×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عقل کل سمجھنے والے ٹرمپ کیا امریکی دانش کے نمائندے ہیں؟
Dated: 22-Apr-2026
امریکا اور ایران کے مابین مستقل جنگ بندی کے لیے تاحال کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا، جس کے باعث عالمی معیشت بدستور دباؤ کا شکار ہے۔ اس کشیدگی کا سب سے اہم پہلو ایران کا افزودہ یورینیم ہے، جس پر دونوں ممالک کے مؤقف واضح اور سخت ہیں، اور یہ صورتحال بھی ڈیڈلاک کا سبب بن رہی ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ وہاں رجیم چینج کرانے کے لیے کیا تھا۔ایران نے عالمی معیشت کی شاہ رگ پر پاؤں رکھتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔اس کے بعد سے امریکہ کا یہ جنگ کے حوالے سے نیا موقف سامنے آیا وہ تھا آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولے گا۔آبنائے ہرمز کا بند ہونا اور کھلنا یہ بھی ایک آنکھ مچولی کی صورت اختیار کر گیا ہے۔امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے سرگرداں تھا یہ اس کا دوسرا مقصد تھا جو جنگ کے بعد سامنے آیا تاہم اس سے قبل یورینیم کا کوئی ذکر نہیں تھا کیونکہ امریکہ دعویٰ کر چکا تھا کہ 2025 کے جون میں ہونے والے حملے میں اس نے ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔اب اس کی طرف سے یہ نیا موقف سامنے آیا جسے مقصد کا درجہ دے دیا گیا کہ یورینیم ہر صورت ایران سے حاصل کر کے امریکہ پہنچائی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ ایران نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں افزودہ یورینیم امریکا منتقل نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان دیا کہ افزودہ یورینیم ایران کے لیے وطن جتنا مقدس ہے اور اسے ملک سے باہر منتقل کرنا کبھی آپشن نہیں رہا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ کے کسی بیان کی دوسرے فریق نے نفی کی ہو؛ اس سے قبل بھی کئی معاملات میں ان کے بیانات کی تردید سامنے آ چکی ہے۔امریکہ کے زیر اثر میڈیا کی جانب سے کہا گیا کہ ایران کی جانب سے ایک تجویز دی گئی تھی کہ 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کے بدلے پابندیاں اٹھائی جائیں، جبکہ ایران نے اپنے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔ ایک طرف معاہدے کی شرائط پر کھینچا تانی جاری ہے تو دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے امریکا پر ناکہ بندی کے نام پر بحری قزاقی کا الزام لگاتے ہوئے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا نظام دوبارہ سخت فوجی کنٹرول میں آ چکا ہے۔ترجمان کے مطابق امریکا کی بار بار خلاف ورزیوں اور سمندری ناکہ بندی کے باعث یہ اقدام اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے پہلے معاہدوں کے تحت محدود تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، مگر امریکا نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس کے بعد اب گزرنے کے لیے ایران کی اجازت لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر 22 اپریل تک مذاکرات کے نتیجے میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع ممکن نہیں ہوگی۔ اس سے قبل ایران نے پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو جنگ بندی کے تحت کھولنے کا اعلان کیا تھا، جس پر عالمی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایرانی لوگ اچھے ہیں، تاہم ان کے جوہری پروگرام کے باعث امریکا کو کارروائی کرنا پڑی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ٹرمپ ایران کے اقدام کی تعریف کر رہے تھے، جبکہ دوسری جانب انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز پر عائد پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔ اس تضاد پر پاسدارانِ انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ٹرمپ مختلف مواقع پر ایران سے معاہدہ قریب ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 21 اپریل کو ختم ہونے والی جنگ بندی کی مدت میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی تیل کی قلت پر قابو پانے کے لیے امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر عائد پابندیوں میں ایک ماہ کی عارضی نرمی کر دی ہے۔ اس رعایت کے تحت وہ تیل شامل ہے جو پہلے ہی آئل ٹینکرز میں لدا ہوا سمندر میں موجود ہے۔ تاہم امریکی وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ اس استثنیٰ میں ایران، کیوبا اور شمالی کوریا شامل نہیں ہیں، اور ایرانی تیل پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔امریکا اس سے قبل بھی روسی تیل پر ایک ماہ کی پابندیوں میں نرمی دے چکا ہے، جو 11 اپریل کو دوبارہ نافذ کر دی گئی تھی۔امریکا اور ایران کے درمیان جاری ڈیڈلاک کو ختم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پاک فوج کے سربراہ سید عاصم منیر مسلسل فریقین سے رابطے میں ہیں، جبکہ دیگر بااثر ممالک کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ کسی بھی طرح امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے، تاکہ نہ صرف دنیا پر چھائے جنگ کے بادل چھٹیں بلکہ عالمی معیشت بھی اس دباؤ سے نکلے جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ فریقین کے درمیان معاہدہ اسی صورت ممکن ہے جب وہ اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا کریں۔ایران، پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث پہلے بھی مذاکرات کے لیے آمادہ تھا اور اب بھی تیار ہے، مگر امریکا کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ عام طور پر ایسے حالات میں مذاکرات سے قبل اعتماد سازی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان میں وفد بھیجنے کا اعلان کیا۔ایڈوانس ٹیم پاکستان پہنچ چکی تھی، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کو اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان آنا تھا۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایران کے لیے ایک ‘‘بہتر ڈیل’’ تیار ہے، اور اگر ایران اس پر متفق نہ ہوا تو اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا جو گزشتہ 40 سال میں کسی امریکی صدر نے نہیں کیا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دی ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ ایران کو ‘‘پتھر کے دور میں دھکیلنے’’ اور ایرانی تہذیب کو مٹانے جیسے بیانات دے چکے ہیں۔ اب جبکہ اسلام آباد میں مذاکرات کی میز ایک بار پھر سجنے والی تھی، عین اسی موقع پر امریکا نے ایک ایرانی جہاز کو قبضے میں لے لیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ نے ایک ایرانی پرچم بردار جہاز کو اپنی تحویل میں لیا، جو آبنائے ہرمز میں قائم امریکی ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔اپنے سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے خلیج عمان میں اس جہاز کو روکنے کی کوشش کی اور واضح وارننگ دی، تاہم ایرانی عملے نے احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد امریکی جہاز نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے انجن والے حصے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ اپنی حرکت جاری نہ رکھ سکا۔ امریکی میرین اہلکار جہاز کو اپنی تحویل میں لے چکے ہیں اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ جہاز پہلے ہی امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل تھا اور اس کا ماضی مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں سے جڑا ہوا تھا۔ اس وقت جہاز پر موجود سامان کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس کی نوعیت اور ممکنہ مقاصد کا تعین کیا جا سکے۔ اس اقدام پر ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایرانی خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جہاز پر فائرنگ اور اسے تحویل میں لینا جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کا جواب دیا جائے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکا نے نہ صرف جارحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ سمندری راہزنی کا بھی ارتکاب کیا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جنگیں کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوں، بالآخر معاملات مذاکرات کی میز پر ہی طے ہوتے ہیں۔ تاہم بندوق کی نوک پر ہونے والے مذاکرات نہ تو دیرپا ہوتے ہیں اور نہ ہی کامیاب۔ اس تناظر میں امریکا کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بلاشبہ امریکا کی نمائندگی کر رہے ہیں، مگر ان کا طرزِ بیان اور طرزِ عمل ہمیشہ امریکی دانش کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ وہ اکثر خود کو برتر اور باقی دنیا کو کم تر سمجھنے کا تاثر دیتے ہیں، حتیٰ کہ ماضی کے امریکی صدور کی پالیسیوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus