×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حکمرانو! قوم ایک بار پھر گھاس کھانے کو تیار ہے
Dated: 18-Feb-2011
ریمنڈ ڈیوس یہ وہ لفظ ہے جو اس وقت پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کی زبان زدعام ہے۔ مگر ایک بات صاف ہے کہ ہمارے وطن عزیز کو جوگوں ناگوں حالات اور معاشی مسائل درپیش ہیں اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو کسی عقل سلیم کی نہیں بلکہ کامن سینس کی بات ہے کہ ہمارے سیاسی جادوگر ہمارے مسائل ہماری نظروں سے اوجھل کر دینا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کے حقیقی مسائل سے چشم پوشی کرکے الہ دینی چراغ سے حقائق کے برعکس مبذول کرائی جا رہی ہے جن کا حقیقی زندگی میں عوام کے مسائل سے تعلق نہیں۔ حکومت اپنی تین سالہ مدت مرکز اور کولیشن پارٹنر ہونے کے ناطے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان میں مکمل کر چکی ہے۔یہ تین سال پاکستان کی سیاسی زندگی کے سب سے خطرناک سال قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ جب پاکستانی کرنسی روپے نے اپنی قیمت 30%کھو دی۔ افراط زر اور اسٹاک ایکسچینج کے گرنے سے ملک کو بین الاقوامی سطح پر قرضوں کی واپسی اور معاہدوں کی تکمیل کے مد میں کھربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا جس کا لامحالہ ملک کی معیشت پر بُرا اثر پڑا اور پھر اس مسئلہ سے دیگر مسائل جنم لیتے دکھائی دیئے۔ آٹا،تیل، گیس،چینی،ادویات، کھاد،زرعی بیج، گھی، سبزیاں اور چاول عوام کی دسترس سے دور ہو چکی ہیں ملک میں ایک غیرمنظم غیر مستحکم نظام تعلیم بھی عوام کے اندر تفریق کو ہوا دیتا ہے۔ ایک ہی ملک کے اندر دو درجن سے زائد نظام تعلیم جبکہ تعلیم کو یکساں اور ایفورڈایبل بنانے کی بجائے عوام کی درجہ بندیاں کر دی گئی ہیں جس سے ایک ایسا فرق اور فاصلہ معاشرتی تقسیم کا باعث بن رہا ہے جو آنے والے دنوں میں کسی آسیب سے کم نہ ہوگا۔ یقینا پنجاب گورنمنٹ اور مرکزی حکومت کو اس دوران کچھ آئینی اور پارلیمانی کامیابیاں بھی نصیب ہوئیں جیسے18ویں ترمیم کا خاتمہ،19ویں ترمیم کی منظوری،عدالتوں اور ججوں کی بحالی اور عدلیہ پر عوام کا بڑھتا ہوا اعتماد اور بے رحمانہ احتساب پہ یقین،بلوچستان پیکیج، این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ،بجلی اور گیس کے نئے منصوبے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام،مگر ان تمام کامیابیوں کے بعد بھی ملکی حالات ابتری اور لاء اینڈآرڈر کا مسئلہ اشتہاریوں کی دیدہ دلیریاں جو کہ میاں شہباز شریف کی پہلی حکومت میں دیکھنے کو کم نظر آتے تھے۔اغوائے برائے تاوان کے مسائل اور جنوبی پنجاب خصوصاًرحیم یار خان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں،وزیرستان کی سطح پر چلی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دورہ رحیم یار خان کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کے روک تھام کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب چاہیں تو رینجرز کو طلب کر سکتے ہیں۔ کراچی میں بھی لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ چند سیاسی و مذہبی دھڑوں کے درمیان شدت اختیار کر چکا ہے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کا غیرفطری اتحاد ہر روز معاہدوں کی خلاف ورزی، وزیرداخلہ کا ہر روز نائن زیرو کا دورہ کراچی میں متحارب گروپس سنی تحریک، جماعت اسلامی اور جئے سندھ تحریک کے بڑوں کی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کی شدید خواہشات اور کراچی پر کنٹرول کی ہوس نے کراچی کے تقریباً 2کروڑ عوام کا جینا محال کیا ہوا ہے۔ روشنیوں کاشہر کراچی جو اپنی جگمگاتی روشنیوں،قمقموں کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا اور پاکستان کا انڈسٹریل حب ہے۔ آج یہ شہر ایک مردبیمار کی طرح ہماری سیاسی بے رخی اور بے قدری کا شکار ہے۔ اگر کراچی کے حالات پر قابو نہ پایا گیا اور کوئی فطری حل نہ نکالا گیا تو یقینا ہمارے ازلی دشمن بھارت کے مذموم ارادوں کو تقویت ملے گی۔ ہماری یہ بدنصیبی ہے کہ اس ملک کی ایک پڑھی لکھی آبادی موم بتیاں روشن کرکے امن کی آشا کے گیت آلاپ کر متعصب ہندو ذہنیت کے چہرے پر نقاب ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ امن کی آشا کو ثقافتی سفیر کا درجہ دینے والے آنکھیں اور کان بند کرکے کونسا امن کا’’ یوگا‘‘ کر رہے ہیں۔ فلمسٹار نور، فلمسٹار میرا، گلوکار عدنان سمیع،لالہ رائوف،شکیل صدیقی اور اب راحت فتح علی خان کے ساتھ ہونے والے حالیہ واقعات نے امن کی آشا کی چادر کے چیتھڑے اڑا دیئے ہیں۔ بھارت جو جنگ پاکستان سے پچھلے 63سالوں میں میدانِ جنگ میں نہ جیت سکا وہ اب اس جنگ کو امن کی آشا کے نام پر ہمارے اپنے ہی اندر سے ایک غدار ٹولے کو ڈھونڈ کر شروع کر چکا ہے۔ ہماری قوم نے ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دیئے ہوئے فلسفے پرعمل کرکے ایٹم بم کے حصول کو گھاس کھا کر ممکن بنایا۔ آج پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت کے طور پر عالمی سامراج اور یہود و ہنود کے کے سینوں پر چِرکے لگا رہا ہے اور یقینا مردِ صحافت جناب مجید نظامی صاحب کے بقول ہم نے یہ بم اس لیے نہیں بنایا کہ اس کو شوکیس میں سجا کر رکھیں جب قوم نے گھاس کھا کر اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ایٹمی قوت بننے پر لگا دیا تو پھر اس کا استعمال چاہے نہ سہی مگر ڈر اور خوف تو دشمن قوتوں کو ہونا چاہیے ؟ آج پاکستان کے ہر قصبے ہر شہر میں دہشت گردی کی وارداتیں عروج پر ہیں دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔ یقینا پاکستان ایک بڑا ملک ہے۔ 180ملین آبادی کے اس جنگل میں کہیں دہشت گردوں کے چھپنے کے لیے ٹھکانے بھی موجود ہیں مگر ہمارے ہمسائے بھارت نے پوری دنیا میں ہماری تذلیل کا بندوبست کر رکھا ہے اور ایک محتاط اندازے کیمطابق بھارتی چینلز،سی ڈیز اور پاکستانی کیبل نیٹ ورک اور سینمائوں پر چلنے والی بھارتی فلموں کی آمدن سے بھارت کو ایک بہت بڑا زرمبادلہ پاکستان سے ٹرانسفر ہوتا ہے جس کو یہ ’’بنیا‘‘ بھارت پاکستان کے خلاف بم دھماکوں اور دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حالیہ دنوں ریمنڈ ڈیوس کیس نے بُری طرح اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کے مورال کو نقصان پہنچایا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ یورپ میں گزارہ ہے دنیا کے کسی ملک میں ایک قاتل کو استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا خود امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر عدالتوں کے احترام کی بات کرتا ہے مگر ریمنڈڈیوس پاکستان کی سڑکوں پر تین معصوم شہریوں کو پولیس رپورٹ کے مطابق دانستہ قتل کرتا ہے تو امریکہ اس کے استثنیٰ کی بات کرتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں موجود لاکھوں پاکستانیوں کی آنکھیں اور کان پاکستان کی طرف متوجہ ہیں ان کے دل دھڑک رہے ہیں اور وہ مجھ جیسے دوستوں کو فون اور ای میل کرکے پوچھ رہے ہیں کہ مطلوب بھائی کیا بنے گا؟ کیا جان کیری ریمنڈڈیوس کو لے جائے گا ؟کیا ہماری حرمت ہماری عزت ہماری خودمختاری کی محافظ ہماری حکومت صرف اقتدار کے جانے کے خوف سے ریمنڈڈیوس کو امریکہ کے حوالے کر دی گی؟ کیا کسی امریکی سڑک پر ایک پاکستانی سفارتکار کے ہاتھوں دو امریکیوں کے قتل کے بعد اس پاکستانی سفارتکار کو پاکستان کے حوالے کرنے کا تقاضا ممکن ہوگا؟میرے کچھ دوستوں نے مجھے یورپ سے فون کرکے کہا کہ اگر ریمنڈڈیوس کو امریکہ کے حوالے کیا گیا تو مطلوب بھائی ہم اپنے پاکستانی پاسپورٹوں کو جلا دیں گے اور پھر امریکی،برطانوی،کینیڈین، یورپین ممالک میں ایک تیسرے درجے کے شہری کی زندگی تو قبول کر لیں گے مگر ایک پاکستانی کہلوانا ہمارے اور ہماری اولادوں کے لیے ممکن نہ رہ جائے گا۔ہم ان کے دیس میں تو غلام بن کر جی سکتے ہیں مگر اپنے ہی دیس میں غلام بن کر جینا ہم سے ممکن نہ ہو سکے گا۔قوم نے ایک دفعہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے کہنے پر گھاس کھانے کا عزم کیا اور پھر ایک دفعہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے کہنے پر گھاس کھانے کے اس عزم کو دہرایا۔ قوم نے ہمیشہ حکمرانوں کی بات مانی تو حکمرانو! اب قوم پکار رہی ہے کیا تم وطن کی خاطر، عزت کی خاطر، غیرت کی خاطر، ایمان کی خاطر، پاکستان کی خاطر،قوم کی خاطر گھاس کھانے کو تیار ہو؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus