×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امریکی مڈٹرم انتخابی نتائج: پاکستانی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی
Dated: 05-Nov-2010
قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی امریکیوں کی پاکستان کی سیاست میں دراندازی شروع ہو چکی تھی۔ کسی بھی منتخب یاآمرانہ حکومت کی اقتدار کی بساط پر رہتا، اس کی امریکی پالیسیوں پر مرہون منت رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1971ء میں اقتدار شکست خوردہ اور باقی ماندہ پاکستان پیپلزپارٹی کے قائد جناب ذوالفقار علی بھٹو کو سونپا گیا تو انہوں نے پاکستان کو جدید خطوط پر چلانا کے لیے سوشلزم ہماری معیشت ہے کا نعرہ بلند کیا اور پاکستانی سیاست کو امریکی چنگل سے نکالنے کا بیڑا اٹھایا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنی سیاست اور پاکستانی طرز سیاست کا رخ موڑا اور عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ جو کہ پاکستان کا جغرافیائی دوست بھی ہے اور ہمسایہ بھی ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ چینی ہم منصب چوائن لائی کے ساتھ ورکنگ فرینڈز شپ قائم کی۔ اسی طرح مائوزے تنگ کے فلسفہ حکمرانی کی تقلید کو بھی جاری رکھا۔ 1974ء میں ملک میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرکے امریکی سامراج کے پائوں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔ اور اسلامی بنک اور تیل کی طاقت کو مستقبل کا سیاسی ہتھیار قرار دیا۔ جس پر 1977ء کے الیکشن کے بعد بھٹوکو سزا دینے کا تہیہ کر لیا گیا اور یہ سب کچھ ڈیموکریٹک جو اس وقت امریکی مسند اقتدار پر تھے کہ دور حکومت میں ہوا۔ایک عام پاکستانی کے ذہن میں آتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی شاید پروڈیموکریسی ہو گی اور وہ پاکستان میں جمہوری روایات کو سپورٹ کرتی ہو گی مگر یہ بات بدقسمتی سے حقیقت ہے کہ جب بھی پاکستان میں اقتدار کی بساط لپیٹی گئی ڈیموکریٹک پارٹی ہی اس وقت اقتدار کے مسند پر براجمان تھی۔ جبکہ 1988ء میں ضیاء الحق کے طیارہ ہلاکت،1990ء محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پہلی مرتبہ وزارت عظمیٰ کی حکومتیں ری پبلکن دور حکومت میں توڑ ی گئیں۔ اور 1992ء میں میاں نوازشریف کی حکومت بھی اسی دور میں ختم کی گئی۔ یعنی 4سا ل کے مختصر عرصہ میں تین حکومتوں کو چلتا کیا گیا یہ دور جارج بش سینئر کا تھا۔ جبکہ 1993ء سے لے کر 2000ء تک ڈیموکریٹک صدر کلنٹن کے آٹھ سالہ دور حکومت میں پاکستان کے دو منتخب وزرائے اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نوازشریف کی حکومتوں کے جانے کا سامان پیدا کیا گیا جبکہ ری پبلکن دور میں پاکستان کے دو بڑے مارشل لائوں کو طویل عرصہ تک اقتدار پر آمروں کو بٹھایا گیا۔ 1977ء سے 1988ء تک پھر 1997سے 2008ء تک بش جونیئر کے دور حکومت میں علاقائی و جغرافیائی اہمیت کی بناء پر پاکستان میں آمرانہ مشرف حکومت کو تقویت بخشی گئی۔ اس دور میں نائن الیون سمیت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے واقعات رونما ہوئے۔ اسی طرح امریکہ کسی نہ کسی صورت میں پاکستان کی سیاست پر حاوی اور اثرانداز رہا۔ امریکی قیام کے بعد سے لے کر 228سال تک کسی کالے یا رنگ دار کو امریکی صدر تو کیا کسی ریاست کا گورنر بھی منتخب نہ کیا گیا تھا۔ 2008ء میں بش حکومت اور ری پبلکن سے جب امریکی عوام اُکتا چکے تھے پہلی مرتبہ ایک سیاہ فام امریکی جو نسلاً کینیا افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں کو ڈیموکریٹک نے امیدوار نامزد کیا جنہوں نے ایک بڑے مارجن سے الیکشن جیتا مگر صرف دو سال کے عرصہ میں ہی صدر بارک حسین اوباما کی مقبولیت کا گراف بالکل اسی طرح نیچے آیا جس طرح غیرملکی سروے کے مطابق پاکستانی صدر مملکت آصف علی زرداری کو سامنا ہے۔ گذشتہ روز ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صدر بارک اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی کو کانگریس کے لیے ہونے والے الیکشن میں بدترین ہزیمت اٹھانا پڑی۔ کانگریس کی خالی ہونے والی435 سیٹوںمیں سے ری پبلکن نے 239 اور ڈیموکریٹک نے 184سیٹیں حاصل کیں جبکہ سینٹ ری پبلکن نے 46سیٹیں حاصل کر لی جبکہ ڈیموکریٹک نے سینٹ میں51سیٹیں حاصل کیں اسی طرح گورنر کے الیکشن میں بھی ڈیموکریٹک نے10نشستیں کھو دی ہیں۔ اس الیکشن کے نتائج یقینا پاکستان کی سیاست پر ضرور اس لیے اثرانداز ہوں گے کہ ڈیموکریٹک وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن اور صدر بارک اوباما اپنی پالیسیوں کی تکمیل کے لیے پاکستان میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی کی پالیسی کی طرز پر پاکستان میں چلنے والی جمہوریت کو سپورٹ کر رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اگر کبھی پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی کی بات ہوئی تو پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی جو ملتان سے تعلق رکھنے کی بناء پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے قریبی حریف بھی ہیں کو امریکی ڈیموکریٹک کی آشیر باد حاصل ہے جس کو وہ کسی مناسب وقت پر کیش کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن غیرمتوقع طور پر حالیہ وسط مدتی الیکشن میں ڈیموکریٹک کی بدترین شکست اور کانگریس میں اقتدار کھونے کے بعد ڈیموکریٹک صدر بارک اوباما اور وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کے لیے اب تقریباًناممکن ہو کر رہ گیا ہے کہ وہ خطے کے انتہائی اہم ملک پاکستان کے متعلق اکیلے فیصلہ کر سکیں؟ پچھلے دنوں جب پاکستان ہی کی اعلیٰ عدالتوں میں این آر او کے متعلق سماعت جاری تھی امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان کی موجودہ حکومت کو جمہوری قرار دے کر اس کی مورلی سپورٹ مہیا کی گئی اور عدالت میں جاری کیسوں کی سماعت پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلہ میں فیصلے سے صرف ایک روز قبل بارک اوباما کا بیان پاکستان کے سیاسی پنڈتوںکے لیے غیرمتوقع تھا۔ حالیہ وسط مدتی انتخابات میں امریکی ڈیموکریٹک کی شکست کے بعد پاکستان میں اقتدار پر براجمان طبقے کو یقینا بڑی مایوسی ہوئی ہے کیونکہ امریکہ میں کیے جانے والے تمام فیصلے امریکی کانگریس سے منظوری سے مشروط ہوتے ہیں، گذشتہ دنوں جب پاکستان سے ایک بھری بھرکم وفد امریکہ میں اسٹریجک ڈائیلاگ کے لیے گیا تو آئندہ پانچ سالوں کے لیے وہ صرف 2بلین ڈالرکی امداد کا وعدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔جو اب پورا ہوتا ہوا اس لیے نظر نہیں آتا کہ ڈیموکریٹک کی پارلیمنٹ میں شکست کے بعد ری پبلکن کی اکثریت اس معاہدے سمیت دیگر معاہدوں کی کبھی منظوری نہ دے گی۔ جہاں اب ری پبلکن بھاری اکثریت میں کامیاب ہو کر بیٹھ چکے ہیں۔ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن کی جیت سے امریکہ کی اکنانومی کو جہاں پائوں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے گا وہیں بین الاقوامی برادری میں پاکستان سمیت تمام ممالک کو جن کا امریکی معیشت سے براہ راست واسطہ ہے میں تبدیلیوں کی توقع کی جا سکتی ہے اور ایسی طاقتوں کو یا سیاسی پارٹیوں کے اقتدار میں آنے کے راستے ہموار ہوئے ہیں جو مارکیٹ اکنانومی پر یقین رکھتی ہیں۔ ری پبلکن جو کہ ہارڈ لائنر مشہور ہیں پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ اب زیادہ شدت سے کریں گے اور پاکستانی طرز سیاست کی چکنی چپڑی باتوں پر اکتفا نہ کریں گے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی اور صدر بارک اوباما کے لیے پاکستان سمیت خطے کی پالیسیوں پر اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق عمل کرنا مشکل ہو جائے گا جس سے پاکستان میں پیپلزپارٹی اور اتحادیوں کی حکومت کے لیے مشکلات کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے جس میں پاکستان کی جمہوری حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔امریکی مڈٹرم الیکشن کے نتائج کے بعدپاکستان میں بھی مڈٹرم الیکشن کی گونج کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus