×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امریکی غلامی کا طوق گلے سے اُتارنے کا نادر موقع
Dated: 15-Jul-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com افغانستان میں پنگا لینے کے بعد امریکہ 10سال تک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جو اقدامات کرتا رہا وہ سب ایک بوکھلائے ہوئے شکاری کی مانند تھے، جو خفی مٹانے کے لیے ہوائوں میں، فضائوں میں گولیاں بکھیرتا رہا۔ عالمی امن کی فضاء کو بارود سے آلود کر دینے کے بعد بھی اس کی تشنگی کم نہیں ہوئی۔فرض کر لیں نائن الیون کے محرکات کچھ بھی تھے اور اس میں کوئی بھی استعمال ہوا اور 9/11کے دن ساڑھے تین ہزار معصوم جانیں لقمہ اجل بنیں۔ مگر اس کی سزا کے طور پر پوری انسانی تاریخ کا بدترین تعاقب کرکے عراق ، افغانستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 40لاکھ انسانوں کو بموں اور گولیوں کا نشانہ بنا کر تورا بورا کے پہاڑوں کو روئی کے ڈھیر بنا دیا گیا۔ ہولوکوسٹ کے مالکان بھی جانتے ہیں کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی 40لاکھ انسان امریکی و مغربی تجربات کی بھینٹ نہیں چڑھے تھے۔ کم ظرفی کی حد ہو گئی کہ فرنٹ لائن اتحادی پاکستان جس نے مغرب کی جنگ کو اپنے صحن تک پھیلا لیا، اس دہشت گردی کی جنگ میں 35ہزار سویلین اور 5ہزار عسکری شہادتیں دے کر بھی اپنے پیشانی سے دہشت گردی کا داغ نہیں مٹا سکا۔ پاکستان کی اخبارات اور دنیا بھر کا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اس بات کا گواہ ہے کہ پچھلے دس سالوں میں امریکہ پاکستان سے ہمیشہ ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرتا رہا اور پاکستان کی معاشی و عسکری امداد کو ڈومور کانگریس اور سینٹ سے مشروط کر دیا گیا اور ہمیں ایک سرتضائید مستعد بیکاری بنا دیا گیا ۔ دنیا بھر میں ہماری پہچان ایک بھیک مانگنے والی مملکت سے شناخت ہونے لگی۔ پاکستان کے شہریوں کو دنیا بھر کے ایئرپورٹس پر علیحدہ کرکے ان کی تضحیک کی جاتی ہے۔ پچھلے دس سالوں میں مغربی سرمایہ داروں نے ایک پیسے کی بھی پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کی۔ ریت کی بنی بنیادوں پر قائم ہماری معیشت ادھار اور مستعار پر قائم رکھی گئی۔ 71ء کی جنگ میں امریکی بحری بیڑے کی آمد کا انتظار کرنے والوں کی آنکھیں اب تک اس بیڑے کا انتظار کر رہی ہیں جو کبھی نہ پہنچا تھا نہ پہنچے گا۔ مشرف نے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کے حکم پر پتھر کے زمانے میں نہ جانے کا فیصلہ کر لیا مگر نتیجہ کیا نکلا آج ہماری قوم پچھلے دس سالوں میں بے حسی کے دور میں چلی گئی ہے۔ قوم بٹ گئی ہے ،قوم تقسیم ہو چکی ہے، قوم منزل کے راستے سے ہٹ چکی ہے۔ہم بحیثیت قوم ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ کاش کہ یہ بھی اچھا ہوتاکہ ہم پتھر کے زمانے میں چلے گئے ہوتے مگر بچی کھچی ایک قوم تو ہوتے، ہمارے دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے، ہماری بانہیں ایک دوسرے کا سہارا بننے کو بیقرار ہوتیں، ہماری آنکھیں اپنوں کے انتظار میں کھلی رہتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرف کے دور میں ہمیں 11ارب ڈالرز کی امداد دی گئی جس میں سے بینکوں کی کمیشن اور مشرف کے حواریوں سے باقی بچ جانے والے صرف 3ارب ڈالرز شاید ہماری تباہ شدہ سڑکوں،تباہ پلوں اور فوج کے ایک مخصوص حصے پر صرف ہو گئے۔ یہ مغرب اور سامراجی طاقتوں کا ہمیشہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ چھپڑ پھاڑ کے دیتے ہیں مگر اتنا دیتے ہیں جتنا چھپڑ کی دوبارہ مرمت پر ہی لگ جائے۔ حالانکہ پاکستان کو اتحادی فوجوں کے ساتھ الحاق میں 70ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کو غیروں کی خاطر 60ارب ڈالرز کا ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے بعد امریکہ نے پاکستان کو سوا ارب ڈالرز کی سالانہ امداد کا وعدہ کیا ،جس کو اب سانحہ ایبٹ آباد کو بہانہ بنا کر اس سال دی جانے والی 80کروڑ ڈالرز کی امداد روک لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ہماری قوم نے ایک دفعہ حضرت قائداعظم ؒ کے پاکستان بنانے پر بھرپور ساتھ دیا ۔پھر ذوالفقار علی بھٹو شہیدکا ساتھ دیا اور گھاس کھانے کو تیار ہو کر نیوکلیئربم بنانے کا اعلان کیا۔ پھر ہماری قوم نے میاں نوازشریف صاحب کے ایٹم بم کا دھماکہ کرنے کے اعلان پر ملک میں ڈالروں کے ڈھیر لگا دیئے۔ قوم نے اپنے پبلک اکائونٹ حکومت کو دے دیئے یعنی ہماری بہادر قوم نے ہمیشہ لیڈرشپ کا ساتھ دیا۔ اب ہماری لیڈر شپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں مفادپرست امریکن دوستی کا ساتھ دیناہوگا یا پھر اپنی اصل منزل کا تعین پھر سے کرنا ہوگا ۔کیا آج ملک کے افراد میں، جاگیرداروں میں، سرمایہ داروں،کارخانے داروں، فیکٹری مالکان اور کسانوں، مزدوروں، طالب علموں،محنت کشوں کو لنگوٹ باندھ کر اپنے ’’سروائیول‘‘کی جنگ لڑنی ہو گی۔ ہمیں امریکہ کو بتانا ہوگا کہ ہم ایک قوم ہیں، ہم ایک وطن ہیں، ہماری منزل ہمارا خواب ایک ہے، ہمارا مذہب، ہمارا پیغمبر، ہمارا خدا ایک ہے۔ کیا میاں نوازشریف، صدر آصف علی زرداری، چوہدری شجاعت،سلیم سیف اللہ،سہیل دیوان گروپ اور دوسرے مالیاتی اداروں کے مالک صرف 80کروڑ ڈالر کی حقیر رقم اکٹھی کرکے ملک کے خزانے میں جمع نہیں کروا سکتے؟ کیا ہمارے سرمایہ د اروں کو احساس ہے کہ اس ملک کی بقاء کے ساتھ ہی ان کی بقاء ہے۔ میری ذاتی اطلاع کے مطابق ہمارے کچھ دوستوں کے ملک سے باہر اربوں ڈالرز کے اثاثہ جات ہیں۔ کیا ہمارے وہ عزیز سیاست دان ،ہمارے راہبر مغربی بینکوں میں پڑے اپنے سرمائے سے صرف زکوٰۃ کی کٹوتی پاکستان کو دے دیں تومیرا ایمان ہے کہ پاکستان کو آئندہ دس برسوں تک امریکی غلامی سے نجات مل جائے گی۔ یاد رہے اس سال امریکہ نے اپنا 3ٹریلین ڈالرز کا خسارے والا بجٹ پیش کیا ہے۔ اس وقت امریکہ کے پاس صرف 1.3ٹریلین ڈالرز خزانے میں ہیں جبکہ امریکہ کو اپنے بجٹ کے لیے مزید 1.7ٹریلین ڈالرز کی ضرورت ہے اور امریکہ نے اس سلسلہ میں جب بھارت سے قرضے کا پوچھا تو بھارتی بنیئے نے امریکہ سے معذرت کر لی۔ اب امریکہ نے چین سے دست سوال کیا ہے۔ دیکھیں چینی امریکی درخواست پر کیا ردِ عمل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی معیشت کی ہڈیاں نکلنا شروع ہو گئی ہیں اور درجنوں ٹریلین ڈالرز کی بھاری بھرکم جنگ نے امریکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ میں بسنے والے لاکھوں پاکستانی یہ فلسفہ سمجھتے ہیں کہ اب پاکستانیوں کی امریکہ میں موجودگی ایک رسک اور آئے دن عزِ ت نفس کا سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ ہزاروں سرمایہ داروں کا سرمایہ امریکہ میں ڈوب چکا ہے۔پچھلے چار سالوں میں 11سو سے زائد امریکی بینکوں کی برانچزبند ہو گئی ہیں۔ گاڑیاں بنانے سے لے کر سوئی بنانے تک کی بڑی فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ جنرل موٹرز اور جنرل الیکٹرانکس جیسے ادارے تالہ بندی کا شکار ہیں۔ ان حالات میں امریکہ افغانستان و عراق سے فوج نکال کر اپنی معیشت کو سہارا دینا چاہتا ہے۔ ایسے میں اسے ادھاراورقرضہ مانگنے والے دوستوں کی ضرورت نہیں۔اور ہمارے پاس یہ اللہ تعالیٰ نے نادر موقع فراہم کیا ہے کہ ہم برسوں سے اپنے گلے میں پڑے امریکی غلامی کے طوق کو اتھار پھینکیں۔ ملک میں فوری طور پر نیک اور پرہیز گار بندوں پر مشتمل عوامی حکومت تشکیل دے کر ہم پائوں پر کھڑا ہو سکتے ہیں۔ خدا نے ہمیں مجید نظامی صاحب کی صورت میں تحفہ عطا کیا ہے ۔ قوم اس وقت آزمائے ہوئے سیاست دانوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ بس ایک مجید نظامی صاحب ہی روشنی کی کرن ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus