×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اقتدار زدہ سیاسی ’’سی فوڈز‘‘
Dated: 28-Jan-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ 85ء کے انتخابات کی کرامات تھیں کہ سیاست میں وہ طبقہ عود کر آیا جس نے ایک ایسی روش کی بنیاد رکھی جو کہ اس سے پہلے پاکستان کی سیاست میں متعارف نہ ہوئی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے مفادات کے طابع آئین اور قانون لا کر ایوب خان کے ’’ایبڈو‘‘کی طرح سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی اور ایک سیاسی عمل کو بظاہر غیر سیاسی بنانے کی داغ بیل ڈالی مگر اس پراسیس میں ایک ایسا طبقہ سیلاب کے ریلے کی طرح اقتدار میں آ گیا جس کے نقوش آج 27برس بعد بھی پاکستان کی سیاست میں بغور دیکھے جا سکتے ہیں۔ سیاسی عمل معطل ہونے کی وجہ سے غیر سیاسی ،نان پروفیشنل ،نودولتیوں اور بلیک کی کمائی اکٹھی کرنے والوں لوگوں نے اقتدار کی راہداریوں پر قبضہ کر لیا اور جن کی ایک بڑی تعداد کو ہوس اقتدار سے آج بھی جدا نہیں کیا جا سکا۔ یہ 85ء کے الیکشن کی ہی کرامات تھیں کہ 88ء کے الیکشن کے بعد منتخب نمائندوں کو چھانگا مانگا کے جنگل کی سیر بھی کروائی گئی بہرحال یہ طبقہ جو اقتدار کے بالاخانوں میں گھس آیا آج بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ دراصل جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح یہ اقتدار زدہ طبقہ جس کی رگ رگ میں اقتدار رچ بس گیا ہے اقتدار کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ غیر جماعتی الیکشن کے بعد 88ء کے الیکشن سیاسی بنیاد پر ہوئے تو 85ء کی اسمبلی کے تمام قومی و صوبائی اور سینیٹ اراکین نے سیاسی قلابازیاں کھا کر اپنی نئی سیاسی آغوش ڈھونڈ لی اور تقریباً80فیصد پرانے اراکین سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر قائم اسمبلیوں میں بھی پہنچ گئے۔بلند و بانگ دعوے کرنے والی جمہوری جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے دبائو کو برداشت نہ کر سکیں ہمیشہ کی طرح سیاسی روایات کا اعادہ کرتے ہوئے ہمارے اس وقت کے سیاسی قائدین سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کھلونا بن گئے اور اسٹیبلشمنٹ کے چہیتوں کو کسی نہ کسی روپ میں دوبارہ اسمبلیوں میں لے آئے۔88ء کے بعد 90ء اور93ء پھر97ء تک تمام کھلاڑی تقریباً وہی تھے جو 85ء کے الیکشن میں سامنے لائے گئے تھے۔ 96ء میں بننے والی تحریک انصاف جس کے اول و آخر عمران خان صاحب ہی تھے اپنے قیام کے بعد پہلے ہی الیکشن کا بائیکاٹ کرکے سیاسی کھلاڑیوں کی نظروں میں اپنا اعتماد کھو بیٹھے ، یہی وجہ ہے کہ 2002ء میں تمام تر توانائیوں کے باوجود تحریک انصاف کے چیئرمین جو پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں مینار پاکستان کے جلسے میں نہ صرف اس کی حمایت کا اعلان کر چکے تھے بلکہ پرویز مشرف کو ان کی مکمل سپورٹ بھی حاصل تھی وہ صرف اپنی ہی سیٹ سے کامیاب ہو سکے۔ اس طرح علامہ ظاہر القادری کے ساتھ بھی تقریباً ایسا ہی ہوا۔ کیونکہ مشرف کے حصول اقتدار کے بعد وہ چہرے جن کے خلاف مشرف نے اعلان کیا تھا کہ کڑا احتساب کیا جائے گا وہی لوگ اس کی ٹیم کے سینٹرل فارورڈ کھلاڑی بن گئے بلکہ میاں اظہر جو تب مسلم لیگ کے روح رواں اور قائد تھے کو 2002ء کے الیکشن میں ہروادیا گیا اور پوری کی پوری مسلم لیگ جو کہ مشرف کی چھتری تلے جمع ہوئی تھی، پکی پکائی دیگ کی طرح چوہدری برادران کے دامن میں آ گِری چونکہ ایک آمراور ڈکٹیٹر کو بہت سے لوگوں کو نوازنا ہوتا ہے اس لیے ہر آمر ’’بانٹنے ‘‘کے لیے بلدیاتی نظام کا سہارا لیتا ہے جس طرح ایوب خان اورجنرل ضیاء کے دور میں بھی ہوااور جن لوگوں کو صوبائی ،قومی و سینیٹ کا رکن نہ بنوایا جا سکے انہیں چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل یا ناظم بنا دیا جاتا رہا۔ اس طرح نوازے جانے والے افراد کی فہرست طویل سے طویل ہوتی چلی جاتی ہے اور اقتدار کے گندے پانی کے تالاب میں اقتدار کی لالچی مچھلیوں کی افزائش کا سامان پیدا ہوتا رہتا ہے۔ 27دسمبر 2007ء کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت نے ق لیگ کے چوہدری برادران اور جنرل پرویز مشرف کے بنائے ہوئے پلان کی کشی ڈبو دی اور ایک بھاری بھرکم سرمائے سے بنائی جانے والی یہ فلم ’’فلاپ ‘‘ ہو گئی۔ ڈکٹیٹر کی اس فلم کے پِٹ جانے کی وجہ سے اس کہانی کے تمام اراکین بھی ’’جاب لِس‘‘ ہو گئے۔ اسمبلیوں سے باہر بیٹھنے والے افراد اپنی تمام تر خواہشات کے باوجود اپنے چہرے سے اقتدار کی دوری کو نہ چھپا سکے اور ان کے لیے پانی سے باہر بیٹھنا ایسے ہی تھا جیسے مچھلی کو پانی سے باہر پھینک دیا جائے۔یہ تمام لوگ جو نسل در نسل اقتدار کے ایوانوں کے رہائشی رہے تھے چار سال تک ایوان سے باہر بیٹھناان کو عذاب لگنے لگا۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ نے بھی اپنے کھیل کھیلنے کے لیے منصوبے بندی شروع کر دی اور میدان سیاست کے تمام ’’پِٹے ‘‘ہوئے کھلاڑی نئے عزم ،نئی تاش اور نئی شطرنج کے ساتھ پھر سرگرم ہو گئے۔ مگر اس دوران پیپلزپارٹی کی نااہل قیادت بشمول وزیراعظم اور ان کی کرپٹ کابینہ کی طلسماتی کرپشن کی کہانیوں اور ن لیگ کی قیادت کے بروقت کے فیصلہ نہ کرنے اور میاں برادران کی خوش فہمی اور اس زعم میں مبتلا ہونا کہ تمام سیاسی و غیر سیاسی بیماریوں کا شافی علاج صرف ان کے پاس ہی ہے ،کواس موڑ پر لاکھڑا کیا کہ وہ تحریک انصاف جو نوابزادہ نصر اللہ مرحوم کی پارٹی کی طرح تانگے کی پارٹی کہلاتی تھی وہ تحریک انصاف جو 30اکتوبر کے بعد ملکی سیاسی موسم میں ایسے ابھر کر سامنے آئی جیسے بارش کے بعد کھمبیاں نکل آتی ہیں۔ شروع میں تحریک انصاف کے دھرنوں تک تو اس ملک کے نوجوان طبقے کو ایسے لگا جیسے ایک نیا پلیٹ فارم مل گیاہو ،مگر بات جب دھرنوں سے آگے لاہور ،گھوٹکی اور کراچی کے جلسے اور ریلیوں تک پہنچی تو عمران خان صاحب اپنی ہی تخلیق کی ہوئی ’’سونامی‘‘ میں بہہ گئے۔ سامراج، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف لڑنے کا عزم لے کر آنے والے عمران خان سے ان کی اپنی ہی یوتھ پوچھنے لگی کہ آپ نئی بوتل میں پرانی شراب بیچنے لگے ہیں؟ ملتان سے ایک سابق وزیر خارجہ اور جاوید ہاشمی سمیت دو مخدومین ڈیرہ غازی خان سے جمال لغاری،اویس لغاری ، سکندر بوسن ، رحیم یار خان سے ظفر وڑائچ او رمشرف کے دیرینہ ساتھی جہانگیر ترین ،سینٹرل پنجاب منڈی بہائوالدین سے تارڑ برادران، شیخوپورہ سے ورک فیملی و ڈوگر خاندان، لاہور سے میاں اظہر سمیت درجن بھر ’’پِٹے‘‘ ہوئے چہرے اورسرگودھا،بھلوال سے غلام دستگیر لک، قریشی برادران اور احسان پراچہ اور ان کے خاندان کے سبھی سابقہ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی جنہیں پارٹیاں بدلنے پر عبور حاصل ہے اور میانوالی سے نیازی گھرانے کے انعام اللہ نیازی ،قصور سے دوسابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور سردار احمد آصف علی اور باقی شہروں اور قصبات تک جہاں جہاں PTI پہنچے گی ق لیگ کے سابقہ عہدے داران اور ٹکٹ ہولڈران کا ریلا عمران خان کی سونامی میں تبدیل ہوتا چلا جائے گا۔ کیا ہمارے معزز ہیرو یہ نہیں سمجھتے کہ کھدر کے اس ’’تھان‘‘ پر وہ بوسکی کی مہریں لگا کر نہیں بیچ سکتے؟ کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اس انفرمیشن ٹیکنالوجی دور کے نوجوانوں سے جو اب ہمہ وقت ’’آن لائن‘‘ رہتے ہیں ان سے اس کمپیوٹرائزڈدور میں کچھ چھپانا ممکن نہیں رہا۔اور ایک دوسری بات یہ کہ عمران خان صاحب سونامی لانا چاہتے ہیں تو سونامی دراصل تباہی، بربادی اور سب کچھ لپیٹ کر بہا لے جانے کا نام ہے ۔ ہمارے معزز انقلابی ہیرو تبدیلی لانا چاہتے ہیں یا پھر گاجر مولی کی طرح انسانوں کو کاٹ کاٹ کر انقلاب لانا چاہتے ہیں؟ اور پھر جس ہم سفروں کے ساتھ انہوں نے منزل پانے کا تہیہ کیا ہے اور انقلاب کا خواب دیکھا ہے وہ اس راہ کے مسافر ہی نہیں۔ پارٹیاں بدلنے والے لوٹا ذہن سازشیوں کے ساتھ عمران خان صاحب کیاکشمیر فتح کرپائیں گے؟اور یہ حقیقت ہے کہ سیاست کے میدان کے شاطر کھلاڑیوں میں کہیں عمران خان صاحب کی اپنی شخصیت دب کے نہ رہ جائے اور وہ رو رو کے گلی کوچے میں گاتے پھریں ’’رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی‘‘عمران خان صاحب! یاد رکھیے سونامی کی خواہش میں ایسی ہوس اقتدار زدہ مچھلیاں آپ نے اکٹھی کر لی ہیں جو دراصل سیاست کے پُراسرار سمندر کا ’’سی فوڈز‘‘ ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus