×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اب بیچنے کے لیے بچا ہی کیا ہے؟
Dated: 29-Oct-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وہ میرے پاس آیا مجھ سے ہاتھ ملا کر پوچھنے لگا کہ کیا سارا ملک ہڑپ کرنے کا ارادہ ہے؟ کچھ عوام کے لیے بھی چھوڑ و گے؟ کیا اسی لیے قائداعظم محمد علی جناح نے ملک بنایا تھا؟ کیا اسی لیے لاکھوں قربانیوں کے صدقے یہ ملک بنایا گیا تھا؟ کیا ہمارے حکمرانوں کی تجوریوں کے منہ بند نہیں ہو سکتے؟ میں اس کا چہرہ تکنے لگا وہ یورپ بھر میں جیالے کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ اس کی کمر پر کوڑوں کے نشانات آج بھی اس کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ مگر اس کے منہ سے اپنی ہی قیادت، اپنی ہی پارٹی اور اپنے ہی راہنمائوں کے خلاف اس طرح کے ریمارکس دراصل یہ کسی لاوے سے کم نہیں تھا اور جب لاوا پک جاتا ہے تو پھر آتش فشاں اُبل پڑتا ہے۔ میں نے اس جیالے کو اپنے پاس بٹھایا ،ایک حسرت اور پیار کی نظر سے دیکھا اور پوچھا مگر آپ کو مجھ سے کیا ناراضگی ہے؟ وہ بولا آپ بھی پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ہو، آپ لوگ عوام کے دیئے ہوئے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہے ہو۔ آپ شہیدوں کے لہو سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہو۔ آپ لوگوں نے اس ملک کے اداروں کو تباہ کر دیا ہے۔ ایک ایک کرکے تمام ادارے جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کی کمر تور کر رکھ دی گئی ہے۔واپڈا کا یہ حال ہے کہ نہ کھمبے ہیں، نہ بجلی ہے، نہ تاریں ہیں ،نہ سڑکوں پہ سٹریٹ لاٹیں۔ہر جگہ ہر پوسٹ پر پیسے کما کر کمیشن دینے والے عہدے دار، اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ رینٹل پاور کے نام پر اربوں روپے کا ٹیکہ عوام کو لگایا گیا ہے۔ 2011ء کے اس دور میں ہمار املک افریقہ کے کسی غیرترقی یافتہ ملک کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کارخانے بند فیکٹریوں کو تالے لگے ہیں۔ اس ملک کا سرمایہ دار، کارخانے دار، بنگلہ دیش ،ملائشیا، دوبئی بھاگ گیا ہے۔ تمام دریائوں پر بھارت نے قبضہ کرکے سینکڑوں ڈیم بنا دیئے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ اراضی پنجاب ،سندھ، بلوچستان اور خیبر پی کے میں بنجر ہو رہی ہیں۔ ملک کا کسان قرضے لینے پر مجبور ہے اور جب وہ قرضے واپس نہیں کر پاتا تو پھر خودکشی پر مجبور ہو جاتاہے اور پھر بھی تمہاری پارٹی کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرکے پاکستان کے دشمنوں کو خوش کر رہی ہے؟ ہماری پارٹی کی وزیر خارجہ بھارت کو خوش کرکے شاید کوئی رول بالی ووڈ فلموں کے لیے چاہتی ہے؟ تمہاری پارٹی نے اس پارٹی کو جس نے قیام پاکستان کی مخالفت کی اس کے ساتھ کوالیشن حکومت بنائی اور پھر اس پارٹی کے ایک راہنما کو ریلوے کا وفاقی وزیر بنا کر استحکام پاکستان کو درپیش چیلنجز میں اضافہ کر دیا اور ٹرانسپورٹ بزنس سے متعلق صرف چند ٹرانسپورٹروں کے مفاد کو بچانے کے لیے پوری ریلوے کو تباہ کر دیا ہے۔ ریلوے کے ریٹائرڈ پنشنروں کو پنشن نہیں مل رہی۔ پنشنر سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے جاں بحق ہو رہے ہیں۔ ریلوے کی قیمتی املاک کوڑیوں کے بھائوں ریوڑیوں کے مول اپنے پیاروں میں بانٹی جا رہی ہیں۔اور میرے جیسے کئی جیالے اسلام آباد کی سڑکوں پر جمہوریت کے علمبرداروں کے ہاتھوں تنگ آ کر خودکشتیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ بولتا چلا گیا کہ تمہاری حکومت کی دوسری کوالیشن پارٹی جس نے جناح پور کے نقشے بنا رکھے تھے، جن کو غدار قرار دیا گیا، جن کو تمہارے ہی حکومتی خاندان کے گھر کے ایک اہم فرد ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اپنے خصوصی انکشافات میں وطن دشمن قرار دیا۔ اس پارٹی نے ہمیشہ کراچی پورٹ اور شپینگ کی وزارت پر قبضہ رکھا اور آج ہزاروں کنٹینروں کی گمشدگی اربوں کے فراڈ اور غبن کے بعد نہ صرف کراچی پورٹ اتھارٹی بلکہ پورا محکمہ دیوالیہ ہو گیا ہے۔ پھر ایک خاص منصوبے کے تحت اس پارٹی کو پاکستان سٹیل مل جیسے ادارے کو تباہ کرنے پر مامور کر دیا گیا اور پھر چند ہی سالوں بعد یہ ادارہ بھی اتنا لاغر ہو گیا کہ کسی وقت بھی روح پرواز کر جانے والی ہے اور پھر اس ملک کا وزیٹنگ کارڈ ہماری پہچان وہ ادارہ جو ہماری چلتی پھرتی ہوائوں میں اڑتی تصویر ہے۔ ہمارا پی آئی اے جس نے آج کی ورلڈ نمبر1ایئرلائن امارات ایئر لائن کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا جو باکمال لوگوں کی لاجواب پسند تھی۔ آج اس ایئرلائن کو دوسرے ممالک میں تیل کے پیسے نہ ہونے پر پرواز کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ہر روز جس کے طیارے گرائونڈ ہونا شروع ہو جائیں پچھلے تین ماہ میں درجن بھر سے زائد طیارے کسی بڑے حادثے کا شکار ہوتے ہوئے بچے جبکہ گذشتہ اور موجودہ دور حکومت میں ایک ہی خاندان کے پاس اس محکمے کا چارج رہا اور طیاروں کی خریداری پر اربوں روپے کا نقصان اس قومی ادارہ کو پہنچایا گیا۔ اور صرف واحد منافع بخش ادارے پی ٹی سی ایل کو بھی اپنی پسند کے ممالک کو بیچ دیا۔نیب کو بے اختیار بنا دیا گیا ہے۔ بیروزگاری سے تنگ افراد کو خودکشیوں پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ سکول، کالج اور ادارے محکمہ صحت کے مراکز بینکوں کو قرضے بانٹنے والی مشین سمجھ لیا گیا ہے جبکہ ملک کا وزیر خارجہ ایک ایسی ہستی کو بنایا گیا ہے جس نے گذشتہ مشرف دور میں پانچ سال اقتدار کے سنگھاسن کا مزہ اٹھایا ہو مگر جسے امور خارجہ سے کوئی واسطہ نہ ہو۔ میں نے اس جیالے سے کہا کہ ٹھہر و یہ سارے الزامات ہماری پیپلزپارٹی اور اس کے وزراء کے ذمے ہی کیوں؟ تو مجھے جیالے نے کہا کہ جب حکومت تم کرتے ہو تو سزا جزا کے حق دار بھی تم لوگ ہی ٹھہرو گے ۔جب اقتدار کے مزے لے رہے ہو تو عوامی احتساب کا بھی آپ ہی کو جواب دینا ہوگا۔ میرے پاس پارٹی سے محبت کرنے والے شہیدوں سے عقیدت رکھنے والے اس جیالے کے سوالوں کے جوابات تو نہ تھے مگر میں سوچ رہا تھا کہ جس پارٹی کے قائد نے اپنی جان قربان کرکے، جس پارٹی کی چیئرپرسن نے اپنے لہو سے اس پارٹی کی آن زندہ رکھی ،آج اسی پارٹی کے جیالے، اس پارٹی کی لیڈرشپ سے اس قدر نالاں ہیں کہ آج اس ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے آگے بڑھنے کو بھی تیار نہیں؟ میں جیالے کی تلخ باتیں سن کر نہ صرف پریشان ہوا۔ بلکہ مایوس بھی ہوا کہ یا اللہ جو بے نظیر بھٹو چاروں صوبوں کی زنجیر تھی جو وفاق کی علامت تھی اس کے چاہنے والے جس دن اس لیڈرشپ سے اس قدر مایوس ہو جائیں گے ۔جس وزیراعظم کے گھر کے افراد پر کرپشن کے الزامات اس قدر عائد کر دیئے جائیں کہ کرپش، کرپشن نہیں کوئی ایوارڈ ، کوئی اعزاز لگنے لگے تو پھر اس پارٹی ، اس کی قیادت سے جیالوں کی یہ ناراضگی۔ جس دن پیپلزپارٹی سے پیار کرنے والوں میں کمی واقع ہونا شروع ہوئی جس پیپلزپارٹی نے اپنے کارکنان کا اعتماد کھونا شروع کر دیا، جس دن پیپلزپارٹی کے جیالے مایوس ہو گئے تو پھر اس دن پیپلزپارٹی کو شاید مزید بچایا نہ جا سکے۔ شاید صدر مملکت آصف علی زرداری شریک چیئرمین کا کردار ادا کریں اور پیپلزپارٹی کے توڑنے میں شریک مجرم کا کردار ادا نہ کریں۔ کیونکہ صدر مملکت کو آج اداروں کو تباہ کرنے والے لوگ ہر طرف دیکھ رہے ہیں کل کو ان کے ساتھ جیل جانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہوگا۔ کوئی وزیر اپنے مال کو ہضم کرنے کے لیے ملک سے بھاگ جائے گا تو کوئی مال چھپانے کے لیے سرکاری گواہ بن جائے گا مگر جب صدر مملکت نظریں اٹھا کر دیکھیں گے تو انہیں اپنی بانہیں پھیلائے ہوئے میں یا پھر میرے جیسا کوئی بھٹوشہید اور بے نظیر بھٹو شہید کا جیالا نظر آئے گا۔ ان کے ساتھ ایک دفعہ پھر جیل کو مسکن بنانے کے لیے؟ صدر مملکت صاحب پاکستان کے قیمتی اثاثہ جات کو نجکاری کے نام پر بیچنے والوں پر نگاہ رکھیے کہ اب تو ہمارے پاس بیچنے اور بکنے کے لیے بچا ہی کیا ہے ؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus