×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
رام مندر کا افتتاح۔۔۔۔ربّ! دلاں وچ رہندا
Dated: 30-Jan-2024
بابری مسجد کو گِرا کر شدت پسند ہندوئوں کی طرف سے اسی جگہ پر رام مندر بنا دیا گیا۔یہ رام مندر مکمل ہو چکا ہے۔ اس کی تعمیر،تزئین و آرائش اور تکمیل کا تخمینہ 61ارب روپے لگایا گیا تھا لیکن جس طرح سے ہندو شدت پسندوں کی طرف سے بابری مسجد کی جگہ یہ مندر تعمیر کیا جانا تھا تو اسی نفرت میں مسلمانوں کے ساتھ جس طرح سے شدت پسند ہندو کرتے ہیں انہوں نے 61ارب کی بجائے 1کھرب 18ارب روپے جمع کروا دیئے۔ مودی کی طرف سے چند روزقبل رام مندر کا افتتاح کیا گیا ہے یہ رام مندر کا افتتاح نہیں ہے دراصل یہ فالس فلیگ آپریشن ہے جس طرح مودی کی طرف سے انتخابات جیتنے کے لیے 2019ء میں پلواما میں ایک فالس فلیگ آپریشن کیا گیا تھا اور اس کو جواز بناتے ہوئے پاکستان کے اندر گھس کر بمباری کی گئی۔ اگلے روز 27فروری 2019ء کو پاکستان فضائیہ کے طیاروں نے بھارتی طیاروں کو گھیر کر پاکستان میں لا کر ان میں سے دو کو مار گرایا۔ابھی نندن ہمیشہ کے لیے تاریخ بن گیا جس کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مودی نے اس کو بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کیش کروایا۔ابھی نند ن کو ہیرو قرار دیا اور پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے ہندوئوں کو باور کروایا کہ وہی ان کی ضرورت ہے۔ اس طرح سے 2019ء کے انتخابات مودی کی طرف سے اسی فالس فلیگ آپریشن کے بل بوتے پر جیتے گئے۔آئندہ اگلے ایک دو مہینے میں پھر انتخابات ہونے والے ہیں تو مودی کی طرف سے اسی طرح کے فالس فلیگ آپریشن کیے جا سکتے ہیں۔ شدت پسند ہندوئوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے مودی نے عین انتخابات سے قبل رام مندر کا افتتاح کیا ہے۔کسی بھی مذہب کے لوگ اپنی عبادات گاہیں بناتے رہتے ہیں لیکن جس طرح سے بابری مسجد کو گرایا گیا اور اس کو گرا کر وہاں پر رام مندر تعمیر کیا گیا۔ کہا گیا کہ بادشاہ بابر کے دور میں یہاں پر مندر تھا مندر کو گرا کا مسجد بنائی گئی تھی۔ یہ ممکن ہی نہیں ہو سکتا کہ ہندو اکثریت کا علاقہ ہے، مسلمان بادشاہ ہے جو ہندوئوں اور مسلمانوں کے مابین نفرتیں پھیلانا نہیں چاہتا بلکہ ہم آہنگی چاہتا ہے۔ اس کی طرف سے مندر کی جگہ پر مسجد بنا دی جائے اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو اسی وقت ہندوئوں کی طرف سے کہیں نہ کہیں سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوتا اور کبھی نہ رْکتا۔ لیکن کچھ شدت پسندوں کی طرف سے چند دہائیاں قبل وہاں پر مسجد میں مورتیاں رکھ کر کہا گیا کہ یہ تو رام کی جنم بھومی ہے یہاں پر پہلے مندر ہوا کرتا تھا تو اسی بنا پر شدت پسند ہندوئوں نے پورا زور لگایا اور بابری مسجد کو گرا کر ،سپریم کورٹ سے بھی فیصلہ لے لیا گیا ، سپریم کورٹ کی طرف سے مسجد کی جگہ پر رام مندر بنانے کا فیصلہ آیا اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کچھ ہی فاصلے پر پانچ ایکڑ زمین پر مسجد بنا دی جائے۔ اس طرف بھی آتے ہیں لیکن پہلے مودی کی طرف سے جو کچھ اس حوالے سے کیا گیا اس کا تھوڑا سا سیاسی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مودی جب اقتدا رمیں آئے تو ان کی طرف سے بھارت کو توڑنے کی پہلی اینٹ رکھ دی گئی تھی اور یہ بھارت کو توڑنے کی جس طرح سے مودی نے نفرت مسلمانوں سے ظاہر کرتے ہوئے یہ سارا کچھ کیا ہے یہ ہندوستان کے ٹکڑے کرنے کی آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ ہندوستان کا سیکولر تشخص بالکل ہی ختم ہو گیا یہ ریاست اب شدت پسند ہندو ریاست بن چکی ہے۔ اور مودی کی ایک دو ایسی حرکتوں کی وجہ سے ہندوستان کے سوویت یونین کی طرح ٹکڑے ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ جہاں تک مسجد اور مندر کی تعمیر کا سوال ہے تو کہیں بھی جہاں پر کسی بھی مذہب کے لوگ رہتے ہیں وہ اپنی عبادت گاہیں بنانے میں بالکل آزاد ہیں۔ابھی دیکھ لیں کہ متحدہ عرب امارات وہاں پر بھی ایک مندر تعمیر کیا گیا ہے وہاں پر ہندواکثریت میں نہیں ہیں، مسلمانوں کا ملک ہے وہاں پر مندر تعمیر کرنے کی وجہ یہی ہے کہ ہندو جو زیادہ تعداد میں وہاں پر نوکریاں کرتے ہیں ان کو خوش کیا جائے۔اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکیں۔۔جتنے بھی اخراجات اس مندر پر ہوئے ہیں وہ سارے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب میں بھی ایک ایسا ہی مندر تعمیر کیا گیا ہے۔سعودی عرب ویسے بھی جس طرح سے پہلے وہاں پرکچھ مذہبی سختیاں تھیں اس طرح کی نہیں رہیں۔بلکہ گذشتہ دنوں تو امرتی ایرانی جو بھارت کی منسٹر ہیں انہوں نے وفد کے ساتھ مدینہ منورہ کا دورہ کیا اور مسجد نبویؐ تک بھی وہ چلی گئیں۔جس طرح سے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کیا گیا ہے اس کی قطعی طور پر حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن ہندوئوں کے لیے وہ بہرحال مقدس جگہ ہے اور شدت پسندوں نے جو اس کو نفرت کی علامت بنا دیا ہے لیکن ہر ہندوکے لیے یہ مندر اس طرح سے نفرت میں ڈوبا ہوا نہیں ہے کچھ ہندو واقعی اس کی تعظیم کرتے ہیں اس کو مقدس جانتے ہیں۔ جس کو بھی اس کے افتتاح میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، دنیا بھر سے لوگ وہاں پر گئے۔پاکستان کے کرکٹ دانش کنیریا کو بھی بلایا گیا تھا وہ بھی افتتاح کے موقع پر وہاں پر موجود تھے۔ ان کا مذہب ہندو ہے تو جو لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں وہ میں سمجھتا ہوں کہ بالکل بے جا تنقید ہے۔ دانش کنیریا پاکستان کی کرکٹ میں ایک نام رہا ہے لیکن محمد یوسف کی طرح وہ اپنا مذہب چھوڑ کر مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ویسے اس مندر کے افتتاح کے موقع پر جہاں دنیا بھر سے بڑی بڑی شخصیات آئیں وہیں پر مسلمان بھی وہاں پر دیکھے گئے۔اور جن لوگوں کی طرف سے عطیات دیئے ان میں بھی مسلمان شامل تھے بلکہ زعفران جو دنیا کی سب سے مہنگی خوشبو ہے وہ کشمیریوں کی طرف سے دو کلو اس مندر کو ڈونیٹ کی گئی۔جب بابری مسجد گرائی جا رہی تھی تو دنیا بھر میں اس پر احتجاج ہو رہے تھے۔ پاکستان میں بھی احتجاج ہوئے پاکستان میں احتجاج کا انوکھا طریقہ ہے۔ مسجد وہاں پر گرائی گئی احتجاج یہاں پر ہو رہا ہے۔ بالکل درست ہے لیکن کئی لوگ ان احتجاجوں کے دوران مارے بھی گئے، دکانوں کو آگ لگا دی گئی ،کئی کاروبار تباہ کر دیئے گئے یہ احتجاج کا کوئی انوکھا ہی طریقہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق جہاں پہ مسجد بنانے کے لیے سپریم کورٹ کی طرف سے جگہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اس کی تعمیر کا آغاز مئی میں ہو رہا ہے کہا جا رہا ہے کہ اس کو تاج محل کی طرح خوبصورت بنایا جائے گا اور یہ بھارت کی سب سے بڑی مسجد ہوگی تو یہاں پہ مسلمانوں کو بھی اسی طرح سے فنڈنگ کرنے کی ضرورت ہے جس طرح سے شدت پسند ہندوؤں کی طرف سے رام مندر کے لیے مسلمانوں سے نفرت کی بنا پر کی گئی مسلمانوں نے یہ فنڈنگ کسی نفرت کی بنا پر نہیں بلکہ بہترین عبادت گاہ کے لیے کرنی ہے۔ قارئین! ایک مسلمان ہونے کے ناطے یقینا ہمارے لیے مساجد کا احترام اپنی جان سے بھی زیادہ ہے لیکن وہ ہندو جنہوں نے صرف ایک مندر کی تعمیرکے لیے سوا کھرب روپے جو کہ پاکستانی روپوں میں چار کھرب روپے بنتے ہیں، عطیات کیے ہیں۔اسی طرح پاکستانی ضلع گجرات کے اندر کچھ لوگ جن کا سمندر پار بڑا کاروبار ہے انہوں نے بھی ایک مسجد تعمیر کی ہے جو خوبصورتی کے لحاظ سے قابل دید ہے اور پاکستان کی پہلی مسجد جس پر بیس ارب روپے لگا دیئے گئے ہیں۔یہ اچھی بات ہے مگر انہی پیسوں سے دس یونیورسٹیاں یا کالجز بھی بنائے جا سکتے تھے ۔ بہرحال یہ ہر انسان کے اپنے ویژن کی بات ہوتی ہے ۔پاکستان اور بھارت کو انسانی اقدار، حقوق اور ترقی کے لیے آپس میں مقابلے کا رجحان پیدا کرنا چاہیے اور ہماری منزل اور ٹارگٹ یہ ہونا چاہیے کہ ہم معاشی ،معاشرتی اور اخلاقی طور پر اپنے ہمسایہ بھارت سے ایک صحت مند رجحان رکھنے والا معاشرہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں ، وگرنہ خوبصورت مسجد ،مندر و گُرودوارے اور چرچز بنا کر ہم ایک دوسرے پر مصنوعی سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔بلھے شاہؒ نے کیا خوب کہا تھا: مسجد ڈھا دے مندر ڈھادے ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا اک بندے دا دِل ناں ڈھاویں ربّ! دلاں وچ رہندا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus