×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سانحہ نائن الیون کی حقیقت اور اس کے پاکستان پر اثرات
Dated: 11-Sep-2010
سانحہ نائن الیون کو 9سال بیت چکے ہیں مگر اس کے اثرات نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں پہلے دن کی طرح تازہ ہیں۔ بلکہ عالم اسلام پہلے دن سے لے کر آج تک اس عفریت سے باہر نہیں نکل سکا۔ اس سانحہ اور اس کے محرکات پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے،عالمی تحفظات اور تحقیقات ابھی تک جاری ہیں۔ بالی ووڈ سمیت کئی ممالک نے اس موضوع پر فلمیں تک بنا دی ہیں۔ وہ چودہ نوجوان جو اس واقعہ میں مبینہ ملوث قرار دیئے جاتے ہیں ان کی زندگیوں پر بھی فلمیں بن چکی ہیں۔ بالی ووڈ کے پروڈیوسر مائیکل مورنے حقیقت سے قریب تر فلم بنا کر پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ سانحہ نائن الیون کو جب ہم عالمی تناظر میں دیکھتے ہیں تو یہ ہمیں کئی تنازعات سے پردہ اٹھاتا ہوا نظر آتا ہے۔ دراصل یہ سانحہ کسی ایک انٹیلی جنس ادارے کا تخلیق کردہ نہیں، اس میں FBI،CIA،M5،موساد اور را کی بھی تاریں ملتی نظر آتی ہیں یہی وجہ ہے کہ خاص مقصد کے تحت اس کی تفتیش کا رخ اسرائیل کی طرف جانے والے راستوں پر چڑھنے ہی نہیں دیا جا رہاتھا۔ اس سانحہ کے صرف چند گھنٹے بعد جان کنیڈی ایئرپورٹ نیویارک سے اسرائیلی ایئرلائن کا ایک جہاز اس حادثہ کے فوراً بعد اس ڈرامہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے صہیونیوں کو لے کر تل ابیب چلا جاتا ہے جو سانحہ نائن الیون برپا کرنے میں ملوث تھے۔ حالانکہ اس وقت کسی بھی جہاز کے اڑنے پر پابندی تھی اورامریکن فضائی حدود میں ایک کرفیو کا سا سما تھا پھر کس نے اسرائیلی ایئرلائن کے جہاز کو رن وے سے ٹیک آف کی اجازت دی اور یہ سب اس وقت ہوا جب امریکہ کی فضائوں میں اس کے ہزاروں لڑاکا طیارے اڑ رہے تھے اور پوری فضا میں چڑیا کو بھی پر مارنے کی جرأت نہ تھی۔ نائن الیون کے فوری بعد پوری دنیا کو پتہ چل گیا تھا کہ نائن الیون کے روز ٹیون ٹاور میں ایک بھی یہودی نہیں پہنچا۔ اس دن نہ تو یہودیوں کا کوئی تہوار تھا اور نہ ہی کسی قسم کی مقامی چھٹی تھی جبکہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ دس ہزار سے زائد یہودی اپنے کاروباری اور ملازمت کے سلسلہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی اس عمارت میں موجود ہوا کرتے ہیں۔ لوگوں کے ذہن میں آج 9سال بعد بھی بہت سے سوالات کلبلا رہے ہیں۔ جن میں اہم یہ ہیں: -1 امریکی ایئرلائنز کے جدید ترین مسافرطیاروں میں فلائنگ کا رڈ استعمال ہوتا ہے۔ ٹیک آف کے بعد جہاز آٹو طریقے سے اپنا سفر اپنی منزل کی طرف طے کرتا ہے۔ پائلٹ صرف نگرانی کرتا ہے۔ جہاز دوسرے شہر جانے کے بجائے ٹیون ٹاورز میں کیسے جا ٹکرائے۔ -2 بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ جہازوں میں کوئی پائلٹ تھا نہ مسافر۔ یہ ریموٹ کنٹرول جہاز تھے۔ -3 پوری دو عمارتیں حادثے کے بعد زمین بوس ہو گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ بلڈنگوں کی الیکٹرک اور وائرنگ فٹنگ کی مرمت کا ٹھیکہ اسرائیلی کمپنی کے پاس تھا جس نے مرمت کے بہانے اس بلڈنگ کی بنیادوں اور پائپوں کے ذریعے بارود کو نیچے سے اوپر تک بچھا دیا تھا اور پلاننگ کے مطابق جہازوں کے بلڈنگ سے ٹکراتے ہی بارود کو بھی آگ لگا دی گئی تھی۔ سب سے بڑی حیران کن بات یہ ہے کہ ٹیون ٹاور کے ساتھ والی ایک بلڈنگ بھی زمین بوس ہو گئی۔ -4 یہ بھی معجزہ ہے کہ عمارتوں کے زمین بوس ہونے کے بعد جہاں ہزاروں انسانوں کی ہڈیاں تک بھسم ہو گئیں وہاں ہائی جیکروں کی جیبوں سے پاسپورٹ نکل کر باہر جا گرے ہوں؟ اور امریکی انتظامیہ کو ٹیون ٹاور کے اردگرد کئی کلومیٹر تک راکھ کی تہوں سے مل گئے؟ -5 اسی روز ایک اور جہاز پینٹاگون سے جا ٹکرایا۔ پہلی بات تو یہ کہ واشنگٹن ڈی سی سے اڑنے والے جہاز کی اس قدرترچھی پرواز ممکن ہی نہیں کہ پینٹاگون سے جا ٹکرائے اور جب کسی چڑیا کا بھی رخ پینٹاگون کی طرف ہو جائے تو خود کارسسٹم کے تحت پلک جھپکتے ہی اسے ہٹ کیا جا سکتا ہے۔ جب جہاز پینٹاگون کی طرف آ رہا تھا تو کیا خودکارسسٹم بند کردیا گیا تھا؟ یا پینٹاگون انتظامیہ بھی اس ڈرامے کا حصہ تھی جو نائن الیون کو رچایا گیا۔ اسی روز گرنے والا چوتھا جہاز آج بھی معمہ ہے کہ وہ کسی بھی ٹارگٹ سے نہیں ٹکرایا اسے امریکہ کی فضائیہ نے بھی نہیں گرایا۔ پھر وہ خود بخود کیسے گر گیا؟ -6 ٹیون ٹاور میںکام کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ یہ سانحہ 9بجے ہوا جبکہ دفتروں کے اوقات صبح8بجے شروع ہو جاتے ہیں۔ یہودیوں کے سوا امریکیوں سمیت دیگر ممالک کے تعلق رکھنے والے 80ہزار افراد ہر روز موجودہوتے تھے۔ یہ سارے کے سارے مارے گئے امریکہ نے تعداد محض 3ہزار ظاہر کی۔ کیوں؟ اس لیے کہ غیر ملکیوں کو کی جانے والی انشورنس ادائیگیاں کھربوں ڈالر میں بنتی تھیں۔ آج بھی دنیا بھر میں ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیںلیکن امریکن حکومت نے ایک مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ -7 اگر امریکیوں کے ’’فلسفے‘‘ کودرست تسلیم کر لیا جائے کہ جہازوں کو اغوا کرکے ٹرینڈ افراد نے بلڈنگوں سے ٹکرا دیا۔ ویڈیو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاز اڑانے والے انتہائی تجربہ کار اور ماہر تھے۔ جن افراد کا اغواکاروں کے طور پر نام لیا جاتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ کسی فلائنگ کلب سے ون سیٹریا کسی سیسنا طیارے میں تربیت حاصل کر چکے ہوں گے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس جہاز کو سنبھالنا اور سسٹم کو سمجھنا ان کے بس کی بات نہیں ہو سکتی۔ نائن الیون کا وسیع تر تناظر میں جائزہ لیا جائے اور واقعات کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ سانحہ نائن الیون یہودیوں نے اپنے مفادات کے حصول اور عالم اسلام پر ایک جنگ مسلط کرنے کے لیے برپا کیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ بش جونیئر کی صدارت کے دوران یہ سانحہ رونما ہوا۔ بش کی والدہ باربرا بش یہودن تھیں اور یہودیوں کی نسل ماں سے چلتی ہے۔ بش خاندان کا تعلق اس عیسائی فرقہ سے ہے جن کا یہودیت کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔ صدر جارج ڈبلیو بش نے گرجا میں جا کر دعا مانگتے ہوئے کروسیڈ (صلیبی جنگوں)کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ میں اکثریت پروٹسٹنٹ کرسچین کی آباد ہے اور صدارت عموماً پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے ہاتھ رہتی ہے۔ جارج ڈبلیو بش نے ایک طرف عیسائیوں کو جذباتی کرکے کروسیڈ لانے پر آمادہ کیا اور دوسری طرف یہودیوں کی خوشی بھی اس میں تھی کہ مسلمانوں کو تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا جائے۔ امریکہ کی مسلط کی ہوئی نائن الیون کے بعد جنگ سے قبل بھی امریکہ مسلمانوں کی بربادی کا سامان کرتا چلا آ رہا تھا۔ اس نے پہلے عراق کو ایران پر حملے کے لیے آمادہ کیا یوں مسلمان ممالک آپس میں 10سال لڑتے رہے۔ پھر اس نے اسامہ بن لادن کو اربوں کے فنڈز دیئے جب تک اسامہ بن لادن امریکہ کے لیے کام کرتا رہا تو صدام کی طرح امریکہ اسے بھی تھپکی دیتا رہا پھر جب اسامہ اور صدام نے رخ موڑا تو صدام کو پھانسی لگا دی گئی اور اسامہ کی آج بھی تلاش جاری ہے۔ پھر نائن الیون کا الزام اسامہ پر لگا کر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ عراق کو اس جھوٹے الزام میں برباد کردیا گیا کہ اس کے پاس کیمیائی تباہ کن اور مہلک ہتھیار موجود ہیں۔ افغانستان کے لاکھوں انسانوں کو کارپٹ بمباری سے تورابورا بنا دیا گیا۔ ٹیون ٹاور، جہاز کریشنگ،افغانستان اور عراق جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد دس ہزار بھی نہیں بنتی جبکہ صرف عراق میں خود عراقی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق 14لاکھ عراقی شہید کر دیئے گئے اس کے بعد امریکہ کو پتہ چلا کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار موجود ہیں اور نہ ہی صدام کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات تھے اس وقت تک صدام کو پھانسی دی جا چکی تھی۔ افغانستان میں جو مغربی میڈیا کے مطابق 8لاکھ افغانی امریکی وحشت کا شکار ہو کر شہیدہو چکے ہیں۔امریکہ نے عراق کی کویت پر اور روس کی افغانستان پر چڑھائی کو جارحیت قرار دیا اور جبکہ اب وہ خود بھی ایسی ہی عراق اور افغانستان پر جارحیت کا ارتکاب کر چکا ہے۔ نہ صرف افغانستان اور عراق پر جارحیت کا ارتکاب کیا بلکہ پاکستان بھی اس کی جارحیت اور عتاب کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ ڈرون حملوں سے پاکستان کے شمالی علاقوں کو تورا بورا بنا کر نہ صرف پاکستان کی سالمیت کو دائو پر لگا دیا بلکہ پاکستان کی سرحدوں اور وقار کو جس بُرے طریقے سے نقصان پہنچا اس کی تلافی ممکن نہیں۔ پاکستان کے اوپر نائن الیون کے مضر اثرات مرتب ہوئے۔ صدر کلنٹن جنوبی ایشیا کے دور پر آئے تو بھارت میں پانچ دن اور پاکستان میں صرف 9گھنٹے ٹھہرے۔وہ باوردی صدر مشرف سے ہاتھ ملانے پر بھی تیار نہیں تھے پھر جب مشرف نے کولن پاول کے ایک فون پر دی گئی دھمکی کہ ہمارا ساتھ نہ دیا تو پتھر کے دور میں دھکیل دیں گے پرسرنڈر کر دیا تو مشرف کئی سال وردی سمیت مہذب امریکہ کے جمہوری صدر کی آنکھ کا تارا بنے رہے۔ 2001ء میں جب میرے بچے اس وقت امریکی ریاست نیوجرسی کے شہر جرسی سٹی میں رہائش پذیر تھے تو ہمارے گھر کی کھڑکی سے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹاور بالکل صاف دکھائی دیتے تھے۔9\11 کے بعد امریکہ میں موجود جب مسلمانوں کو امریکیوں نے نفرت اور انتقام کا نشانہ بنایا،سینکڑوں مسلمانوں بالخصوص باریش افرادکو قتل کیا گیا، اسی طرح کئی سکھ بھی اپنی داڑھی کی وجہ سے امریکی بربریت کا شکار بنے۔ ہزاروں مسلمان امریکہ سے نقل مکانی کرکے کنیڈا اور دوسرے قریبی ممالک میں شفٹ ہو گئے اور لاکھوں پاکستانی لبرل امریکہ کے منہ پر طمانچہ مار کر اپنے وطن واپس آ گئے تو میں نے بھی اپنے خاندان کو امریکہ سے نکال لیا۔ جنوری 2001ء میں، میں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، امریکن ملٹری ہیڈکوارٹر پینٹاگون اوریواین او کا دورہ کیا۔ اعلیٰ حکام کو پاکستان میں جمہوری اقدار کی پامالی اور آصف علی زرداری کی حبس بے جا اور قیدسے متعلق آگاہ کیا تو اس وقت امریکی اعلیٰ حکام کے دلوں میں صدر مشرف کے لیے ناپسندیدگی کا تاثر پایا جاتا تھا۔ لیکن جب میں 2003ء میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمانی پارٹی کے چیئرمین اور پی پی پی کے سینئر وائس چیئرمین اور موجودہ کامرس منسٹر مخدوم امین فہیم اور 2004ء میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمانی گروپ کے سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف کو محترمہ کے حکم پر امریکی اعلیٰ قیادت سے ملانے میں لے کر گیا تو امریکی حکام کی سوچ میں ایک واضح فرق آ چکا تھا اور امریکی رویوں وہ پہلے جیسی چاشنی موجود نہیں تھی اور جمہوری امریکہ باوردی پاکستانی صدر کو اپنے مفادات کی خاطر اپنے دل سے قبول کر چکا تھا۔ یہ وہی دور تھا جب پیپلز پارٹی کے سینٹر رضا ربانی اور اس وقت کے ایم این اے اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ امریکی ایئرپورٹس پر خصوصی سلوک کیا گیا۔ 2004ء میں جب میں موجودہ وزیر بجلی و پانی راجہ پرویز اشرف کو پاکستان سے امریکہ لے گیا تو ہمارے ساتھ بھی ایئرپورٹس پر خصوصی سلوک کیا گیا۔میں نے اور راجہ پرویز اشرف صاحب اس واقعہ کے کافی دیر بعد اس کے اثرات سے باہر نہ نکل سکے۔ حتیٰ کہ جنرل مشرف کے قریبی ساتھی میجر جنرل راشد قریشی اور دوسرے ساتھیوں کی تلاشی کے لیے پتلونیں تک اتروا دی گئیں۔ پاکستانیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اسی سال پاکستان کا ایک پارلیمانی وفد جو کہ نو سینیٹر اور ممبران قومی اسمبلی جس میں فاٹا کے لوگ شامل تھے کے ساتھ امریکی امیگریشن اور ایئرپورٹس پر تضحیک آمیز سلوک کیا گیا اور حتی کہ ان کو کچھ دیر کے لیے حراست میں بھی لیا گیا۔جن سے ان منتخب ممبران نے سبکی محسوس کی اور امریکن دورہ منسوخ کرکے وطن واپس آ گئے۔ڈلاس میں پاک فوج کے اعلیٰ سطحی وفد کو توہین،تضحیک اور عزت نفس کو مجروح کرنے کے تازہ ترین مرحلے سے گزار کر امریکی حکام نے ثابت کر دیا کہ وہ پاکستانی مسلح افواج جو کہ امریکیوں کی مسلط کی گئی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی کا درجہ رکھتے ہیں اور اس امریکہ کو اپنا ساتھ دینے والوں کی عزت سے بھی کوئی سروکار نہیں۔ امریکہ نے نہ صرف مسلمانوں پر زمین تنگ کی ہوئی ہے بلکہ فضا کو بھی ان کے لیے سکیڑ کر رکھ دیا ہے۔ کبھی کسی کے جوتے اور پینٹ کی بیلٹ سے بارود برآمد کرا دیا اور کبھی پانی کی بوتل کو کیمیائی لیکوڈقرار دلوایا اور کبھی فیصل شہزاد کی گاڑی سے بم برآمد کرا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسافروں کے ساتھ ایئرپورٹس پر ذلت آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔ مسافر جہاز کے اندر شیونگ کا سامان، پانی کی بوتل اور پرفیوم تک نہیں لے جا سکتے۔ پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں کیا ملا؟ مشرف دور میں امریکہ نے پاکستان کو 9ارب ڈالر امداد دی جبکہ پاکستان کا اب تک 50ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ معاشی ترقی خواب بن گئی۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ5جنگیں لڑی ہیں جس میں صرف ایک بریگیڈیئر کی سطح کا افسر شہید ہوا جبکہ امریکہ کی دہشت گردی کی جنگ کا حصہ بن کر پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی شہادتوں کی تعداد پانچوں جنگوں کے شہدا سے زیادہ ہے اور اتحادیوں کی مسلط کی ہوئی اس جنگ میں دو جرنیلوں سمیت متعدد بریگیڈیئر اور کرنل رینک کے افسران جام شہادت نوش فرما چکے ہیں۔ خودکش دھماکوں اور بم حملوں کی صورت میں 10ہزار سے زائد سویلین جاں بحق اور ایک لاکھ سے زائد زخمی ہو کرہمیشہ کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔ گو امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مسلمانوں ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ مل کرلڑ رہا ہے لیکن دراصل یہ تہذیبوں کے درمیان جنگ ہے۔ جس جنگ سے تہذیبوں کے درمیان خلیج بڑھی ہے۔ امریکہ نے اسے کروسیڈ قرار دے کر عیسائی ممالک کو اپنا ہمنوا بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈنمارک،سویڈن، ہالینڈ سمیت یورپ بھرمیں نبی کریمؐ کے کبھی توہین آمیز خاکے شائع کئے جاتے ہیں، کبھی قرآن پاک کو پھاڑنے جیسے اعلانات کی نازیبا جسارت کی جاتی ور کبھی ’’گوگل‘‘ اور ’’فیس بک‘‘ پر عالمی امن اور انسانیت کے ان ٹھیکیداروں کو آزادی اظہار کے نام پر کھلی بے راہروی کی ترغیب دی جاتی ہے۔ جس سے دنیا بھر کے 66مسلمان ممالک میں بسنے والے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرکے اسلام کے نام پر بنیاد پرستی کا دھبہ لگایا جاتا ہے۔ مردِ صحافت اور مجاہد اسلام جناب مجید نظامی اکیلے ہی ناموس رسالت اور اسلام کی عظمت کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ اپنے میڈیا گروپ سے ہنود و یہود و نصار کی سازشوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ انہوں اپنے اخبارات کے قیمتی صفحات نظریۂ پاکستان اور ناموس رسالت کے لیے وقف کر دیئے ہوئے ہیں۔اگر آج بھی عالمِ اسلام متحد ہو جائیں تو مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں اسلام کو مغرب انتہا پسند مذہب قرار دیتا ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے پہلے لکھی گئی کتاب ’’مغرب اسلام اور مفاہمت‘‘ ایک تصنیف کے طور پر ہمارے پاس موجود ہے ہم پاکستانی اس سے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اب طرفہ تماشا یہ کہ اس سال سانحہ 9/11 ٹھیک عیدالفطر کے روز آ رہا ہے باقی دنیا سے ہٹ کر خصوصی طور پر امریکن مسلمان شاید اس روز اس خوشی کے دن کو خالصتاً اسلامی طریقے سے سالیبریٹ نہ کر سکیں کہ ان کے اس اپنے مذہبی تہوار کو منانے سے امریکن عوام کے دل میں مسلمانوں کے لیے چھپی ہوئی نفرت کی چنگاری ایک دفعہ پھر نہ بھڑک اٹھے۔جبکہ دین اسلام تو ویسے ہی ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام رحمتوں کا مذہب قرار پایا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus