×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ناکام خارجہ پالیسی کے اسباب۔ منی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیے
Dated: 05-Dec-2010
کتنے معصوم ہیں ہمارے وطن کے سیاسی و عسکری راہ نما کہ یہ پتہ ہوتے بھی کہ یہود و نصار اور کافرکبھی ہمارے دوست نہیںہو سکتے مگر پھر بھی عقل کااندھا پن انسانی سوچوں پر تاریکی کی پٹی باندھ دیتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ برطانیہ سرکار تیس سال پرانے خفیہ ڈوکومنٹ کو عوام کے لیے اوپن کر دیتے ہیں اور وقتاً فوقتاً امریکہ سرکار بھی اپنے اتحادیوں کے راز فاش کروا دیتا ہے اور یہ چیزیں اب روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ موجودہ دوراور مفادات کی جنگ میں کوئی کسی کا دوست اور مستقل دشمن نہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک امریکہ کی ہر حکومت نے پاکستان کی سیاسی و آمرانہ قیادتوں کو سیاسی ڈاج کیا۔1971ء کی جنگ میں وعدے کے مطابق امریکی بحری بیڑہ آج تک پاکستان کے ساحلوں تک نہ پہنچ سکا۔ جس کے نتیجے میں وطن عزیز اپنے قیام کے صرف 23سال بعد ہی دولخت ہو کر امریکی وعدوں کی منہ بولتی تصویربن کر رہ گیا پھر جب سانحہ نائن الیون رونما ہوا تو آدھی رات کو امریکن قیادت کے ٹیلی فون نے اس دور کے آمر کی باقی ماندہ نیند یہ کہہ کر اڑا دی کہ لکیر کے اس طرف یا اس طرف اور پھر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے خبردار کیا کہ لکیر کے اس طرف کا مطلب ہے سٹون ایج یعنی پتھر کے دور میں پہنچا دیا جانا اور پھر ہمیشہ کی طرح عوامی حمایت سے عاری قیادت کے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا کہ وہ سرخم تسلیم کر لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دن اور آج کا دن ہمیں جوتے پڑتے گئے مگر ہماری تابعداری میں کمی نہ آئی ہم نے کبھی مزاحمت بھی کی تو صرف یہ کہا کہ جوتے تبدیل کرلو کہ یہ پھٹ چکے ہیں۔ فرنٹ لائن اتحادی بن کر ہمارا کم از کم 50ارب ڈالر کا نہ صرف نقصان ہوا بلکہ ہزاروں انسانی جانوں کو امریکہ بہادر کی خواہش کے احترام میںقربان ہونے دیا گیا۔ ہماری معیشت زمین بوس ہو گئی اور ہمارا دوست امریکہ ہمیں لولی پاپ کی صورت میں چند ارب ڈالر دے کر ہمیں بہلاتا رہا اور یہ چند ارب ڈالر بھی اس کی آنکھوں کے سامنے ہماری کرپٹ عسکری و سیاسی قیادت کی جیبوں سے منتقل ہوتا ہوا پھر امریکی و یورپی بینکوں میں پہنچ گیا۔ ہر امریکی سفیر نے وطن عزیز میں اپنے آپ کو کسی وائسرائے سے کم تصورنہ کیا حتیٰ کہ سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن تو پاکستان سے محبت کا پرچار کرتے ہوئے لارنس آف عربیہ کا کردار ادا کرتی رہیں۔ مگر ہماری سیاسی قیادت ہمیشہ کی طرح اس حدیث نبوی کو فراموش کر چکی ہے کہ ’’مومن کبھی ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈسا نہیں جا سکتا ‘‘ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک کی سیاسی اشرافیہ تو اس ڈنگ سے ہمیشہ محفوظ رہیں جبکہ زہر ہمیشہ عوام کی رگوں تک پہنچا۔ وکی لیکس کے حالیہ انکشافات پر ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہماری سیاسی قیادت کی سوچیں کس طرح سطحی قسم کی ہیں اور ہم اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کی خاطر نہ صرف ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے نظر آتے ہیں بلکہ اقتدار کے لالچ نے ہماری آنکھوں کو چکا چوند کر دیا ہے اس ملک کے ایک مذہبی پارٹی کے سیاسی رہنما امریکن ڈپلومیٹس کی منتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ بس مجھے ایک دفعہ وزیراعظم بنوا دو پھر میرا سرخم تسلیم ہے جو مزاج یار میں آئے۔ وکی لیکس نے کئی محب وطن سیاست دانوں کے پول کھول دیئے ہیں جو بظاہر تو وطن عزیز کے ساتھ وفاداری کا ڈھونگ رچاتے ہیں مگر درحقیقت اپنے مفادات کے چنگل سے باہر نہیں نکلتے اور حصول اقتدار کی خاطر کبھی بھی کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں اور جو مسند اقتدار میں ہیں وہ ایوان اقتدار میں سازشوں کا جال بننے میں مشغول ہیں۔وکی لیکس کے اس حمام میں یہ سبھی کردار ننگے اوربونے ہیں۔ یقینا وکی لیکس کے موجودہ انکشافات حادثاتی طور پر سامنے نہیں آئے بلکہ اس کی تشہیر بہت پہلے شروع کر دی گئی تھی پھر حالات یقینا ایسے ہو گئے ہوں گے کہ جن سے ڈیل ہو گئی وہ ’’پوتر‘‘ ٹھہرے اور جن سے ڈیل نہ ہو سکی وہ معتوب؟ اور پھر بگ باس نے نافرمانوں کو سزا دینے کی ٹھان لی۔ وکی لیکس کے ابتدائی انکشافات میں بتایا گیا کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے جوہری یورنیم کو واپس کرنے سے انکار کیا اور ایٹمی ری ایکٹر کا معائنہ کروانے سے بھی انکار کیا۔ یقینا بگ باس کو یہ طرز تخاطب پسند نہ آیا ہوگا اس لیے جنرل کیانی کے متعلق یہ راز فاش کرنے میں دیر نہ کی گئی۔ہمارے ملک کے عوام اتنے بھی بے خبر نہیں کہ جب جنرل پرویز مشرف اقتدار چھوڑ رہے تھے تو ہماری عسکری قیادت اگر چاہتی تو ان کی مرضی کے بغیر صدر آصف علی زرداری کا صدر مملکت بننا اور یوسف رضا گیلانی کا وزیراعظم بننا بھی آسان عمل نہ تھا۔وکی لیکس کے مطابق جنرل پرویز کیانی نے امریکی سفیر سے مارچ2009ء میں ایک ملاقات میں عندیہ ظاہر کیا کہ آصف زرداری کو جلاوطن کر دیا جائے کیونکہ ان دنوں ججوں کی تحریک زوروں پر تھی اور جنرل پرویز کیانی سے یہ فقرہ بھی منسوب کیا گیا کہ آصف علی زرداری اگرچہ کورکمانڈر ز کے زیادہ پسندیدہ نہیں مگر میاں نوازشریف کو فوج بالکل ہی پسند نہیں کرتی۔حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ جب پاک فوج اور آئی ایس آئی کی قوت کو مختلف حیلوں سے کمزور نہ کر سکا تو پاک فوج کی کریڈبیلٹی کو اس نئے وکی لیکس ڈرامے سے ایک دفعہ پھر خراب کرنے کی کوشش کی۔وکی لیکس کے خالق یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس راز کے افشاء ہونے کے بعد نہ صرف ان اداروں کا زبردست ٹکرائو متوقع ہے بلکہ دلوں میں انمنٹ رنجشوں کے نقوش بھی چھوڑے گا۔ پھر وہ کونسا جادوئی نسخہ تھا کہ پندرہ سیٹوں کے مالک جناب اسفند یار ولی کو صدر بنانے کی سوچ کھیل کے کپتان کے ذہن میں آئی؟ وکی لیکس کے درپردہ خالق نے نہ صرف اس سارے پراسس میں پاکستان کی عسکری قیادت بلکہ سیاسی قیادت کو کرپٹ ثابت کرنے کے لیے جو کھچڑی پکائی ہے اس کو دم دینے کے لیے پاکستان کے اتحادیوں اور فرینڈز آف پاکستان کے فلسفے کو بھی غلط ثابت کرنے کی کوشس کی ہے اور متحدہ عرب امارات کے شیوخ اور سعودی عرب کی شاہی قیادت کو بھی اس زہر کے اثر میں ڈبونے کی کوشش کی ہے۔ ابوظہبی کے ولی عہد جو کہ شیخ زاید بن سلطان النہیان مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔وکی لیکس کے مطابق کتنے غیرسنجیدہ طریقے سے اپنے فطرتی اتحادیوں کے خلاف بیک وقت محاذ کھولنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ وہ صدر آصف علی زرداری کو کرپٹ اور میاں نوازشریف کو خطرناک قرار دیتے ہیں جبکہ عرب شیوخ جانتے ہیں کہ ایک مضبوط پاکستان نہ صرف عربوں کا قدرتی اتحادی ہے بلکہ ہر مشکل گھڑی میں دونوں قومیں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ گھڑی نظر آتی ہیں۔ اس طرح سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ کی اس ڈپلومیٹک گفتگو کو افشاء کیا جاتا ہے کہ صدر زرداری پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور پھر بتایا جاتا ہے کہ نوازشریف وہ پہلے شخص ہیں جس کو سعودی حکومت نے ان کی ذاتی حیثیت میں پرائیویٹ قرضہ فراہم کیااور ان کی جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں متوقع پھانسی کو نہ صرف ختم کروایا بلکہ انہیں مکھن سے بال کی طرح نکال کر سعودی عرب میں سیاسی پناہ دی۔اس طرح وکی لیکس کے خالق ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا زہریلا پروگرام ترتیب دیتے ہیں جبکہ پاکستان کا ایک جنونی میڈیا گروپ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتا نظر آتاہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان وکی لیکس کے انکشافات کی روشنی میں بڑے محب وطن ہیں او ران سے متعلق کوئی منفی راز افشاء نہیں ہوا۔ تو اس پرایک دوست نے تبصرہ کیا کہ ’’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘‘۔ وکی لیکس کے انکشافات کی روشنی میں ایک چیز بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ اغیار کو یہ حق ہے کہ وہ ہماری سیاسی عسکری قیادت کو زمانے بھر میں رسوا کریں لیکن حیرت انگیز تعجب ہے کہ اس سارے عرصہ کے دوران ہماری وزارت خارجہ کیا سوئی رہی اگر وکی لیکس کے انکشافات کو حقیقی بھی مان لیا جائے تو پھر مخدوم شاہ محمود قریشی جو پچھلے ڈھائی سالوں سے جہاز سے نیچے نہیں اترے اور اپنی امریکہ دوستی کا ڈھنڈورا پیٹتے نظر آتے ہیں اب ان کی ساری ڈپلومیسی اور کارکردگی ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے؟موصوف ہیلری کلنٹن کے کندھے پر سر رکھ کروہ کونسی محبتوں اور چاہتوں کی پینگیں چڑھاتے رہے ہیں وہ یہ دیکھنے میں یکسر ناکام ہوئے کہ عین ان کی ناک کے نیچے پاکستان کے مفاد اور وہ جس گورنمنٹ کے ایک انتہائی اعلیٰ عہدے پر براجمان ہیں اس سے کتنا انصاف کر پائے ہیں یہ موڑ یقینا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بدترین شکست قرار دیا جا سکتاہے۔ موصوف وزیرخارجہ کی کاکردگی کا بقول جائزہ لیں تو وزیرخارجہ اپنے عہدے سے انصاف نہیں کر پائے اور ان کی کارکردگی ایک یونین کونسل کے ’’پنچائتی ‘‘ رکن سے بھی کم ہے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی،وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر داخلہ رحمان ملک صاحب نے پچھلے اڑھائی سالوں میں اپنے مردانہ فیشن،اپنی ٹائیوں، سوٹوں اور بوٹوں پر جو رقم خرچ کی ہے وہ پاکستان جیسے غریب ملک کی معیشت پر ایک ایسا بوجھ ہے جس سے فوری چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے۔ پاکستان کی پوری سیاسی قیادت بشمول فرینڈلی اپوزیشن وکی لیکس کے انکشافات کے بعد عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے بلکہ وکی لیکس کے ان انکشافات کے بعد یقینا برہم ہوں گے مگر انہیں حقیقتوں کا ادراک کرنا ہوگا اور اپنے اعمال کو بہتر بنانا ہوگا۔ پنجابی کی ایک کہاوت کے مصداق’’ڈِگا کھوتے توں تے غصہ کمیار تے‘‘(گِرا گدھے پرسے اور غصہ کمہار پر)اصولِ فطرت ہے کہ آپ کا دشمن آپ کو تو کمزور کرنے کی سازش کرے گا ہی مگر آپ اس کے وار سے خود اور قوم کو کیسے بچائیں گے؟ یہ وہ فریضہ ہے جس کی انجام دہی کے لیے آپ کو یہ اعلیٰ عہدے قوم نے تفویض کیے ہیں۔ آج ہمارا ملک اندرونی خلفشار میں گھِرا ہے۔ بم دھماکوں کے دھوئیں اس ملک کی معیشت ہی نہیں اساس پر بھی کاری ضرب لگا رہے ہیں۔ کیا میرے وطن کے حکمران اور سیاست دان اپنے اپنے آقائوں سے یہ پوچھنے کی جسارت رکھتے ہیں کہ ہم نے ماضی قریب اور بعید میں تمہارے مفادات کے تحفظ کے لیے دولخت ہونا قبول کیا، ہم نے تمہاری جنگ کو اپنی جنگ میں بدل دیا، تمہارے مفادات کی تکمیل کے لیے سزائوں، قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی مگر تمہاری نوازشات ہمارے ازلی دشمن بھارت و اسرائیل پر تو برستی رہی تم نے ہمارے دشمن کو جوہری اور معاشی طور پر نہ صرف مضبوط کیا بلکہ انہیں صورتِ جلاد ہمارے سروں پر کھڑا کر دیا، تمہاری تمام محبتیں ہمارے دشمنوں کے لیے مگر جزا کے طور پر جو اذیتیں ہیں ہمارے حصہ میں ہی کیوں؟ آج تمہاری جنگوں کی خاطر ہم ایک اپاہج قوم بن چکے ہیں اور ہماری حالت اس سسکتے ہوئے، مرتے ہوئے جانور کی مانند ہے جس کے اوپر موت کے سائے گِدھوں کی صورت منڈلا رہے ہیں اور کچھ نہیں تو ہماری سیاسی قیادتیں اپنے آقائوں سے اتنا ہی کہہ دیں کہ ’’منی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیے‘‘۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus