×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
برطانوی فسادات کے پیچھے چھپے اصل حقائق!
Dated: 27-Aug-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک طویل عرصہ کی خاموشی کے بعد گذشتہ روز ترقی یافتہ ویٹو پاور رکھنے والے انگلینڈ جس کی ایک زمانے میں آدھی سے زیادہ دنیا پر حکمرانی تھی اب سکڑ کر ایک جزیرہ نما کی صورت میں رہ گیا ہے ۔ کبھی لندن کے حکمران بڑے فخر سے کہتے تھے کہ شہنشاہ برطانیہ کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا اور آج بھی کامن ویلتھ کے نام سے 60سے زائد ممالک اس کے زیراثر ہیں جبکہ آسٹریلیا،نیوزی لینڈ، کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک آج بھی سلطنت برطانیہ کی کالونی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ملکہ برطانیہ کی حکمرانی میں رہ رہے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں امیگرنٹس ہر سال برطانیہ کا رخ کرتے ہیں۔ خصوصاً برصغیر پاک و ہند پر برطانوی راج کے جب آزادی ملی تو انگریز واپس چلا گیا مگر انگریزوں کے آئین اور اصول اور کشمیر سمیت دیگر اہم مسائل آج بھی وہ ہمارے لیے چھوڑ گیا ہے جبکہ ہمارے اراکین پارلیمنٹ اور امراء کے بچوں کی تعلیم آکسفورڈ کے بغیرمکمل نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے جاگیردار اور سرمایہ دار،مخدوم ، نواب، لغاری، مزاری، وٹو، چوہدری، خواجے خود تو پاکستان رہتے ہیں مگر ان کی اولادیں آج بھی برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کو فخر سمجھتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے ٹیکس چور حکمران اور امراء کے اکثر بینک اکائونٹس تاج برطانیہ کے زیر سایہ ہی انگلینڈ میں کھلوائے جاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آج بھی ہر سال برطانوی ویزے کے لیے سالانہ 7ارب روپے فیسوں کی مد میں برطانیہ منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ صرف 7سے10پرسنٹ امیدواروں کو ویزے جاری کیے جاتے ہیں اور تقریباً90فیصد مسترد درخواستوں کو اپیل تک کا حق حاصل نہیں ہوتا اور تمام مسترد درخواست گزاروں کی فیسیں بھی واپس نہیں کی جاتی۔ بے روزگاری کا برطانیہ میں یہ عالم ہے کہ 30فیصد لوگ سوشل سیکورٹی کی مد کے بغیرجینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آج امریکہ کے حالیہ معاشی بحران کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ بہت جلد اس کا اثر برطانیہ میں بھی محسوس کیا جا سکے گا۔ ڈی ایس ایس جو غریبوں کی مدد کے لیے بنایا گیا ادارہ ہے اس کے پاس اب بانٹنے کو باقی نہیں بچا۔ جن لوگوں کو پہلے 60پائونڈ ہفتہ فی کس بے روزگاری الائونس ملتا تھا، اب اس کو کم کرکے 30پائونڈ کر دیا گیا۔ جبکہ لیورپول، برمنگھم، بریڈ فورڈ اور مانچسٹر، سلیفرڈ کے شہروں میں انڈسٹری بند ،کارخانے دیوالیہ، فیکٹریاں تباہ حال اور ان علاقوں کے بے روزگار نوجوان منشیات کے دھندے یا پھر چوری چکاری میں پڑ گئے ہیں۔ انگلینڈ میں بسنے والے ایشیائی عوام خصوصاً ایشیائی مسلم نوجوان دربدر بھٹک رہے ہیں۔ ان حالات میں انہیں مذہب ہی ایک ایسا راستہ ہے جو سکون فراہم کرتا ہے اور آج انگلینڈ کے مسلم نوجوان کا مذہب کی طرف راغب ہونا، جہادی تنظیموں میں حصہ لینا، افغان جنگ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں پیدائشی برٹش مسلم نوجوان کی شرکت اب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پھر 7 جولائی کے واقعات نے چند سال پیشتر انگلینڈ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جس کے بعد انگلستان میں بسنے والے مسلم خاندانوں کو نشانے پر رکھ لیا گیا۔ جس طرح امریکہ میں یہودی آبادکاروں نے پوری امریکی معیشت پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح انگلستان میں بسنے والے صرف 3فیصد یہودی پوری برطانیہ کی ریڑھی کی ہڈی ہیں اور جس طرح 5فیصد یہودیوں نے امریکہ میں بڑھتے ہوئے اسلامی تشخص سے گھبرا کر 9الیون کا ڈرامہ رچایا تھا، اسی طرح 3فیصد یہودیوں نے انگلستان میں 7کا ڈرامہ رچا کر برطانیہ سے مسلم امیگرنٹس کے راستے روکے۔ 7جولائی کے واقعات کے بعد برطانیہ نے اپنی ویزا پالیسی میں سختی کی اور اب حلال طریقے سے برطانیہ جا کر Settleہونے کا امکانات کو بہت حد تک کم کر دیا ہے۔ اس طرح برطانیہ میں مسلمانوں کے افزائش کو ایک بریک لگا دی گئی۔ مگر پاکستانی،بنگلہ دیشی، بھارتی یا سری لنکن ہی واحد امیگرنٹس نہیں بلکہ افریقی ، عرب، یورپ، امریکہ، جنوبی امریکہ ،سائوتھ امریکہ اورCaribbean،ویسٹ انڈیز، جمائیکن لوگ کروڑوں کی تعداد میں لندن سمیت پورے انگلینڈ میں آباد ہیں۔ جن کے ساتھ مقامی کمیونٹی کے مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں’’جناں دے گھر دانے، انہاں دے کملے وی سیانے‘‘ کے مصداق پہلے تو برصغیر انڈیا سونے کی چڑیا سے چرائے جانے والے اثاثے اور دولت موجود تھی۔ دنیا بھر سے لوٹی ہوئی دولت موجود تھی۔ اس لیے انگلینڈ سوشل ویلفیئر سٹیٹ بنا رہا۔ اب ناقص پالیسیوں کی وجہ سے خزانے خالی ہو رہے ہیں۔ جن بوتل سے باہر آگئے ہیں۔ اب مسائل کے انبار لگ جائیں گے۔ انگلینڈ میں فسادات کا پھوٹ پڑنا کوئی نئی بات نہیں ماضی میں بھی کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر ایسے متعدد خونی واقعات جنم لے چکے ہیں۔ جن میں 1980ء میں سینٹ پال کے فسادات جس میں ایک پولیس مین نے ایک عورت کو ریپ کیا تھا، جس کے بعد لندن میں لگی آگ کو بجھانا مشکل ہو گیا تھا۔ پھر1981ء میں Chapeltownمیں نسلی فسادات جس کے پیچھے بڑھتی ہوئی غربت اور محرومیاں چھپی تھیں، انگلینڈ کو ہلا کر رکھ دیا۔پھر مارگریٹ تھیچر کے زمانے میں 1985ء میں ہونے والے فسادات سے یوں لگتا تھا کہ شاید تاج برطانیہ اب زیادہ دیر سنبھل نہ پائے گا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ گذشتہ سالوں میں برطانیہ میں ہونے والے خارجہ فیصلے تاج برطانیہ کے لیے خطرات کی گھنٹی بجانے لگے۔ خصوصی طور پر جارج بش کے زمانہ میں جب برٹش وزیراعظم ٹونی بلیئر نے مملکت برطانیہ کو امریکی جھولی میں گِرا دیا اور بین الاقوامی برادری میں گریٹ بریٹن برطانیہ کو امریکی صدر کا (Puppy)چھوٹا کتا پکارا جانے لگا، جس کی رسّی امریکہ کے ہاتھ میں تھی اور عالمی دنیا میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہر امریکی فیصلے کو آنکھیں بند کرکے تسلیم کر لینا اب برطانیہ کے عوام پر لازم قرار پا چکا ہے۔ برطانوی اقتدار اعلیٰ کو ٹونی بلیئر کے زمانے میں جو نقصان پہنچا اس کا اندازہ بعدازاں کرنے والی حکومتوں کو بھگتنا پڑا۔ ویسے بھی مشہور ہے کہ برطانیہ میں جب بھی کنزرویٹو پارٹی اقتدا رمیں آتی ہے، اسے نظر لگ جاتی ہے۔ اور وہ اپنے اقتدار کا سارا عرصہ ان مسائل میں گھِری گزار کر اور انہیں حل کرتے کرتے اقتدار ٹوری پارٹی کے حوالے کر جاتی ہے۔ اب بھی جب سے نئے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اقتدار سنبھالا ہے، حالیہ واقعات کے علاوہ تین بڑے ایشوز نے کنزرویٹو وزیراعظم کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔ وزیراعظم کے اقتدار میں آنے کے چند ہی دن بعد سٹوڈنٹس کی فیسوں میں ہوش ربا اضافہ کر دیا گیا۔ جبکہ باقی یورپ میں تعلیم یا تو فری ہے یا پھر برائے نام اخراجات ،جنہیں طالب علموں کو ریاست کی جانب سے ملنے والے وظیفہ جات سے پورا کر لیا جاتاہے۔ جبکہ برطانیہ میں جہاں اوسطاً ماہانہ آمدنی 800پائونڈ سے1000پائونڈ ہے، وہاں طالب علم کو یونیورسٹی کے لیے سالانہ کم ا زکم دس ہزار پونڈ چاہیں۔ اس مہنگائی کے دور میں تعلیم کے حصول کو انگلینڈ میں تقریباً ناممکن بنا دیا گیا اور دوران تعلیم طالب علم سے جاب کرنے کی سہولت واپس لے لی گئی، جس کی وجہ سے کروڑوں طالب علموں کا مستقبل تاریک کر دیا گیا۔ اور دوسرا واقعہ موجودہ وزیراعظم کیمرون ڈیوڈ کے دور میں یہ ہوا کہ مختلف سیاست دانوں اور اعلیٰ افسران اور شاہی خاندان کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا سکینڈل سامنے آیا۔ جس پر لندن پولیس کمشنر پائول سٹیفن اور اس کے اسسٹنٹ کو مستعفیٰ ہونا پڑا۔ اور پھر لندن میں ہونے والی جی ٹونٹی(G-20)ممالک کی کانفرنس جو اختلافی اور متنازعہ صورت حال اختیار کر گئی، جس کی وجہ سے وزیراعظم بس جاتے جاتے ہی بچے۔ ٹیلی فون سکینڈل میں ایک جرنلسٹ کو بھی قتل کر دیا گیا جس کا تعلق نیوز آف دی ورلڈ نامی سکینڈل اخبار سے تھا، بعدازاں اس اخبار کو بھی بند کرنا پڑا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حالیہ فسادات میں جو ایک نئی چیز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ تقریباً وہ تمام سٹور اور کاروباری ادارے جوجلائے گئے، تباہ ہوئے جن پر حملہ کیا گیا وہ سب یہودی تاجروں کی ملکیت ہیں۔ ان اداروں میں Curry's ، پی سی وڈلڈ اور سونے کا بین الاقوامی Pawnشاپ خریدوفروخت کا بزنس کرنے والی کمپنی اور اس کے علاوہ بک میکر متاثر ہوئے ہیں۔ یہ سب کاروبار یہودیوں کی مناپلی میں چل رہے تھے۔ ان کمپنیوں کی تباہی اور جلائوگھیرائو سے دو چیزیں سامنے آئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کمپنیاں پچھلے کچھ عرصہ سے بہت زیادہ نقصان میں جا رہی تھیں۔ جس کی وجہ سے یہودی تاجروں ،سرمایہ داروں نے خود ہی یہ ڈرامہ رچایا ہوگا یا پھر برطانیہ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ،معاشی بدحالی، برطانوی معیشت کی زبوں حالی کی وجہ سے عوام کے ایک طبقے میں یہودی خون نچوڑنے والی ان کمپنیوں کے خلاف رائے عامہ اور عوامی نفرت کی وجہ سے یہ ردعمل ہوا ہوگا۔ ایک تیسری وجہ ان فسادات کی یہ ہے کہ برطانیہ میں نئی اصلاحات کی وجہ سے عوام شدید مہنگائی کا شکار ہیں جبکہ آمدن کے ذرائع تقریباً بند ہو چکے ہیں۔ کروڑوں لوگ بے روزگار ہیں، ہسپتالوں کی حالت بہت پتلی ہے۔ ایک شخص کو دانت درد یا کان کا درد آج ہو رہا ہو تو اسے ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ 6ماہ سے ایک سال بعد کی ملتی ہے۔ غریب آدمی کی حالت انگلینڈ میں اس قدر خراب ہے کہ زندہ رہنے کیلئے اب چرانا اور چھیننا ہی جاب اختیار کر لیا گیا ہے ۔ حالیہ فسادات میں ایشیائی بزنس مینوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس وقت تک 6لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں ہزاروں دوکانوں،پلازوں اور سنٹروں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ سینکڑوں گاڑیاں نذر آتش کر دی گئی ہیں۔ سینکڑوں پولیس مین زخمی ہو چکے ہیں۔ لندن میں تعینات 30ہزار پولیس کی امداد کے لیے 16ہزار مزید نفری منگوا لی گئی ہے مگر فسادات کی آگ انگلینڈ کے تمام شہروں تک پہنچ چکی ہے۔ اضافی نفری کو ان کے صوبے واپس منگوا رہے ہیں کیونکہ آگ کا احاطہ ان کے گھر تک پہنچ چکا ہے۔ یقینا یہ برٹش تاریخ کے اندوہناک لمحات ہیں، جن کے پیچھے معاشی معاشرتی نسلی اور دیگر وجوہات ہیں، جن سے نبرد آزما ہونے کے لیے برطانیہ کو اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی اور یاد رکھنا ہوگا یہ انیسویں صدی نہیں 2011ء ہے۔ جس میں اب عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا سامراجی ہتھکنڈے استعمال کرکے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus