×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستان کے لیے عالمی سفارت کاری کے ثمرات
Dated: 24-Jul-2026
پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ متعدد مواقع پر ثالثی کی ذمہ داری بھی نبھائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کوششوں کے بدلے پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سفارت کاری کے میدان میں پاکستان کا تشخص مزید بہتر اور روشن ہوا ہے۔ پاکستان کو بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کے باعث جس طرح دہشت گردی اور عدم استحکام کا سامنا رہا ہے، اس تناظر میں یہ تاثر پیش کیا جاتا ہے کہ دونوں ممالک پاکستان کو مشکلات سے دوچار کرنے کی سازشیں کرتے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارت کاری کے نتیجے میں ان مخالف عناصر کے چہروں کو بھی بے نقاب کرنے میں مدد ملی۔ دنیا کو یہ بھی معلوم ہوا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات یا ثالثی میں کردار ادا کرنے والا پاکستان خود بھی مسئلۂ کشمیر جیسے ایک بڑے تنازع کے حل کے لیے عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی اس سفارتی پیش رفت کے باعث مزید خوشگوار اور مضبوط ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں امید کی جا رہی ہے کہ امریکہ، پاکستان کی قیادت کے ساتھ مسئلۂ کشمیر کے حل کے حوالے سے زیادہ مؤثر انداز میں کردار ادا کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔پاکستان کی عالمی سفارت کاری معاشی میدان میں بھی استحکام کا ذریعہ بنتی نظر آ رہی ہے۔ اسے سفارتی کامیابی کا ہی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے کہ کینیڈا کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کے موقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں، جن کے دوران پاکستان کے مفاد میں کئی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کے تناظر میں پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی فراہم کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ اگر اس کی منظوری مل جاتی ہے تو مالی مشکلات سے دوچار پاکستانی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔یہ درخواست پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئی ہے اور ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار نے اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان نے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان 10 ارب ڈالر مالیت کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کے قیام کی تجویز دی ہے، جس کی مدت پانچ سال تک ہو سکتی ہے۔ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹیز امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے شاذ و نادر ہی فراہم کی جانے والی مالی معاونت ہوتی ہیں، جو عموماً ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ESF) کے ذریعے ڈالر، کرنسی سواپ یا حکومتی ضمانتوں کی صورت میں دی جاتی ہیں، تاکہ متعلقہ ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور اس کی کرنسی کو استحکام حاصل ہو۔اگر اس سہولت کی منظوری دے دی جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا، روپے پر دباؤ کم ہوگا اور ملک کا کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر انحصار بھی کم ہو سکے گا۔ پاکستانی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کی توجہ عالمی سفارت کاری اور امریکہ و ایران کے درمیان ثالثی پر مرکوز ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان کو کئی مسائل کا سامنا ہے اور عوام کو بھی بے شمار مشکلات درپیش ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے حکومت کو اپنی پوری توجہ اسی طرح مبذول رکھنی چاہیے۔وزیراعظم شہباز شریف کے بقول، فیلڈ مارشل اپنی انتھک کوششوں کے ذریعے عالمی سفارت کاری میں کامیابیاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مقام بلند اور نام روشن کر رہے ہیں۔ آج ملک کو جن مسائل کا سامنا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، اور بنیادی سہولیات کی کمی عوام کے لیے سب سے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔حال ہی میں ایک رپورٹ میں دیکھا کہ اندرونِ سندھ ایک ایسے ہسپتال کا انکشاف ہوا جہاں عمارت پر ہسپتال کا بورڈ تک موجود نہیں، لیکن سرکاری ریکارڈ میں وہاں بھرتیوں، خریداریوں اور دیگر اخراجات کی تفصیلات درج ہیں۔اسی طرح مختلف کارروائیوں میں بعض سرکاری افسران اور بااثر افراد کے گھروں سے بڑی مقدار میں نقد رقم، سونا، چاندی اور دیگر قیمتی اشیا برآمد ہونے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ ایسے واقعات اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دوسری جانب عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ دہشت گردی نے بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو شدید متاثر کیا ہے۔ایک طرف پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرات میں گھرا ہوا ہے، تو دوسری طرف مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔عالمی منڈی میں جب خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان میں بھی فوراً پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر دی جاتی ہیں، لیکن جب بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں نمایاں کمی آتی ہے تو اس کا پورا فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہوتا۔ اگر کچھ ریلیف دیا بھی جاتا ہے تو وہ نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتا ہے۔پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن یا بجلی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، زرعی پیداوار، صنعت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ لیکن جب ایندھن کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو بازار میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اسی تناسب سے واپس نہیں آتیں، یوں مہنگائی ایک مستقل بوجھ بن کر عوام کے کندھوں پر برقرار رہتی ہے۔ ایک وقت تھا جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین سالانہ بجٹ کے موقع پر کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں یہ سلسلہ ماہانہ ہوا، پھر پندرہ روزہ بنیادوں پر قیمتیں مقرر ہونے لگیں، اور اب ہفتہ وار نظرثانی کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے۔روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا تصور بظاہر عالمی منڈی سے ہم آہنگی کا تاثر دیتا ہے، لیکن اس کی عملی صورتِ حال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں تو کیا پاکستان میں فوری طور پر اضافہ کر دیا جائے گا، جبکہ پٹرولیم کمپنیوں کے پاس موجود ذخیرہ پہلے ہی کم قیمت پر خریدا گیا ہوگا؟ اس صورت میں کمپنیوں کو اضافی منافع حاصل ہوگا۔دوسری طرف اگر عالمی قیمتوں میں اچانک کمی آ جائے تو کیا کمپنیاں اتنی ہی تیزی سے قیمتیں کم کرنے پر آمادہ ہوں گی، جبکہ ان کے پاس موجود ذخیرہ زیادہ قیمت پر خریدا گیا ہوگا؟ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ اس صورتِ حال میں قیمتوں میں کمی عموماً تاخیر سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرولیم کمپنیوں اور پٹرول پمپ مالکان نے اس مجوزہ نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہڑتال کی دھمکی بھی دی تھی۔گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، اور یہ لگاتار پانچواں اضافہ تھا۔ اس عرصے کے دوران صرف ایک مرتبہ پٹرول کی قیمت میں محض 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس سے عام صارف کو کوئی حقیقی ریلیف محسوس نہ ہو سکا۔حقیقت یہ ہے کہ محض اعلان کر دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ ہر پالیسی کی کامیابی اس کی عملی افادیت، انتظامی صلاحیت اور عوامی قبولیت پر منحصر ہوتی ہے۔ بچت اور کفایت شعاری کی متعدد مہمات بھی اسی لیے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں کہ ان کے نفاذ کے لیے ضروری ماحول، مؤثر نگرانی اور عوامی شمولیت موجود نہیں تھی۔ میرا ذاتی تجربہ بھی یہی کہتا ہے۔ میں ایک عرصے تک پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس دوران حکومتی فیصلوں اور ان کے عملی نتائج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ 1990 کی دہائی میں یورپ کی طرز پر موسم کے مطابق گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے اور پیچھے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح ہفتے کے بعض دن گوشت کی فروخت محدود کرنے جیسے اقدامات بھی زیر غور آئے، لیکن جلد ہی واضح ہو گیا کہ ہر ملک کے اپنے معاشرتی، ثقافتی اور انتظامی حالات ہوتے ہیں۔ کسی دوسرے معاشرے کا کامیاب ماڈل جوں کا توں نقل کرنا ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ عوامی شعور، انتظامی استعداد اور مقامی ضروریات کو نظر انداز کرکے کیے گئے فیصلے اکثر اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اقدامات خاموشی سے ختم ہو گئے اور عوام کی روزمرہ زندگی کا حصہ نہ بن سکے۔اسی تناظر میں عالمی منڈی کے مطابق روزانہ پٹرولیم یا بجلی کی قیمتوں کے تعین کا نظریہ تکنیکی اعتبار سے ممکن ضرور ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس پر مؤثر، شفاف اور منصفانہ عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ جب تک اس نظام میں شفافیت، مؤثر نگرانی، صارفین کے حقوق کا تحفظ اور تمام فریقوں کے لیے یکساں اصول وضع نہیں کیے جاتے، اس کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ پاکستان کی فعال سفارت کاری، علاقائی امن کے لیے کوششیں اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت یقیناً خوش آئند پیش رفت ہیں اور اگر ان کے نتیجے میں ملک کو معاشی اور سفارتی فوائد حاصل ہوتے ہیں تو یہ پوری قوم کے لیے مثبت خبر ہوگی۔ تاہم خارجہ محاذ پر کامیابیوں کا حقیقی ثمر اسی وقت عوام تک پہنچے گا جب اندرونِ ملک مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، کمزور طرزِ حکمرانی اور دہشت گردی جیسے بنیادی مسائل کے حل پر بھی اسی سنجیدگی، عزم اور رفتار کے ساتھ توجہ دی جائے گی۔ مضبوط خارجہ پالیسی اور مستحکم داخلی نظام ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ جب ریاست عالمی سطح پر باوقار اور اندرونِ ملک عوام کے لیے پْرامن، خوشحال اور انصاف پر مبنی ماحول فراہم کرنے میں کامیاب ہوگی، تب ہی پاکستان حقیقی معنوں میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کی منزل کی طرف گامزن ہو سکے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus