×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سپین نے آٹھ لاکھ غیرقانونی امیگرنٹس کے لیے دروازے کھول دیئے
Dated: 03-Feb-2026
ایک اچھی خبر — خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو سپین، یورپ یا یورپ کے کسی بھی ملک میں مقیم ہیں۔یہ ان کے لیے واقعی ایک خوش آئند خبر ہے۔ سپین کی حکومت نے امیگریشن پالیسی کو کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوئی، جہاں مجموعی طور پر 710 ووٹوں میں سے 310 ووٹ اس فیصلے کے حق میں پڑے، جبکہ باقی اراکین یا تو غیر حاضر رہے یا انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ سوشلسٹ پارٹی کی حکومت، جس کی قیادت وزیرِاعظم پیڈرو سانچز کر رہے ہیں، نے یہ مرحلہ نسبتاً آسانی سے طے کر لیا۔ انہیں اپنی کولیشن جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ پیڈرو سانچز 2 جون 2018 سے سپین کے وزیرِاعظم ہیں اور ان کی جماعت PSOE (سوشلسٹ پارٹی) ہے۔سپین کے وزیرِ خارجہ، خوزے مانوئل الباریس، نے بھی اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اب یہ موقع ہے کہ دنیا کے ان نوجوانوں کو، جو دربدر بھٹک رہے ہیں، ایک راستہ دیا جائے تاکہ وہ سپین آ کر کام کریں، یہاں رہیں، اپنی قسمت سنواریں، اور اس ملک کو اپنا سمجھتے ہوئے اس کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ اسی طرح سپین کی امیگریشن اور سوشل سکیورٹی کی وزیر، ایلما سائز، نے واضح کیا کہ اس نئی پالیسی کا مقصد ان لوگوں کے لیے قانونی راستے کھولنا ہے جو اس وقت غیر قانونی طور پر سپین میں مقیم ہیں۔ ایسے افراد نہ تو قانونی طور پر کام کر پا رہے ہیں اور نہ ہی ملک کی ترقی میں مکمل اور مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں نہ وہ ہماری مدد کر پا رہے ہیں اور نہ ہم ان کی۔کسی بھی ملک میں رہنے کے لیے اس کے قوانین، رسم و رواج، زبان، ثقافت اور عوام کو سمجھنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ جہاں آپ رہتے ہیں، وہاں کے لوگوں کو جاننا اور ان کے ساتھ گھلنا ملنا لازم ہے۔ آپ وہاں ایک مہمان ہوتے ہیں، اور مہمان اسی وقت گھر کا فرد بنتا ہے جب وہ گھر میں رہنے والوں کے ساتھ اس انداز سے رہے کہ وہ اسے اپنا سمجھنے لگیں۔ قارئین! جیسا کہ آپ جانتے ہیں، میں گزشتہ 43 برس قبل تعلیم کے لیے یورپ گیا، وہیں سیٹل ہوا، اور اب دنیا بھر میں جہاں دل چاہے سفر کرتا ہوں۔ میں شاید ان چند پاکستانیوں میں شامل ہوں جنہوں نے دنیا کے 131 سے زائد ممالک دیکھے، وہاں رہا، ان کا کھایا پیا، اور ان کے رسم و رواج اور ثقافت کو قریب سے سمجھا۔یورپ میں قیام کے دوران میں نے اپنی استطاعت کے مطابق بے شمار لوگوں کو قانونی طور پر سیٹل ہونے میں مدد فراہم کی۔ زندگی میں جب بھی کوئی مشکل وقت آتا ہے — اور آتا ہے، آخر انسان ہوں — تو یقین کیجیے کہ ان درجنوں خاندانوں کی دعائیں میرے ساتھ ہوتی ہیں جن کی میں نے مدد کی۔اسی تناظر میں میں خاص طور پر عابد فاروق وڑائچ کا ذکر کرنا چاہوں گا، جو گزشتہ دو سے تین دہائیوں سے سپین میں مقیم ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے اس ملک کی زبان سیکھی اور اس پر عبور حاصل کیا، وہاں تعلیم حاصل کی، اور بعد ازاں بارسلونا سمیت مختلف شہروں میں حکومتی سطح پر ایڈوائزری خدمات انجام دیتے رہے، خصوصاً انڈین، پاکستانی اور پنجابی زبان بولنے والی کمیونٹی کے مسائل کے حوالے سے۔آج ایک اندازے کے مطابق سپین میں انڈین، پاکستانی اور بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اتنی بڑی کمیونٹی کی موجودگی میں ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے، اور عابد فاروق وڑائچ نے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔ انہوں نے مقامی حکومتوں کی رہنمائی بھی کی۔آج وہ ایک کامیاب بزنس مین ہیں۔ انہوں نے ہوٹل مینجمنٹ کے شعبے کو اپنایا، اور ان کے ریسٹورنٹس اور کیفے نہایت کامیاب ہیں، جہاں مقامی سپینش اور یورپی باشندے شوق سے آتے ہیں۔عابد فاروق وڑائچ ایک کامیاب کاروباری شخصیت، ایک مثالی شہری اور ایک ذمہ دار انسان ہیں۔ وہ اس معاشرے میں اس طرح رچ بس گئے ہیں کہ سپینش عوام کے لیے وہ بوجھ نہیں بلکہ فخر کی علامت ہیں۔ہمیں بھی، بطور پاکستانی، یہی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم جس ملک میں رہیں، اس کی ثقافت اور ماحول کا احترام کرتے ہوئے ترقی کریں، اور اپنے وطن کے لوگوں کے لیے ایک اچھی مثال اور رہنمائی بنیں۔ جہاں تک سپین کا تعلق ہے، تو یہ ایک آئینی بادشاہت ہے۔ یہاں کی شاہی روایت 1700 عیسوی سے چلی آ رہی ہے۔ موجودہ بادشاہ کنگ فلپ ششم ہیں۔ وہ غیر ضروری طور پر حکومتی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور جمہوری نظام کا احترام کرتے ہیں۔ وہ اپنے عوام کے مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔سپین کی معیشت مضبوط ہے۔ اس کی جی ڈی پی تقریباً 1.87 ٹریلین ڈالر ہے۔ ایک عام شہری کی ماہانہ آمدن 1700 سے 2200 یورو تک ہوتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 8 لاکھ روپے کے برابر بنتی ہے۔اگر آپ کے پاس پیپرز نہیں ہیں تو بھی آپ باآسانی 1500 یورو تک کما سکتے ہیں۔ میں یہاں ایگزیکٹو جابز کی بات نہیں کر رہا، بلکہ ان عام نوکریوں کی بات کر رہا ہوں جو اسکول اور کالج کی سطح تک تعلیم رکھنے والے لوگ کرتے ہیں۔ اگر آپ آئی ٹی میں مہارت رکھتے ہیں یا اسکلڈ لیبر ہیں تو اتنی آمدن ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ سپین کی کل آبادی اب تقریباً پانچ کروڑ کے قریب ہو چکی ہے۔ یاد رکھیں، حکومت کا اندازہ ہے کہ تقریباً آٹھ لاکھ نئے تارکینِ وطن کو امیگریشن دی جائے گی۔ اگر آپ یہاں مستقل طور پر رہیں گے تو آپ پاسپورٹ حاصل کرنے کے بھی حق دار بن سکتے ہیں۔سپین کے بڑے شہروں میں بارسلونا، میڈرڈ، ویلنسیا اور لاس پالماس شامل ہیں۔ عرب ممالک میں عموماً مقامی آبادی بیس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی جبکہ اسی فیصد غیر ملکی ہوتے ہیں۔ یورپ میں بھی تقریباً پندرہ سے بیس فیصد آبادی غیر ملکیوں پر مشتمل ہے اور باقی مقامی ہوتی ہے۔لیکن سپین ایک منفرد مثال ہے جہاں تقریباً نوے فیصد آبادی مقامی سپینش لوگوں پر مشتمل ہے اور صرف دس فیصد غیر ملکی ہیں، جن میں پاکستانی، انڈین، بنگلہ دیشی، افریقی، امریکی اور جنوبی امریکہ سے آنے والے افراد شامل ہیں۔سپین کا سب سے امیر اور معاشی طور پر مضبوط ترین شہر میڈرڈ ہے۔ ایک سروے کے مطابق سپینش عوام کی اوسط عمر 86.7 سال ہے، جبکہ پاکستان میں یہ اوسط عمر تقریباً 62 سال ہے۔ اگر سپین کو درپیش مسائل پر نظر ڈالیں تو:معاشی مسائل: 21 فیصد،سیاسی مسائل: 19.1 فیصد،امیگریشن سے متعلق مسائل: 16.3 فیصد، کرپشن: 16.2 فیصد،امیگریشن پالیسی کا باقاعدہ آغاز 27 جنوری 2026 (منگل) کو وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ہوا۔ اس سے قبل پارلیمنٹ میں ووٹنگ مکمل ہو چکی تھی۔ اودیوموس پارٹی اور ریگولرائزیشن پارٹی کے درمیان معاہدہ طے پایا، اور 301 ووٹوں کی اکثریت سے یہ فیصلہ منظور کیا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ امیگریشن ملے گی کیسے؟اس کے لیے شرط یہ ہے کہ آپ 31 دسمبر 2025 تک کم از کم پانچ ماہ سپین میں مقیم رہے ہوں یا پہلے رہ چکے ہوں۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ اس وقت سپین میں ہوں؛ اگر آپ جرمنی، پرتگال، آسٹریا یا نیدرلینڈز میں ہیں لیکن پہلے سپین میں رہے ہیں تو بھی آپ اہل ہو سکتے ہیں۔اس دوران آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ سپین میں موجود رہے۔ مثال کے طور پر:کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کا ریکارڈ یا میڈیکل سرٹیفکیٹ،کسی حادثے، شکایت یا گرفتاری کا ریکارڈ،کسی ہوٹل، فیکٹری، کیفے یا گروسری اسٹور میں کام کرنے کا ثبوت،اگر آپ نے غیر قانونی طور پر کام کیا ہو تو وہاں کا مالک یہ لکھ کر دے سکتا ہے کہ آپ اس کے پاس پانچ یا چھ ماہ کام کرتے رہے، مگر آپ کے کاغذات گم ہو گئے تھے۔ بڑے ریسٹورنٹس، بزنس مین، زمینوں کے مالکان اور تعمیراتی کمپنیوں کے پاس اس طرح کے سرٹیفکیٹس جاری کرنے کی گنجائش موجود ہے۔کاغذات تیار کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ دستاویزات جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 جون ہے۔وہ پاکستانی جو اس وقت یورپ میں موجود ہیں، یا سپین میں پانچ ماہ سے زیادہ رہ چکے ہیں، یا جنہوں نے پہلے پیپرز کے لیے اپلائی کیا مگر منظور نہ ہو سکے، وہ اس اسکیم کے تحت دوبارہ اپلائی کر سکتے ہیں۔پاکستان سے آپ کو دیگر دستاویزات کے ساتھ کسی بھی ضلع کا کریکٹر سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔ یہ یورپی یونین کی لازمی شرط ہے، کیونکہ وہ کسی بھی کریمنل کو امیگریشن دینے کے لیے تیار نہیں۔ سپین کے وزیرِاعظم واقعی ایک اصولی اور جرات مند رہنما ہیں۔ غزہ کے معاملے پر انہوں نے جس جرات اور اخلاقی موقف کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ پاکستان سے اگرچہ ایک سینیٹر مشتاق صاحب گئے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں عوامی سطح پر وہ ردعمل سامنے نہیں آیا جو آنا چاہیے تھا۔ اس کے برعکس سپین نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا، اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کی، اور عملی طور پر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہوا۔میں ہی نہیں، بلکہ پاکستان کے کروڑوں عوام سپین کے وزیرِاعظم کے اس مؤقف کے گرویدہ ہو گئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان کا اس میں کیا کردار ہونا چاہیے؟ہم دنیا بھر میں چند ہزار افراد کو سیٹل کروانے کے لیے ملکوں سے معاہدے کرتے ہیں، ان کی شرائط مانتے ہیں اور اپنے مفادات کو پیچھے رکھتے ہیں۔ لیکن سپین نے ایسی کوئی شرط یا ڈیمانڈ نہیں رکھی۔ اگر کوئی شخص قانونی تقاضے پورے کرتا ہے تو اسے امیگریشن دی جائے گی، چاہے وہ انڈین ہو یا پاکستانی۔اب حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ جن لوگوں کے شناختی کارڈ یا پاسپورٹ گم ہو چکے ہیں، ان کے سفارت خانے فوری طور پر مدد کریں۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی نگرانی ضروری ہے کہ کوئی غیر پاکستانی (خصوصاً افغانی) اس عمل کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔اگر ہم سپین جیسے یورپ کے مضبوط ملک میں اپنے لوگوں کی بڑی تعداد کو قانونی طور پر سیٹل کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آنے والے چند برسوں میں پاکستان کی معیشت پر اس کے انتہائی مثبت اور گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ میری حکومتِ پاکستان سے گزارش ہے کہ جن پاکستانیوں کو کریکٹر سرٹیفکیٹ درکار ہے، انہیں بلا تاخیر فراہم کیا جائے۔خدارا ملک کے لیے سوچیں، قوم کے لیے سوچیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے گا۔(میرا سپین اور یورپ کے دیگر ممالک میں ان اوورسیز پاکستانیوں کو مشورہ ہے جن کے پاس ابھی لیگل پیپرز نہیں ہیں کہ وہ اس سکیم سے حتی الوسع فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اور میرے تجزیے کے مطابق یورپ نے کافی عرصے سے امیگریشن بند کر دی ہوئی تھی۔اور سپین نے یورپ کے دیگر ممالک کے ساتھ تقریباً پھڈا ڈال کر اس امیگریشن کو کھولنے کا اعلان کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یورپ میں تارکین وطن اور خصوصا پاکستانیوں کے لیے پھر ایسا سنہری موقع شاید ہی آئے۔اس لیے بڑے تحمل اورفراست سے کام لیتے ہوئے ایجنٹ مافیا کی کارستانیوں سے محفوظ رہیں اور کسی قسم کے جعلی ڈاکومنٹس تیار کرنے سے اجتناب کریں۔یورپ میں بسنے والے ہمارے تارکین وطن پاکستانی عابد فاروق وڑائچ اور دیگر ایسے کمیونٹی کے سرکردہ لوگوں سے جن کو یورپ میں رہتے ہوئے ایک مدت ہو چکی ہے۔ ان سے مشاورت ضرور کریں۔ میری اطلاع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کا خاندان اور خصوصاً چوہدری مونس الٰہی بھی ان دنوں سپین میں جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیںیقینا ایسے سرکردہ لوگوں کو اوورسیز پاکستانیوں کی اس مد میں رہنمائی ضرور کرنی چاہیے)
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus