویں صدی کے آغاز تک پرنٹ میڈیا میں جدت کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی اپنے پائوں جما رہا تھا۔ آج پاکستان میں 49نیوزچینل ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ میں پانچ انگلینڈ میں چار اور دوسرے یورپی ممالک میں بھی نیوزچینل کی تعداد 2 یا 3فی ملک سے زیادہ نہیں۔ صرف لاہور سے سینکڑوں اخبارات روزناموں کی صورت میں موجود ہیں جبکہ ہفتہ وار ماہنامے ملا کر ہزاروں کی تعداد میں رسائل و میگزین مارکیٹ میں موجود ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو میڈیا و اقعی ریاست کے چوتھے ستون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ جب رواں عشرے کے ابتدائی دور میں، میں پاکستان واپس آیا تو رہائش وغیرہ کے بندوبست کے بعد میں نے لاہور سے چند صحافی دوستوں کو اکٹھا کیا اور کم از کم ہفتہ وار میٹنگز کیں،جس پر لاہور سے چند ممتاز صحافیوں نے کہا کہ مطلوب وڑائچ پیپلز پارٹی میں اور لاہور میں کسی بھی سیاسی جماعت کا پہلا رکن ہے جس نے صحافیوں کو ضیافتوں اور ذاتی فنگشنز میں مدعو کرنا شروع کیا ہے پھر اس روایت کو مزید چند دوستوں نے آگے بڑھایا اور آج پاکستان بھر اور لاہور میں کوئی منگنی کی،شادی کی، ولیمے کی یا سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی تقریب ہو صحافی دوستوں کے بغیر مکمل نظر نہیں آتی۔ میڈیا کی اس طرح روزمرہ کے معاملات میں ضرورت بن جانا دراصل میڈیا کی ضرورت کا اعتراف ہے اور میڈیا کی جدید دور میں اہمیت کا بھی اعتراف ہے۔جبکہ اس سے پہلے یہ رسم صحافت کے میدان کے چند مشہور کالم نگاروں تک محدود تھی اور اسی دور میں ان نامور صحافیوں کو پلاٹ اور لفافے بھی دیئے جاتے تھے یہی وجہ ہے کہ لاہور میں کوئی ایسا نامور صحافی نہیں جس کے پاس اپنا فارم ہائوس نہ ہو۔ اور چند سیاست دانوں کو اور آمروں کو جدید صحافت میں رپورٹرز کی حیثیت کا ادراک ہوا تو لاہور سمیت ملک بھر میں صحافی کالونیوں کا دور دورا ہوا۔ ق لیگ کے دورِ حکومت میں جب صحافیوں کے لیے کالونیوں کا اقدام اٹھایا گیاتو کم از کم بارہ سو صحافیوں کو لاہور میں پلاٹ دیئے گئے یہ الگ بات کہ ان میں سے تقریباً 50فیصد پلاٹ مذکورہ صحافی دوست بیچ کر اپنے پیٹ کی آگ بجھا رہے ہیں کیونکہ صحافی کارکن اپنی قلیل تنخواہ سے اپنی اقساط بھی ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے جس کی بنیادی وجہ تین چار بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے علاوہ باقی ادارے چھ ماہ سے ایک سال تک کی تنخواہیں بھی اپنے ورکروں کو دینے سے قاصر ہیں۔ اور یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ بے شمار چھوٹے اخبارات و ٹی وی چینلز اپنے ورکروں سے کہتے ہیں کہ خود کما کر لائو اور ہمیں بھی کھلائو۔ صحافت اور سیاست کے درمیان موجود تنائو دراصل جدید صحافت کے اندر ارتقاء کا عمل ہے۔ اخبارات اور چینلز کو پیٹ بھرنے کے لیے خبر اور سکینڈل کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ آج الیکٹرانک میڈیا کی موجودگی میں خبر بہت جلد پرانی ہو جاتی ہے۔ آج کوئی رپورٹر ایسا نہیں جس کے سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت سے لے کر نیچے تک تعلق نہ ہوں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جب ملک سے باہر فیڈرل کونسل و سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگز بلاتی تھیں تو ابھی اجلاس ختم نہیں ہوتا تھا کہ اجلاس کی تمام کاروائی ٹی وی چینلز پر نشر ہو چکی ہوتی تھی جس پر محترمہ نے بعدازاں ہونے والے اجلاسوں میں ارکان کو حکم دیتی کہ آج کی کاروائی کو اجلاس تک مخفی رکھا جائے گا مگر اس کے باوجود شہرت کے پیاسے سیاست دان اپنے اپنے فیورٹ نمائندگان کو اجلاس کی پوری کاروائی سے باخبر رکھتے تھے۔ اور ایسا دوسری تمام سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے۔ 2002ء کے الیکشن کے بعد جب میڈیا کی مشرف حکومت کے ساتھ اَن بن ہوئی تو مختلف اینکرز پرسن نے اپنی اپنی دوکان سجا لی اور آج کی موجودہ کابینہ میں بیشتر تعداد میڈیا کے بنائے ہوئے انہی ہیروز کی ہے جو ہر روز مشہور ٹی وی ٹاک شوز میں اپنے جوہر دکھاتے تھے پھر مشرف کے خلاف عوامی تحریک کا جو وکلاء سے شروع ہوئی میڈیا نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ جس سے میڈیا کے ریاست کے چوتھے ستون بننے میں کوئی شک نہیں رہ گیا تھا۔ پھر مشرف حکومت میں ہی جب پہلے ٹی وی چینلز کو لائسنس کا اجراء ہوا تو اس وقت کے وزیراطلاعات شیخ رشید نے ہیرو بننے کی زعم میں بغیر دیکھے بھالے من پسند اور ساتھ دینے والے میڈیا کو نوازا۔جبکہ چاہیے تو یہ تھا کہ ایسے تمام لائسنس کے اجراء میں بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ پراسس مکمل کیا جاتا جس کے لیے پیمرا کے قوانین بنائے جاتے مگر ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ پورے لاہور میں سینکڑوں پلازے بنا دیئے گئے پھر ہمیں خیال آیا کہ ان کی بیس منٹ نہیں ہے یہ چھ منزلہ کی بجائے دس منزلہ ہیں اور پھر ان پلازوں کو گرانے کا عمل شروع کیا گیا جس سے اربوں روپوں کا نقصان سرکاری خزانے اور چھوٹے بڑے سرمایہ کار کو ہوا۔ یہی حال اس وقت میڈیا کے ساتھ ہے اگر حکومت لائسنس کے اجراء کے پہلے کچھ قوانین بنا لیتی تو آج میڈیا کو بھی اپنی محدود حیثیت کا احساس ہوتا۔ یقینا اس وقت جتنا پاکستانی میڈیا آزاد ہے دنیا بھر میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ میں نے 28سال یورپ میں گزارے ہیں جتنی آزادی اور دسترس میڈیا کی پاکستان میں ہے اتنی کسی اور ملک میں نہیں۔ اسی طرح پاکستان کے سیاست دانوں کو بھی دہائی نہیں دینا چاہیے کہ خود تو سیاست دان ہر روز شام کو ٹاک شوز میں براجمان ہوتے ہیں اگر میڈیا سے شکایت ہے تو وہ خود میڈیا پر کیوں آتے ہیں کہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟ یہ میڈیا ہی ہے جو زیروز کو ہیروز بنا دیتا ہے اور ہمارے آج کے بیشتر سیاست دان بھائی صرف میڈیا کے زور پر اور ای میل سیاست سے اپنی دوکان سجائے بیٹھے ہیں۔ میرا اس بات پر قوی ایمان ہے کہ یقینا کوئی ایسی طاقت اس وقت اس سارے کھیل کے پیچھے ہے جو اس وقت کھیلا جا رہا ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ میڈیا نے وکلاء،عدلیہ اور عوام کے ساتھ مل کر آمریت کو شکست فاش دی۔ اب کچھ ایسی ہی نادیدہ قوتیں سیاست دانوں کو عوام میں گندہ کرنے کے لیے یہ گھنائونا کھیل کھیل رہی ہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاست دان عوام،عدلیہ اور صحافت مل کر ایسی مکروہ سازش کو ناکام بنا دیں۔ ’’نوائے وقت‘‘ جو کہ نظریۂ پاکستان کا عملدار اخبار ہے کے متعلق ملک کی لبرل سیاسی پارٹیوں کے ذہنوں میں اصل حقائق نہیں تھے اور اسی ناواقفیت کی بناء پر اسے دائیں بازو کا اخبار کہا جاتا تھا۔ میں جو کہ پیپلز پارٹی کی فیڈرل کونسل کا ممبر ہوں جب اس اخبار میں کالم نگاری کرنا چاہی تو محترم مجید نظامی صاحب مردِ صحافت نے مجھے نہ صرف لکھنے کی اجازت دی بلکہ ایک مدبر اور پیشہ ورانہ اتالیق کی طرح میری راہنمائی بھی کی۔ اور یوں پچھلے اڑھائی سال سے میں باقاعدگی سے ’’نوائے وقت‘‘ میں اپنی سوچ کو الفاظ کا جامہ دے کر لکھ رہا ہوں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور اگر کوئی لکھنے والا ہے تو اس کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ میری تحریک پاکستان کے داعی اور نظریۂ پاکستان کے محافظ جناب مجید نظامی صاحب سے درخواست ہے کہ صحافت اور سیاست کے درمیان اس چپقلش میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں کیوں کہ جناب مجید نظامی صاحب کی ذات غیرمتنازعہ اور بزرگانہ ہے جس پر سب کو اتفاق ہے۔وگرنہ اس لڑائی سے ملک جمہوریت سے بہت دور چلا جائے گا اور وہ نادیدہ قوتیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus