×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کثیر الاجماعتی نظام اور جمہوریت
Dated: 09-Jul-2008
پاکستان میں ایک بھی سیاستدان ایسا نہیں ہوگا جس کو وطن عزیز میں پائی جانے والی تمام سیاسی پارٹیوں کے نام ازبر ہوں۔ ہر کسی کو ایک موضوع پر بات کے لیے سیاسی پارٹیوں کی لسٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ 2002ء کے انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیوں کی تعداد71تھی۔ ان 71سیاسی جماعتوں میں مجلس عمل اتحاد کو ایک پارٹی گنا ہے۔ اگر ہر پارٹی کو الگ حیثیت سے شمار کیا جائے تو کل تعداد 77قرار پائے گی۔ ان 77پارٹیوں میں ان کا ذکر نہیں ہے جنہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔ انتخابات میں حصہ نہ لینے والی پارٹیوں کی تعداد بھی درجنوں میں ہے۔ بعض ایسی ہیں جنہوں نے کبھی الیکشن لڑا ہی نہیں لیکن وہ پارٹی سٹیٹس کو انجوائے کرتی ہیں۔ اس کے عہدیدار کسی گول میز کانفرنس میں شریک ہوں تو ان کو مسلم لیگ(ن)،پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور دیگر پارٹی رہنمائوں کے برابر پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ ایک طرف ہمارے ہاں سیاسی پارٹیوں کی بھرمار تو دوسری طرف اکثر ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں سیاسی پارٹیوں کی تعداد گنی چنی ہے۔ بلکہ یورپ اور امریکہ میں جو کہ اس وقت ترقی کے عروج پر ہیں وہاں دو جماعتی نظام رائج ہے۔ امریکہ میں صرف دو پارٹیاں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن ہیں۔ برطانیہ میں دو بڑی پارٹیاں لیبر اور ٹوری ہی اصل طاقت ہیں۔ سکینڈے نیوین ممالک اور یورپ میں بھی دو جماعتی نظام رائج ہے۔ ان ممالک میں پارٹی بنانے اور اس کے الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی نہیں ہے محض قوانین ایسے بنا دیئے گئے ہیں کہ جن سے دو جماعتی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ اکثر ممالک میں یہ پابندی ہے کہ دس فیصد سے کم نشستیں حال کرنے والی پارٹی کسی اتحاد کا حصہ نہیں بن سکتی۔ وہ پارلیمنٹ کے اندر کسی پارٹی کے حق اور مخالفت میں ووٹ تو دے سکتی ہے مگر وزارت نہیں لے سکتی۔ اسے انتخابات کے بعد سے اگلے انتخابات تک اپنی جداگانہ حیثیت برقرار رکھنا ہو گی۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں دس فیصد سے کم نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی حکومت میں شامل نہیں ہو سکتی۔ اس سلسلے کی ایک مثال ترکی بھی ہے۔جہاں پر کوئی بھی جماعت جو دس فیصد سے کم نشستیں لے وہ حکومت کا حصہ نہیں بن سکتی۔ جہاں تک آزاد امیدواروں کا تعلق ہے ان کی اہمیت پارلیمنٹ کے اندر بے اختیار سی ہوتی ہے۔ کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ آزاد امیدوار منشور اورکسی پارٹی سپورٹ کے بغیر بے کار ہے۔ ہمارے ہاں اگر ایسا سسٹم ہوتا تو قومی اسمبلی کی 346 نشستوں میں سے حکومت میں شامل ہونے کے لیے 34نشستیں حاصل کرنا ضروری تھا۔ اس معیار پر صرف پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) پورا اترتی ہیں۔ ہمارے ملک میں عجیب تماشا لگتا ہے۔ کچھ پاورفل لوگ اپنی ذاتی حیثیت میں ایم این اے یا ایم پی اے بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ دراصل اس علاقے کے مزاج اور ہمارے ملک کے فرسودہ نظام کی وجہ سے ممکن ہے۔ ملک میں ہر قسم کی پارٹیاں دائیں اور بائیں بازووالی سمیت موجود ہیں لیکن یہ آزاد امیدوار اپنی بلیک میلنگ کی سیاست کو چمکانے کے لیے سیاسی پارٹیاں میں الیکشن سے پہلے شمولیت سے ہمیشہ احتراز کرتے ہیں لیکن الیکشن کے بعد کامیابی ہونے والی کسی بڑی پارٹی میں شمولیت اختیار کرکے اپنی بولی لگوا لیتے ہیں۔ اور بعض دفعہ چند آزاد اراکین اپنا ایک گروپ بنا کر وزارتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ 6ارکان کی حمایت سے ایک صاحب وزارت اعلیٰ کے منصب پر بھی پہنچ گئے تھے۔ چھوٹی پارٹیاں یا پریشر گروپ حکومت کو بلیک میل اس حد تک کرتے ہیں کہ ان کی بلیک میلنگ کی وجہ سے حکومتی پارٹی کو اکثر اپنے منشور پر عمل کرنے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آزاد حیثیت سے جیت جانا اور پھر حکومت میں شامل ہونا ایک منافع بخش مشغلہ بن چکا ہے۔ اس ملک کے جاگیردار،فیوڈل، لارڈز،سرمایہ دار،نواب،مخدوم،لغاری، مزاری کسی پارٹی کو جوائن کرنا دراصل گھاٹے کا سودا سمجھتے ہیں۔ 18فروری 2008ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے 88،مسلم لیگ (ن) نے 65، مسلم لیگ (ق)42، ایم کیو ایم نے19اور اے این پی نے 10نشستیں حاصل کیں۔ جبکہ کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کی تعداد30تھی یعنی یہ ایم کیو ایم اور اے این پی سے کہیں بڑی پارٹی تھے۔ تعداد کے حوالے سے یہ چوتھی بڑی پارٹی قرار پاتے ہیں۔ 2002ء کے انتخابات میں ان کی تعداد39تھی۔ جمالی ایک ووٹ کی برتری سے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس اسمبلی میں جہاں آزاد امیدواروں کی تعداد39تھی وہیں طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک اور عمران خان کی تحریک انصاف کو پورے ملک سے صرف ایک ایک سیٹ مل سکی۔ ان پارٹیوں نے پورے ملک سے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ دراصل ایسے پریشر گروپ سٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہوتے ہیں اور سٹیبلشمنٹ انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے اور ان کے مفادات کا خیال رکھتی ہے۔ راقم کو اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں گزارنے کا موقع ملا اوراس سسٹم کو قریب سے دیکھنے پرکھنے کے مواقعے بھی حاصل ہوئے۔ میری ذاتی رائے میں پاکستان کے مجوزہ حالات کے اندر جب تک عوام کو تعلیمی زیورسے آراستہ نہیں کر دیا جاتا اور پبلک اویئرنس اس حد تک نہیں ہو جاتی کہ جب تک عوام اپنی قسمتوں کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تب تک کثیر جماعتی نظام دراصل کرپشن کے دروازے کھولتا ہے۔اور جب ترقی یافتہ ممالک کے لیے دوجماعتی نظام ہی کامیاب نظام ہے تو پھر سائوتھ ایشیا اور پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک یا تیسری دنیا میں کثیر جماعتی نظام کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں بھی آزاد امیدواروں اور چھوٹی پارٹیوں کی بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سسٹم کی حوصلہ شکنی کی جائے جس کی وجہ سے حکومتی پارٹی اپنے منشور کو کماحقہ،روبعمل نہیں لا سکتی۔ دس فیصد سے کم نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی پر کسی اتحاد اور خصوصی طور پر حکومتی پارٹی میں شامل ہونے پر پابندی لگا دی جائے۔ اس سے ایک تو کثیر پارٹی سسٹم کی حوصلہ شکنی ہو گی اور آزاد امیدوار بھی اپنی صلاحیتیں کسی قومی سطح کی پارٹی کے لیے استعمال کریں گے۔ پاکستان میں ایک موقع آیا تھا جب ملک تیزی سے دو پارٹی سسٹم کی طرف گامزن تھا۔ 1988ء سے 1997ء تک چار انتخابات ہوئے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ باری باری جیت رہی تھیں اگر چند انتخابات اور ہونے دیئے جاتے تو یقینا دو پارٹی سسٹم کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ لیکن جنرل مشرف شب خون مار کے جہاں ایک طرف جمہوریت کو ایک دفعہ پھر بند گلی میں دھکیل دیا اور ایک دفعہ پھر اس ملک کے اندر سٹیبلشمنٹ کو اپنے خطراناک کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا اور سیاسی جماعتوں کے اندر ایسے افراد کی تلاش یقینا ناممکن نہیں جو ہر وقت سیاست کے اس بازار میں اپنا مول لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اور اسی کا خمیازہ قوم آج بھگت رہی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus