×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اور کرسی لڑھک گئی
Dated: 21-Mar-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com صدر مملکت کا ہر سال پارلیمنٹ سے خطاب ضروری بلکہ آئینی مجبوری ہے۔ مشرف کے پروردہ سیاستدانوں کی حکومت نے بھی اپنی آئینی مدت پوری کی تھی لیکن پرویز مشرف وردی کے باوجود صرف ایک بار ہی پارلیمنٹ سے خطا ب کر پائے۔ وہ اپنے ہی چنیدہ گریجوایٹ پارلیمنٹرین کو غیر مہذب قرار دیتے تھے۔ یقینا ان کے شدید ردعمل سے خائف رہے کہ آئینی تقاضا ادھورا چھوڑ دیا۔ آصف علی زرداری کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے مشرف کی طرح بزدلی دکھانے کے بجائے جرأت مندی سے پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ وہ اپنے خلاف نعروں کی شعلہ باری کے باوجود ڈائس پر آئے جو لکھا تھا پڑھ کر چلے گئے اور ایک ہی پارلیمنٹ سے 5بار خطاب کا اعزاز حاصل کر لیا۔ ویسے تو پارلیمنٹ کا چار سال مکمل کرنے کے بعد پانچویں سال میں داخل ہونا بھی ایک اعزاز ہے جس کا سارا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے۔ جس نے حکومت کے مجبور کرنے کے باوجود بھی کوئی غیر آئینی اقدام نہیں کیا حالانکہ حکومت نے اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے باعث کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ مہنگائی، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں ہوشربا اضافہ، لاقانونیت بدامنی، کرپشن، اقراپروری، ازلی و ابدی دشمن بھارت کو پسندیدہ ترین قوم کا درجہ دینا، نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے بے قراری، بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں پر خاموشی، عدلیہ کی تضحیک کی حد تک تذلیل، میمو گیٹ پر اپنی ہی فوج کے خلاف الزامات ، ایبٹ آباد آپریشن کو عظیم الشان کامیابی قرار دینا۔ یہ چند مثالیں ہیں حکومت کی کامرانی اور چار سالہ کارناموں کی۔ پارلیمان سے صدر کے سالانہ خطاب کا مقصد گزرنے والے آئینی سال کے دوران حکومت کارکردگی کا جائزہ لینا اور آئندہ کے آئینی سال کے لیے حکومت کو روڈ میپ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ صدر محترم کا خطاب وزیراعظم گیلانی کی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے حکومتی کارکردگی کو شاندار قرار دینے پر مشتمل تھا۔ وزیراعظم گیلانی بھی صدر کی ذات سے اٹوٹ وابستگی اور وفاداری کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی تعریف گویا ’’من ترا حاجی بگونم، تو مرا ملا بگو‘‘ کی تصویر ہے۔ صدر نے حکومت کی گذشتہ سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا نہ آئندہ سال کے لیے پالیسیوں کی ترتیب اور تشکیل کے لیے کوئی رہنمائی کی۔ صدر کی تقریر کی نوائے وقت کے اداریے کے عنوان میں بالکل درست تصویر کشی کی گئی ہے۔ تشبنتند و گفتند و برخاستند۔دی نیشن کی لیڈ بھی ایسی ہی ہے He come spoke and left ۔صدر صاحب حکومت کی طرف سے 4سال میں عوام کو دیئے گئے زخموں پر مرہم ہی رکھ دیتے۔ کالا باغ ڈیم کو کھوکھاتے میں ڈالنے کا کارنامہ بھی اسی حکومت نے سرانجام دیا ہے۔ صدر نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کی نوید سنائی جس کا تیسری مرتبہ افتتاح وزیراعظم گیلانی نے کیا۔ تعمیر ہنوز دلی دور است کی تعبیر ہے۔ اگر اس کی تعمیر آج شروع ہو جائے تو تکمیل 2019ء میں ہو گی۔ اگر دوسری ٹرم بھی پیپلزپارٹی کو مل جائے تو بھی اس کی مدت اقتدار میں تعمیر ممکن نظر نہیں آتی۔ ایک طرف بھاشا ڈیم ، کالاباغ ڈیم کا متبادل نہیں دوسری طرف کالاباغ ڈیم تین چار سال میں پایہ تکمیل کو پہنچ کر پانی و بجلی کے مسائل حل کر سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ صدر مملکت کی تقریر میں دیئے گئے معاشی اعدادوشمار اغلاط پر مشتمل تھے۔ ظاہر ہے جب کارکردگی زیرو ہو گی تو حکومت کو ہیرو بنانے کے لیے ایسے ہی اعدادو شمار سامنے آئیں گے۔ اپوزیشن کے احتجاج کو قوم اپنی آواز سمجھ رہی تھی۔ صدر آصف علی زرداری نے خطاب شروع کیا تو ان کی آواز میں بڑا طنطنہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی آواز بیٹھتی اور لہجہ سرد ہوتا چلا گیا۔ اس کے باوجود وہ کھینچ تان کر خطاب کو انجام تک پہنچا گئے البتہ اپوزیشن پندرہ منٹ کے احتجاج کے بعد ہی ہانپتی کانپتی پارلیمنٹ سے باہر چلی آئی۔ یہاں چودھری نثار علی خان خوب گرجے کچھ لوگ اسے ڈیل اور نوراکشتی قرار دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ یہاں مجھے جاپانی پہلوان انوکی کے لاہور کے اکی پہلوان کو چند سکینڈ میں چت کرنے کا واقعہ یاد آتا ہے۔ چت ہونے کے بعد اکی نے گرج کر کہا تھا اگر انوکی میرا بازو نہ مروڑتا تو میں اسے چت کر دیتا۔ چودھری نثار کا بازو کس نے مروڑ کر پارلیمنٹ ہائوس سے نکال دیا؟صدر آصف علی زرداری کے خطاب میں تسلسل کے ساتھ پژمردگی کا شاید ان کی کرسی کا لڑھک جانا بھی ایک سبب ہو۔ وہ تو بڑے بڑے جلسوں میں بھی نروس نہیں ہوتے۔ ٹھنڈے ہال میں ان کو 4مرتبہ پانی پینا پڑا۔ کرسی لڑھکنے کو بہت سے لوگ اور شاید صدر بھی بدشگونی سمجھتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن ہونے کے ناطے بہت سے جیالوں کی طرح میں بھی پریشان ہوں۔ہم خوفزدہ ہیں کہ لڑھکنے والی کرسی کسی بھی وقت الٹ سکتی ہے۔ جو صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے لیے شدید خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صدقہ بلائوں کو کھا جاتا ہے، صدر صاحب بھی اپنا صدقہ اتاریں۔بڑے بڑے لوگوں کا صدقہ بھی بڑا ہونا چاہیے۔ صدر صاحب اپنی جان کی سلامتی کے لیے اقتدار کا صدقہ دے دیں’’ جان ہے تو جہان ہے‘‘اقتدار تو پھر بھی مل سکتا ہے ۔ لیجئے ابھی ابھی ایک جیالے کا فون آ گیا اسے بھی صدر کے خطاب سے سخت اختلاف ہے۔ وہ کہتا ہے کہ صدر کا خطاب مایوس کن تھا یہ نئی بوتل میں پرانی شراب کی مانند تھا۔ وہ بھی پارلیمنٹ کے اندر پیپلزپارٹی کے ایم این اے ناصر شاہ نے ن لیگ کے ساتھ بائیکاٹ کرکے توڑ ڈالی اور بھی بہت سے بائیکاٹ کرنے کے آرزومند ہوں گے لیکن وہ شاید مفادات کے اسیر ہونے کے باعث ایسا نہ کر سکے ہوں۔ آخر میں صدر صاحب کی جان کی سلامتی کے لیے دعاگو ہوں۔ خدا کرے لڑھکنے والی کرسی صدروزیراعظم اور ان کے ہمنوائوں پر الٹ نہ جائے۔ اب تو لڑھکنے والی کرسی فوجیوں نے فوری طور پر سیدھی کردی۔ فوج ہر بار ایسا نہیں کرے گی۔ کرسی گرنے ہی کی بدشگونی ہے شاید کہ اب ملک کی عدلیہ کا لہجہ بھی بدلہ بدلہ لگتا ہے۔ خود وزیراعظم یوسف رضا گیلانی گذشتہ روز دیئے گئے بیان میں شاید گنجائش اس لیے چھوڑی گئی کہ اب وزیراعظم کو بھی ادراک ہو گیا ہے کہ بس اب چل چلائو کا موسم ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والے بہت سے ناقدین کہتے ہیں کہ اپریل کا مہینہ جفائوں اور سزائوں کا مہینہ ہوگا کیونکہ اس ملک کی عدلیہ ،اسٹیبلشمنٹ اور محب وطن سیاستدان اب مزید عوامی دبائو کو شاید برداشت نہ کر سکیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus