×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
آئی ایس آئی۔ عالمی سازشوں کی زد میں
Dated: 11-May-2011
دنیا بھر کی عالمی طاقتیں ایٹم بم اور نیوکلیئر طاقت پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے ہیں پاکستان کے پاس نیوکلیئر طاقت اور ٹیکنالوجی ان کو ہضم کرنا دشوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے گرد بُنے جانے والے حصار کو یہی طاقتیں مضبوط کر رہی ہیں۔ پاکستانی قوم نے گھاس کھا کر جو منزل حاصل کی اس ملک کے سب سے قیمتی اثاثہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی مگر مسلسل عزم سے یہ منزل حاصل کی گئی۔ پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک کئی مواقع ایسے آئے کہ جب پاکستان ابھی اپنے پائوں پہ بھی نہ کھڑا ہوا تھا اس کے پائوں کے نیچے سے زمین کھینچنے کی کوشش کی گئی۔ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں ہی اس پر جنگ مسلط کر دی گئی اور پھر تقریباً ہر عشرے میں ایک جنگ مسلط کرکے اس نوزائیدہ مملکت کے سیاسی معاشی استحکام پر گہری ضرب لگائی گئی۔ پاکستان کے قیام کے وقت اس مملکت عزیز کے حصے میں اگر تھوڑی بہت فوج آئی بھی تو ان کے پاس یونیفارم تک نہیں تھی۔ نئی مملکت کے پاس فوج سمیت دیگر اداروں کو دینے کے لیے تنخواہیں نہیں تھیں ان ہی حالات کی وجہ سے بھارتی لیڈر شپ نے کہا تھا کہ پاکستان بہت جلد دوبارہ متحدہ ہندوستان کا حصہ بن جائے گا مگر اس ملک کی عسکری قیادت نے ناتواں اور گوناگوں حالات کے باوجود 48ء کی جنگ لڑی اور پھر کشمیر کے محاذ پر بھارت کو پے در پے شکست ریخت سے دوچار کرکے بھارتی سپر طاقت بننے کی کوششوں کو تار تار کیا۔ قیام پاکستان کے بعد جب فوج نے اپنی تنظیم نو کی بنیاد رکھی تو ساتھ میں ہی آئی ایس آئی اور ملٹری ایجنسیوں کا قیام بھی عمل میں آیا کیونکہ ہماری عسکری قیادت پروفیشنل نگاہوں سے محسوس کر رہے تھے کہ ہندو بنیا اور دنیا بھر کی سامراجی طاقتیں پاکستان کے قیام کو ہضم نہیں کر پا رہی۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے اس ملک کو ہندو بنیا قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس طرح پاک فوج کی ان خفیہ اداروں کو ایک طرف نہ صرف مکار دشمن بھارت کا خطرہ تھا بلکہ ملک کے اندر بھی چھپے ہوئے غداروں سے بھی نبرد آزما ہونا تھا جن کے نزدیک آزادی کا مطلب کچھ اور تھا۔ انہی حالات میں پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے پاکستان کی بقا کے لیے ہمیشہ مثبت اقدامات کیے۔ یہی نہیں بلکہ 79ء میں جب ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں روسی جارحیت ہوئی تو عالمی طاقتیں پریشان ہو گئیں ان حالات میں آئی ایس آئی نے روس کے دانت کھٹے کرنے کی ٹھانی اور پھر دنیا نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک انہونی ہوتی دیکھی۔ پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے نے دنیا کی سپر طاقت روس کو نہ صرف افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کیا اور اس کی گرم پانیوں تک پہنچنے کی رسائی کی خواہش کو سمندر برد کیا۔ بلکہ وہی روس آئی ایس آئی کے ہاتھوں شکست کے بعد دو درجن سے زائد ریاستوں میں بٹ گیا۔ اس حالات میں امریکہ ایک طرف تو روس کی شکست سے خوش ہوا دوسری طرف اسے شدید خطرات کا احساس ہوا کہ ایک ایسا ادارہ جو محدود وسائل میں دنیا کی سپر طاقت کے دانت کھٹے کر سکتا ہے اگر اس کو اعلیٰ ٹیکنالوجی اور وسائل مہیا ہو گئے تو وہ امریکہ و یورپی ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا سکتا ہے۔ ان ہی حالات میں امریکہ نے آئی آیس آئی کو اپنا اگلا ٹارگٹ بنا لیا۔ جبکہ عالمی سطح پر خود امریکی انٹیلی جنس اداروں کو مختلف مواقعے پر شرمندگی اٹھانا پڑی۔ کیا امریکہ کو نائن الیون کے حملوں کاپیشگی علم تھا؟ کیا امریکہ کو پرل ہار پر جاپانی حملوں کا پیشگی علم تھا؟ کیا امریکہ کو ویت نام میں شکست کا علم تھا؟ کیا امریکہ کوصومالیہ اور ایران میں کیے جانے والے آپریشنز کے نتائج کا علم تھا؟ کیا سی آئی اے،کے جی بی،ایم آئی 6، موساد، را کی کارکردگیاں آئی ایس آئی سے بہتر ہیں؟ کیا ’’را‘‘ کوبمبئی حملہ کا پیشگی اطلاعات تھیں؟ کیا ایم آئی 6کو لندن بم حملوں کی پیشگی اطلاع تھی؟ کیا انڈونیشیا میں بالی دھماکوں کی بین الاقوامی ایجنسیوں کو اطلاع تھی؟ جبکہ آئی ایس آئی نے ہمیشہ بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ کوآپریٹ کیا اور مخلصانہ طریقے سے اطلاعات کا تبادلہ کیا اور دنیا کے خطرناک دہشت گردوں کو پکڑا،یا انہیں پکڑنے میں عالمی ایجنسیوں کی مدد کی۔ یہی وجہ ہے کہ خالد شیخ محمد، ابو فراج، رمزی ابوزبیدہ، خلفان، ابوحمزہ رابعہ اور سو سے زائد انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کیا اور اسامہ کی موت سے پہلے ہی القاعدہ کو ایک ڈرائنگ روم تک محدود کر دیا۔ جبکہ آئی ایس آئی نے فرنٹ لائن اتحادی کے طور پردہشت گردوں کے خلاف اگلے مورچوں پر مزاحمت کی اور ہمارے قابل جرنیل، بریگیڈیئر ز، کرنل،میجر، کیپٹن رینک کے درجنوں آفیسر شہید ہوئے جبکہ 3500سے زائد فوجی جوان دہشت گردی کی اس جنگ میں جامِ شہادت نوش فرما چکے ہیں۔یہ تعداد دوسری جنگ عظیم میں جرمن سپاہیوں کی کل اموات سے زائد ہے۔ یہ شہادتیں پاکستان کی پانچ لڑی جانے والی جنگوںسے بھی زائد ہے۔ جبکہ 35000ہزار معصوم بچے عورتیں اور مرد اس جنگ میں القاعدہ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔ جبکہ ہمارا میڈیا اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ نیم سیاسی جماعتیں ہمارے بِکے ہوئے لکھاری اور نام نہاد سیاست دان، دانشور ’’جو نمک سے نیوکلیئر‘‘ سمیت تمام ایشوز پر ایسے بات کرتے ہیں جیسے انہوں نے اس ایشوز پر ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ہمارے معزز اینکرز پرسن ذاتی مفاد کی خاطر ملکی مفاد کو دائو پر لگا دیتے ہیں اور وہ تمام نما نہاد حقائق پیش کرنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنے دشمن اور غیرملکی ایجنسیوں کا کام خود ہی کر دیتے ہیں۔پاکستانی الیکٹرونک میڈیا کی صورت میں ملک کے ہر گائوں،ہر گلی میں انہیں اپنے ایجنٹ میسر ہیں۔ وطن عزیز کے کچھ سیاسی راہنما ہمیشہ کسی ایسے ہی واقعے کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جس میں وطن عزیز کی عزت دائود پر لگی ہوئی ہو۔ مسلم لیگ ن کے ایک راہنما چوہدری نثار جو شریف برادران سے اقتدار چھینے جانے کے باوجود آج تک ایک بھی دفعہ گرفتار نہیں ہوئے۔ شریف برادران کو عمر قید کی سزائیں ہوئیں۔ جاوید ہاشمی پابند سلاسل رہے باقی لیڈر جلاوطن ہوئے جبکہ چوہدری نثار اسلام آباد میں اپنے محل نما گھر میں سکون سے اپوزیشن لیڈر کی صورت میں اقتدار انجوائے کرتے رہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو رات کے اندھیرے میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں اور دن کے اجالے میں چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کی محترمہ ناہید خان صاحبہ جنہوں نے محترمہ کی موجود گی اور غیرموجودگی میں بلاشرکت غیرے 22سال اقتدار انجوائے کیا اور ایک بھی دفعہ چند گھنٹوں سے زائد کبھی بھی گرفتار نہ ہوئیں اور جیل کا منہ تک نہ دیکھا۔ یہ تمام حقائق ہمیں اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا عملی سیاست میں ایسے ممکن ہے؟جبکہ عمران خان ایک ورلڈ کپ جیتنے کے علاوہ باقی تمام ایونٹ ہارے۔ قوم نے کبھی ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی نے آمر ضیاء کا ساتھ دیا،وزارتوں کے مزے اڑائے کیا انہوں نے قوم سے معافی مانگی اور ضیاء الحق سے کبھی بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا؟کیا سی این این، فوکس چینل، بی بی سی، سکائی نیوز چینل نے اپنے ملک کے مفاد کے خلاف کبھی انویسٹی گیشن خبریں نشر کی ہیں؟ کیا ہمارے میڈیا،دانشوروں نے چور کو چور، ڈاکو کو ڈاکو، قاتل کو قاتل اور دہشت گرد کو دہشت گرد کہنے اور لکھنے کی ہمت کی؟ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ انہی لوگوں نے فوجی جوانوں کی شہادت پر اہلکار جاں بحق کے الفاظ استعمال کیے۔ جبکہ دہشت گردوں کے لیے ہمیشہ عسکریت پسندوں کا لفظ استعمال کیا۔ القاعدہ نے پاکستان کے اثاثہ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت کی ذمہ داری قبول کی۔ ہزاروں انسانوں کو قتل کیا،پاکستان کے سیاسی،سماجی، معاشی انفراسٹکچر کو زمین بوس کیا۔ مگر ہمارے غیرذمہ دار میڈیا نے پھر بھی قاتل اسامہ کو ہیرو بنانے کی کوشش نہیں کی؟ کیا ہم اسامہ کو چالیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قتل کرنے کے عوض نشانِ حیدر کا اعزاز دیں؟ ان حقائق اور پاکستان کے موجودہ حالات میں پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی دیوا رکی طرف دشمنان پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جانا چاہیے اگر ہمارے ارادے دیوار چین کی طرح مضبوط اور عزم جواں رہے گا اور ہمارے نظریاتی اساس اور سرحدوں کی محافظ افواج، سیاست دان، میڈیا منیجر، اینکرز پرسن نے حالات کا ادراک نہ کیا تو پھر ہمارا حال بھی سابقہ سوویت یونین سے مختلف نہ ہوگا آج ہمیں مل کروطن،فوج اور آئی ایس آئی کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے ہمارے مضبوط سیاسی و عسکری ادارے ہی اس ملک اور دو قومی نظریہ کے محافظ ہیں۔ یقینا ہماری آئی ایس آئی اور دیگر ادارے دیگر عالمی ایجنسیوں کی طرح غلطیوں سے مبرا نہیں۔ لیکن قومی و عالمی امن کے لیے آئی ایس آئی کی خدمات کو فراموش کرکے اگر اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو دنیا میں امن کا لفظ ہمیشہ کے لیے ناپید ہو جائے گا۔آج وقت ہے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی سلامتی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں وگرنہ ’’نہ رہے گا بانس نہ بجے کی بانسری‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus