×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ڈاکٹر علامہ اقبالؒ اور ڈاکٹر مارٹن لوتھر گنگ کے خواب
Dated: 09-Nov-2008
مسلمان اور ہندو انگریز کی غلامی سے آزادی چاہتے تھے جس کے لیے مل کر جدوجہد کر رہے تھے۔ ہندو قیادت کی تنگ نظری دیکھ کر مسلمانوں نے انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندو کی غلامی میں چلے جانے کو ایسے ہی جیسے آسمان سے گرا کھجور پہ اٹکا کے مترادف سمجھا۔ سب سے پہلے الگ وطن کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا۔ حضرت علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا تصور پیش کیا جہاں مسلمان اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ جہاں ان کی مسجدیں نہ گرائی جائیں، اذانوں پر پابندی نہ ہو، ہندو گائے کو ماتا کا درجہ دیتے ہیں، مسلمان اس کا گوشت کھاتے ہیں۔ ہر سال عید قربان پر گائے ذبح کرنے پر ہندو آپے سے باہر ہو جاتے پھر فسادات کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ ان مسلم کش فسادات میں ہر سال سینکڑوں لوگ گائے ماتا کے ساتھ ذبح ہو جاتے تھے۔علامہ اقبال کے ذہن میں ایک ماڈل اسلامی ریاست کا خاکہ تھا ان کے الگ ریاست کے تصور کے بعد مسلمان آزاد مملکت کے حصول کی جدوجہد میں جُت گئے۔ فرزند اقبال کے بقول حضرت علامہ اقبال کے ذہن میں الگ ریاست کا خاکہ اس طرح آیا کہ جب مسلمانوں نے نبی اکرمﷺ کے دور میں ہجرت مدینہ کی اور اپنے لیے ایک ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔اور پھر 23مارچ 1940ء کو لاہور میں قراردادپاکستان پیش کر دی گئی اور اس خاکے کا جس کا کے تصور انہوں نے دیکھا تھا اب وہ ایک خواب نہیں ایک خواہش بن چکا تھا جس میں رنگ بالآخر حضرت علامہ اقبال کی وفات کے 9سال بعد حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاکھوں جانوں کی قربانی دے کربھرا۔1947ء کو علامہ اقبال کے خواب کو تعبیر مل گئی۔ ایسا ہی خواب امریکہ میں سیاہ فاموں کے لیڈر ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ نے دیکھا تھا۔ وہ امریکہ میں سیاہ فاموں کے لیے گوروں کے برابر حقوق چاہتے تھے۔ 60 کی دہائی کے شروع تک سیاہ فام گوروں کے عتاب کا شکار تھے۔ وہ امریکہ میں پہلی بار اپنے حقوق کے لیے لڑے۔ڈاکٹر مارٹن چاہتے تھے کہ گورے اور سیاہ فام بانہوں میں بانہیں ڈال کر امریکہ کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کریں۔ لیکن گوروں کو سیاہ فاموں کی برابر گوارہ نہ تھی پھر یہ واقعہ تاریخ کے نقشے پر ایک بدنما داغ بن گیا جس دن سفید فام اکثریت نے ٹینکوں سے مسلح ہو کر سیاہ فاموں کی بستیوں پر چڑھائی کر دی اور ہزاروں سیاہ فاموں کو کچلتے ہوئے آزاد ی حقوق کی اس تحریک کو دبانے کی کوشش کی۔لیکن ان کی تحریک کو ختم نہ کیا جا سکا۔ ڈاکٹر مارٹن پرامن جدوجہد کے ذریعے حقوق حاصل کرنے کے قائل تھے ان کی اسی جدوجہد کے پیش نظر ان کو 1964ء میں نوبل انعام دیا گیا وہ اپنی منزل کی طرف دھیرے دھیرے بڑھ رہے تھے کہ ایک انتہا پسند گور ے نے 1964ء میں ان کو قتل کر دیا ان کی جدوجہد کو دیکھ کر جیسی جیکسن جیسے جرأت مند رہنما آگے بڑھے اور اس کے ساتھ ہی سیاہ فام مسلمانوں کی تنظیم جو کہ علی جاہ محمد کی سربراہی میں منظم ہے اور جس میں میلکم ایکس جیسے شہرہ آفاق لیڈر موجود تھے انہوں نے تحریک اپنے ہاتھوں میں لے لی اور یہ لوگ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ مارٹن لوتھر کی جدوجہد اور تحریک سے اس امریکہ میں جہاں پر سیاہ فام کے لفظ کا مطلب ہی غلامی تھا وہاں پر آہستہ آہستہ سیاہ فاموں کے ان علاقوں میں جہاں وہ اکثریت میں تھے ان کے میئرز بننا شروع ہو گئے اور وہ آہستہ آہستہ سینیٹرز بھی بننے لگے۔ باراک حسین اوباما بھی سینیٹر ہیں۔ آج تک امریکہ جس کی 52ریاستیں ہیں ان میں کوئی سیاہ فام صدر تو کیا کسی ریاست کا گورنر بھی نہیں بن سکا۔آج مارٹن لوتھر کنگ کی جدوجہد کا باراک حسین اوباما منہ بولتا ثبوت ہے۔امریکہ میں سیاہ فام جو کہ ٹیلنٹ سے بھرپور نسل ہے اور جہا ں پر نسلی تعصب کی بنا پر عظیم باکسر محمد علی اور مائیک تائیسن اور شہرئہ آفاق سنگر مائیکل جیکسن کو نسلی تعصب کی بنا پر نہ صرف قیدوبند کی صعوبتوں بلکہ معاشی طور پر بھی نقصان پہنچایا گیا۔ امریکہ میں 15فیصد سیاہ فام ہیں جو بکھرے ہوئے تھے۔ اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے باعث وہ دکھی، ناراض اور دلبرداشتہ تھے۔ ایک دفعہ میری ملاقات جیسی جیکسن سے ہوئی جو کہ سیاہ فاموں کے لیڈر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنما ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ میں ہر دفعہ امریکہ میں اپنے وزٹ کے دوران محسوس کرتا ہوں کہ ملک کی سیاہ فام آبادی کام نہیں کرتی یا کم از کم ان کاانحصار حکومت کی طرف سے ملنے والی سوشل ویلفیئر سکیموں پر ہوتا ہے تو جیسی جیکسن صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ جو تم امریکہ میں بڑی بڑی زیر سمندر سرنگیں اور میلوں لمبے پُل دیکھ رہے ہو ان کی بنیادوں میں سیاہ فام غلاموں کا خون شامل ہے مگر ان کو جب نظرانداز کیا گیا تو آنے والی نسلوں میں اپنے آپ کو ملکی معاملات سے لاتعلق کر لیا۔اکثر سیاہ فاموں نے تو ووٹ کبھی بنوایا ہی نہیں اگر کچھ نے بنوایا بھی تو اس کا استعمال نہیں کیا۔ کل ٹی وی کی سکرین پر بار بار ایک فوٹیج دکھائی جا رہی تھی جس میں جیسی جیکسن منہ میں انگلی ڈالے اور اس کی آنکھوں میں آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی نظر آ رہی تھی میں یہ سوچ کر محسوس کر رہا تھا کہ جیسی جیکسن کے یہ آنسو دراصل 16 ویں صدی سے لے کر 2008ء تک امریکہ کے اندر غلاموں کی طرح بکنے والے سیاہ فاموں کی کامیابی کے موقع پر خراج تحسین کی صورت میں بہہ رہے تھے۔ پھر جیسی جیکسن اورباراک اومابا کی جدوجہد کو دیکھا جائے تو انہوں نے سیاہ فاموں کو ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور اس دفعہ 2008ء کے الیکشن میں زیادہ تر نوجوانوں نے ووٹ کاسٹ کیے جن میں اکثریت سیاہ فاموں کی ہے۔ جہاں امریکی سیاہ فام متحد ہوئے وہیں گوروں اور برائون لاطینی امریکن آبادی نے بھی بش کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا۔ نوجوان نسل کو اومابا میں امریکہ کا روشن مستقبل نظر آیا وہ جوق در جوق نکلے اور اسے منصب صدارت پر متمکن کرکے گھروں کو شادیانے بجاتے ہوئے لوٹے۔ کسی سیاہ فام کا صدارت کے منصب تک پہنچ جانا مارٹن لوتھر کنگ کا خواب تھا جس کو تعبیر دینے کے لیے انہوں نے عشروں تک انتظار کیا۔ جس طرح حضرت علامہ اقبال کی روح 14اگست 1947ء کو اپنے تخیل کے مطابق آزاد اسلامی مملکت کے معرضِ وجود میں آنے پر مطمئن اور خوشی تھی اس طرح آج 45سال بعد ایک سیاہ فام کے امریکہ کا صدر بننے پر مارٹن لوتھر کنگ کی روح بھی مطمئن اور شاداں وفرحاں ہو گی۔ اپنی کامیابی کے بعد باراک حسین اوباما کہہ رہے تھے کہ امریکہ کے اندر نہ کوئی بلیو (ڈیموکریٹک پارٹی کے جھنڈے کا رنگ)اور نہ کوئی ریڈ(ری پبلکن پارٹی کے جھنڈے کا رنگ)ہے ہم ریڈ سٹیٹ اور بلیو سٹیٹ کی بجائے یونائیٹڈ سٹیٹس ہیں۔ ہم ذرا ماضی کی طرف چلے جائیں تو ہم مسلمانوں کی شاندار تاریخ بھی ایسی ہی روایات سے بھری پڑی ہے کہ جب حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺنے کہا تھا کہ تمام انسان برابر ہیں کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ آج اومابا نے نبی اکرم ﷺ کی تقلید کرتے ہوئے یہی الفاظ دہرائے۔(آخر اس کی رگوں میں مسلمان خون موجود ہے) امریکی گوروں نے اوباما کو صدر منتخب کرکے نسلی دیواریں گرا دیں۔ امریکہ کو تقسیم ہونے سے بچا لیا۔ یہ امریکی عوام کا عظیم کارنامہ ہے۔ کل جب 20جنوری کو وہائٹ ہائوس میں سیاہ فام صدر حلف اٹھانے جا رہا ہوگا تو یہ منظر کتنا دلفریب ہو گا۔پچھلے تقریبا8سالوں سے امریکہ گورنمنٹ کو اپنے شہریوں کو ٹریولنگ وارننگ دینا پڑتی ہے کہ کون سے ملک کا سفر کرو دنیا میں کس خطے میں جائو اور کس میں نہیں اور امریکہ کے 32کروڑ عوام خوف کی فضا میں جی رہے ہیں۔ ان کی زندگی کو خطرہ ہے یہ سب گذشتہ امریکن حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔نئی حکوت کو انہی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی آج پوری دنیا میں اوباما کی کامیابی کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ نئی منتخب امریکی حکومت کو چاہیے کہ اپنے شہریوں کو امن سے ہمکنار کرے۔ دنیا کو امن سے ہمکنار کرے۔اگر اسلامی دنیا میں خصوصاً عراق،افغانستان، ایران،شام اور پاکستان پوری دنیا میں اپنا ایک الگ مقام اور اثر رکھتے ہیں اگر ان ممالک میں امن قائم نہ ہو سکا تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ کہیں بھی امن قائم کیا جا سکے گا۔اب امریکہ کو جیو اور جینے دو کے اصولوں کو اپنا کر اپنے عوام اور دنیا بھر کے عوام کو معاشی ترقی دلانے کے لیے لفظ ’’جارحیت اور دہشت گردی‘‘کے مفہوم کو بدلنا ہوگا۔آج خود امریکی معیشت ڈانواڈول ہے اس کو کسی بھی ملک سے زیادہ امن کی ضرورت ہے۔ اومابا نے خود کہا ہے کہ وہ دنیا میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں گے۔ ان کی پہلی تقریر کو بہترین قرار دیا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا کی نظریں اسی پر لگی ہیں کہ انہوں نے جو کہا ا س پر عمل بھی کرکے دکھا دیں۔ اگر ایسا ہوا تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ میں یہاں پر یہ بھی سمجھتا ہوں کہ جس طرح سابق صدر مشرف کی غلط پالیسیوں کے باعث وہ ق لیگ جو پانچ سال اقتدار کو انجوائے کرتی رہی اور جس نے اپنی انتخابی مہم اربوں روپوں کے فنڈ سے شروع کی اس کو 18فروری کے دن جس عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستان کے عوام ق لیگ اور مشرف میں کوئی فرق نہیں سمجھتے اسی طرح 4نومبر کو ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مکینن نہ صرف جہاندیدہ،تجربہ کار اور ایک بڑی سیاسی اپروچ رکھتے تھے اور ری پبلکن پارٹی جس کی اپنی جڑیں عوام کے اندر بڑی مضبوط ہیں صرف اس لیے الیکشن ہار گئی کہ اس کی سربراہی جارج ڈبلیو بش کر رہے تھے۔ 18فروری اور 4نومبر کے واقعات میں مماثلت نہیں بلکہ رشتے داری ہے اور دونوں تاریخوں کے رزلٹ ایک ذی ہوش کے لیے خلاف توقع نہیں۔ حضرت علامہ اقبال نے آزاد اسلامی مملکت کے قیام کا خواب دیکھا پاکستان اس خواب کی خوبصورت تعبیر ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ نے سیاہ فاموں اور گوروں کی برابری کا خواب دیکھا باراک اوباماکا صدر بن جانا اس خواب کی خوبصورت تعبیر ہے۔ بدقسمتی سے دونوں شخصیات اپنے اپنے خواب کی تعبیر دیکھنے کے لیے دنیا میں نہیں ہیں۔اور یہ قدرت کا کس قدر خوفناک انتقام ہے کہ بش نے جس ’’حسین‘‘کو نیست و نابود کرنے کے لیے عراق پر چڑھائی کی اور ’’حسین‘‘ کو پھانسی چڑھادیااور 20جنوری کو جب وہ ’’حسین‘‘ امریکہ کا 44 واں صدر بن کر حلف اٹھا رہا ہوگا تو جارج ڈبلیو بش اور اس کے حواریوں کے دل پر کیا بیت رہی ہو گی۔یہی مکافاتِ عمل ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus