×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گلگت بلتستان حیران کن انتخابی نتائج
Dated: 09-Jun-2026
گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج نے بہت سے حلقوں کو حیران، کچھ کو پریشان اور کچھ کو بے جان کر کے رکھ دیا ہے۔ آدھی رات کو شائع ہونے والے اخبارات میں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی 11، نون لیگ 6 اور آزاد امیدوار 5 نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے 12 گھنٹے بعد ٹی وی چینلز پر دوپہر ایک بجے نتائج کے حوالے سے کہا جا رہا تھا کہ پیپلز پارٹی 9، مسلم لیگ نون 3 نشستوں پر کامیاب ہوئی جبکہ 6 آزاد امیدوار جیتے ہیں۔ یہ 19 نشستوں کے نتائج بتائے گئے جبکہ مزید 5 کے نتائج آنا باقی تھے۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری کا بیان چل رہا تھا کہ ہماری کامیابی کو کم کرنے کے لیے نتائج روکے گئے ہیں اور فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ جے یو آئی کے عبدالغفور حیدری نے دھاندلی کا الزام عائد کر دیا۔ تحریک انصاف اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے رات بھر جشن مناتی رہی۔ کشمیر اور گلگت بلتستان میں اب تک روایت رہی ہے کہ مرکز میں جس جماعت کی حکومت ہوتی ہے، وہی ان علاقوں میں بھی کامیاب ہو جایا کرتی ہے۔ مسلم لیگ نون کے حصے میں صرف تین نشستوں کا آنا اس کے لیے کتنا پریشان کن ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ سب سے بڑی انتخابی مہم مسلم لیگ نون کی جانب سے چلائی گئی۔ وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کو الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روک رکھا تھا، تاہم وہاں مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف بھی گئے، بڑی تعداد میں پارٹی کے سینئر رہنما اور چمچماتی گاڑیوں میں وزرائے کرام بھی انتخابی مہم میں سرگرم رہے۔ نون لیگ جس طرح شکست سے دوچار ہوئی ہے، اس نے 2024ء کے انتخابی نتائج پر بھی شکوک کے سائے لہرا دیے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کی 180 سے زیادہ نشستیں تھیں جبکہ نون لیگ کی صرف 17 تھیں، جسے مبالغہ آرائی قرار دیا جا سکتا ہے، البتہ گلگت بلتستان میں تناسب کچھ ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔ میڈیا کو نامکمل نتائج کہاں سے ملے؟ اخبارات نے انہیں وثوق کے ساتھ شائع کیا، جو اگلے 12 گھنٹے بعد بھی درست ثابت ہوتے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے حصے میں 9 نشستیں آنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ وہاں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ حکومت بنانے کے لیے اسے صرف چار نشستوں کی ضرورت ہے اور ان کا انتظام کرنا اس کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہوگا، جبکہ جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو پانچ نشستوں کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔ ادھر آزاد کشمیر کی بات کی جائے تو وہاں 27 جولائی کو انتخابات ہونے ہیں، مگر صورتحال انتہائی مخدوش دکھائی دے رہی ہے۔ آزاد کشمیر میں نیشنل ایکشن کمیٹی، جو احتجاج کے لیے بنائی گئی تھی، نے بجلی کی قیمتیں کم کرانے کے لیے تحریک چلائی تو حکومت نے بجلی کی قیمت تین روپے فی یونٹ مقرر کر دی۔ ان کے دیگر مطالبات بھی تھے، جن میں سے کئی مان لیے گئے جبکہ بعض ابھی زیرِ غور تھے کہ کمیٹی کی جانب سے 9 جون کو ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا۔ ہڑتال میں ابھی کئی دن باقی تھے کہ حکومت نے ان کے ساتھ مذاکرات کیے۔ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہو گیا۔ آغازِ کار میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا، جبکہ گزشتہ روز صورتحال مزید خطرناک ہو گئی۔ میڈیا کے مطابق راولاکوٹ میں ایکشن کمیٹی کے اسلحہ بردار افراد کی فائرنگ سے سیکیورٹی فورسز کے چار اہلکار شہید جبکہ 20 زخمی ہو گئے۔ یہ ایک نہایت بھیانک اور تشویشناک صورتحال ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ بات نہ میں نے کہی ہے اور نہ کسی اور نے، بلکہ اس ملک کے بانی نے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کیے تھے۔ اسی سوچ کے تحت کشمیر کو پاکستان کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس پر ہمارے ازلی حریف بھارت کا قبضہ ہے۔ بھارت نے پہلے دن سے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ ہم جس علاقے کو مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں، بھارت اسے اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ ہمارے زیرِ انتظام کشمیر کو وہ "مقبوضہ" کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس تنازع کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ ہر فریق کشمیر کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے۔ اگر تاریخ کے مختلف موڑ پر کشمیری قیادت اور عوام مختلف فیصلے کرتے تو شاید آج انہیں وہ حالات نہ دیکھنے پڑتے جن کی شکایت کی جاتی ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی کشمیری لاہور یا ملک کے کسی دوسرے حصے میں رہتا ہے تو اسے وہاں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ البتہ اس بارے میں مختلف آرا موجود ہیں کہ کشمیریوں کی سیاسی نمائندگی کو مزید مؤثر اور منظم بنانے کے لیے کیا اقدامات ہونے چاہییں۔ میں ایسے دوستوں سے بھی ملا ہوں جو کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے وسائل سے مستفید ہوتے ہیں اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرتے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے لیے مالی اور سیاسی لحاظ سے ایک بڑا بوجھ بھی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ کشمیر ایک حل طلب تنازع ہے اور اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقصد کے لیے وسائل بھی صرف ہوتے ہیں اور سفارتی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اوقات کچھ عناصر مختلف محرومیوں یا سیاسی تنازعات کو بنیاد بنا کر ایسے راستے اختیار کرتے ہیں جو حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں ایسے تجربات ہو چکے ہیں جن کے نتائج انتہائی تلخ نکلے۔ ان تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ کشمیر میں جہاں مخصوص نشستیں ہیں وہاں بھی اور دیگر تمام نشستوں پر بھی مکمل آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہونے چاہییں۔ وہاں بھی وہی سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں جو پاکستان کے دیگر حصوں میں ہیں؛ مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی۔ جب ووٹر بھی وہی ہیں اور امیدوار بھی انہی جماعتوں سے وابستہ ہیں تو اگر وہ جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں یا احتجاج کرتے ہیں تو ان کی بات سنی جانی چاہیے۔ ریاست اور عوام کے درمیان تعلق میں اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی احتجاج یا ہڑتال کی تاریخ طے ہو چکی ہو تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ مذاکرات اور مفاہمت کے تمام راستے پوری طرح آزمائے جائیں۔ بعض اوقات جلد بازی میں کیے گئے اقدامات حالات کو مزید بگاڑ دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی مضبوط، مدبر اور دوراندیش قیادت ہی کشمیر اور گلگت بلتستان کے مسائل کا پائیدار حل نکال سکتی ہے۔ گلگت بلتستان میں اگر لوگوں کو سیاسی سرگرمیوں، اپنی پسند کی جماعت کی حمایت یا آزادانہ اظہارِ رائے کا مکمل موقع نہ ملے تو ان میں احساسِ محرومی پیدا ہونا فطری امر ہے۔ طاقت کا استعمال ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ قانون شکنی سے نمٹنے کے لیے ریاستی اختیار ضروری ہے، لیکن اختیار استعمال کرتے وقت یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سامنے اپنی ہی قوم کے لوگ ہوتے ہیں؛ اپنے شہری، اپنے سویلین، اپنے سرکاری ملازمین اور اپنے اداروں سے وابستہ افراد۔ ان کے ساتھ دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری جیسا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اس مرتبہ جب میں بچوں کی شادی کے سلسلے میں پاکستان آیا تو میرے پاس نسبتاً زیادہ وقت تھا۔ کچھ ذاتی اور کچھ سیاسی نوعیت کی مصروفیات بھی تھیں۔ اس دوران مجھے یہ احساس ہوا کہ پاکستان کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے کہ آدمی پوری آزادی کے ساتھ گفتگو کر سکے اور اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کر سکے۔ کم از کم میرا ذاتی تاثر یہی تھا کہ ماحول میں ایک طرح کا دباؤ موجود ہے۔ اس فضا میں خود کو مطمئن محسوس کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے اپنی واپسی کی ٹکٹ کی تاریخ تبدیل کروائی اور طے شدہ وقت سے پہلے واپس چلا گیا۔ یہ محض افواہوں کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ آخرکار میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جہاں میں مقیم ہوں، وہاں سے اپنے ناظرین اور قارئین تک زیادہ مؤثر اور بہتر انداز میں اپنی بات پہنچا سکتا ہوں۔پاکستان زندہ باد
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus