×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شہید بی بی کے نام جیالے کا کھلا خط
Dated: 27-Dec-2010
ٹیلی فون پر مجھ سے یہ سوال ایک جیالا پوچھ رہا تھا جس کا پوسٹ کیا ہوا خط میرے ہاتھوں میں تھا، میں نے جیالے سے پوچھا کہ میں تمہارا یہ خط شہید بی بی تک کیسے پہنچا سکتا ہوں! اس نے مجھے یہ جواب دیا ’’کیا شہید زندہ نہیںہوتے ؟ ‘‘اورمیں سوچ رہا تھا کہ واقعی شہید نہ صرف زندہ ہوتے ہیں بلکہ وہ تابندہ بھی ہوتے ہیں۔بس وہ ہمیں نظر نہیں آتے مگر وہ دل کے نہال خانوں میں موجود ہوتے ہیں۔ سالارِ اعلیٰ نظریہ پاکستان جناب مجید نظامی صاحب بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو تحفظ نظریہ پاکستان کا لیڈر مانتے ہیں اور ان کا بے حد احترام کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پچھلے تین سال سے نوائے وقت کے صفحات پر ایک جیالے کی تحریریں باقاعدگی سے شائع ہو رہی ہیں۔ میری پیاری شہید رانی محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ ! لاکھوں سلام آپ پر نچھاور کرنے کے بعد میں آپ کو آپ کی 27دسمبر 2007ء کی تقریر کے کچھ اقتباسات پیش کرتا ہوں۔ بی بی جو آپ کے چاہنے والے ہر جیالے کے ذہن پر نقش ہو چکا ہے۔محترمہ آپ نے لیاقت باغ میں اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام اور جیالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: قائداعظمؒ اور بھٹو کا پاکستان آج ایک بار پھر شدید خطرے میں ہے۔ حکمران پاکستان کو توڑنے کیلئے جنرل یحییٰ، جنرل ایوب اور جنرل ضیاء سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ ملکی سرحدیں غیر محفوظ ہیں پاکستان بدامنی کا شکار ہے، انتظامیہ اور پولیس کا ساتھ نہ دے کر دہشت گردوں کو تقویت دینے والے اب فوجی آپریشن کے ذریعے ملک کو انارکی میں دھکیل رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی روزگار، تعلیم، صحت، ماحول اورمساوات کے 5 نکاتی منشور کے تحت میدان میں اتر چکی ہے۔ آٹھ جنوری کو آمریت سے جمہوریت کی طرف نئے سفر کا آغاز ہو گا۔ پنجاب کے عوام ملک و قوم کے دفاع کیلئے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں۔ہم پاکستان کا تحفظ کرتے ہوئے نہ صرف خطے سے بیرونی فوجوں کو بے دخل کریں گے بلکہ ملک میں دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کریں گے۔ قائد عوام نے مظلوم لوگوں کیلئے پارٹی بنائی اور اپنے دور میںعوامی فلاح وبہبود کے لئے کام کیا،دفاع کو لازوال بنا کرپاکستان کو دنیا بھر میں ایک باوقار مقام دیا۔بھٹو مرحوم نے لاہور میں اسلامی کانفرنس منعقد کر کے پوری اسلامی دنیا کو یہاں جمع کیا۔ جنرل ایوب کے دور میں ہونے والی پاکستان بھارت جنگ میں لاہور میں عوام نے پیٹ اور سینے سے بم باندھ کر پاکستان اور پنجاب کا دفاع کیا۔میں پنجاب کے عوام کو سلام پیش کرتی ہوں۔جس طرح ماضی میں عوام نے قائداعظمؒ کی قیادت میں پاکستان بنایا اسی طرح عوام پاکستان کے استحکام و سلامتی کیلئے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں تاکہ پاکستان کو با عزت مقام دلایا جائے۔ بھٹو مرحوم نے اس ملک کو 73ء کا آئین دیا جرنیلوں نے ہمیشہ آئین توڑا۔بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو خطے میں بے چینی تھی۔ جنرل یحییٰ نے اس دوران پاکستان کو توڑا لیکن بھٹو نے عوام پر واضح کیاکہ ہم گھاس کھالیں گے لیکن پاکستان کو ایٹمی قوت بنائیں گے۔ انہوں نے ملک کو مضبوط کیا میری وزارت عظمیٰ کے دور میں جرنیلوں نے مجھے کہا کہ بھارت کے پاس میزائل ٹیکنالوجی ہے پاکستان اس سے محروم ہے اگر ہمارے پاس بھی یہ ٹیکنالوجی ہو تو پاکستان کا دفاع مضبوط ہو گا ہم نے پاکستان کو دشمن پر جوابی حملے کی طاقت دی۔ کئی ملکوں کے دورے کر کے میں نے مسلح افواج کو میزائل ٹیکنالوجی دلوائی۔ماضی میں عوام نے صرف ایک خاتون کو وزیراعظم نہیں بنایا بلکہ اسلامی دنیا میں پہلی خاتون کو وزیراعظم بنا کر پاکستان کا نام روشن کیا۔ ہماری سیاست ملک کو اندرونی طور پر مضبوط کرنے کیلئے ہے۔ پیپلز پارٹی کے منشور میں یہ شامل ہے کہ جس ملک میں غریب کا پیٹ خالی ہو وہ ملک مضبوط نہیں ہو سکتا صرف ایٹمی صلاحیت اور میزائل ٹیکنالوجی دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتی۔ میں فخر سے یہ کہہ سکتی ہوں کہ عوام کی حمایت اور محبت کے نتیجے میں عوامی طاقت کے ساتھ ماضی میں پیپلز پارٹی نے مضبوط حکومت بنائی۔ کسی کو ملک توڑنے کی جرات نہیںہوئی، کسی کو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے اور تخریب کاری کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ پیپلز پٖارٹی کے دور میں کوئی جنگ نہیں ہوئی ملک کی عزت پیپلز پارٹی کی عزت ہے اور ہم عزت کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ہم نے پاکستان کو امن دیا جب بیرونی دنیا پاکستان کو دہشت گرد قرار دے رہی تھی تو ہم نے بچایا آج پھرملک خطرے میں ہے بلوچستان میں فوجی آپریشن سے مایوسی پھیل رہی ہے۔سرحدوں پر عجیب صورتحال ہے انتظامیہ اور پولیس کا ساتھ نہ دے کرسرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کو پہلے پروان چڑھایا گیا اب وہاں فوجی آپریشن کئے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکمران یہ چاہتے ہیں کہ سوات اور باجوڑسمیت دیگر علاقوں سے پاکستانی پرچم غائب کر دیا جائے۔ یہ ہمارا ملک ہے اور اسے ہم سنبھالیں گے، مجھے اپنے عوام پر اعتمادہے او رمیں عوامی طاقت سے ملک بچائوںگی جس طرح قائداعظمؒ نے ملک بنایا اور قائد عوام نے ملک بچایا تو میں اور عوام مل کر اسے دوبارہ مضبوط بنائیں گے۔ آج مہنگائی ہے،تنخواہ دار اور پنشنرز بمشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ موجودہ حکومت عوامی مشکلات کے خاتمے کیلئے ناکام ہو چکی ہے۔ ہم نے اپنے نظریات کے تحت یہ منشور دیا ہے کہ روزگار اور تعلیم عام کی جائے گی۔ توانائی کے شعبے کو فروغ دیا جائے گا۔ عوام کو زندگی گزارنے کے لئے بہتر ماحول اور صحت کی سہولیات دی جائیں گی۔ ملک میں مساوات عام کی جائے گی‘ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرمیں کار خانے لگائے جائیں گے زرعی ملک ہونے کے ناطے زراعت کوجدید خطوط پر استوارکریں گے۔ مزدوروںکویونین سازی کا حق دیں گے۔ ڈائون سائزنگ پر مکمل پابندی لگائیں گے۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قربانیاں دیں۔میرے باپ کو پھانسی پرچڑھایا گیا۔ میرے بھائی قتل ہوئے لیکن ہم نے عوام کو کبھی نہیںچھوڑا۔ یہ سال ایک اہم سال ہے، اس سال میں اہم واقعات ہوئے، چیف جسٹس کو دو مرتبہ نکالاگیا‘ ججوں کو گرفتار کیا گیا، لال مسجد میںبے گناہوںکو خون میں نہلایا گیا۔ اب عوام تبدیلی لانے اور ملک کو آمریت سے جمہوریت کی طرف لانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ شہید بی بی یہ آپ کی عوام سے وہ کمٹمنٹ تھی جسے ہم عوامی میثاق کا نام دے سکتے ہیں۔آپ کے شہادت کے بعد وطن عزیز کون کون سی مشکلات کا شکار نہیں ہوا۔ غریبوں کو روٹی،کپڑا اور مکان کا منشور دینے والی آپ کی پارٹی پچھلے تین سال سے اقتدار میں ہے مگر نہ یہاں روٹی ہے، نہ کپڑاہے، نہ مکان ہے، چینی، کھاد، ادویات،گندم، سیمنٹ،بجلی، گیس کے بحران میں یہ قوم مبتلا ہے۔اس بدحالی کے دور میں کارخانے اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں،غریب کسان کے پاس بوائی،کھاد اور بجلی کے بل کے لیے پیسے نہیں اسی لیے کسان اور مزدور کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھیننے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ شہید بی بی تیرے جیالے خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ شہید بی بی ہم نے آپ کی وصیت پر سرخم تسلیم کیا اور جسے آپ نے ہمارا لیڈر بنایا ہم نے اسے آپ کے ہی جیسی عزت دی اور آج ہماری پارٹی اقتدار میں تو ہے مگر یہ وہ اقتدار نہیں جس کا وعدہ جیالوں سے آپ کے عظیم بابا نے اسی راولپنڈی شہر میں اپنی شہادت سے پہلے آپ سے آخری ملاقات میں کیا۔شہید بی بی پہلے ہم نعرے لگاتے تھے کہ ’’بھٹو ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں‘‘ اب ہم نعرے لگاتے ہیں کہ’’بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں‘‘ بی بی آخر کب تک ہمارے عظیم قائد اور آپ کے قاتل دندناتے پھرتے رہیں گے۔اگر ہم اقتدار میں بھی رہتے ہوئے ان قاتلوں کو نہیں پکڑ سکتے تو پھر کب پکڑیں گے؟ بی بی یہ وہ سوال ہے جو ہر جیالے کی زبان پر ہے۔شہید بی بی اپنے جیالوں کواس ’’شرمندگی‘‘ سے بچا لیں۔ ہم روٹی کا دکھ تو برداشت کر سکتے ہیں مگر اپنے قائد کے قاتلوں کو ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘کے نام پر معاف نہیں کر سکتے۔ والسلام آپ کا جانثارجیالا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus