×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پنجاب تو زندہ رہے گا
Dated: 12-Apr-2011
تاریخ گواہ ہے کہ پنجاب نے ہمیشہ اپنے مہمانوں کی عزت قدر اور مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ دوسرے لفظوں میں ہر نئے آنے والے کو سرماتھے پہ بٹھا لیا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پنجاب کے جرأت مند، غیرتمند اور اہل عقل اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو نہ پہچانیں۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے قیام پذیر ہونے والے واقعات و حادثات نے پنجاب کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر دیا ہے کہ آخر ہر کوئی پنجاب کو ہی مورد الزام کیوں ٹھہراتا ہے؟ اب پنجاب کے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کی کوئی زبان ہوتی ہے، اسٹیبلشمنٹ کا کوئی مذہب ہوتا ہے ؟ دراصل ملک کے مفاد پرست طبقے کا نام اسٹیبلشمنٹ ہے جو اپنے اقتدار کو دوسروں سے شیئرز نہیں کرتا جو اپنے جیسے بھائی بندوں کے حقوق کا مشترکہ مفاد رکھتے ہیں وہ سب مل کر اسٹیبلشمنٹ کہلواتے ہیں۔ یہ کہنا کہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ ہمارے حقوق غضب کر رہی ہے دراصل حقیقت سے نظرچرانے کے مترادف ہے یا پھر خاموش ومعصوم پنجابی کی انا پر کاری ضرب ہے۔ مفاد پرستوں نے ہمیشہ ہر دور میں عوام کے حقوق پامال کیے جبکہ مفاد پرست پنجابی بھی ہیں، بلوچی بھی ہیں، پختون بھی ہیں اور سندھی اور کشمیری بھی ہیں۔ یہ عسکری بھی ہیں یہ کاروباری بھی ہیں یہ وڈیرے اور سرمایہ دار بھی ہیں۔ صرف پنجاب کے لوگوں کو جو صوفی ازم پہ یقین رکھتے ہیں اوربندوق اٹھانا جنکی سرشت میں شامل نہیں ہے۔ پنجاب کی دھرتی صوفیائے کرام کے جمال سے بھری پڑی ہے خدا تعالیٰ نے ہر دو رمیں جید صوفیاء کرام کو اس دھرتی کی زینت بنا کر بھیجا جنہوں نے دین کو اپنے اپنے انداز میں اس دھرتی کے ہر کونے تک پہنچایا۔ مساوات محمدیؐ اور سوشل ویلفیئر کا یہ انداز جب یورپین دیکھتے ہیں تو دنگ رہ جاتے ہیں کہ پنجاب کی دھرتی پر خانقاہ کا نظام ایک ایسا سوشل نظام ہے جس سے غریب آدمی روٹی اور خوراک سے مستفید ہوتا ہے۔ یہاں پر ہر چند میل پر بزرگان دین کے مزارات ہیں جہاں عقیدت مند کو کھانے اور سونے کی سہولت میسر ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو باہمی اخوت اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم ہے۔ پنجاب دھرتی کوجہاں بابا بلھے شاہ، بابا فرید گنج شکر، داتا علی ہجویری، جیسے صوفیاء اور بزرگان دین نے اپنا مسکن بنایا۔جہاں دُلّے بھٹی اور نظام جیسے سورما پیدا ہوئے، رنجیت سنگھ کے دور اور اس سے پہلے پنجاب پشاور سے لے کر دہلی تک پھیلا ہوا تھاآج پنجاب سکڑ کر صرف چند سو میلوں پر رہ گیا۔ کیا وجہ ہے کہ آدھے پاکستان کے رقبے پر مشتمل بلوچستان کی تقسیم کی بات نہیں ہوتی؟ جس کی مجموعی آبادی گوجرانوالہ سے بھی کم ہے۔ تقسیم کراچی کی بات نہیں ہوتی جس کی آبادی 2کروڑ نفوس سے بھی زائد ہو چکی ہے۔ خیبر پی کے کو تقسیم کرنے کی بات نہیں ہوتی۔ تقسیم کشمیر کو مانا نہیں جاتا مگر ہر ایراغیرا شخص اٹھ کر اپنی سیاست چمکانے کے لیے تقسیم پنجاب کی بات شروع کر دیتا ہے۔ محمد علی دورانی جو آمر مشرف کے ابتدائی دور میں آمر کا دایاں ہاتھ تھا جو آج بھی پنجاب کے کسی کونے سے کسی ’’یو سی‘‘ کا کونسلر بھی منتخب نہیں ہو سکتا وہ شخص تقسیم پنجاب کی بات کرتا ہے۔ جس شخص نے اپنے اقتدار کے زمانے میں بہاولپور کا کبھی رخ نہ کیا آج وہ بہاولپور کے عوام کو بہکانے کے لیے ان قوتوں کے اشارے پر سرگرم ہے۔ کیا بہاولپور صوبہ بنا کر ایک دفعہ پھر اس علاقے کے عوام کو نوابوں،جاگیرداروں کا محکوم بنا کر ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا؟ آج کچھ سیاسی جماعتیں سیاسی مقاصد کے لیے تقسیم پنجاب کی باتیں کرتی ہیں جن میں ق لیگ پیش پیش ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ سنٹرل پنجاب میں جہاں وڈیرا ازم نہیں ہے وہاں سے نوازشریف کی مسلم لیگ ن جیتی ہے اور اتنی سیٹیں لے جاتی ہے کہ وہ اکیلی حکومت بنا سکے۔اب مسلم لیگ ن سے پنجاب اور اقتدار چھیننے کے لیے پنجاب کی تقسیم کی بات کی جاتی ہے۔ کیا پیپلزپارٹی سے سندھ چھینے کے لیے سندھ کو تقسیم کر دیا جائے؟ یا پھر ان اضلاع میں جہاں پیپلزپارٹی کمزور ہے کو سندھ سے علیحدہ کر دیا جائے یا پھر ان اضلاع میں جہاں اے این پی کمزور ہے علیحدہ کرکے ہزارہ صوبہ بنا دیا جائے؟ بلوچستان سے تو کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت اکثریت نہیں لے پاتی۔ اس طرح بلوچستان کے ہر ڈسٹرکٹ کو ہر حلقہ انتخاب کو علیحدہ صوبہ کا نام دے دیا جائے؟ کیا کراچی میں گوٹھوں میں بسنے والوں کے لیے علیحدہ صوبہ اور شہر میں بسنے والوں کے لیے علیحدہ صوبہ اور کراچی کو لسانی بنیاد بنا کر پختون،پنجابی، سندھی، اردو صوبوں میں تبدیل کر دیا جائے؟ یقینا کراچی کو ایک سے زائد صوبوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا سندھی ریفرنڈم ہونے دیں گے؟ کیا سندھی،بلوچی،پختون، کشمیری،گلگتی اپنے اپنے صوبوں میں تقسیم کے لیے ریفرنڈم کی اجازت دیں گے؟ تو الطاف بھائی پنجاب آ کر سیاست کرنی ہے تو ’’جُگ جُگ‘‘ کرو ہم آپ کو ویلکم کرتے ہیں مگر تقسیم پنجاب کی بات اب دوبارہ نہیں ہونی چاہیے۔ آپ ہمارے جسم کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کراچی کے لیے ریفرنڈم کی بات سندھیوں سے کریں توپھر تماشہ لگے گا۔ آپ پنجاب کے غیرت مند سپوتوں اور مستانوں کو نہ چھیڑیں۔الطاف بھائی آپ اور دوسری سیاسی جماعتیں نوازشریف کا مقابلہ عوام کی مرضی اور الیکشن میں بیلٹ سے کریں مگر صرف ایک سیاسی پارٹی سے اقتدار چھیننے کے لیے تقسیم پنجاب جیسی گھنائونی اور مذموم سازش تیار کی گئی تو پھر سیف الملوک اور ہیروارث شاہ پڑھنے والے یہ 10کروڑ پنجابی بندوق بھی اٹھا سکتے ہیں۔ الطاف بھائی ہم وفاق کی بات کرتے ہیں اور آپ نفاق کی بات کرتے ہیں۔پنجاب کے پرائمری سکولوں میں پنجابی پڑھانے پر پابندی ہے جبکہ سندھ، بلوچستان، خیبر پی کے، کشمیر،گلگت بلتستان کے پرائمری سکولوں میں وہاں کی مادری زبانیں لازمی مضمون کا درجہ رکھتی ہیں جبکہ آج وفاق کو قائم رکھنے کے جرم کی پاداش میں پنجابی گھرانوں سے پنجابی زبان اور ثقافت چھین لی گئی ہے۔ پنجاب کا ایک طالب علم اس تعلیمی تضاد کی وجہ سے کنفیوز ہو کر رہ گیا ہے اسے ’’مج‘‘ کو بھینس ’’ڈھڈو‘‘ کو مینڈک اور ’’کھوتے‘‘ کو گدھا کہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس طرح پنجاب وفاق کو قائم رکھنے کا بھاری جرمانہ اپنی نسلوں کو تباہ کرکے ادا کر رہا ہے جبکہ اس ملک کے تمام لوگ جو تقسیم کی سیاست چمکانا چاہتے ہیں وہ وفاقی مفاد کے حامل کالا باغ ڈیم کو تو بننے نہیں دیتے وہ پنجاب کے ساتھ پاکستان کی زمینوں کو بنجر بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہمارے ازلی دشمن بھارت سے پیسے بھی وصول کرکے کالاباغ ڈیم کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یاد رکھیے الطاف بھائی، اسفند یار ولی، رئیسانی، قائم علی شاہ، شہبازشریف صاحب آپ لوگ حصول اقتدار کے لیے سیاست کرو یہ آپ کا استحقاق ہے مگر اپنے استحقاق کے لیے پنجاب کی آبرو کو مجروح نہ کریں۔جس دن پنجابی نے ’’ہل ‘‘چھوڑ کر بندوق اور اپنی دھرتی ماں کی حفاظت کی قسم اٹھا لی تو پھر کسی طالع آزما کو جرأت نہ ہو گی کہ وہ تقسیم پنجاب کی بات کرے۔اگرنقل ہی کرنا چاہتے ہو تو امریکہ 52صوبوں کے ساتھ اور یورپ کے درجنوں ممالک جو ایک کروڑ سے بھی کم آبادی رکھتے ہیں کے ہر اضلاع کو صوبوں کو درجہ حاصل ہے آپ بھی پاکستان کے ہر ضلع کو صوبے کا درجہ دے دیں تاکہ انتظامی معاملات اور بھی بہتر طریقے سے سرانجام پا سکیں مگر اکیلے پنجاب کو تقسیم کرنے کی سازشیں کامیاب نہ ہونے دی جائے گی۔ جب تک ایک بھی غیرت مند پنجابی زندہ ہے اے پنجاب تو زندہ و تابندہ رہے گا۔ 12ا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus