×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گوبر ٹیکس ،لاک ڈائون حکومت کا احسن اقدام مگر؟
Dated: 07-Apr-2026
قارئین! جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت پورا مشرقِ وسطیٰ، گلف اور میڈل ایسٹ خطہ ایک شدید جنگی ماحول کی لپیٹ میں ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب، جہاں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، اس کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان سمیت گلف کی ریاستوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ کے قریب اوورسیز پاکستانی اپنی محنت، ہنر اور کاروباری صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف اپنی زندگیوں کو سنوار رہے ہیں بلکہ وطنِ عزیز کی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجا جانے والا زرمبادلہ پاکستان کی معیشت کا ستون ہے، جو مجموعی زرِ مبادلہ کا تقریباً 63 فیصد بنتا ہے۔ ایسے میں اگر اس خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ان ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ براہِ راست پاکستان کی معیشت اور یہاں بسنے والے کروڑوں افراد کی زندگیوں پر بھی پڑتے ہیں۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ پرانے لوگ سچ کہتے ہیں کہ ’’گندم کے ساتھ گیہوں بھی پس جاتا ہے۔‘‘یعنی جب بڑے طاقتور ممالک کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے تو اس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس وقت بھی یہی ہو رہا ہے۔ جنگ ان طاقتوں کے درمیان ہے، مگر اس کی قیمت وہ محنت کش ادا کر رہے ہیں جو اس خطے میں روزی روٹی کی تلاش میں آئے تھے۔یہاں موجود ایئربیسز، ہوائی اڈے اور فوجی تنصیبات اس خطے کو مزید حساس بنا دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ’’ڈگّا کھوتے تو غصہ کمہار تے۔‘‘اصل تنازعہ کہیں اور ہے مگر اس کا غصہ ان بے گناہ غیر ملکیوں پر نکل رہا ہے جو نہ تو اس جنگ کا حصہ ہیں اور نہ ہی اس کے ذمہ دار۔ایران اپنے پڑوسی اور برادر اسلامی ممالک پر حملے پہ حملے کر کے دراصل غصہ ان ممالک میں مقیم پاکستان سمیت غیر ملکیوں پر نکال رہا ہے۔ان ممالک کی معیشت بُری طرح سے متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستانی، انڈین، بنگلہ دیشی، سری لنکن اور برما کے شہری۔یعنی تین سے چار کروڑ افراد۔اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کی زندگیاں، ان کے کاروبار اور ان کا مستقبل اس بات سے جڑا ہوا ہے کہ اس خطے میں امن قائم رہے۔ کیونکہ امن ہی وہ بنیاد ہے جس پر روزگار، تجارت اور ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔اگر خدانخواستہ یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو نہ صرف ان افراد کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جائے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ اندرونِ ملک کیے جانے والے فیصلے۔چاہے وہ لاک ڈاؤن ہوں یا نئے ٹیکسز۔کیا واقعی عوام کے لیے ریلیف کا باعث بن رہے ہیں یا مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔مزید برآں، اس تمام عالمی کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر گہرے اور دُور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش یا غیر یقینی صورتحال نے تیل کی عالمی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ چند ماہ قبل جو قیمتیں نسبتاً مستحکم تھیں، وہ اب دوگنا سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ جنگ کو ابھی چار دن ہوئے تھے کہ حکومت کی طرف سے 55 روپے فی لیٹر پیٹرولیم کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔اور یہ اس پیٹرول پر اضافہ کیا گیا جو 62 ڈالر فی بیرل کے حساب سے عالمی مارکیٹ سے خریدا گیا تھا۔جبکہ اضافہ 119 ڈالر فی بیرل کے حساب سے حکومت نے کر دیا۔اسی پر بس نہیں کیا بلکہ دو روز قبل پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے مزید فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور ڈیزل کی قیمت 187 روپے لیٹر بڑھا دی گئی۔اس پر شدید ردعمل رد آیا تو وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے 80 روپے فی لیٹر ٹیکس میں کمی کردی۔حکومت واقعی اگر عوام کو ریلیف دینا چاہتی تو پیٹرولیم پر سارے ٹیکس ختم کر کے قیمت 257 روپے پر آسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب توانائی مہنگی ہو گی تو اس کے اثرات ہر شعبے پر پڑیں گے۔ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، حتیٰ کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں کچھ کاروباری عناصر ایسے بھی ہیں جو ہر بحران کو منافع خوری کے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تیل مہنگا ہوا تو فوراً ادویات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، سبزیوں اور اشیائے خوردونوش کو بھی مہنگائی کی لپیٹ میں لے لیا گیا۔ حالانکہ ان میں سے کئی چیزوں کا براہِ راست تعلق تیل سے اتنا فوری نہیں ہوتا، مگر ہمارے معاشرے میں ایک عمومی رویہ بن چکا ہے کہ جیسے ہی کوئی بحران آئے، قیمتیں بڑھانا ’’جائز‘‘ سمجھ لیا جاتا ہے۔یہ تمام صورتحال دراصل ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ ہے شعور کی کمی۔ ایک ایجوکیٹڈ معاشرہ وہ ہوتا ہے جو حالات کا تجزیہ کر کے درست ردعمل دیتا ہے، مگر ہمارے ہاں علمی و سماجی آگاہی کا فقدان اس قدر نمایاں ہے کہ عام شہری شش و پنج کا شکار نظر آتا ہے۔ نہ اسے مکمل معلومات میسر ہیں اور نہ ہی وہ یہ طے کر پاتا ہے کہ اصل مسئلہ کہاں ہے اور ردعمل کیا ہونا چاہیے۔ ایسے میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات ایک مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں میں صفائی، نظم و ضبط اور شہری منصوبہ بندی کو دہائیوں پہلے اپنایا جا چکا ہے۔ اگر آج ہم اس سمت میں قدم بڑھا رہے ہیں تو اسے سراہا جانا چاہیے، چاہے یہ اقدام تاخیر سے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔گزشتہ ادوار میں غیر قانونی تعمیرات، پارکوں اور سڑکوں پر تجاوزات، حتیٰ کہ عبادت گاہوں کا بے ہنگم قیام۔یہ سب ایک معمول بنتا چلا گیا۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی یہ مناظر دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ کس طرح عوامی مقامات کو ذاتی استعمال میں لے لیا گیا ہے۔ جی ٹی روڈ پر لاہور سے اسلام آباد تک سفر کریں تو درجنوں ایسی مساجد اور ڈھانچے نظر آتے ہیں جو سڑک کی حدود میں آ چکے ہیں، جو نہ صرف ٹریفک کے مسائل پیدا کرتے ہیں بلکہ شہری نظم و ضبط کی بھی نفی کرتے ہیں۔موجودہ حکومت نے کم از کم اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کا آغاز کیا ہے اور پنجاب کو تجاوزات سے پاک کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ذاتی طور پر اگر بات کی جائے تو میرے قصبہ میترانوالی میں جاری آپریشن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے ایک مثبت قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ شہری حدود میں مویشی رکھنے جیسے مسائل پر بھی واضح اور سخت پالیسی اپنائی جائے، کیونکہ یہ نہ صرف صفائی کے مسائل کو جنم دیتا ہے بلکہ شہری زندگی کے معیار کو بھی متاثر کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اصلاحات کا عمل ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، مگر اگر نیت درست ہو اور تسلسل قائم رکھا جائے تو یہی اقدامات ایک بہتر، منظم اور مہذب معاشرے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اگر ہم دنیا کے کسی بھی بڑے میٹروپولیٹن شہر کا جائزہ لیں تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ وہاں شہری نظم و ضبط اور بنیادی سہولیات کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ لاہور، جو اب بیس ملین سے زائد آبادی کے ساتھ ایک عظیم میٹروپولیٹن شہر بن چکا ہے، اس میں بھی شہری اصول و ضوابط کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ ایسے شہر میں گھروں کے اندر بھینسیں، مویشی اور بکریاں رکھنے کی اجازت دینا نہ صرف صفائی کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ شہری زندگی کے معیار کو بھی متاثر کرتا ہے۔سب سے اہم مسئلہ دودھ جیسی بنیادی انسانی ضرورت کا ہے۔ حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ عوام کو خالص دودھ کی فراہمی یقینی بنائے۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف سخت قوانین متعارف کروانے کی ضرورت ہے بلکہ ان پر سختی سے عملدرآمد، بھاری جرمانے اور سزائیں بھی ناگزیر ہیں۔ کیونکہ جس قوم کے بچوں کو خالص دودھ میسر نہ ہو، اس کی آنے والی نسلوں کی صحت اور نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ جب بنیاد ہی کمزور ہو گی تو ایک صحت مند اور ذمہ دار شہری کی تشکیل کیسے ممکن ہو گی؟اگر حکومت خالص دودھ کی فراہمی کو یقینی بنا دے تو شہری خود بخود گھروں میں مویشی رکھنے سے گریز کریں گے۔ ایک بھینس رکھنا محض دودھ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ کئی مسائل جڑے ہوتے ہیں۔گندگی، بدبو، جگہ کی قلت، اور اس کی دیکھ بھال کے لیے اضافی افرادی قوت۔ یہ تمام عوامل شہری زندگی کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر مارکیٹ میں معیاری اور خالص دودھ دستیاب ہو تو عوام ان غیر ضروری مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔ تاہم،’’گوبر ٹیکس‘‘ جیسے اقدامات، اگرچہ نیت کے اعتبار سے شہری صفائی اور نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے ہو سکتے ہیں، مگر ان کی پیشکش اور تشہیر اگر درست انداز میں نہ کی جائے تو یہ الٹا ردعمل پیدا کر سکتے ہیں۔ پنجاب کی ایک بڑی آبادی دیہی علاقوں پر مشتمل ہے، جہاں ایسے اقدامات کو بسا اوقات ایک اضافی بوجھ یا ناجائز ٹیکس کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ نتیجتاً، عوامی ردعمل حکومت کے خلاف جا سکتا ہے، چاہے پالیسی کا مقصد کتنا ہی مثبت کیوں نہ ہو۔یہاں اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں کو متعارف کروانے سے پہلے عوامی شعور، تعلیم اور ذہنی آمادگی کو مدنظر رکھے۔ پاکستان میں ایک بڑی تعداد اب بھی ایسی ہے جو مکمل طور پر تعلیم یافتہ نہیں، اور انہیں کسی بھی نئی پالیسی کو سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔اسی تناظر میں ’’لاک ڈاؤن‘‘ جیسے الفاظ بھی عوام میں خوف اور بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ کورونا وبا کے دوران بھی یہی حکمتِ عملی اپنائی گئی تھی کہ مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے نرم اقدامات کیے جائیں تاکہ افراتفری نہ پھیلے۔ کیونکہ ایسے حالات میں بعض اوقات خوف اور بھگدڑ خود زیادہ نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے لاک ڈاؤن جیسے سخت اقدامات سے گریز کرنا ایک دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اصلاحات کا عمل صرف اقدامات سے نہیں بلکہ ان کی درست حکمتِ عملی، مؤثر ابلاغ اور عوامی اعتماد سے کامیاب ہوتا ہے۔ حکومت کے اچھے اقدامات کو سراہنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ان پر تنقید کرنا۔ اگر نیت درست ہو اور حکمت عملی بہتر بنائی جائے تو یہی پالیسیاں ایک بہتر، صاف ستھرے اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ نوٹ(قارئین!بحیثیت ایک لکھاری میرا مقصد صرف امراض کی تشخیص ہی نہیں بلکہ ان کے سدباب بھی بتانا مقصود ہے۔ ہمارے تاجر ہمارا قومی اثاثہ اور سرمایہ ہیں ،یقینا یہ کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔مجھے پوری دنیا دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے ۔یہ میرا مشغلہ اور ریسرچ نیٹ ورک کا حصہ بھی ہے۔دنیا میں ہر جگہ شاپس ،مارکیٹس اور دفاتر ایک مخصوص ٹائم پر کھلتے اور بند ہوتے ہیں ۔جبکہ پاکستان میں ایک نامعلوم ذرائع سے گھس آنے والے رواج یعنی دکانیں رات کو لیٹ کھولنا اور رات کی شاپنگ یہ میں نے دنیا بھر میں کہیں نہیں دیکھا۔ میں یورپ میں تین عشروں سے زائد رہا ،وہاں مارکیٹیں کھلنے کا وقت صبح 8سے 6بجے شام ہوتا ہے۔ جبکہ ہفتہ کے دن یہ چھ کے بجائے چار بجے تک کھلتی ہیں اور اتوار کے دن کو ریسٹ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔لیکن پاکستان میں الٹی ہی گنگا بہتی ہے پاکستان کے تاجران دنیا بھر کے اس اصول کو اپنانے سے گریزاں ہیں۔اور جب بھی حکومت کوئی ایسا منصوبہ یا ایسے شیڈول کا علا ن کرتی ہے تو انجمن تاجران اور تاجر برداری اس کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو سیاسی بنیادوں پر بلیک میل ہو کر پیچھے ہٹنا پڑ جاتا ہے۔اسی طرح ہر ترقی یافتہ معاشرے میں سال میں دو دفعہ یعنی گرمیوں اور سردیوں میں وقت کو تبدیل کرکے ایک گھنٹہ بعد میں اور گرمیوں میں ایک گھنٹہ پہلے کر لیا جاتا ہے۔جس سے بڑی مقدار میں انرجی اور بجلی کی بچت کی جاتی ہے۔پاکستان میں بھی اس نظام کو جنرل مشرف کے دور میں اپنانے کا اعلان کیا گیا مگر تاجروں کی مذاحمت پر دو ہی سال بعد اسے واپس لے لیا گیا۔حالانکہ اس طریقے سے ترقی یافتہ اقوام اپنی انرجی کا ایک بڑا حصہ محفوظ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو پھر سے یہی طریقہ اپنے کی ضرورت ہے اور ہمارے دکاندار اور تاجر برادری کو بغیرکسی رکاوٹ کے انرجی بچانے والی ان اسکیموں کو سپورٹ کرنا پڑے گا ) معززقارئین ایک بات حتمی اور طے شدہ ہے کہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک نے ترقی کی منازل عوام کی رضامندی اور منشا سے حاصل کی ہے۔اور پاکستان کی عوام کو بھی ملکی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار پیش کرنا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus