×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا اب جنگی ترانے بجنا شروع ہو جائیں گے؟
Dated: 02-Oct-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری قوم نے امریکہ کی ممکنہ جارحیت کے خلاف اکٹھے ہو کر ایمان، اتحاد، یقین محکم کے مصداق طبل جنگ بجا دیاہے۔ اے پی سی کا گزشتہ روز ہونے والا اجلاس اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا کہ ہماری قوم کو اپنے دشمنوں کو ایک متفقہ آواز میں یک جان ہو کر ایک پیغام دینا مقصود تھا کہ اب ہم نے امریکی تسلط سے نجات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان بھر سے تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین چاہے وہ پارلیمنٹرین تھے یا پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بھی تھے! وزیراعظم ہائوس دعوت دے کر اکٹھا کیا گیا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہماری قوم آج بین الاقوامی میڈیا کے توسط سے یہ دیکھ رہی ہے کہ قومیں جو متحد نہیں ہوتی انہیں سپرپاورز کھا جاتی ہیں اور پھر صحیح وقت پر غلط فیصلے کرنے سے بھی کئی دفعہ قومیں یا تو مِٹ جاتی ہیں یا پھر صدیوں پیچھے چلی جاتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ حال لیبیا کے سابق حکمران کرنل قذافی کے ساتھ ہوا۔ معمر قذافی جس نے پچھلے چالیس سال سے برطانوی سامراج اور امریکی جنون کے آگے سر نہ جھکایا تھا۔ اسّی کی دہائی اور نوے کے عشرے میں امریکہ اور اتحادیوں نے پان ایم ایئر لائن کے طیارے کی تباہی کو جواز بنا کر طرابلس پر فضائی حملے کیے تھے، جن میں معمر قذافی کی فیملی کے کچھ افراد جاں بحق بھی ہوئے۔ مگر قوم متحد تھی اپنے راہبر، اپنے راہنما معمر قذافی کی معیت میں۔ یہی وجہ تھی کہ امریکہ اپنی تمام تر خواہش کے باوجود ایک متحد سیسہ پلائی دیوار کی مانند قوم کو جھکانے میں ناکام رہا۔ معمر قذافی کم از کم 25سال یورپین و امریکن پابندیوں کا سامنا کرتے رہے پھر اقوام متحدہ نے بھی 20سال لمبی ترین اقتصادی پابندی لیبیا پر لگائی۔ لیبیائی عوام صرف ایک باہمت حکمران کی بدولت یہ قربانیاں دینے پر راضی رہے اور جب بھی قوم کو حکمران نے پکارا لیبیائی عوام لبیک کہتے رہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال نارتھ افریقہ کا یہ ملک جو کبھی خوشحالی میں متحدہ عرب امارات سے کم نہ تھا۔ طویل پابندیوں کی وجہ سے لاغر ہوتا چلا گیا جبکہ معمر قذافی اور اس کے بیٹوں کے غیر ملکی اور ملکی اثاثوں کا حجم بڑھتا چلا گیا اور دولت انسان کو بزدل بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ معمر قذافی اپنے بیٹوں کی مغرب نواز سوچ کے آگے نہ ٹھہر سکا اور پھر پچیس سال بعد پان ایم ایئرلائن کے متاثرین و لواحقین کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا معاوضہ بھی ادا کر دیا گیا اور جس چیز کا امریکہ و یورپ کو خطرہ تھا یعنی لیبیا کا نیوکلیئر پروگرام وہ سارے کا سارا امریکہ کے حوالے کر دیا گیا، جس کے دوران بے شمار قیمتی ملکی راز بھی امریکہ کے ہاتھ لگے، جس سے امریکہ کو ڈاکٹر قدیر کے خلاف بولنے اور ثابت کرنے کو بہت سا مواد دستیاب ہو گیا۔ اس طرح ایک تو لیبیا نے اپنے ہتھیار دشمن کے حوالے کر کے سقطو ڈھاکہ کی تاریخ دہرائی اور دوسری جانب اپنے اتحادیوں اور دوستوں جیسے پاکستان ،روس اور دیگر ممالک کی ناراضگی بھی مول لے لی۔ بس پھرکیا تھا؟ اس ساری کارروائی کو 2سال بھی نہ گزرے تھے کہ امریکہ کو لیبیا میں داخل ہونے کا موقع مل گیا(بالکل اسی طرح جس طرح 2005کے زلزلے کے بعد امریکہ کو پاکستان کے حساس علاقوں تک رسائی کا موقع مل گیا او رپھر انہی راستوں کو استعمال کرکے سانحہ ایبٹ آباد کا دن دیکھنا نصیب ہوا) جب لیبیا نے اپنے آپ کو یورپین اور امریکن کے لیے کھول دیا تو پھر امریکہ نے اپنا جال بننا شروع کر دیا اور تھوڑے ہی مہینوں میں پورے لیبیا کے قبائل سرداروں کو خرید اور لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا(یاد رہے لیبیا میں قدیم قبائل کا اثر ہے اور وہی قبائلی سردار عوام کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں) اس طرح امریکہ کو محض تھوڑے عرصے میں چند سرداروں کو خرید کر موقع مل گیا کہ وہ تیل و معدنیات کی دولت سے مالا مال لیبیا کے عوام کو فریب دے کر اس پر قبضہ کر لے۔ اب قذافی فیملی دربدر ہے خود معمر قذافی روپوش اور پور املک لیبیا انارکی کا شکا رہے۔ جب چند لاکھ لوگ قتل ہو جائیں گے اور اتحادی بمباری سے لیبیائی انفراسٹکچر تباہ ہو جائے گا تو پھر فرانس، برطانیہ اور امریکہ اسے تقسیم کر لیں گے۔ یہ نتیجہ نکلا اپنے ہتھیار اپنے دشمن کے حوالے کرنے کا۔ اور یہ سزا ملی معمر قذافی اور عوام کو دشمن پر اعتبار اور اعتماد کرنے کی۔ آج پاکستان بھی قریب قریب کچھ ایسی ہی صورت احوال سے دوچار ہے۔ جنرل مشرف نے اپنے دور میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بندوق کی نوک پر قبول جرم کروایا اور پوری دنیا کو واضح پیغام دیا کہ ہم بے اعتبار قوم ہیں جو کہ نیوکلیئر پروگرام تک جنوبی کوریا ، ایران ،لیبیا کو بیچتے رہے ہیں اور آج ہماری موجودہ حکومت بھی پوری طرح امریکی جھولی میں گرنے کو بیتاب ہے۔ اگر کچھ دیر ہے تو وہ انہی کی طرف سے ہے کہ انہیں ہماری کرپشن اور ہمارے لالچ کی خبر ہے۔ جب ہم امریکی پینٹاگون کو اجازت دے دیں گے کہ وہ ہمارے ملک ہمارے دارالخلافہ اور ہمارے شہروں میں اپنے فوجی دندنانے کے لیے چھوڑ دے۔ حتیٰ کہ غیرمسلم امریکی عہدے دار ہمارے صوفیائے اکرام کے درباروں پر حاضریوں کا ڈرامہ بھی رچاتے ہیں۔ ہماری صوفیانہ محفلوں میں ’’دھمال‘‘ بھی ڈالتے نظر آتے ہیں۔ مقصد ان کا پاکستان کے عوام کو آپس میں لڑانا ہے۔یہاں پاکستان میں آج جتنی فرقہ واریت ہے اس کے پیچھے صرف اور صرف امریکی و برطانوی سازش کارفرما ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ آج تک پاکستان میں مساجد و امام بارگاہیں تو بم دھماکوں کا نشانہ بنیں مگر چرچ مندر یا ملٹی نیشنل ادارہ ان حادثات سے محفوظ رہا؟اب ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے، قوم کو متحد ہو کر فوجی قیادت کو اعتماد دینا ہوگا کہ جہاں تمہارا پسینہ گرے گا قوم اپنا لہو نچھاور کرے گی۔ مگر ہوش و حواس ہمیں گنوانا نہیں، عقل کا ساتھ چھوڑنا نہیں۔ متحد ہو جانے کا مقصد یہ نہیں کہ اب جنگی ترانے بجنا شروع ہو جائیں(اب تو ہمارے پاس نہ وہ شاعر نہ وہ جذبوں والی ملکہ ترنم نورجہاں مرحومہ کی مدھر آواز۔ اب تو بس نصیبولال پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا)جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ ہمیں جنگوں سے اجتناب مگر اگر ہمیں چھیڑا گیا تو پھر اس خطے کو امریکہ کا قبرستان بنا دینا ہوگا تاکہ امریکہ آئندہ معصوم و آزاد اقوام جیسے کوریا، ویت نام، عراق، افغانستان جیسے ممالک کو کھنڈرات نہ بنا سکے۔ ہماری عسکری قیادت نے جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے اور ہماری حکومت کا بھی فرض ہے کہ سیاسی راہنمائوں نے انہیں جو اعتماد دیا ہے وہ اس پر پورا اترنے کی کوشش ضرور کریں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus