×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ۔کڑوی گولی کڑی آزمائش
Dated: 15-Jan-2011
میری سردار محمد لطیف کھوسہ گورنر پنجاب سے دوستی عشرے سے زائد پر محیط ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم شہید بے نظیر بھٹو کے کیسوں کے حوالے سے لندن میں اکٹھے ہوئے۔ گورنر صاحب اور مجھے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے لندن طلب کیا تھا میں ان دنوں سوئٹزرلینڈ میں اپنی جلاوطنی کے ایام کاٹ رہا تھا۔ محترمہ سے میٹنگ کے بعد میں اورسردار محمد لطیف کھوسہ صاحب ایک ٹی وی چینل پر جس کے میزبان پی جے میر تھے ایک پینل کی صورت میں سوالات کے جوابات دیئے پھر اسی دن سے ہمارے درمیان دوستی اور ورکنگ ریلشن شپ قائم ہوئی۔ یہ اوائل2000ء کی بات ہے۔ سردار محمد لطیف کھوسہ نہ صرف ایک اچھے دوست ثابت ہوئے بلکہ حس مزاح اور اپنی اخلاقی مسکراہٹ کی وجہ سے بھی حلقہ احباب میں ممتازمقام رکھتے ہیں۔ سیاست کے خاردار میں ایک عمر ہوئی جدوجہد اور کاوشیں کر رہے ہیں۔ وکلاء کی برادری میں اپنا ذاتی حلقہ ہی نہیں ایک مضبوط دھڑے کی بھی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ،پاکستان بار کونسل سمیت ملتان اور لاہور ہائی کورٹ بار میں بھی اکثریتی دھڑے کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے سردار محمد لطیف کھوسہ کے کندھوں پر پیپلزلائرفورم کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری ڈالی۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے نہ صرف دست راست متصور کیے جاتے ہیں بلکہ ان کے قانونی مشیر اور انتہائی اہم کیسز لڑنے کا بھی اعزاز رکھتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ 2002ء میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے سردار محمد لطیف کھوسہ کو سینیٹر منتخب کروایا اور پھر 2008ء میں صدر مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب نے سردا رمحمد لطیف کھوسہ کو اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے پر متمکن فرمایا۔ یہ ان کی پارٹی و ملکی خدمات کا حسین اعتراف تھا۔ سردا رمحمد لطیف کھوسہ اپنی ذات میں انجمن ہیں یہی وجہ ہے دفتری اوقات کے بعد بھی ایک دوستوں کا بڑا حلقہ ان کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ اپنی لطیف گفتگو کی وجہ سے دوستوں کو بور نہیں ہونے دیتے مگر اپنی فطری خاندانی وقار پر بھی آنچ نہیں آنے دیتے۔ میرا یہاں مقصد ان کی مداح سرائی نہیں بلکہ ان پہلوئوں کی طرف متوجہ کروانا مقصود ہے جو آنے والے دنوں میں ایک آسیب کی صورت منہ کھولے بیٹھے ہیں۔ سابقہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد جبکہ ملکی و پنجاب کے حالات نہ صرف دگرگوں ہیں بلکہ ایک ایسی نہج پر کھڑے ہیں جہاں معاشرتی تقسیم کی طرف معاشرہ بڑھ رہا ہے۔ گورنر سلمان تاثیر کا قتل جن حالات کو بنیاد بنا کر کیا گیا اس کے محرکات و نقصانات کا تعین اگر نہ کیا گیا تو صد رمملکت جناب آصف علی زرداری صاحب کی طرف سے جو ذمہ داری جناب سردار محمد لطیف کھوسہ صاحب کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے کیا اس ذمہ داری سے وہ نبردآزما ہونے کا حوصلہ اور صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ کونسے محرکات اور مشکلات ہیں جو آئندہ آنے والے دنوں میں جن کو وہ ’’فیس‘‘ کریں گے۔ سردست سب سے بڑا مسئلہ ان کو کانٹوں کی اس سیج پر اپنے پائوں جمانے کا ہے ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی میں موجود دھڑے پنجاب کی سیاست پر جو اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں اور پھرایک خصوصی طور پر ایسا دھڑا جو ہر نئے آنے والے کو قبول کرنے میں اپنی بے عزتی تصور کرتے ہیں اور پھر کارکنوں اور جیالوں کا ایک ایسا طبقہ جو ہمیشہ اقتدار زدہ طبقے سے دور رہا ہے اور اقتدار میں آ جانے کے بعد اقتداری طبقہ نے ہمیشہ جسے نظرانداز کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جیالوں کا وہ طبقہ ہر نئے آنے والے صاحب اقتدار کواپنا دشمن متصور کر لیتا ہے کہ وجہ اس کی چاہے یہ ہی کیوں نہ ہوں کہ اقتدار کا ’’لمس‘‘ ان جیالوں تک نہیں پہنچ پاتا اور وہ اپوزیشن کی سیاست کرتے کرتے ہمہ وقت اپنے آپ کو پارٹی کا نقاد اور ان سائیڈ اپوزیشن دھڑا متصور کرتے ہیں۔ اب ان تین قسم کے اندرونی دھڑوں کے درمیان پھنسے نئے گورنر پنجاب کو بہت سنبھل کر چلنا ہوگا کیونکہ جس دن وہ گورنر ہائوس میں شیروانی پہن کر داخل ہوں گے اس دن گھات لگائے کچھ ’’سیاسی نیولے‘‘ اور ’’سیاسی مینڈک‘‘ ان کے گرد رقص اقتدارکرنا شروع کر دیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے ہر ایئرپورٹ اور شہر میں ہونے والے سیاسی و غیر سیاسی ایونٹس کا شیڈول اپنی جیبوں میں رکھتے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ کب صاحب اقتدار کا جہاز لنگرانداز ہو اور وہ پہلی قطار میں گھسنے کے لیے ایئرپورٹ اور سکیورٹی سٹاف سے بے عزتی کو بھی درخوراعتنا نہیں سمجھتے۔ نئے گورنر پنجاب کو پارٹی کے اندر جن دھڑوں سے واسطہ پڑے گا ان میں سے ان کو اس مخصوص طبیعت کے دھڑے سے بچنا ہوگا جو ہر وقت ان کی کرسی کے پیچھے کھڑا نظر آئے گا۔ اب پیپلز پارٹی کے اوریجنل جیالے ان موسمی سیاست دانوں کا دلی و جذباتی احتساب چاہتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ گورنر پنجاب جناب سردار محمد لطیف کھوسہ صاحب اپنے جذبات و دوستی کو ایک طرف رکھ کر ملکی و پارٹی و قومی نوعیت کے فیصلے کریں گے۔ حلف اٹھانے کے بعد جو دوسری بڑی رکاوٹ ان کے راستے میں آئے گی وہ ہے مسلم لیگ ن کی مستقل اپوزیشن جو کہ پیپلزپارٹی کے پنجاب حکومت میں پارٹنر ہونے کے باوجود ’’ساس بہو ‘‘ کی لڑائی کی طرح ہر روز ہر وقت موجود رہے گی۔ سردار محمد لطیف کھوسہ صاحب اپنی فراست کی وجہ سے یقینا میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کے ساتھ بنا کر رکھیں گے اور قومی مفادات کو ذاتی مفادات اور پسند ناپسند پر ترجیح دیں گے تو یقینا مسلم لیگ ن کی قیادت بھی ایسا ہی مثبت ردعمل دے گی۔ میں اکثر یہ مثال دیتا ہوں کہ جب کبھی کسی دوستی کا آغاز کرنا ہو تو دونوں پارٹیاں ایک ایک کلو نمک کھا لیں اس طرح وہ اتنے کڑوے ہو جائیں کہ ایک دوسرے کی بات پھر کڑوی نہ لگے گی۔ گورنر پنجاب سردار محمد لطیف کھوسہ صاحب کو ان نئے متوقع حالات میں یقینا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمت کی پالیسی پر عمل درآمد کرکے بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی مرکز اور مسلم لیگ ن پنجاب میں اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرنے والے ہیں۔ بلدیاتی الیکشن کی آمد آمد ہے جنرل الیکشن کی مہم بھی جلد شروع ہونے والی ہے ان حالات میں پائوں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا۔ سردار محمد لطیف کھوسہ صاحب گورنر پنجاب کو ایسی مشکلات کا سامنا بھی ہوگا جس پر ان کی فراست و نظر کو بہت محتاط رویہ اپنانا ہوگا۔وہ ہے اس وقت قومی سطح اور خصوصاً پنجاب میں مذہبی رواداری کو فروغ دینا۔ اگر گورنر پنجاب پنجاب کے مذہبی حلقوں اور اقلیتوں کے نمائندگان کو گورنر ہائوس کی میز پر بٹھانے میں کامیاب ہو گئے تو ان کے اس عمل سے نہ صرف پنجاب بلکہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر جو اثرات ابھریں گے ان کے ثمرات عوام ہی سمیٹیں گے اور گڈگورنس کے مشترکہ فلسفے کو تقویت ملے گی۔ مجھے امید ہے کہ گورنر پنجاب جناب سردار محمد لطیف کھوسہ صاحب ان چند تجاویز کو اپنی خصوصی پالیسی کا حصہ بنائیں گے وگرنہ آٹا، چینی، کھاد، ادویات، گیس، پانی اور بجلی کے بحرانوں میں ڈوبی یہ قوم جس وقت سر اٹھائے گی پھر سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ گورنر پنجاب سردار محمد لطیف کھوسہ صاحب،وزراعلیٰ میاں شہباز شریف کے گھر خود چل کر جائیں اور پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو بانی پاکستان کے مزار اور علامہ اقبال کے مزارات پر حاضری دیں اور اللہ کا نام لے کر شروع کریںاگر نیت صاف ارادے غیرمتزلزل اور ایمان مضبوط ہے تو یقینا کامیابی کے راستے طے کرنا مشکل نہیںہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus