×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مسئلہ کشمیر اور فلسطین موجودہ عالمی تناظر میں
Dated: 01-Apr-2011
دنیا کے نقشے پہ 1948ء میں اسرائیل ایک نئی مملکت کے طور پر نمودار ہوا۔ پاکستان کے قیام کے بعد یہ دنیا میں دوسری ریاست تھی جو نظریہ اور مذہب کی بنیاد پر تشکیل پائی۔ جنگ عظیم اول کے دوران جب یورپ کے یہودیوں پہ ایڈولف ہٹلر نے زمین تنگ کی تو ہزاروں سالوں سے دربد ر بھٹکتے یہودی ایک مملکت کے قیام کے لیے کوشاں ہو گئے۔ دنیا بھر میں پھیلے یہودی سرمایہ داروں کو اس دن احساس ہوا کہ ایک مملکت کے قیام کے بغیر نہ وہ خود اور نہ ان کا سرمایہ اور نہ ان کا تشخص محفوظ ہے اور اپنے اس ارادے کی تکمیل کے لیے انہوں نے یروشلم (بیت المقدس) کے علاقے کا انتخاب کیا یہ وہ علاقہ ہے جہاں حضرت موسیٰ ؑکی یہ قوم جو 450ق م اس علاقے میں موجود تھی مگر پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے زخموں سے تلملائی اس قوم نے پاکستان کے قیام، نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کی تقلید کرتے ہوئے اپنے قیام کی کاوشوںکوتیز کر دیااور صرف چند ہی سالوں میں یہودی سرمایہ داروں نے دنیا بھر سے یہودیوں کو اکٹھا کرکے فنڈنگ کی اور فلسطینی عربوں سے ان کی زمینیں اور گھر منہ مانگی قیمت پر خرید کر ان کو اپنے ہی سرزمین پر بے گھر اور بے وطن کر دیا اور قیام پاکستان کے صرف ایک سال بعد وہ یہودی ریاست کے قیام میں کامیاب ہو گئے۔ فلسطین کے غریب مسلمان جو ان دنوں عالمی جنگوں اور غدار قیادت کے سبب تتر بتر تھے یہودیوں کی اس چال کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ عربوں اور ترکوں کی آپس کی لڑائیاں اور تحریک خلافت ان دنوں ہندوستان سے لے کر خط عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد عربوں کو احساس ہوا کہ اسرائیل کے قیام سے کباب میں ایک ہڈی ہمیشہ کے لیے پھنس کر رہ گئی ہے۔ سامراجی اور امریکی و یورپین دبائو کی وجہ سے جلد ہی اسرائیل عالمی طاقتوں کا چہیتا بن گیا اور آج اپنے قیام کے 63سال بعد 76لاکھ کی آبادی والا اسرائیل دنیا کی اکانومی میں 24واں مضبوط ملک ہے۔پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی 6سو ڈالر جبکہ اسرائیل کی فی کس سالانہ آمدنی 29500ڈالر ہے۔ صرف اسرائیلی ایئر فورس کے پاس 800جنگی ایئرکرافٹ جوایف سولہ اور جدید ترین بیڑے پر مشتمل ہیں۔ریگولر آرمی پونے دو لاکھ جبکہ ٹرینڈ ملٹری مرد 12لاکھ اور 11لاکھ ملٹری تربیت یافتہ خواتین بھی موجود ہیں۔ ہر فرد کے لیے ملٹری سروس اور ٹریننگ لازمی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق 100کے قریب ایٹم اور نیوکلیئر بم اسرائیل کے پاس موجود ہیں۔ 80ء کی دہائی میں کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے بعد اردن،مصر،ترکی وہ مسلم ممالک ہیں جو اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں جبکہ اپنے قیام سے لے کر پہلے پچاس سالوں میں اسرائیلی عربوں سے تین جنگیں جیت کر ان کے علاقوں کو مقبوضہ بنا چکا ہے۔ جبکہ 60ء سے 90ء کی دہائی تک اسرائیل کو فلسطینی فدائین کی طرف سے شدید مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جب لیلیٰ خالد جیسی دلیر خاتون نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے اور پھر یاسرعرفات کی PLOاور الفتح نے اندرونی اور بیرونی محاذوں پر اسرائیل کا ناطقہ بند کر دیا تھا یہی وہ دور تھا جب مرحوم یاسرعرفات کو فلسطینی کاز کے لیے بھارت جیسے بڑے ملک کی مکمل حمایت حاصل تھی اور وہ بھارت کے قریبی دوست سمجھے جاتے تھے جبکہ 1974ء میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے اسرائیل اور اس کے حمایتوں کے دلوں پر مونگ دھل دی۔ مگر 75ء میں شاہ فیصل کی شہادت 79ء میں بھٹو کی شہادت اور 2004میں جب یاسرعرفات کی رحلت کے بعد اسرائیل کو ٹف ٹائم دینے والے مسلم لیڈروں کی کمی ہوئی تو اسرائیل کی مشکلیں کافی حد تک آسان ہو گئیں اور آج فلسطینی ایک آزاد مملکت کے قیام کی خواہشوں کو سینے میں درد کی طرح لے کر بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ یاسرعرفات کی وفات کے بعد دنیا بھر کے فلسطینی قیادت کے بحران میں مبتلا ہو گئے۔ جبکہ حماس کے رہنما شیخ احمد یاسین کو مارچ 2004میں ایک لمبی جدوجہد کے بعد شہید کر دیا گیا اس طرح فلسطین کے دونوں متحارک گروپ قیادت کے بحران کا شکار ہو گئے۔ اب خالد مشعل حماس کے لیڈر ہیں مگر 2006ء کے الیکشن میں باوجود الیکشن میں کلین سویپ کرنے کے حماس اپنے آپ کو یورپی اور امریکی ڈپلومیسی محاذوں پر نہ منوا سکی۔ اس وقت تقریباً آدھا یورپ اور پورا امریکہ و برطانیہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں اور یاسرعرفات کے جانشین الفتح کے محمود عباس کی قیادت کو تسلیم کرکے فلسطین کو ایک آزاد مملکت کے طور پر تسلیم کرنے کو تقریباً تیار ہیں۔ ایک وقت تھا جب اسرائیل برملا کہا کرتا تھا کہ اس کی پاکستان کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بلکہ وہ پاکستان کے ساتھ نیوکلیئر اور معاشی بنیادوں پر بھی تعلقات استوار کرنا چاہتا تھا۔ جبکہ بھارت کو وہ اپنا دشمن گردانتا تھا آج اسرائیل اور بھارت ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نہ صرف معاشی ترقی کے لیے کوشاں ہیں بلکہ عسکری محاذوں پر بھارت کو اسرائیلی جیسے جدید اسلحہ اور وسائل سے لیس ملک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل اور بھارت کی مشترکہ جنگی مشقیں اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ جبکہ موجودہ عالمی سیاسی حالات یہ ہیں کہ پاکستان چین کے علاوہ تمام ہمسایہ ممالک اور عربوں کی حمایت بھی کھو چکا ہے جس کے بعد مسئلہ کشمیر گھٹائی میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ کشمیرکاز پر کام کرنے والی نیم عسکری تنظیموں نے مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹا کر طالبان اور افغانستان کی طرف اپنا منہ کر لیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان حالات میں مسئلہ کشمیر کو جو کبھی عالمی دنیا کے لیے ایک ’’برننگ‘‘ ایشوتھا اس کا ذکر اب ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دوران مجھے ان کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے دنیا بھر میں کانفرنسوں اور میٹنگز میں جانے کا اتفاق ہوا ایسی ہی ایک میٹنگ فرانس کے وزیراعظم کی طرف سے بھی تھی۔ رات کو فرانس کے وزیراعظم لیولین جوژپاں نے ڈنر دیا۔ حسن اتفاق سے ڈنر ٹیبل پر میرے ساتھ جو دیگر لوگ موجود تھے ان میں میزبان وزیراعظم لیولین جوژپاں،عراق کے موجودہ صدر جلال الدین تلبانی،ترکی کی حکمران پارٹی کے سربراہ مرحوم عیومن، چیئرمین یاسرعرفات،اسرئیلی کے موجودہ صدر اور اس وقت کے وزیراعظم شیمون پیرز اور برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی موجود تھے۔ دوران گفتگو میں نے اسرائیلی وزیراعظم شیمون پیرز سے پوچھا کہ عالمی امن کے لیے کیا ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری نہیں؟ جس پر مسٹر شیمون پیرز نے جواب دیا ہم تو کب سے اس بات کے لیے راضی ہیں مگر خود ملوکیت زدہ عرب شہنشاہ اس بات پر آمادہ نہیں کہ ایک آزاد خودمختار جمہوری فلسطین عین عربوںکے درمیان تشکیل پائے۔اس طرح ایک اور موقع پر جب میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ امریکہ کے دورے پر تھا ہمیں ایک مقامی این جی اواور فلاڈلفیایونیورسٹی کی طرف سے دعوت تھی شہید محترمہ کے خطاب کے بعد جیوس کمیونٹی ریلیشن کونسل فلاڈلفیا امریکہ کی ایگزیکٹو مسز’’ابے سٹمل مین ہوکی‘‘ نے میری موجودگی میں شہید محترمہ سے سوال پر پوچھا کہ پرائم منسٹر صاحبہ کیا آپ عرب دوستوں کو ایک آزاد جمہوری فلسطین کے قیام پر راضی کر سکتی ہیں ؟تو شہید محترمہ نے شدید حیرت سے پوچھا فلسطینیوں کو اور کیا چاہیے؟ جس پر مسز ابے سٹمل مین نے کہا فلسطینیوں کے عربی بھائی اگر چاہتے ہوتے تو تمام عرب ممالک کے عوام آج خود بھی ایک جمہوری معاشرے کی پہچان بن کر اس خطے کو پرامن بنا چکے ہوتے۔پچھلے سال شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے یوم شہاد ت پر سنٹرل ایگزیکٹو اور فیڈرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ اگر عرب ممالک فلسطینیوں سے مخلص ہوتے تو آج 63سال بعد بھی کروڑوں فلسطینی مہاجر کیمپوں میں پناہ گزین نہ ہوتے۔ آج فلسطین کے عوام لبنان،شام، اردن اور مصرکے کیمپوں میں مقید اسرائیلی بمباریوں کا شکار نہ ہوتے۔آج امریکی اور برطانوی سامراج عربوں کو آپس میں جدا کرکے ان کو سیاسی اور عسکری طور پر تنہا اور ایک ایک کرکے تباہ کر رہے ہیں۔ لیبیا کی موجودہ تباہی میں جہاں قذافی کا ہاتھ ہے وہیں عربوں کی امریکہ کو درپردہ حمایت بھی لیبیائی عوام کی ہلاکتوں کی وجہ بن رہی ہے۔ آج پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر گھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ مسئلہ فلسطین عربوں کی عدم توجہی کی بنا پر اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ عالمی محاذ پر پاکستان کے دوستوں کی فہرست میں کمی جبکہ دشموں کی لسٹ میں اضافہ ہوا ہے اور کہیں نہ کہیں اپنی ذاتی انائوں کی تسکین کے لیے پوری دنیا کی مسلم امہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کو بھول چکے ہیں آج کی سیاسی ترجیحات یقینا بدل چکی ہیں۔ مسلم امہ اور ہمارے خطے کے موجودہ مسائل ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ہماری اپنی پاک افواج کی توجہ اپنے مسائل سے ہٹا کر اپنوں کے ساتھ جنگ میں بدل دی گئی ہے۔ بھارت کے ساتھ ہونے والی گذشتہ پانچ جنگوں میں ہمیں عسکری و معاشی محاذوں پر جو نقصان ہوا وہ غیروں کی جنگ لڑتے لڑتے ان پانچ جنگوں سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان نے خارجہ محاذ پر ضیاء کے دور میں کرکٹ ڈپلومیسی اور مشرف کے دورمیں نیپال میں سارک کانفرنس کے موقع پر واجپائی سے ہاتھ ملا کے جو کچھ کیا یہ سب مسئلہ کشمیر کے کاز سے روگردانی کے ہی مترادف ہے۔ اسی طرح موجودہ عالمی حالات، عرب ممالک میں تحریکیں،مسلم ممالک کی آپس میں چپقلش کو ملنے والی مغربی حمایت اور پاکستان کے اندرونی حالات کی بنا پر پاک افواج کا ناپسنددہ محاذوں پر اپنی صلاحیت ضائع کرنا اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم نے مسئلہ کشمیر سے جان چھڑانے کا تہیہ کر لیا ہے اور اگلے تھوڑے عرصے میں عرب اتنے کمزور ہو جائیں گے کہ مسئلہ فلسطین ان کے لیے ایک اضافی بوجھ کی صورت اختیار کر جائے گا۔ ان حالات میں ہم وطن عزیز کے اندر سے بھی کسی مضبوط ردعمل کی توقع نہیں رکھتے۔ اللہ رب العزت نظریہ پاکستان کے محافظوں کو عمردراز عطا فرمائے تاکہ ہم کشمیری بھائیوں سے کیے ہوئے آزادی کے وعدے کو ایفا کر سکیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus