×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تو کیا باقی سب فرشتے ہیں؟
Dated: 15-Jun-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قائداعظم محمد علی جناحؒ نے جب 14اگست 1947ء کو مملکت خداداد پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا تو اس وقت بس اُن کی ذات ہی انجمن تھی۔ ملک میں کوئی دوسری اور تیسرے درجے کی قیادت موجود نہ تھی۔ انتہائی نامساعد حالات میںایک مملکت کی تشکیل کے بعد اس کے مسائل اور وسائل کے درمیان ایک بڑی خلیج حائل تھی جس کو عبور کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی مگر مرد مجاہد، سٹیل کے بنے ہوئے ،نہ ٹوٹنے والے ،نہ تھکنے والے محمد علی جناح نے اس قوم کو بنانے کا تہیہ کیا۔ ہماری غیر تربیت یافتہ سیاسی قیادت قیام پاکستان کے فوری بعد سازشوں میں مصروف ہو گئی۔ ہماری عسکری قیادت کو قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہمارے مکار دشمن بھارت نے ایسے الجھایا کہ قیام کے چند ماہ بعد ہی اس نوزائیدہ مملکت پر جنگیں ٹھونس دی گئیں۔ اسی طرح قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت جن حالات میں ہوئی اور اُس کے تھوڑی دیر بعد ہی پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو سازشوں کی بناء پر ایک جلسہ عام میں شہید کر دیا گیا جس کے بعد ملک کے سیاسی معاملات گھمبیر ہوتے چلے گئے اور پھر سکندر مرزا کو موقع ملا جس نے مارشل لاء لگا دیا۔ اس طرح بیوروکریسی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت نے فوج کو گھسیٹ کر سیاست میں داخل کیا۔ جنرل ایوب خان نے اپنے ہی محسن سکندر مرزا کو معزول کیا اور عنانِ اقتدار پر قابض ہو گیا۔ جس کے بعد فوج اور سیاسی قیادت دو پاٹوں کی طرح کبھی بھی آپس میں نہ مِل سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ طالع آزمائوں نے پاک فوج کی کریڈبیلٹی پر داغ لگائے۔ جنرل ایوب، یحییٰ خان اور آمر ضیاء الحق اور جنرل مشرف نے طویل مارشل لاء لگا کر فوج کو پروفیشنل ازم سے ہٹا کر سیاست میں ملوث کیا۔ پھر جنرل ایوب خان کے ساتھیوں نے سیاست دانوں پر ’’ایبڈو‘‘کے کالے قانون کے تحت پابندیاں لگائیں اور سیاست دانوں کو سیاست سے آئوٹ کر دیا۔ یحییٰ خان نے اقتدار بروقت سیاست دانوں کو منتقل نہ کرکے ملک کے دو ٹکڑے کر دیئے جبکہ ضیاء الحق نے ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی پر لٹکا کر اور ناپسند سیاست دانوں پر پابندیاں لگا کر اور85ء کے الیکشن کو غیر سیاسی بنیادوں پر کروا کر ملک کی موجود سیاسی نرسری کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا۔ رہتی سہتی کسر آمر مشرف نے پوری کر دی جس نے اپنے ناپسندیدہ سیاست دانوں کو ’’بی اے‘‘ کی ڈگری جیسے ہیر پھیر میں الجھا دیا۔ اس طرح سیاست دانوں کی ایک ایسی کھیپ کو آئوٹ کر دیا جس کے پاس کچھ تجربات تھے مگر تاریخ کے اوراق پلٹنے سے ہمیں یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ اپنے اپنے اقتدار کو دوآم دینے کے لیے سیاست دانوں نے بھی چیف آف دی آرمی سٹاف کے تقرر جیسے معاملات میں ذاتی پسند ناپسند کو ترجیح دی۔ اور پھر ان عہدوں پر براجمان اپنے چہیتے افسران کو جس طرح ملازمت میں توسیع دے کر قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیر دیں اور بعد میں وہ انہی افسران کے ہاتھوں خوار ہوئے، ہتھکڑیوں میں جکڑے گئے، پابند سلاسل ہوئے، جلاوطن ہوئے اور پھانسی پر بھی لٹکائے گئے۔ بیوروکریسی نے اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کے درمیان پُل بننے کی بجائے خلیج بننے کا کردار ادا کیا ۔ ہماری بے لگام بیوروکریسی جو چند وڈیروں، مخدوموں، نوابوں، قزلباشوں اور سرمایہ داروں کے ہاتھ میں لونڈیوں کی طرح محکوم تھی اپنے کرتب دکھاتی رہی۔ انہی امراء کے بیٹے بیٹیاں مرکز اور صوبوں کی اعلیٰ عہدوں پر متمکن رہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے ماضی میں ان عہدوں پر جاگیرداروں، دولتانوں اور سید زادوں کو بھی براجمان دیکھا۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پچھلے 63سالوں میں قومی سوچ میں ترقی ہوئی اس ملک کی سیاست نے عالمی سطح کے جن میں حضرت قائداعظم محمد علی جناح ،لیاقت علی خان ، سردار عبدالرب نشتر، خواجہ ناظم الدین، ذوالفقار علی بھٹو شہید، محمد خان جونیجو، محترمہ بینظیر بھٹو، میاں نوازشریف اور نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم جیسے جلیل القدر نام پیدا کیے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہماری پاک فوج نے 48ء کی جنگ سے لے کر دہشت گردی کی پیدائش موجودہ جنگ تک میں قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ اور دشمن کے دانت کھٹے کیے۔ اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو جس کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں جن کا فوجی بجٹ ہم سے درجن بھر گنا زیادہ رہا ہے مگر وہ پاک فوج سے ہمیشہ خائف رہا ہے ، سیاست کے میدان کی طرح پاک فوج کے ان ہزاروں شہیدوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے ہماری راتوں کو، ہماری صحبوں کو، ہماری سرحدوں کو ،ہماری بہنوں کی عزتوں کو اور ہماری ممتا کے سر پر چادر کو محفوظ بنایا۔ ہم ایسے سورمائوں کوسلام پیش کرتے ہیں جن میںکیپٹن راجہ محمد سرور شہید، میجر چودھری طفیل محمد شہید میجر عزیز بھٹی شہید، پائلٹ راشد منہاس شہید،میجر شبیر شریف شہید، سوار محمد حسین شہید، میجر اکرم شہید،لانس نائیک محمد محفوظ شہید، کیپٹن کرنل شیر خان شہید حوالدار لالک جان شہید جنہوں نے اپنے سینوں پر نشان حیدر کے تمغے سجا کر ہماری آبروں کی حفاظت کی ،جن کی موت نے ہمیں زندگی بخشی ،جنہوں نے چونڈہ کے محاذ پر دنیا کے سب سے بڑے ٹینکوں کے حملے کو اپنے سینوں اور چھاتیوں سے بم باندھ کر روکا۔ جنہوں نے کارگل اور سیاچن پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے جنہوں نے 65ء کی جنگ میں دشمن کو لاہور سے پیچھے دھکیل کر اس کے ناپاک عزائم کو چکنا چُور کیا۔ ہمارے شہیدوں نے سیاچن کی بلندیوں پر دنیا کی سب سے اونچائی پر لڑی جانے والی جنگ میں دشمن کے دانت کھٹے کیے۔ ہماری فوج نے سیاسی قیادت کی خواہشوں پر اس ملک کو نیوکلیئر بم کا تمغہ دیا جس کی وجہ سے آج ہم ایک باعزت اور باوقار قوم کی حیثیت سے زندہ ہیں۔ گذشتہ دنوں ملکی تاریخ میں کچھ ایسے واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہوئے ہیں جس سے فوج کو ملکی اور بین الاقوامی محاذوں پر تنہا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایبٹ آباد کے آپریشن سے لے کر اخروٹ آباد اور پھر کراچی رینجرز کے واقعات میں پاک فوج کے کردار کو مشکوک بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کی کونسی ایسی مذہبی یا سیاسی جماعت ہے جس کے راہنما فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر نہیں آئے۔چند ایک سیاست دانوں کو چھوڑ کر یا پھر چند ایسے سیاسی لیڈروں کو چھوڑ کر جنہیں فوج کے ساتھ ابھی فرینڈ شپ کا موقع ہی نہیں ملا اس ملک کے تمام سیاست دان جی ایچ کیو کے ایک اشارے پر شیروانی سلوانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے عمران خان نے ڈکٹیٹر مشرف کے نام نہاد ریفرنڈم میں اس کا ساتھ دیا۔ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد صاحب نے 17ویں ترمیم کے سلسلہ میں مشرف کی مدد کی اور یہ آئینی ترمیم پاس ہوئی۔ میاں نوازشریف نے اپنے اقتدار سے دونوں دفعہ پہلے فوج کی آمد کو خوش آمدید کہا۔ چوہدری برادران نے تو مشرف کو 10دفعہ وردی میں کامیاب کروانے کا اعلان کیا۔ مسلسل قربانیاں دینے والی پاک فوج کو تنہا کرنا امریکی سامراج کی خواہش اور بھارت کی شدید آرزو ہے جس کو کامیاب کرانے کے لیے دشمن نے ہمارے اپنے اندر سے فوج کی مخالفت کی مہم شروع کر دی ہے اور ہمارے عاقبت نااندیش سیاست دان اور مذہبی راہنما اب کی بار جس سازش کا حصہ بننے جا رہے ہیں اس سے استحکام پاکستان کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ ہماری سیاسی قیادت کو سوچنا ہوگاکہ صرف فوج ہی تمام بیماریوں کی جڑ ہے:باقی سب فرشتے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus