×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تیتر، بٹیر اور روسٹڈ ہرنوں کی دیگیں اور عوامی وزیراعظم
Dated: 19-Nov-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سیانے کہتے ہیں کہ دیگ کا ایک دانہ دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ باقی کے چاول کیسے پکے ہوں گے۔گزشتہ روز ہمارے عوامی وزیراعظم جناب یوسف رضاگیلانی صاحب ایک طوفانی دورے پر ضلع منڈی بہائوالدین پہنچے، جہاں گزشتہ الیکشن2008ء میں پیپلزپارٹی نے کلین سویپ کیا۔ دراصل منڈی بہائوالدین کو پیپلزپارٹی کا موجودہ لاڑکانہ بھی کہا جا سکتاہے۔ پھالیہ، گوجرہ اور منڈی بہائو الدین میں وزیراعظم کو جلسوں سے خطاب کرنا تھا پھر سوموار 14نومبر کو رات جب پیپلزپارٹی کی کورکمیٹی کا اجلاس ہو رہا تھا، وزیراعظم پھٹ پڑے منڈی بہائوالدین سے تعلق رکھنے والے ایک سابق وفاقی وزیر کو کھری کھری سنا دیں کہ منڈی بہائو الدین کے میرے جلسوں میں اتنے لوگ نہیں تھے جتنی دیگیں اور بوفٹ سٹینڈ لگے ہوئے تھے۔ ایک مقامی ایم این اے نے تو سینکڑوں دیگیں، بٹیروں، تیتروں اور ہرن کے روسٹڈ گوشت کی پکائی ہوئی تھیں اور کم از کم 50مختلف انواع کے کھانے سجائے گئے تھے۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق تقریباڈیڑھ کروڑ روپے اس لنچ پر صرف کیے گئے تھے۔ جبکہ موصوف رکن اسمبلی کا یہ شاہی کھانا علاقے کے مکینوں کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پیپلزپارٹی نے 20نومبر کو گوجرانوالہ اور پھر فیصل آباد کے جلسے منسوخ کر دیئے، اس انجام کے خوف سے کہ کہیں ن لیگ اور تحریک انصاف کی لڑائی میں پیپلزپارٹی پٹ نہ جائے؟ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ جس دن وزیراعظم نے منڈی بہائوالدین کا دورہ کیا، اسی روز پیپلزپارٹی کے سابق ضلعی صدر اور سینئرپارلیمنٹیرین چوہدری ظفراللہ تارڑ اور منور تارڑ نے جو پیپلزپارٹی سے خفا تھے اور ق لیگ میں چلے گئے تھے نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ جبکہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو دوسرا بڑا شاک شاہ محمود قریشی سابقہ وزیرخارجہ کی ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں مستعفی ہونے کے اعلان سے لگا۔ ایک اطلاع کے مطابق 14نومبر کے کورکمیٹی کے اجلاس میں اراکین اور ارکان کابینہ کے چہرے بجھے اور اترے ہوئے تھے۔ بدحواسیاں چہروں سے عیاں تھیں بلکہ بیشتر وزراء اور سابق وزراء ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ کتنا وقت باقی ہے؟ ایک جیالے کی اطلاع کے مطابق کچھ وزراء اور مشیروں نے اپنی اپنی فیملیز کو ملک سے باہر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ اپنا سرمایہ تو وہ پہلے ہی بیرون ملک اکائونٹس میں منتقل کر چکے ہیں۔ کچھ بااختیار لوگوں کی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اطلاع ہے کہ بہت سے وزراء اور ارکین اسمبلی کے نام ایگزاسٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیئے گئے ہیں جن کی اطلاع بس ایئر پورٹس پر دینا باقی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہ محمود قریشی کے استعفیٰ کے بعد سیاسی منظرنامہ یکسر بدل گیا ہے۔ پنجاب پیپلزپارٹی کے کچھ اراکین نے صحافی دوستوں کے ذریعے اخبارات میں خبر لگوائی کہ وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں پھر خود ہی پریس کانفرنسز کرکے پیپلزپارٹی کی قیادت پر احسان عظیم کر دیا۔ ابھی آگے چل کر ایسے چند ایک مزید واقعات ہوں گے کہ کچھ فراموش کیے گئے اراکین یہ صدا لگاتے نظر آئیں گے کہ ہم کو روک لو وگرنہ ہم چلے جائیں گے۔ ایسا شاید مرکزی قیادت کی طرف سے پچھلے پونے چار سالوں میں نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے ہوگا جبکہ ابھی تک کی اطلاع کے مطابق پارٹی مرکزی قیادت کو روٹھے ہوئوں کو منانے کی جلدی نہیں ہے کہ سب جانتے ہیں جیالا روٹھ ضرور جاتاہے مگر بیلٹ بکس کے قریب پہنچ کر اسے بھٹو شہید کو دیا ’’وچن‘‘ یاد آ جاتا ہے۔ ایک طرف پیپلزپارٹی کو ذوالفقار مرزا، نبیل گبول اور دیگر ساتھیوں کی طرف سے اندرونی بغاوت کا سامنا ہے جبکہ بہت سے فراموش اور نظرانداز کیے گئے کارکنان اور قیادت پَر تول رہی ہے کہ کب مطلع آبرآلود ہو اور وہ پھر سے اڑان بھر لیں۔ تو دوسری طرف بین الاقوامی محاذ پر بھی پیپلزپارٹی کی قیادت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ خصوصاً اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد کے منصور اعجاز نے ایک پاکستانی سفارت کار کے کہنے پر انتہائی اہم کاغذات مائیک مولن کے حوالے کیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رکن قومی اسمبلی فرح ناز اصفحانی کے خاوند اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سابقہ تھینک ٹینک اور موجودہ حکومت کے واشنگٹن میں سفیر حسین حقانی نے سارا نزلہ انہی پر گرتا دیکھ کر مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ حسین حقانی پر اس سے پہلے بھی سی آئی اے ایجنٹ ہونے کا الزام لگ چکا ہے جبکہ موصوف کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تک بھی نہیں ہے مگر پھر بھی امریکہ میں پاکستان کے سفیر چار سال تک رہے۔ یہ وہی حسین حقانی صاحب ہیں جنہوں نے میاں نوازشریف کی الیکشن کمپین میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جعلی تصاویر بنا کر شہر شہر گائوں گائوں تقسیم کیں۔ ایک جیالا میرے پاس آیا اور کہہ رہا تھا کہ مطلوب بھائی دیکھنا ایسے تمام لوگ جو پیپلزپارٹی سے تعلق نہیں رکھتے ہیں مگر آج پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور کورکمیٹی تک کے رکن بن چکے ہیں ان میں وزراء، اراکین سینٹ و قومی اسمبلی شامل ہیں ۔ بہت سے لوگوں کی سابقہ ڈکٹیٹر مشرف سے خصوصی دوستیاں تھیں جبکہ بعض مشرف کے دور میں بھی وزیر تھے اور آج بھی یہی سیٹیں انجوائے کر رہے ہیں۔ کبھی پیپلزپارٹی، پارٹی قیادت سے وفا آپ کی کریڈبیلٹی سمجھی جاتی تھی مگر موجودہ دور کے تقاضوں نے قوانین اور اصول بدل دیئے ہیں اور بھٹو خاندان اور آصف علی زرداری کو گالیاں دینے والے آج ان کی کابینہ کے وزراء مختلف محکموں کے چیئرمین اور مشیر، سفیر لگے ہوئے ہیں۔مجھے ایک سینئر جیالے نے پوچھا کہ بے شک ہماری موجودہ قیادت ریکنسیلیشن پر یقین رکھتی ہے اور شہید محترمہ کے ’’Logo ‘‘ کے مطابق جمہوریت بہترین انتقام ہے پر عمل کر رہی ہے جس پر ہمیں کوئی اختلاف نہیں مگر بی بی شہید کے قاتلوں کو گرفتار نہ کرنا ،پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکنوں کو نظرانداز کرنا، بی بی شہید سے محبت کا اظہار اور اقرار کرنے والوں کو پارٹی سے نکالنا، وزراء کی فوج ظفر موج کی کرپشن پر خاموش تماشائی بنے رہنا، کارکنان کی بے عزتی پر چپ سادھ لینا، پیپلزپارٹی کو اغیار کا درباری بنا دینا، ملکی دولت لوٹ کر غیرملکی بینکوں میں کائونٹس کھولنا، نوکریاں بیچنا، فیکٹریوں ،کارخانے ،سٹیل مل، پی آئی اے، ریلوے اور متروکہ وقف املاک جیسے ادارے بکنے کے قریب تر ہو جائیں اور تباہ ہو جائیں۔ ملک کی اساس کے محافظ ادارے فوج اور آئی ایس آئی کو قابو کرنے کے لیے غیرملکی آقائوں سے مل کر سازش کرنا۔ اگر یہ سب ریکنسیلیشن اور جمہوریت بہترین انتقام ہے کہ سیاست کا حصہ ہے تو پھر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی روحوں کو شدید اذیت ہو گی جس پر جیالے کارکنان خاموش نہیں رہیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus