×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یہ کیا ماجرا ہو گیا؟
Dated: 13-Aug-2010
پاکستان کی تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات رونما ہوئے جو اپنے پیچھے اَن منٹ نقوش چھوڑ گئے۔ بس ذرا تاریخ کے اوراق الٹنے کی ضرورت ہے۔ 1951ء شہید ملت لیاقت علی خان کی گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ خوشاب جوہر آباد جھنگ کے علاقوں کو سرسبز شاداب بنایا جائے گا۔ حکم صادر فرما دیا گیا چند ماہ بعد شہید ملت کو ایک روز خیال آیا کہ وہ آرڈر تو ہم نے کر دیا تھا اس کا کیا بنا؟ فوری طور پر گورنر اور متعلقہ حکام سے پوچھا گیا تو شہید ملت نے خود موقع پر جا کر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حکام بالا اور مقامی انتظامیہ کو جب وزیراعظم کی خواہش کا پتہ چلا تو تھرتھلی مچ گئی۔ وزیراعظم کے دورے سے پہلے پورے علاقے اور پنجاب بھر سے نرسریوں سے پودے بمعہ گملے اٹھا لیے گئے اوروزیراعظم لیاقت علی خان کی آمد سے پہلے ایک بڑے رقبے پر گملے بچھا دیئے گئے اور اتنا پانی چھوڑ دیا گیا کہ گملے نظر نہ آئیں بس اوپر والا حصہ پودے کا نظر آئے۔ شہید ملت آئے دورہ کیا ہر طرف ہریالی تھی بہت خوش ہوئے۔ بعد میںجب وہ دورہ ختم کرکے واپس چلے گئے تو گملے نرسریوں کو واپس کر دیئے گئے اور دوسرے دن وہاں زمین تو تھی مگر ہریالی غائب تھی جس پر اخبارات میں ایک شور اٹھا اور ایک اخبار نے سرخی لگائی۔ ’’یہ کیا ماجرا ہو گیا؟ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا۔ ‘‘ بالکل ایک اور واقعہ قیام پاکستان کے ابتداء کے دنوں میں اسٹیبلشمنٹ نے کئی خطرناک کھیل کھیلتی چلی آ رہی ہے۔ منٹو پارک لاہور میں وزیراعظم جناب لیاقت علی خان نے تاریخی خطاب کیا جس کے سلوگن کا وہ مشہور مُکا ہے جو شہید ملت نے لہرایا اور بعدازاں پاکستان بھرمیں کیلنڈروں اور گھروں دکانوں کی زینت بنا ہوا یوں کہ جب شہید ملت نے مکا لہرایا تو فوٹوگرافر تصویر نہ بنا سکے بعدازاں جب شہید ملت کو بتایا گیا تو وہ بہت ناراض ہوئے۔ اس کی تلافی اسٹیبلشمنٹ نے یوں کی کہ جلسے کے بعد شہید ملت کو ہیرامنڈی فورٹ روڈ پر مسلم لیگ کے دفتر لے جایا گیا اور دیوار کے ساتھ کھڑا کرکے مکا لہرانے کا پوز لیا آج ہم جو یہ تصویر دیکھتے ہیں یہ وہی تاریخی تصویر ہے جسے بعدازاں بنایا گیا۔ اسی طرح جب کرکٹ،ہاکی ٹیم اپنے غیرملکی دورہ پر روانہ ہوئی اوروہاں میچ سے پہلے میزبان ٹیم کا قومی ترانہ بجایا گیا اب باری تھی پاکستان قومی ترانہ کی جو کہ اس دورہ جو 1952ء کو ہوا ابھی تب قومی ترانہ ترتیب نہ دیا گیا تھاجس پر ہماری ٹیم کے منیجر نے میزبانوں کو بتایا کہ ہماری قومی ہاکی ٹیم لائیو(Live) اپنا قومی ترانہ گائے گی بس پھر کیا تھا پوری ٹیم نے ایک مشہور لوک گیت ’’ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا‘‘ گا کر میزبانوں کو مطمئن کیا۔ یاد رہے پاکستان کا پہلا قومی ترانہ 1958ء کو بنایا گیا تھا۔ پھر ایسے واقعات کی ایک ایسی لڑی لگ گئی کہ سڑکوں کا جال زمین کی بجائے کاغذوں پر اور ہسپتال اورسکولز بھی ڈرائینگ بنا کر کاغذات کی زینت بنتے رہے اور حکومت سے وصولی کی جاتی رہی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے کسی حکمران کو بھی معاف نہ کیا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کو ایک لمبا عرصہ تک صبح کے جو اخبار پیش کیے جاتے تھے وہ خصوصی طور پر پرنٹ کیے جاتے تھے جن میں بس اچھا کی رپورٹ شائع کی جاتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کو دن دیہاڑے حقائق سے بے خبر رکھا گیا اور اس وجہ سے ایوب حکومت اختتام کو پہنچی۔ جنرل ضیاء کے دور حکومت میں غیرملکی سربراہان حکومت کو پیش کیے جانے والے قیمتی پتھروں سے بنے ظروف دیئے جاتے تھے۔ بعدازاں کچھ لوگوں نے ان ظروف میں منشیات بھر بھر کر صدر کے طیارے میں لے جانا شروع کر دی۔ بعدازاں کراچی ایئرپورٹ پر ایک اتفاقی حادثہ کی وجہ سے یہ راز تب کھلا جب ایک ظروف گر کا ٹوٹ گیا اور اس میں سے سفید پوڈر نیچے بکھر گیا۔ جنرل ضیاء کے ہی دور کا واقعہ ہے کہ صدر ضیاء ترکی کے دورے پر گئے۔صحافیوں کی ٹیم بھی وفد کا حصہ تھی۔ کنعان ایورن کے اس دور میںترکی لبرل ازم کی طرف تیزی سے گامزن تھا۔پاکستانی وفد کو انقرہ میں ترکی کے بانی کمال اتاترک کے مزار پر لے جایا گیا۔ مزار پر پھول چڑھانے کے بعد جنرل ضیاء سمیت تمام لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے اس دوران جنرل ضیاء نے دیکھا کہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی جو کہ جنرل ضیاء کے ساتھ کھڑے تھے نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے جس پر جنرل ضیاء نے کہا کہ نظامی صاحب آپ دعاکیوں مانگ رہے ہیں۔ نظامی صاحب نے جواب دیا میں ایک مسلمان ہوں اور ایک دوسرے مسلمان کی قبر پر کھڑا ہوں ایصال ثواب کے لیے دعا تو مانگنی ہو گی۔ جس پر طوعاًکرھن مجبوراً جنرل ضیاء کو بھی ہاتھ اٹھانا پڑ گئے جو کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے لبرل مائنڈ میزبان یہ دیکھیں۔ ملک میں اسلامی نفاذ کے داعی اور اسلام کے نام پر اقتدار پرقبضہ کرنے والے اس منافق شخص کی یہ دوہری شخصیت تھی جو اپنے ملک میں اسلامی کہلوانا پسند کرتے تھے مگر ملک سے باہر لبرل شوکرتے تھے۔ شو آف کی اس گیم میں میاں نوازشریف بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ 12اکتوبر1999ء کو جب اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا تو جنرل ضیاء الدین بٹ کو چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا اور جب چیف آف دی آرمی سٹاف کے بیج لگانے کا وقت آیا تو راولپنڈی کے ایک بازار سے مصنوعی بیجز خرید کر جنرل بٹ کو لگائے گئے جو بعدازاں کور کمانڈر راولپنڈی نے بڑی بے دردی سے جنرل بٹ کے کاندھوں سے نوچ لیے۔ شاید ان مصنوعی بیجز کی ہی کرامات تھیں کہ یہ ایکشن سرے نہ چڑھ سکا۔ خود جنرل پرویز مشرف بھی اپنے دور حکومت میں ایسی کئی جعلی وارداتوں کے مرتکب ہوئے اور سب سے پہلے نیب زدہ سیاست دانوں کے ایک ٹولے کو اقتدار میں شامل کرکے جعلی جمہوریت کی بنیاد رکھی۔ یہی نہیں ضیائی طرز پر ایک جعلی ریفرنڈم بھی منعقد کیا گیا اور ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ پولیس اسٹیشنوں اور پٹرول پمپوں پر بیلٹ بکس رکھے گئے جو کہ وہاں موجد سٹاف نے دل کھول کر بھر دیئے اور 99% رزلٹ کے ساتھ جنرل مشرف جیت کا بیج سینے پر چمکا کر جمہوری قوتوں کے سینے پر دال پستے رہے۔ آفات کے ان ایام میں اسٹیبلشمنٹ اپنے گھنائونے کھیل سے باز نہیں آئی اور2 کروڑ پاکستانی جب بے گھر ہو گئے، ہزاروں جانیں پانی بہا لے گیا، اربوں کی فصلیں تباہ ہو گئیں تو میانوالی کی سیلاب زدہ سرزمین پر اسٹیبلشمنٹ نے انوکھا کھیل کھیلا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جب غریب غمزدہ عوام کی دادرسی کے لیے تشریف لائے تو اعلیٰ حکام اور مقامی انتظامیہ نے وہاں جعلی ریلیف کیمپ قائم کرکے مانگے کی چارپائیوں پر جعلی مریضوں کو لٹا کر شاید جعلی گلوکوز کی بوتلیں لٹکا دیں اور اسی طرح جعلی ضرورت مندوں کو چیکس تقسیم کروا دیئے۔ جعلی سندوں پر مشتمل اس پارلیمنٹ اور جعلی ڈگریوں کے حامل اسٹیبلشمنٹ سے اس سے زیادہ کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ چند ماہ پہلے گورنر ہائوس کے سبزہ زار پر صدر مملکت کو خراب موسم کا بہانہ بنا کر یا پھر سیکورٹی کی مجبور تھی کہ پاکپتن کے ستلج پل سمیت کئی پاور پلانٹس کے سیٹ لگا کر صدر مملکت سے افتتاح کروایا گیا۔ جب تک ہمارے ملک سے اس جعلسازی کا خاتمہ نہیں ہوگا نہ تو اصل جمہوریت آئے گی اور نہ اصل قیادت۔ اٹھارہ کروڑ عوام کو جو سب سے زیادہ خوبصورتی سے بے وقوف بنا لیتا ہے اقتدار کا ہُما اس کے سرپر بیٹھ جاتا ہے مگر جو قوم جعلی داوائیاں بناتی ہے، جعلی کھادیں بناتی ہے، جعلی خوراک بناتی ہے، جعلی ڈگریاں بناتی ہے، جعلی سیاست دان پیدا کرتی ہے، جعلی خواب بنتی ہے،پولیس جعلی مقابلے کرتی ہے، ہم جعلسازی بُو کر کیا توقع رکھتے ہیں؟ جس ملک میں ہر فرد اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کی لنکا جلانے کی تگ و دو میں ہو جس قوم کے ہر فرد نے ہاتھوں میں پتھر اور جوتے اٹھا رکھے ہوں وہ قوم اپنے نونہالوں کو کیا مستقبل دے سکتی ہے کہ یہاں تو تند نہیں تانی بگڑی ہوئی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus