×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ذوالفقار علی بھٹو اپنے نظریات کی پاکیزگی پر قربان ہو گئے
Dated: 05-Jan-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com نوائے وقت کے حمیدنظامی ہال میں لگی ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر کی وہ تصویر جو انہوں نے وائی ایم سی اے ہال لاہور میں پیپلزپارٹی کے قیام سے پہلے جناب مجید نظامی صاحب سے ملاقات کے بعد کی ہے۔جس میں جناب مجید نظامی صاحب نے ایک قریبی ریسٹورانٹ میں بیٹھے ہوئے فکرمند ذوالفقار علی بھٹو کو کہا تھا کہ تم اپنی پارٹی اور منشور کا اعلان کرو نوائے وقت کے صفحات آپ کے لیے حاضر ہیں۔اس کے بعد بھٹو کی فتوحات کا دور شروع ہوا اور وہ ایک قوم کے لیے فلسفہ بن گیا۔آج 5جنوری کا دن ہے اور یہ دن بھٹو کی پیدائش کا دن ہے ۔بھٹو کی شہادت کے بعد فرانس کے سابق صدر ولیری جس مارڈ نے بھٹو کے متعلق ان خوبصورت الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ میں آپ کو تھوڑا سا پیچھے 30 جولائی 78ء میں واپس لے جانا چاہتا ہوں۔ ایلسی پیلس میںمجھے ایک خط ملا جو مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے راولپنڈی کے جیل خانہ سے بھیجا تھا۔ اس کا آغاز ان الفاظ سے ہوا تھا ’’موت کی اس کالی کوٹھڑی کی آہنی سلاخوں سے اگر میرے لئے باہر ہاتھ نکالنا اتنا مشکل نہ ہوتا تو میں بہت پہلے آپ کو اپنی طرف سے گرم جوش مبارکباد اور تہنیت پیش کرتا‘‘ یہ ایک ایسے انسان نے لکھا تھا جو موت کی دہلیز پر کھڑا تھا، ایک ایسے فرد نے لکھا تھا جو مجاہد تھا۔ اس میں بڑے شاندار اور خوبصورت الفاظ میں انہوں نے اپنی زندگی کی جدوجہد کے لئے اسباب کی نشاندہی کی تھی۔ جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے ان فوجی آمروں کی آمریت کی مذمت کی تھی ’’جو نظم و ضبط کے نام پر اقتدار پر قابض ہو جاتے اور پھر بدنظمی پیدا کرتے ہیں‘‘ اس میں عوام کے نام پر ایک آتشیں، ناقابل مفاہمت آزادی کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان نازک لمحات میں اس قسم کا خط لکھنے کے لئے انتہائی غیر معمولی، اور مضبوط روح کی ضرورت ہوتی ہے جو شکست اور خوف سے بالاتر رہ سکے۔ درحقیقت خود مسٹر بھٹو کی خواہش تھی کہ ان کا لہو، ان کے اپنے الفاظ میں۔’’اس برصغیر کے نوجوان مردوں اور نوجوان عورتوں میں بیداری کی لہر دوڑانے کے کام آئے‘‘ موت کے مقابلہ میںانکا حوصلہ، زندگی سے مختلف چیز نہیںتھا، بلکہ مستقبل پر اپنے مکمل یقین کا اظہار تھا۔ اپنی مثالی موت کے ذریعے سے، انہوں نے اس امر کی خواہش کی تھی اور اس میں کامیابی حاصل کی تھی کہ ایسے نظریات اور ایسی اقدار فروغ پائیں جن کا نفاذ، ان کی رائے میں پاکستان کی خوشحالی اور تمام ترقی پذیر ممالک کی ترقی کے لئے ضروری تھا۔ جولائی 1977ء میںجب ایک فوجی انقلاب کے ذریعے ان کا تختہ الٹ دیا گیا ان کے دوستوں نے تجویز کیا کہ وہ کسی بیرون ملک میں پناہ حاصل کرلیں۔ لیکن ان گھنائونے الزامات کے مقابلے میں جو ان کی ذات پر لگائے گئے تھے انہوں نے آزمائش کے وقت اپنے وقار کے تحفظ کو ترجیح دی حالانکہ اس مقدمے کا فیصلہ پیشگی ہی کرلیا گیا تھا۔ ان کے لئے سزائے موت کا فیصلہ کا تعین ہو چکا تھا۔ وہ جنرل ضیاء سے جو اس وقت چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رحم کی اپیل کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے نہ صرف خود انکار کر دیا، بلکہ اپنے خاندان کو بھی ہدایت کی کہ وہ کسی بھی حالت میں رحم کے اس طریق کار سے رجوع نہ کریں ان کی ان خواہشات کے باوجود میں نے ان کے لئے رحم کی اپیل کرنا چاہی لیکن بھٹو نے انکار کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو انصاف چاہتا تھا، جو انہیں ملنا چاہئے تھا اور اس وقت ڈاکٹر نیازی نے مجھے لکھا ’’مسٹر بھٹو کا مقدمہ کوئی معمولی مقدمہ نہیں تھا۔ مسٹر بھٹو کوئی عام ملزم نہیں تھا اور مسٹر بھٹو کی سزا بھی وہ عام سزا نہیں ہے جو ایسے مقدمات میں دی جاتی ہے‘‘ ان الفاظ میں وہ سب کچھ کہہ دیا گیا تھا جو کہا جاسکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی موت ’’کوئی عام سزا نہیں تھی‘‘ سے اس المیہ کا اظہار ہوتا ہے جس میں نفرت اور تشدد ہی حرف آخر بن جایا کرتے ہیں۔ بھٹو کی سیاسی زندگی ایسے اسباق سے بھرپور ہے جن سے جدید پاکستان اپنے درپیش مسائل میںرہنمائی حاصل کر سکتا ہے ان مسائل میں جن کی جڑیں آپ کے عوام کی طویل تاریخ میں گہرائیوں تک اتری ہوئی ہیں مسٹر ذوالفقار علی بھٹو اپنے ملک کی علاقائی پوزیشن کو بحال کرنے میںکامیاب ہوئے حالانکہ اس ملک کو ایک فوجی تصادم سے سخت نقصان پہنچا تھا۔ ان میں اتنا سیاسی حوصلہ تھا کہ وہ ایک نئی ڈپلومیٹک صورت حال کی تشکیل کا چیلنج قبول کریں۔ ایسے اقدامات و علامات کا اظہار صرف وہ باصلاحیت دانشور کر سکتے ہیں جو پرانے نظم سے ناطہ توڑنے اور ایسی نئی راہیں تلاش کرتے ہیں جن پر چل کر قوم اپنی ترقی کی خواہش کو پورا کر سکے۔ نپولین اور چارلس ڈیگال کی طرح وہ عظیم رہنما جن کی تعریف بھٹو بھی کرتے تھے۔ خود ذوالفقار علی بھٹو نے بین الاقوامی توازن قوت کا عالمی جائزہ لیا۔ ایک ایسا جائزہ جس کے تحت وہ مختلف ممالک سے مہارت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے قابل ہوئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ دو سپر طاقتوں کی دنیا جو آخری عالمی جنگ کے نتیجہ میں وجودمیںآئی، اب ایک نئی دنیا کے لئے راہ ہموار کر رہی ہے۔ جو زیادہ پیچیدہ دنیا ہو گی اور اس نئی دنیا میں ترقی پذیر ممالک کو زیادہ سے زیادہ کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ماہر ڈپلومیٹ کے انداز میں چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات، سوویت یونین پر برے اثرات کے بغیر تعلقات استوار کئے انہوں نے امریکہ کے ساتھ اور مغربی یورپ کے ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعاون کے سلسلے جاری رکھے تاہم انہوں نے بعض اشارے دینے میں بھی کوئی جھجک محسوس نہیں کی، جیسا کہ دولت مشترکہ چھوڑنے کا فیصلہ۔ اس معاملے میں بھی انہوں نے چارلس ڈیگال جیسی فہم و فراست کا ثبوت دیا۔ بڑی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی یہ خواہش، قریبی ہمسایوں کے ساتھ قابل اعتماد تعلقات کی یہ صلاحیت، اس سے فائدہ اٹھانا اور تاریخی تبدیلیوں پر اثر انداز ہونا۔ یہ سب جدید دنیا کی ذہانت کی علامات ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو ان سب سے اتنے بہرہ ور تھے جتنا کوئی اور سیاست دان نہیں تھا ملک کی اندرونی سیاسیات میں ان کی یہ صلاحیتیں بڑی خوبی سے اجاگر ہوئیں۔ ’’ایک نئی دنیا میں ایک نیا ملک پیدا کرنے کے سلسلہ میں وہ ایک قوم کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوئے، اور یہ ثابت کرنے میں بھی کہ یہ قوم زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے وہ اس امر سے آگاہ تھے کہ انہوں نے مذہبی، سیاسی اور اقتصادی حقائق میں مفاہمت پیدا کرنا ہے۔ بعد میں پیش آنے والے واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اس معاملہ میں کتنا صحیح انداز فکر رکھتے تھے۔‘‘’’پاک لوگوں کے وطن میں‘‘ جو اسلام سے گہری وابستگی رکھتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ایسی جمہوری حکومت کی تشکیل کی خواہش کی جو آئین پر مبنی ہو، بدقسمتی سے اس سلسلہ میں ان کا راستہ روکا گیا۔ اسی طرح ان کی بڑی بڑی اصلاحات ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ عملاً فوجی، قانون کا خاتمہ، سیاسی قیدیوں کی رہائی، کم سے کم اجرتوں کا تعین۔ طبی بیمہ، کارکن کی ریٹائرمنٹ پر پنشن کا نظام اور مزدوروں کے ہڑتال کے حق کو تسلیم کرنا، اس سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ واقعات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ بھٹو کے خدشے درست تھے۔ ان کی موت کے ساتھ ان کا وقار اور ان کا بے مثال حوصلہ بھی سامنے آتا ہے۔ اور وہ مستقبل کے لئے امید کی کرن بنتے ہیں۔ ان کے نظریات نے جو ان کے عوام نے سنبھال لئے ہیں، انہیں زندہ رکھا ہے۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پالیسیوں کی بنیادیں عارضی قسم کی آراء پر نہیں رکھی تھیں، بلکہ وہ ایسی اقدار پر مبنی تھیں جو ان کے پائیدار ہونے کی ضامن تھیں۔ دو ہزار سال پہلے ’’پال ‘‘نے جو سوال کیا تھا کہ ’’او موت تیرا ڈنک کہاں ہے؟‘‘اس سوال کے بہت سے جواب ممکن ہیں میں ان میں سے اس جواب کا انتخاب کرتا ہوں جو بھٹو کی موت پر صادق آتا ہے اور میں یہ جواب فرانس کے فلاسفر ’’آگستے کانٹے‘‘ سے مستعارلے رہا ہوں۔’’مردہ زندوں پر حکومت کرتا ہے۔‘‘جی ہاں، وہ اب بھی ان پر حکومت کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے نظریات کی پاکیزگی کے لئے مارے گئے۔ کیونکہ ان کو اس لئے پھانسی دی گئی کہ وہ ایک ایسی لڑائی لڑ رہے تھے جسے وہ اپنے وطن کے لئے مفید سمجھتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنی بیٹی کی شخصیت کی صورت میں خود واپس آنے میں کامیاب ہیں۔ یہ تاریخ کے آواگون کے پراسرار سلسلوں میں سے ایک ہے۔میں یہاں ذوالفقار علی بھٹو کا پیغام آپ کو پہنچاتا ہوں۔ مجھے ان کے خط کا آخری پیراگراف پڑھنے کی اجازت دیں۔ ’’اگر میں زندہ رہا تو ہم بلاشبہ آگے بڑھتی ہوئی روشن خیال انسانیت میں حصہ دار ہوں گے۔ اگر میں مر گیا تو میری دعا ہے کہ زیادہ بہتر لوگ اس نامکمل کام کو پورا ہونے کے لئے آگے آئیں۔ اور میرے عوام کو قابل رحم غربت سے نجات دلائیں۔ ایک ’’سزا یافتہ قاتل‘‘ کی حیثیت سے میں آپ کو دوست کہنے کا حوصلہ تونہیں پاتا لیکن آپ میرے جذبات اور مبارکباد میری قوم اور اپنی عوام تک پہنچا دیں۔‘‘مسٹر ولیری جس مارڈ نے لکھا ہے کہ شکریہ ذوالفقار علی بھٹو۔ تم کیا تھے اور تم نے کیا کیا تھا؟ انسانیت کے لئے تم نے ایک مثال قائم کر دی۔ اور اب میری باری ہے کہ میں تمہیں نجات دہندہ قرار دوں۔ اب تم تک اپنا ہاتھ پہنچانا، موت کی کوٹھڑی سے ہاتھ باہر نکالنے سے بھی زیادہ مشکل ہے لیکن میں دل کی گہرائیوں سے یہ امید رکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ ایک نہ ایک روز ذوالفقار علی بھٹو سے میری ملاقات لازماً ہو گی۔ آج پھر ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ پاکستان کی اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ بیشک کچھ لوگ اس کے حق میں ہیں اور کچھ مخالف مگر کیا پاکستان کے بیس کروڑ عوام کا حق نہیں ہے کہ وہ یہ جان سکیں کہ ’’صدیوں کا بیٹا ‘‘ مجرم تھا یا راہبر؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus