×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
18اکتوبرکاسانحہ اور موت کا تعاقب
Dated: 18-Oct-2008
میں نے مسٹر اُرس گریگر (Urs Geriger) کی درخواست محترمہ بے نظیر بھٹو شہید تک پہنچائی تو انہوں نے اسے پذیرائی بخشی۔ مسٹر اُرس گریگر سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ معروف جرمن جریدے ورلڈ ویک (Weltwoche) سے وابستہ ہیں۔ وہ 18اکتوبر کو دبئی سے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ پاکستان آنا چاہتے تھے محترمہ کے ساتھ پوری دنیا کا میڈیا آنا چاہتا تھا اس لیے چیدہ چیدہ معروف صحافیوں کا چنائو کرنا پڑا تھا۔ ایک طرف دبئی سے محترمہ کی پاکستان روانگی کی تیاری ہو رہی تھی تو دوسری طرف پورے پاکستان سے قافلے محترمہ کے استقبال کے لیے کراچی روانگی کی تیاری کر رہے تھے۔ لاہور،سیالکوٹ،گوجرانوالہ سے اور گجرات سے ہم لوگ منظم طریقے سے قافلے بنا رہے تھے۔ مجھے گجرات سے چلنے والے قافلے کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا تھا۔ میر ے ساتھ پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر طاہر زمان کائرہ نے ہر ممکن تعاون کیا یوں لگتا تھا جیسے پورا گجرات قافلے میں شامل ہونا چاہتا ہے لیکن ایک ضلع سے ہزاروں لوگوں کو قافلے میں شامل کرناممکن نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود کائرہ برادران نے جس منظم طریقے سے محترمہ کے استقبال کا بندوبست کیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ یہی صورتحال ملک کے باقی شہروں میں تھی۔ کارکنوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ رحیم یار خاں جو کے پنجاب کا آخری ضلع ہے وہاں پر چودھری جاوید اقبال وڑائچ نے وہاں سے گزرنے والے قافلوں کے لیے جس فراخ دلی سے بندوبست کیے ہوئے تھے اس کا ذکر نہ کرنا بھی چشم پوشی ہو گی۔اپنی قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جیالے ایک روز قبل پارٹی پرچم لے کر نعرے لگاتے اور ترانے گاتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ کے اردگرد جمع ہو رہے تھے۔ مسٹر اُرس لندن میں محترمہ کا انٹرویو کر چکے تھے۔18اکتوبر کو وہ دبئی سے روانہ ہونے والے جہاز میں محترمہ کے ساتھ تھے۔ اُرس کا کہنا ہے کہ ’’جہاز میں محترمہ بینظیر بھٹوشہید کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ وہ مادرِ وطن پہنچنے کے لیے بے تاب تھیں اور بار بار اپنے ساتھیوں سے وہاں کے حالات پوچھ رہی تھیں۔‘‘ پھر ارض مقدس پر محترمہ نے اپنے قدم رکھے،ہاتھ اٹھائے، آسمان کی طرف دیکھا اور آنکھیں بے اختیار چھلک پڑیں۔ یہ پاک دھرتی کے لیے ان کی طرف سے خوشی کے آنسوئوں کا یہ پہلا نذرانہ تھا۔ اس پورے منظر کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا۔ ایئرپورٹ سے باہر آئیں تو لاکھوں افراد دیوانہ وار اپنی محبوب قائد کے فقیدالمثال استقبال کے لیے موجود تھے۔ جہاں تک نظر جاتی قومی اور پارٹی کے پرچم آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہے تھے۔ لاکھوں افراد کو استقبال کے لیے امڈتے دیکھ کر آمریت کے قدم لڑکھڑا گئے۔ملک دشمن قوتوں کے پائوں کے تلے سے زمین سرکنے لگی۔ ان کو امید تھی کہ چند ہزار لوگ استقبال کو آئیں گے اور حکومت کے ایک انتہائی وفادار وزیر نے ٹی وی چینل پر آ کر یہ بھی کہا کہ بس بیس پچیس ہزار لوگ جمع ہوں گے لیکن یہ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ان کے اقتدار کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا تھا۔ ایسے میں اقتدار کے ایوان لرزنے لگے جہاں صبح شادیانے بج رہے تھے وہاں اب صف ماتم بچھی نظر آ رہی تھی لیکن آمریت آمریت ہوتی ہے جس کے سینے میں گوشت کا نہیں پتھر کا دل ہوتا ہے۔ پھر عوام اور ان کی قائد کو کچلنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ (اس حوالے سے وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کے گذشتہ روز شائع ہونے والے انکشافات قابل توجہ ہیں) محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور پیپلز پارٹی کے قائدین بلٹ پروف ٹرک پر شاہراہ فیصل پر مزارِ قائد کی طرف رواں تھے مسٹر اُرس دوسرے صحافیوں کے ساتھ محترمہ کے استقبال کی کوریج کر رہے تھے انہوں نے مجھے اس موقع کی روداد سنائی۔ میری آنکھوں نے پوری دنیا میں اس سے بڑا انسانی سمندر ایک ہی جگہ پر آج تک نہ دیکھا تھا اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ آٹھ سال پہلے جس خاتون وزیراعظم کو الزامات کی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا تھا اس کے لیے پورا ملک گھروں سے باہر آ جائے گا میرے اندازے کے مطابق جس سے میرے وہاں پر موجود باقی غیرملکی صحافی دوست بھی متفق ہیں۔تیس سے پینتیس لاکھ تک لوگ محترمہ کے استقبال کے لیے کراچی کی سڑکوں پر موجود تھے۔ میں ٹرک سے چند قدم کے فاصلے پر تھا کہ میرا موبائل بج اٹھا دوسری طرف میری بیوی سوئٹزرلینڈسے مجھے فون کر رہی تھی۔ فون آنے پر میں پریشان تھا کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ محترمہ کے قافلے کے اردگرد جیمرز موجود ہوں گے لیکن یہ کال آنے پر مجھے احساس ہوا کہ جیمرز کام نہیں کررہے تھے۔ اس موقع پر میری چھٹی حس الارم بجانے لگی ا ور میں نے ٹرک پر موجود پارٹی قائدین کو آگاہ کر دیا کہ جیمرز کام نہیں کر رہے اور پھر جگمگاتی سٹریٹ لائٹس یک مشت بند ہوئیں تو میں کانپ کر رہ گیا اور انجانے خوف کے باعث ٹرک سے 100گز پیچھے چلا گیا۔ اسی اثنا میں ایک دھماکہ ہوا تو جیالے اور محترمہ کی حفاظت پر تعینات جانثارانِ بینظیر اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی عظیم قائد کی حفاظت کے لیے ٹرک کو حصار میں لینے کے لیے لپکے پھر دوسرا دھماکہ ہوا تو لپکنے والے یہ لوگ خون میں نہا گئے۔ ان کے جسموں کے ٹکڑے ہوا میں اڑ رہے تھے۔ میں حواس باختہ ہو کر دوسرے صحافیوں کے ساتھ ہوٹل چلا گیا۔ دشمنوں نے محترمہ کو ٹھکانے لگانے کا مکمل بندوبست کیا تھا لیکن وہ وقتی طور پر بچ نکلیں۔ یہ ایک دلدوز سانحہ تھا جس میں ڈیڑھ سو جیالوں اور سیکورٹی والوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ محترم کے لیے ایک تنبیہہ بھی تھی لیکن انہوں نے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنا گوارا نہ کیااور وہ موت کے تعاقب میں ہر قسم کے تحفظا ت کو بالائے طاق رکھ کراپنے عوام میں جانا چاہتی تھیں اب دوری انہیں برداشت نہیں تھی۔ دوسری طرف سازشی ان کو راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ مرتضیٰ بھٹو کو ان کے گھر کے سامنے شہید کیا گیا تو یہ بھی ایک سازش تھی جس میں ایک تیر کے ساتھ کئی شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹوشہید نے اس سازش کا سراغ لگانے کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ سے تحقیقات کرانے کی کوشش کی ان کی ٹیم پہنچی تو فاروق لغاری نے پیپلز پارٹی کی حکومت توڑ کر ٹیم کو واپس کر دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید 18اکتوبر 2007ء کے سانحہ کی تحقیقات غیر ملکی ایجنسیوں سے کرانا چاہتی تھیں تاکہ حکومت کی صفوں میں موجود نقاب پوشوں کے چہروں سے نقاب نوچ کر مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور انہوں نے اس سلسلے میں اپنی آمد سے دو روز قبل جنرل مشرف کو ایک خط بھی لکھا جس میں اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ واردات پر حکومت وقت کو پہلے سے خبردار کر دیا لیکن حکومت آمادہ نہ ہوئی آج اس سانحہ کو ایک سال ہو چکا ہے۔ اگر حکومت اس وقت تحقیقات کرا لیتی تو عین ممکن تھا کہ 18اکتوبر کا سانحہ برپا کرنے والے شکنجے میں آ جاتے اور 27دسمبر2007ء کا سانحہ رونما نہ ہوتااور ہماری شہید قائد آج ہمارے درمیان موجود ہوتیں اور بحرانوں میں گھِرا پاکستان آج اپنی زندگی کی بھیگ نہ مانگ رہا ہوتا۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں ہی اس کیس کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لی اور پھر صدرمملکت کے دورہ امریکہ پر یواین او کے سیکرٹری جنرل سے مل کر اس کیس کی تحقیقات کی رفتار تیز کرنے کے لیے کہا گیا۔ اقوام متحدہ نے اس کیس کے لیے پینل تشکیل دے دیا ہے اور جلد ہی عوام یہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی شہید ملکہ کے کیس کی تحقیقات کے نتائج سامنے آئیں گے اور مجرم اگراندرونی ہیں تو انہیں بھاگنے نہ دیا جائے اور اگر بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہیں تو ان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے نشانِ عبرت بنایا جائے۔اس سے کم پر پاکستان کے جیالے عوام کوئی کمپرئومائز نہیں کریں گے۔ مسٹر اُرس گریگرکا کل پھر فون آیا انہوں نے کہا ’’میں آج بھی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پر ہونے والے 18اکتوبر کے حملے کے شاک سے نہیں نکل سکا۔ کیا پاکستانی عوام یہ سب کچھ بھلا پائی ہے اور پاکستانیوں کی حالت کیسی ہے کیا وہ اس صدمے سے نکل پائے ہیں؟اُرس کے اس سوال پر مجھے 27دسمبر2007ء کا سانحہ یاد آ گیا جس میں ہمارا مقدر اور ہمارے نصیب ہم سے چھین لیے گئے اور محترمہ کو ہم سے جدا کر دیا گیا میں اُرس کے سوال کا جواب اپنی آواز رند ھ جانے کی وجہ سے نہ دے سکامگر میری آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی جس سے ہزاروں سوالوں کے جواب ٹپک رہے تھے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus